• 29 فروری, 2024

جامع المناھج والاسالیب (قسط 10۔ آخری)

جامع المناھج والاسالیب
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر کبیر کا ایک اختصاصی مطالعہ
قسط 10۔ آخری

19۔ جامع منہج یا جامع رجحان

ماضی میں مختلف تفاسیر کو ’’جامع‘‘ اور ’’رجحان ساز‘‘ تفاسیر کہا گیا ہے۔ مثلاً مولانا اشرف علی تھانوی کی ’’بیان القرآن‘‘ کو جامع رجحان کی مالک تفسیر کہا گیا۔ ایسا ہی ’’تفسیر مظہری‘‘ اور ’’تفسیر ماجدی‘‘ کو بھی ’’جامع‘‘ کہا گیا ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کو جامع کہا۔

(ابو الکلام آزاد مرتبہ عبداللہ بٹ، لاہور 1943ء)

سر سید احمد خان کی ’’تفسیر القرآن‘‘ ابوالاعلیٰ مودودی کی ’’تفہیم القرآن‘‘ مفتی محمد شفیع کی ’’معارف القرآن‘‘ اور امین احسن اصلاحی کی ’’تدبر القرآن‘‘ کو رجحان ساز تفسیر قرار دیا گیا۔ (جدید تفسیری ادب: محرکات و رجحانات، (منتخب تفاسیر کا اختصاصی مطالعہ) از محمد فاروق حیدر۔ جہات الاسلام۔ جلد 9 (جولائی-دسمبر 2015ء) شمارہ:1 صفحہ8) اور اس تفسیر کو ’’عہد ساز تفسیر‘‘ قرار دیا ہے۔

مگرذیل میں ہم تفسیر کبیر کے جامع ہونے پر دلائل وہ نکات بیان کریں گے جن سے بخوبی ثابت ہو جائے گا کہ رجحان ساز تفسیر یا جامع رجحان کی حامل تفسیر وہی ہو سکتی ہے جو الہام الٰہی کے پانی سے سیراب ہو۔

1. تفسیر کبیر میں صاحب تفسیر حضرت مصلح موعودؓ ہر سورت کا ما قبل اور ما بعد کے ساتھ تعلق و ربط بیان فرماتے ہیں۔ یہ خصوصیت باقی تفاسیر میں خال خال نظر آتی ہے۔
2. تفسیر کبیر میں ہر سورت کے مکی یا مدنی ہونے کے بارہ میں نا صرف گزشتہ مفسرین کے اقوال درج کئے گئے ہیں بلکہ اس ذیل میں مستشرقین کے خیالات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس بیان میں اگر آپ کو پختہ تاریخی واقعات اور عقلی دلائل کی روشنی میں اختلاف بھی کیا تو اس اختلاف کی عقلی و نقلی بنیاد بہت مضبوط ہے۔
3. تفسیر کبیر کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں آپ نے اپنا ترجمہ قرآن استعمال فرمایا ہے۔ اس کے برعکس مولانا مودودی نے تفہیم قرآن میں مفہوماً ترجمہ اختیار کیا۔ مفتی محمد شفیع نے ’’معارف القرآن‘‘ میں مولانا محمود الحسن کا ترجمہ اختیار کیا ہے۔
4. ہر سورت کے شروع میں سورت کا جامع تعارف اور خلاصہ دیا گیا ہے۔ سورت کے نام کی وجہ اور زمانہ نزول پر بحث بھی ملتے ہے۔
5. تفسیر کبیرکا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں ہر آیت کی تفسیر قبل چند ذوالمعارف و الوجوہ مفردات کی تفصیلی لغوی بحث دی گئی ہے۔ حل لغات میں مستعمل کل مفردات کی تعداد قریباً 3360 ہے۔ اس بحث لغوی میں اقرب الموارد، مفردات امام راغب، فقہ اللغۃ و سرّ العربیہ، المنجد، اساس البلاغہ، تاج العروس، مصباح، لسان العرب، احکام الاساس، نہایۃ بن اثیر، الصحاح، مغنی اللبیب، القاموس المحیط اور Lane وغیرہ ہیں۔
6. تفسیر کبیرکا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں مفردات قرآنی کو سمجھنے کے لئے عربی ادب کی قدیم و جدید لغات و دیگر کتب سے شعری و نثری شواہد بھی بھی پیش کئے گئے ہیں۔ ان کتب میں الشعر والشعراء از ابن قتیبۃ، الصاحبی از احمد بن فارس، کلیات ابن البقاء، شرح مختصر المعانی، دیوان حماسہ، درۃ الغوّاص، الاغانی لاصفھانی، المخصص لابن الفارس، مفتاح العلوم از علامہ سکاکی، زاہر لابن الانباری وغیرہ شامل ہیں۔
7. اسلام اور بالخصوص قرآن کریم کو اس وقت کی عرب ثقافت اور تمدن کے ساتھ سمجھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ ایسا کلام جو عرب کی زبان میں اترا اس کی بہتر سمجھ ان لوگوں کے حالات، واقعات اور تاریخ کے ساتھ ہی آ سکتی ہے۔
8. تفسیر کبیر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ قرآنی مقامات کو سمجھنے کے لئے کچھ التفات اہل کتاب اور دیگر مذاہب کی کتب مقدسہ، ان کتب کی قوامیس، ڈکشنریز، اور تفاسیر سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ ان کتب میں سے کچھ عہد نامہ قدیم و جدید،شبات طالمود، ایروبین طالمود، مدراش رباہ، رگ وید، اتھر وید، دورم سندھو، ستھیارتھ پرکاش، ژند اوستا ایپوکریفا، پیکس کی تفسیر بائبل، کنسائز تفسیر بائبل، قاموس کتاب، ہارپر بائیبلز ڈکشنری از ملّر وغیرہ شامل ہیں۔
9. تواریخ اقوام عالم کو سمجھنے کے لئے انسائیکلوپیڈیاز کی مدد سے اور تاریخی دستاویزات کو مدنظر رکھ کر مقامات قرآنیہ کی تفسیر میں مدد حاصل کی گئی ہے۔ جن میں سے چیدہ چیدہ انسایکلوپیڈیا آف ریلیجنز اینڈ اییتھکس، انسایکلوپیڈیا آف اسلام، انسایکلوپیڈیا ببلیکا، جیوش انسایکلوپیڈیا، انسایکلوپیڈیا بریٹینیکا، نیلسنز انسایکلوپیڈیا وغیرہ شامل ہیں۔
10. تفسیر کبیر کی ایک بے نظیر خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں مستشرقین کی جانب سے قرآن کریم پر اٹھنے والے اعتراضات کا کافی و شافی جواب دیا گیا ہے۔ ان مستشرقین و مغربی علماء میں پادری وھیری، راڈول، سیل اور میور وغیرہ شامل ہیں۔ یہ خصوصیت بھی عام مروجہ تفاسیر میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
11. تفسیر کبیر میں (بقول صاحب تفسیر حضرت مصلح موعودؓ) یورپین لوگوں کے زہریلے اثرات کا دفاع بھی موجود ہے۔
12. تفسیر کبیر میں جن امور میں بے پناہ زور دیا گیا ہے ان میں ہستی باری تعالیٰ کا اثبات،خالص توحید الٰہی، صفات الٰہیہ اور ان کا صحیح درک پیش بھی کیا گیا اور سمجھایا بھی گیا ہے۔
13. تفسیر کبیر میں سیدنا و مولانا حضرت رسول کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کی سیر ت و کردار، آپ کی بابرکت زندگی اور آپؐ کی زندگی کو قرآن کریم سمجھنے کے لئے ایک معیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
14. تفسیر کبیر میں ناموس رسالت کی حفاظت آپؐ کی اور دوسرے پیشوایان مذاہب کی ناموس کی حفاظت سے متعلق دنیا کے سامنے چند حل رکھے گئے جن سے مذہبی رواداری پروان چڑھ سکتی ہے۔
15. تفسیر کبیر میں آنحضرتﷺ کے صحابہ کی سیرت کا بھی بیان ہے اور آپ کے متعلق لوگوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بد عقیدگی کا بھی ردّ ہے۔
16. تفسیر کبیر میں پیشگوئی اور اس کے متعلقات پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
17. تفسیر کبیر میں آنحضرتﷺ و قرآن کریم کی پیشگوئیوں کو نہایت پر اثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
18. تفسیر کبیر میں مقام نبوت کی حقیقت اور اس کی برکات و فیوض کو خاطر خواہ انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
19. تفسیر کبیر میں اسلام کی حقیقت، فضائل، تعلیم، نظام اور مذہب اسلام کی تعلیم کا دیگر مذاہب سے موازنہ جگہ جگہ ملتا ہے جس سے قرآن کریم ایک فرقانی قوت کے ساتھ چمکتا ہوا روشن اور تابندہ کتاب کی صورت میں نظر آتا ہے۔
20. تفسیر کبیر میں یہودیت، عیسائیت، ہندومت، آریہ سماج، جین مت، بدھ ازم، سکھ ازم، زرتشت ازم اور کنفیوشس ازم وغیرہ کے عقائد کا بیان اور اس میں غلطیوں کی نشاندہی اور ان کا اسلام کی تعلیم کے ساتھ موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ان مذاہب کے علماء کی جانب سے اسلام اور قرآن کریم پر اٹھنے والے اعتراضات کے شافی جوابات دیئے گئے ہیں۔
21. تفسیر کبیر میں نئے مذاہب مثلاً بہائیت سے متعلق کافی و شافی مواد ملتا ہے اور اس کے عقائد باطلہ کا توڑ بھی میسر آتا ہے۔
22. اس تفسیر میں عالم روحانیت میں اونچی پرواز کے لئے ان تمام امور کا بیان ہے جو ایک سچی نیت والے مومن کے حصول کے لئے ضروری ہیں۔
23. اس تفسیر میں اخلاق فاضلہ اور ان کے حصول کی اہمیت کا ذکر ہے۔ کیونکہ اخلاق فاضلہ روحانیت میں ترقی کے لئے ایک بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔
24. تفسیر کبیر میں عیسائیت کے ان باطل عقائد(الوہیت مسیحؑ، تثلیث وغیرہ) کاپُر زور ردّ بھی ہے جو توحید الٰہی کے خلاف ہیں اور جن کے زہر کے اثر سے برصغیر پاک و ہند، افریقہ اور دوسرے خطوں کے باشندگان متاثر ہو رہے تھے اور اسلام سے برگشتہ ہو کر عیسائیت کی گود میں جا رہے تھے۔
25. تفسیر کبیر میں یہود و نصاریٰ کے اصل کتب سے عقائد کا بیان ہے اور ان کی تاریخ، فرقوں کی تفصیلات اور ان کی مذہبی رسومات کا ذکر بھی ملتا ہے۔
26. تفسیر کبیر میں نیکی و بدی کی اصل حقیقت، فلاسفی اور اس کی ترغیب بھی جگہ جگہ ملتی ہے۔
27. تفسیر کبیر میں تاریخی واقعات کا مستند ترین بیان ملتا ہے۔ اس میں کوئی بھی مسلکیکشمکش، فرقہ وارانہ تعصب یا مذہبی کھینچا تانی بھی نہیں ہے۔
28. تفسیر کبیر میں تواریخ اقوام عالم کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے اور اس سے نکلنے والے اسباق کی طرف بھی راہنمائی کی گئی ہے۔
29. تفسیر کبیر میں مذہبی آزادی، آزادی ضمیر اور شتر بے مہار آزادی کا فرق اور اس سے معاشرہ میں پڑنے والے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔
30. تفسیر کبیر میں ایک ریاست اور اس میں کام کرنے والی حکومت کے فرائض و حقوق، ایک اچھے معاشرہ کے قیام اور اس کی خصوصیات اور اس میں موجود سوسائٹیز کے حقوق و فرائض کو بطور احسن بیان کیا گیا ہے۔
31. تفسیر کبیر میں ایک سوسائٹی میں مساکین، غرباء اور یتامیٰ کی خبر گیری کرنے ان کو معاشرہ کا فعال حصہ بنانے پر خصوصی تعلیم دی گئی ہے۔
32. تفسیر کبیر میں جہاد سے متعلق غلط نظریات کا ردّ، اس پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب، اسلام کا تلوار سے پھیلنے کے عقیدہ کی تغلیط اور جہاد کی فی زمانہ ضرورت پر دلائل دیئے گئے ہیں۔
33. تفسیر کبیر میں الہام کی ضرورت، اہمیت اور اس کے فیضان کے جاری و ساری ہونے پر دلائل دیئے گئے ہیں۔
34. تفسیر کبیر میں انسان اور اس کی اخلاقی، تمدنی، روحانی حالتوں اور ان کو بہتر بنانے کی ایک تحریک ملتی ہے۔
35. تفسیر کبیر میں ملائکہ اور ان کی اقسام، ان کے کام اور ان سے متعلق عقائد کی تصریح اور ان سے متعلق غلط فہیمیوں کو دور کیا گیا ہے۔
36. تفسیر کبیر میں حیات بعد الممات، جنت و دوزخ اور بہشتی نعماء کی حقیقت کا بیان ہے جو کہ کسی اور تفسیر میں نہیں پایا جاتا۔
37. تفسیر کبیر میں حرام و حلال چیزوں کا بیان ان کی حرمت و حلت کی فلاسفی اور ان کے مضر یا نافع ہونے کے بارہ میں اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ موجودہ علوم و سائنس کی جدید تحقیقات سے بیان ملتا ہے۔
38. تفسیر کبیر میں سائنس اور مذہب کے عنوان پرتمام مختلف فیہ نظریات کو بیان کیا گیا اور اس اصل کے ساتھ دونوں میں تطابق بیان کیا گیا کہ قرآن کریم اللہ کا قول ہے اور سائنس اس کا فعل۔
39. تفسیر کبیر میں اصلاح قوم کے لئے قرآنی روشنی میں بہت اعلیٰ تعلیم ملتی ہے، نیز قوم کی اصلاح کو بنیاد بنا کر کئی ایک قرآنی آیات کی روشنی میں ثابت کیا گیا کہ اگر مسلم امہ آج ان ہدایات پر عمل کرے تو خیر امت کے دعوے کے ساتھ ساتھ نمونہ بھی دکھلا سکتی ہے۔
40. تفسیر کبیر میں عائلی اور خاندانی معاملات کی درستگی پر خاطر خواہ مواد موجود ہے۔ ایک خاندان سوسائٹی کا مائیکرو یونٹ ہوتا ہے اگر یہ درست ہو جائے تو سوسائٹی کی درستگی ایک خودکار نظام کے تحت ممکن ہے۔
41. تفسیر کبیر میں تربیت اولاد کو ایک خاص اہمیت دی گئی ہے۔
42. تفسیر کبیر میں جماعت احمدیہ کے افراد کی اصلاح، احمدی بچوں کی تعلیم وتربیت اور مسلم امہ کی فلاح و بہبود پر ایک جامع اور منظم لائحہ عمل بھی ملتا ہے۔
43. تفسیر کبیر میں تعلیم وتدریس کے ضوابط، اصول اور پر اثر طریقہ پر اصلاح معاشرہ کے لئے یہ تفسیر ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
44. تفسیر کبیر میں تحقیق اور اس کا طریقہ اور اس کے ضوابط پر بھی مفید معلومات ملتی ہیں۔
45. تفسیر کبیر میں تعلق باللہ، محبت رسولﷺ اور اسلام کو صحیح انداز میں سمجھ کر عمل کرنے کی طرف ایک خاص تحریک ملتی ہے۔
46. تفسیر کبیر میں دعا، دعا کا فلسفہ، اہمیت و برکات، طریق و قبولیت وغیرہ اور نیچری عقائد فاسدہ کا ردّ بڑی شد و مد سے کیا گیا ہے۔
47. تفسیر کبیر میں علوم قرآنیہ کو جاننے سمجھنے اور اس سے صحیح مفہوم اخذ کرنے کے بارہ میں قیمتی معلومات ہیں۔
48. تفسیر کبیر میں علم لغت، فلالوجی اور علم دلالت کی مدد سے بھی قرآنی معارف کو بیان کیا گیا ہے۔
49. تفسیر کبیر میں علم حدیث اور اس کے متعلقات پر عالمانہ تبصرے ہیں جن سے حدیث کا اصل منشاء سمجھ میں آ سکتا ہے۔ نیز اس کی مصطلحات اور احادیث کی مدد سے قرآن کریم کی تفسیر سمجھنے میں بہت کچھ مدد مل سکتی ہے۔
50. تفسیر کبیر میں علم فقہ و اصول فقہ پر بھی بہت اعلیٰ معلومات مل سکتی ہیں۔ اجتہاد اور اس جدید زمانہ میں بدلتی ہوئی زندگی کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے علم فقہ اور اجتہادکی ضرورت پر سیر حاصل بحث ہے۔
51. تفسیر کبیر میں مسلمان فرقوں (سنّی و شیعہ) اور ان کے نظریات پر بھی بحث ہے ان کی غلط روشوں اور عقائد کی تصحیح بھی ملتی ہے۔
52. تفسیر کبیر میں علم طب، ہومیوپیتھی اور حکمت کے حوالے سے بھی قرآنی علوم پر بحث کی گئی ہے۔
53. اقتصادیات اور اسلامی نظام اقتصادیات کا بیان اور آجکل کے اقتصادی نظاموں کے متعلق معلومات اور ان کی غلط approach اور اس کی تصحیح بھی اس تفسیر کی ایک خصوصیت ہے۔ ان نظاموں کے بالمقابل جماعت احمدیہ کا پیش کردہ نظام، نظام وصیت کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
54. تفسیر کبیر میں زراعت کو فروغ دے کر انسان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف خاص راہنمائی ملتی ہے۔
55. تفسیر کبیر میں غلط العام عقائد مثلاً جادو ٹونا، تعویذ گنڈے اور ان کی اصلیت کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے مقابل پر اپنا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
56. تفسیر کبیر میں اہل تصوف کے بد عقائد، دین میں بدعتوں اور لا یعنی عملیات، وورد و وظائف وغیرہ کا ردّ کر کے صحابہ کے نقوش کو اپنانے کی طرف بہت توجہ دی گئی ہے۔
57. تفسیر کبیر میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود جیسے عقائد کا بیان اور ان کی اصلاح بھی ہے اور مقصود قرآن کو بیان کیا گیا ہے۔
58. تفسیر کبیر میں جنوں سے متعلق پائے جانے والے قصے کہانیوں کا ردّ کر کے اصل مدعائے قرآن کو بیان کیا گیا ہے اور نہایت اعلیٰ پیرائے میں اس کی حقیقت پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
59. تفسیر کبیر میں علوم شرعیہ کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
60. تفسیر کبیر میں شفاعت اور اس کے اصل معنیٰ، نیز اس سے متعلق پائے جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے۔
61. تفسیر کبیر میں نسخ فی القرآن کے مسئلہ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور اس کے تحت ناسخ اور منسوخ آیات کا حل پیش کیا گیا ہے۔
62. تفسیر کبیر میں اہل تشیع کے عقائد کا بیان کر کے ان کے غلط عقائد کی اصلاح کی گئی ہے اور اہل بیت سے غلو سے پاک محبت کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے۔ نیز ازواج مطہرات کی سیرت و کردار کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
63. تفسیر کبیر میں خلافت راشدہ کے دور سے متعلق درست معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ خلفائے ثلاثہ پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو ردّ کیا گیا ہے۔
64. تفسیر کبیر میں انسانی نفسیات کو سمجھ کر اس کو دعوت اسلام دینے اور سمجھانے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
65. نظام خلافت کی ضرورت، اہمیت اور اس کے ساتھ تمسّک کو فی زمانہ تمام مسائل کا حل قرار دی ہے۔
66. تفسیر کبیر میں مسلمانوں کے فرقوں کی باہم تکفیر بازی کو ناپسند کیا گیا ہے اور مل جل کر اپنے خیالات و نظریات کوپیش کرنے اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
67. تفسیر کبیر میں قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کو ایک اہم موضوع کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی مدد سے کئی آیات قرآنیہ کے اچھوتے معانی پیش کئے گئے۔
68. تفسیر کبیر میں تفہیم قرآن کریم کو دعا کے ساتھ مشروط رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ سے بہتر تفہیم کوئی بھی عطا نہیں کر سکتا۔ یہ اصل باقی تفاسیر میں نہیں پایا جاتا۔
69. تفسیر کبیر میں علم رویا و کشوف سے متعلق اسرار سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے۔
70. تفسیر کبیر میں محکمات و متشابہات سے متعلق سیر حاصل گفتگو ہے ان کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔
71. تفسیر کبیر میں معاملات اور لین دین کے سلسلہ میں اسلامی و قرآنی تعلیمات کو خوب نکھار کر بیان کیا گیا ہے۔
72. تفسیر کبیر میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی ادب سے بھی خاطر خواہ استفادہ کر کے تفسیر قرآن میں شواہد کو پیش کیا گیا ہے۔
73. تفسیر کبیر میں پرانے مفسرین کے غلط رجحانات کو بیان کر کے ان کی اصلاح دلائل کے ساتھ کی گئی ہے۔
74. تفسیر کبیر میں تابعین و تبع تابعین کی خدمت اسلام کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اور ان کے بیان کردہ معانی کو ایک خاص عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔
75. تفسیر کبیر میں قرآن کریم کے مختلف قراٴت کو بیان کر کے بھی مختلف متنوع معانی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
76. تفسیر کبیر میں عصمت انبیاء کا موضوع خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مفسرین کی روایات جن سے عصمت انبیاء پر زد پڑتی ہے ان کا رد کر کے انبیاء کے شایان شان اور درست واقعات و حالات کا بیان کیا گیا ہے۔
77. تفسیر کبیر میں پیشگوئی، اس کی شرائط، اس کی سچائی اور پورا ہونے اور اس کے تمام متعلقات پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔
78. تفسیر کبیر میں انبیاء پر پچھلی کتب کے طعن کو بیان کیا گیا اور ان انبیاء کو اس نا واجب طعن سے بچا کر اللہ کے برگزیدہ بندے ثابت کیا گیا۔
79. آخری زمانوں کے متعلق پیشگوئیوں، دجال، مسیح و مہدی کی آمد اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالہ سے احادیث نبویہﷺ اور انسانی عقل کے مطابق تفسیر کی گئی ہے۔
80. تفسیر کبیر میں اسلامی عبادات کی حکمت اور فلسفہ نہایت اچھوتے اور دل پذیر انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔
81. تفسیر کبیر میں عربی زبان کے خصائص کا کثرت سے تذکرہ کیا گیا ہے نیز اس کو ام الالسنہ ثابت کرنے کے لئے مضبوط دلائل بھی دیئے گئے ہیں۔
82. تفسیر کبیر میں عورت کے حقوق و فرائض، عورت کی ایک معاشرہ میں اہمیت کا جا بجا ذکر ملتا ہے۔
83. تفسیر کبیر میں غلاموں کے حقوق، غلامی کی مخالفت اور اس کے متعلق اسلام کی روشن تعلیم کو اس طور سے پیش کیا گیا کہ اس تعلیم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔
84. تفسیر کبیر میں مذہب کی اصل غرض، افادیت اور اس کی ضرورت کو آشکار کیا گیا ہے تا کہ موجود زمانہ میں مذہب کی ضرورت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو حل کیا سکے۔
85. تفسیر کبیر میں ان پیشوایان مذاہب کو جن کے مقام و مرتبہ کے بارہ میں باقی مفسرین خاموش ہیں کو نبی مانا گیا ہے۔ ان میں رام چندر جی، کنفیوشس، بدھ اور کرشنا وغیرہ شامل ہیں۔
86. تفسیر کبیر میں نکاح اور اس کی اہمیت، تعدد ازدواج کی تفصیلات اور اس پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
87. تفسیر کبیر میں اہل تشیع کے عقائد اور ان کی تفصیلات۔ ان کی غلط روشوں کا تعین اور ان کے اعتراضات کا مکمل محاکمہ اور اعتراضات کے جوابات دیئے گئے۔ نیز مطاعن صحابہ و ازواج مطہرات، خلفائے ثلاثہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور ان مطاعن کا ردّ کیا گیا ہے۔
88. تفسیر کبیر میں مسلمان فرقوں کے باہمی فروق، ان کے غلط عقائد کی تصحیح اور تفرقہ پسندی کے رجحان کا خاتمہ کرنے اور تمام مسلمانوں کو عَلیٰ مِلَّۃٍ وَّاحِدَۃٍ اکٹھا کرنے کے لئے ایک خاص تحریکی اسلوب نظر آتا ہے۔
89. تفسیر کبیر میں اسلامی تاریخ کا صحیح بیان اور ان سے ملنے والے اسباق کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
90. تفسیر کبیر میں اسلامی نظام و طرز حکومت میں حدود، تعزیرات اور سزاؤں کو ہر حوالہ سے عین انسانی عقل سے موافق ہونے پر بھی بہت تفصیل سے وضاحت ملتی ہے۔
91. تفسیر کبیر میں قرآنی قسموں کی فلاسفی کا بھی خصوصیت سے ذکر ملتا ہے۔
92. تفسیر کبیر میں آنحضرتﷺ کے ان معجزات و نشانات کو ثابت کیا گیا ہے اور ان پر اٹھنے والے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔
93. تفسیر کبیر میں صاحب تفسیر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ایک بے مثال کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ نے قرآن کریم کو قابل عمل کتاب کے طور پر پیش کیا، اور اس کتاب کو قیامت تک کے لئے ایک Relevant Book کے طور پر پیش فرمایا۔
94. تفسیر کبیر میں بیان کشوف (مثلاً حضرت حزقی ایل کا کشف، موسیٰ ؑ اور ان کے فتی سے متعلق کشف وغیرہ) کو علم تعبیر الرویا کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کی اور اس طرح تفسیر کو بہت منفرد اور متنوع انداز میں پیش فرمایا۔
95. تفسیر کبیر میں انبیائے سابقین کی آنحضرتﷺ کے بارہ میں پیشگوئیوں کو بسط و شرح کے ساتھ اور دلائل قطیعہ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
96. تفسیر کبیر میں امنِ عالم کے حوالہ سے مسلمانوں کے کردار، امن عالم کے حوالہ سے ہی اسلامی تعلیم کا دوسری سماوی تعلیمات کا موازنہ اور آپ کی مخلصانہ ترین کاوشوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔
97. تفسیر کبیر میں ایٹامک وار فیئر اور اس سے دنیا کی ممکنہ تباہی کاخوف اور اس کا علاج بھی ملتا ہے۔
98. تفسیر کبیر میں گزشتہ تہذیب اور تمدن کا ذکر ملتا ہے اور اس اصل کی طرف زور دیا گیا ہے کہ آئندہ دنیا کی تہذیب و تمدن کی بنیاد اسلام پر ہوگی۔
99. تفسیر کبیر میں جبر و قدر، جزاء و سزا اور نیکی وبدی کی تفصیلی بحث اسلام کی دی ہوئی روشنی کے مطابق ملتی ہے۔
100. تفسیر کبیر نے قرآن کریم کی وہ خدمت کی جس کی نظیر تواریخ اسلامی میں خال خال ملتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اس تفسیر کے ایک ایک حرف کے بدلہ صاحب تفسیر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی، المصلح الموعود رضی اللہ عنہ و ارضاہ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین

(خواجہ عبدالعظیم احمد۔ مبلغ سلسلہ نائیجیریا)

پچھلا پڑھیں

بیت البصیر مہدی آباد میں جماعت احمدیہ کا جلسہ سیرۃ النبی ؐ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 نومبر 2022