• 1 فروری, 2023

بیچ والی بال (Beach Volleyball)

تعارف

’’بیچ والی بال‘‘ بلاشبہ والی بال کی ایک مشہور قسم ہے۔ ماناجاتا ہے کہ اسکی ایجاد ’’ہوائی‘‘ میں 1915ء کے آس پاس ہوئی۔ جیسا کہ اسکے نام سے پتہ چلتا ہے کہ والی بال کی اس قسم کو ریتلے ساحلوں پر کھیلا جاتا ہے۔

’’بیچ والی بال‘‘ کو 1996ء میں ’’اٹلانٹا اولمپکس گیمز‘‘ کا حصہ بنایا گیا۔ اور مردوں اور عورتوں کے منظم مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا۔ ’’بیچ والی ال‘‘ ساؤتھ امریکہ، نارتھ امریکہ، یورپ اور اوسینیا میں بہت پائی جاتی ہے۔ 2016ء میں 169سے زائد قوموں نے ’’ریو اولمپک‘‘ میں کوالیفائی کرنے کے لیےحصہ لیا۔

گراؤنڈ

’’بیچ والی بال‘‘ کے کورٹ کی چوڑائی 8 میٹر (26.25 فٹ) ہوتی ہے اور لمبائی 16 میٹر (52.5 فٹ) ہوتی ہے۔

بال

Federation International de Volleyball FIVB کے قوانین کے مطابق بال گول چمڑے یا آرٹیفیشل چمڑے کا بنا ہونا چاہیے جسکی گولائی67.65 سنٹی میٹر 26. 26 انچ) اور وزن 280-260 گرام ہونا چاہیے۔ اور اندر ہوا کا پریشر 0.325 – 0.30 کلو گرام ہونا چاہیے۔

نیٹ سائز

مردوں کے ’’بیچ والی بال‘‘ کے مقابلہ جات میں استعمال ہونے والے نیٹ کی اونچائی زمین سے اوپر کو 2.43 میٹر (7 فٹ 11 انچ) ہوتی ہے۔ جبکہ عورتوں کے ’’بیچ والی بال‘‘ کے مقابلہ جات میں استعمال ہونے والے نیٹ کی اونچائی زمین سے اوپر کو 2.24 میٹر (7 فٹ 4 ا نچ) ہوتی ہے۔

کھیل کا طریقہ کار

ہر ٹیم میں 2 کھلاڑی ہوتے ہیں۔ یہ کھیل دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ گراؤنڈ میں دونوں ٹیموں کے درمیان نیٹ لگا ہوتا ہے۔ کھیل کی شروعات سرو کروا کر ہوتی ہے۔ دونوں ٹیمیں پوائنٹ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ جو ٹیم پہلے اکیس پوائنٹس حاصل کرلے وہ سیٹ جیت جاتی ہے۔

اکیس پوائنٹس کے تین سیٹ ہوتے ہیں جو ٹیم دو سیٹ جیت جائے وہ فاتح ٹیم کہلاتی ہے۔ ایک پوائنٹ حاصل کرنے کے لیے بال کو مخالف ٹیم کے کوٹ میں گرانا ہوتا ہے۔

قوانین

’’بیچ والی بال‘‘ کے بنیادی قوانین درج ذیل ہیں:
ایک ٹیم بال کو اپنے کوٹ میں آنے کے بعد زیادہ سے زیادہ تین بار ٹچ کر سکتی ہے۔بال کو چار بار ٹچ کرنے سے پوائنٹ مخالف ٹیم کو مل جائے گا۔

ایک کھلاڑی بال کو لگاتار دو دفعہ ٹچ نہیں کر سکتا۔

دوران کھیل کھلاڑی بال کو کچھ لمحے کے لیے روک کر نہیں رکھ سکتا۔

دوران کھیل کھلاڑی کا نیٹ کے ساتھ کوئی بھی جسم کا حصہ یا یونیفارم ٹچ نہیں ہونا چاہیے۔

کھلاڑی کھلے ہاتھ سے بال کو اُٹھا نہیں سکتا۔

موسمی صورت حال کے پیش نظر بیچ والی بال ٹیمزہر سات پوائنٹس کے بعد سائیڈز بدلنے کی پابند ہوتی ہیں۔

بیچ والی بال کا گراؤنڈ صرف ریت سے بنا ہونا چاہیے۔

سرو کرواتے وقت کھلاڑی کا پاؤں اپنے کوٹ کی پچھلی لائن سے باہرہونا چاہیے۔

بیچ والی بال میں پلئیرز کی پوزیشنر مخصوص نہیں کی جاتیں۔

(عابد علی بھٹی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2022

اگلا پڑھیں

اگر بیعت کا حق ادا کرنا ہے تو مسجدوں کی رونقیں مستقل قائم کرنی ہوں گی