• 12 اگست, 2020

سلام کو رواج دینے کے فوائد

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’پس اللہ تعالیٰ کی سلامتی حاصل کرنے کے لئے اللہ اور رسول ﷺ نے یہی راستہ بتایا ہے کہ سلام کو رواج دو۔ اس سے آپس میں دلوں کی کدورتیں بھی دور ہوں گی، محبت بھی بڑھے گی، عفو اور درگزر کی عادت بھی پیدا ہو گی اور پھر اس سے معاشرے میں ایک پیار اور محبت کی فضا پیدا ہو جائے گی جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے ایک بڑا اہم حکم ہے جس سے حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ پیدا ہو جائے گی۔‘‘

ناراضگی کوطول نہ دیں

’’عام طور پر جماعت میں بھی بعض دفعہ آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں، جھگڑ ے ہوتے ہیں جو بعض دفعہ اتنا طول کھینچ لیتے ہیں کہ انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی ایک جگہ اسی طرح آپس میں دو خاندانوں کی لڑائی ہوئی اور اس حد تک بڑھ گئی کہ جماعت کی بدنامی کا باعث بنی جس کی وجہ سے دونوں فریقوں کو جماعت سے اخراج کی سزا دینی پڑی۔خیر اس کے بعد معافی کے لئے لوگ لکھتے ہیں لکھتے رہے، ایک نے لکھا کہ مَیں نے جب اس بات کو ختم کرنے کے لئے، جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے جا کر (بیت الذکر) میں ہی دوسرے فریق کو سلام کیا تو اس نے کہا بھول جاؤ اس بات کو، ابھی چھ مہینے سال تک مَیں تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کر سکتا، نہ سلام ہو سکتا ہے، نہ ہماری صلح ہو سکتی ہے۔ تو ایسے موقعے جماعت میں بھی پیدا ہو تے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ امام الزمان کو مان کر بھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعووں پر ایمان لانے کے بعد بھی اُن شرائط بیعت کو ماننے کے بعد بھی کہ حقوق العباد کی ادائیگی کریں گے پھر ہم اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہوں۔نظام جماعت سے اخراج کی سزا خلیفہ وقت کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ تو جہاں یہ نفرتیں، کینے، لڑائیاں بعض لوگوں کو جو اس قسم کے معاملات میں ملوث ہوتے ہیں جماعت سے علیحدہ کرتے ہیں، وہاں یہ سزا دینے کی وجہ سے خلیفۂ وقت کے لئے بھی تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ سب سے بڑھ کر اپنے خدا کی ناراضگی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ تو خدا تو اَلسَّلَام ہے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن اپنی حرکتوں کی وجہ سے بندہ پھر اس کی ناراضگی کا مورد بن رہا ہوتا ہے۔ پس اللہ بندوں پرظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بندہ خود ہے جو اپنی ذات پر اس قسم کی حرکتیں کرکے ظلم کر رہا ہوتا ہے۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل یکم جون تا7؍جون2007ء۔ خطبہ جمعہ فرمودہ11؍مئی2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 15 جولائی 2020ء