• 12 اگست, 2020

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو
تم مہر ہو مہتاب ہو تم کون ہو

جو آنکھ بھی دیکھے تمہیں سرسبز ہو
تم اس قدر شاداب ہو تم کون ہو

تم لب بہ لب، تم دل بہ دل، تم جاں بہ جاں
اک نشہ ہو اک خواب ہو تم کون ہو

جو دست رحمت نے مرے دل پر لکھا
تم عشق کا وہ باب ہو تم کون ہو

میں ہر گھڑی اک پیاس کا صحرا نیا
تم تازہ تر اک آب ہو تم کون ہو

میں کون ہوں وہ جس سے ملنے کے لیے
تم اس قدر بے تاب ہو تم کون ہو

میں تو ابھی برسا نہیں دو بوند بھی
تم روح تک سیراب ہو تم کون ہو

یہ موسم کمیابی گُل کل بھی تھا
تم آج بھی نایاب ہو تم کون ہو

چھوتے ہو دل کچھ اس طرح جیسے صدا
اک ساز پر مضراب ہو تم کون ہو

دل کی خبر دنیا کو ہے تم کو نہیں
کیسے مرے احباب ہو تم کون ہو

وہ گھر ہوں میں جس کے نہیں دیوار و در
اس گھر کا تم اسباب ہو تم کون ہو

اے چاہنے والے مجھے اس عہد میں
میرا بہت آداب ہو تم کون ہو

(عبید اللہ علیمؔ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 15 جولائی 2020ء