• 2 جون, 2020

مطالعہ کتب حضرت مسیح موعودؑ

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔

’’قرآن شریف کے ترجمہ کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اُردو کا ترجمہ تیار ہوگیا ہے اور ایک جلد تفسیر کی بھی تیار ہوگئی ہے جس کا پانچ سو صفحہ انشاء اللہ شوریٰ تک چَھپ جائے گا۔تفسیر لمبی ہوگئی ہے میں نے چھوٹی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن غالباًسورۃ طٰہٰ یا سورۃ الانبیاء تک پانچ سو صفحے پورے ہوجائیں گے۔

الشرکۃ الاسلامیہ والے کہتے ہیں کہ ہم نے کتابیں چھاپی ہیں۔ ضرورت الامام، راز حقیقت، نشان آسمانی، آسمانی فیصلہ، کشف الغطاء، دافع البلاء، ستارہ قیصریہ۔ اس کی سفارش کرو حالانکہ میں تو اس کو بے شرمی سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لکھی ہوئی کتاب ہو اور میں سفارش کروں۔کیا کسی غلام کے منہ سے یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے آقا کی کتاب کی سفارش کرے؟ اور کرے بھی اُن کے پاس جو اپنے آپ کو فدائی کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو لکھا ہے کہ جس شخص نے میری کتابیں کم سے کم تین دفعہ نہیں پڑھیں میں نہیں سمجھتا کہ وہ احمدی ہے۔ تو اب ہماری جماعت تو دس لاکھ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ پس تین دفعہ اگر وہ کتابیں پڑھیں بلکہ ایک ایک کتاب لگ جاتی ہے۔ لیکن انہوں نے جن کتابوں کی لسٹ مجھے دی ہےوہ ساری کی ساری شائد کوئی بیس ہزار ہیں تو ایسی کتابوں کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لکھی ہوئی ہیں جن کی صدیوں تک اور نظیر نہیں ملے گی یہ کہنا کہ میں سفارش کروں یہ ان کی اپنی کمزوری ہے۔ کیوں نہیں وہ جماعت کو کہتے؟ جماعت تو اپنی جانیں حضرت صاحبؑ پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے مگر صحیح طور کام نہیں کیا جاتا۔یامین صاحب تو اپنا کیلنڈر بیچ لیتے ہیں مگر ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں بھی نہیں بیچی جاتیں۔‘‘

(انوارالعلوم جلد26 ص 49)

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیّین ماننا ایمان کا جزو ہے