• 7 اگست, 2020

تعارف سورۃ النحل (سولہویں سورہ)

(مکی سورہ ، تسمیہ سمیت اس سورہ کی 129 آیات ہیں)
اردو ترجمہ ازترجمہ قرآن انگریزی (حضرت ملک غلام فرید صاحبؓ) ایڈیشن 2003ء
(مترجم: وقار احمد بھٹی)

وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس کے نزدیک آیات 96، 97 اور 98 مدینہ میں نازل ہوئیں۔ پروفیسر نولڈلکے کا خیال ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی ماسوائے آیات44، 112،120،121، اور 126کے۔ اس سورۃ کے آغاز میں حروف مقطعات نہ ہیں جیسا کہ کسی سورۃ کے مضامین اس سورۃ کے آغاز میں آنے والے حروف مقطعات کی تفصیل اور وضاحت ہوتے ہیں۔ تاہم اگر کسی سورۃ کے آغاز میں یہ مقطعات نہ ہوں تو وہ اپنی سابقہ سورۃ کے حروف مقطعات کا تسلسل ہی شمار ہوتی ہے۔ اس لئے اس سورۃ (النحل) کے مضامین کو بھی اس کی سابقہ سورۃ (الحجر) کے مضامین کا تسلسل سمجھنا چاہیئے۔ جس کا آغاز حروف مقطعات الر سے ہوا ہے۔ صرف اندازِ بیان اور مضمون کی ترتیب میں کچھ فرق ہے۔

مضامین کا خلاصہ

نہایت موزوں طور پر اس سورۃ کا عنوان النحل رکھا گیاہے (یعنی شہد کی مکھی)۔ کیونکہ اس مکھی کی فطرت کو قرآن کریم میں وحی کی طرف منسوب کیا گیاہے(16:69)۔ اس سے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ سارا کارخانہ قدرت کامیابی اور پر سکون طریق پر کام کرنے کے لئے وحی کا محتاج ہے خواہ وہ ظاہری ہو یا چھپی ہوئی، بلا واسطہ ہو یا بالواسطہ۔ یہ (وحی کا) مضمون اس سورۃ کا اہم ترین موضوع اور مرکزی خیال ہے۔

مزید براں جہاد کے مضمون کو یہاں ایک اہم مضمون کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جیساکہ تعلیمِ جہاد کے بارے میں ہر طرف سے حملے ہونے تھے یہ اشارہ دیا گیاہے کہ شہد کی طرح جس کی حفاظت شہد کی مکھی ہر نا گہانی آفت سے خداداد ڈنگ کی مدد سے کرتی ہے۔ ویسے ہی قرآن کریم جو روحانی شہد کا مخزن ہے اس کی حفاظت مسلمانوں کی قوت کے ذریعہ کی جائے گی۔ پھر مومنوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے عزیز و اقارب (جہاد کی صورت میں) قرآن کریم کو قبول کر لیں تو پہلے انہیں اپنے دل صاف کرنے ہوں گے کیونکہ دلوں کی صفائی کے بغیر خدا کو پہچانا نہیں جا سکتا۔ خدا کسی سے زبردستی سچائی قبول نہیں کرواتا کیونکہ جبر و اکراہ کے استعمال سے مذہب کا حقیقی مقصد رائیگاں چلا جاتا ہے۔

بعد ازاں اس سورۃ میں حیاۃ بعد الموت کی بحث کی گئی ہے اور یہ بتایا گیاہے کہ اس دنیا میں بھی قومیں دوبارہ جی اٹھتی ہیں اور انہیں ایک نئی زندگی دی جاتی ہے اور ان کی ہجرت سے یہ احیاء نو شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی روحانی ترقی کے لئے ضروری تھا اور یوں(ہجرت سے) وہ کفار سے الگ ہوکر باہم ہم آہنگی کے ماحول میں اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق تعلیم و تربیت حاصل کر سکیں گے۔ اس (مضمون) سے یہ نتیجہ نکالا گیاہےکہ اگر مومنوں کے لئے اس دنیامیں ضروری ہے کہ وہ ہجرت کریں تو کسی انسان کی ہمیشہ کی روحانی ترقی کے لئے یہ کس قدرضروری ہے کہ وہ ایک روحانی ہجرت کرے جس کا دوسرا نام موت ہے۔

اس (روحانی) ہجرت کے بعد مومن اور کافر دو الگ الگ راستوں پر چلتے ہیں ، کفار جہنم میں جاتے ہیں اور مومن خدا کی رضا کی تمازت سے اعلیٰ خدائی انعامات کے وارث ہوں گے۔ پھر اس مضمون کا اعادہ کیا گیاہے کہ آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد یہ عظیم الشان نتائج نکلیں گے پھر اس سورۃ میں یہ مضمون بیان کیا گیاہے کہ کیوں کفار کو ڈھیل دی جاتی ہے اور کیوں انہیں زبردستی سچائی کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ پھر اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں تو آپ ﷺ کی تعلیمات سابقہ انبیاء سے متضاد کیوں ہیں ۔ اس کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ وہ حقیقی تعلیمات جو سابقہ انبیاء نے اپنی قوموں کو دیں وہ تعلیم انکی موجودہ تعلیم سے بالکل مختلف ہیں اور انسانی خرد برد اور غلط تعلیمات نے انکی جگہ لے لی ہے۔ درحقیقت نیا نبی آتا ہی اس وقت ہے جب سابقہ تعلیمات بگڑ چکی ہوں اور الٰہی حفاظت اٹھ گئی ہو۔

شہد کی مکھی کی مثال کے ذریعہ اس سورۃ میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ الٰہی تائید کے ذریعہ شہد کی مکھی پھلوں اور پھولوں سے غذا حاصل کرتی ہے اور اسے مزیدار اور اعلیٰ قسم کے شہد میں تبدیل کردیتی ہے۔ اسی طرح انسان کے اخلاق کے احیاء اور روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ الہام سے اس کی راہنمائی کی جائے اور مزید یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جس طرح شہد کے مختلف معیار ہوتے ہیں اسی طرح سب انسان یکساں روحانی ترقی کے متحمل نہیں ہوتے۔ شہد کے مختلف رنگوں اور ذائقوں کی طرح مختلف نبیوں کی وحی مختلف ہوتی ہے۔

پھر خدائی وحی و الہام کی ضرورت اور نزول کی ایک مزید دلیل یوں دی گئی ہے کہ جب لوگ مرورِ زمانہ سے نبی کے دَور سے دُور جا پڑتے ہیں اور ذاتی مفاد بڑھ جاتے ہیں اور نسلاً بعد نسل مرآت کی عادت جڑ پکڑ جاتی ہے اور عام آدمی پر تمام ظاہری ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تب خدا ایک نئے نبی کو بھیجتا ہے جو اس انسان کے دوسرے انسان پر ظلم کے خلاف عَلمِ جہاد بلند کرتا ہے اور ایسے نام نہاد راہنما جو ایک زمانہ سے اپنی طاقت اور اجارہ داری سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اور عوام الناس جو نئے نبی کی پیروی کرتے ہیں ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ انسانوں کی غلامی کی زنجیریں توڑ دی جاتی ہیں اور وہ ایک حقیقی آزاد موحول میں سانس لینے لگتے ہیں۔ پھر کفار کو تنبیہ کی گئ ہے کہ وہ عظیم تبدیلی جو قرآن کریم کے ذریعہ پیدا ہونی ہے بہت جلد رونما ہوگی۔ زمانہ ایک تبدیلی کو پکارتا ہے اور اس نئے پیغام میں وہ تمام ضروری صفات پائی جاتی ہیں اور کامل تعلیمات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس نئی تعلیم (قرآن کریم) کے پیرو کار کامیاب ہوں گے اور ساری طاقت اور غلبہ ان کے ہاتھوں میں ہوگا۔ کفرکے خلاف بر حق اعلانِ جنگ ہوگا اور اس کے سرغنہ تباہ و برباد کر دئے جائیں گے۔

اس سورۃ کے اختتام پر آپ ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کا دائرہ کار وسیع تر ہونا ضروری ہے اور اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کو تبلیغ کرنا شامل ہے۔ یہ (وسعت) مخالفت کی آگ کو مزید وسیع کردے گی اور مسلمان ہر طرف سے ظلم و تعدی کا شکار ہوں گے مگر اسلام کا خدائی مقصد بڑھے گا اور اس مخالفت اور ظلم و تعدی کے بازار میں خوب پنپے گا اور اس کے دشمن اپنے مقدر شدہ منطقی انجام کو ضرور پہنچیں گے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 15 جولائی 2020ء