• 20 جولائی, 2024

جوبھی ہوتا ہے، ہماری خاطر ہوتا ہے

یہ واقعہ جو پچھلے دنوں امریکی میڈیا اور اخباروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا، Ice Hockey ٹیم کے کوچ Hamilton Brian کا ہے جو اسے در اصل ایک میڈیکل کی طالب علمNadia سے منسوب کرتے ہیں۔ امریکی نژاد سفید فام لڑکی Nadia کا کہنا ہے کہ وہ ایک Ice Hockey میچ دیکھنے گئی اور وہاں اسے ایک آدمی کی گردن پر ایک عجیب سا نظر آنے والا تل نما نشان کچھ پریشان کرنے لگا۔ وہ صرف عجیب سا نہیں تھا بلکہ کینسر کی علامات میں سے ہو سکتا تھا۔

میچ کے دوران بہت زیادہ شور اور ہجوم کے علاوہ وہ شخص شیشے کی دوسری جانب کھڑا تھا جہاں امریکی Ice Hockey ٹیم کے کھلاڑیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی کیونکہ یہ شخص ان کا کوچ Brian Hamilton تھا۔

نادیہ سوچنے لگی کہ کس طرح وہ Brian کو یہ بات کہے کہ اسے ڈاکٹر کو فوری طور پر مل کر اپنی گردن کے اس تل نما نشان کا معائنہ کروانا چاہئے۔ لیکن نہ تو اس کی آواز Brian تک پہنچ رہی تھی اور نہ ہی وہ کھلاڑیوں کے اس شیشے کے Enclosure میں جا سکتی تھی اور Brian کا منہ بھی دوسری جانب جاری میچ کی طرف تھا۔

آخر اس نے اپنے فون کی سکرین پر ایک message لکھا ’’آپ کی گردن پر جو تل نما نشان ہے غالباً کینسر ہے۔ ڈاکٹر کو جا کر دکھائیں‘‘ اور شیشے پر ہاتھ سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ جب Brian نے آخر مڑ کر دیکھا تو Nadia نے اسے اپنے فون کی سکرین کی طرف متوجہ کیا۔ Brian نے message پڑھا اور وہ بلا تامل ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔

ڈاکٹر نے معائنہ کے بعد بتایا کہ وہ بالکل صحیح وقت پر آیا ہے۔ یہ عجیب سا نظر آنے والا تل جسے وہ کافی عرصے سے نظر انداز کر رہا تھا در اصل کینسر کی ہی ابتدا تھا اور اسے فوری طور پر ایک چھوٹی سی سرجری کر کے نکال دیا گیا۔

Brian مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے بعد بھی بے چین تھا۔ وہ اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا جس نے در اصل اس کی جان بچائی تھی۔ وہ اس سے ملنا چاہتا تھا۔ اسے بتانا چاہتا تھا کہ بالکل صحیح وقت پر ایک فرشتے کی طرح اس لڑکی نے اسے مشورہ دیا۔ وہ اپنی محسن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔

مگر وہ نہ تو اس لڑکی سے واقف تھا نہ ہی اس کی شکل دیکھ سکا تھا کیونکہ Nadia نے آج کل کے حالات کے مطابق ماسک پہن رکھا تھا، اور اس قدر شور اور ہجوم میں آواز سننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ Brian نے آخر ایک خصوصی اعلامیہ جاری کیا جس کے بعد میڈیا کے توسط سے اس کی Nadia سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے نہ صرف Nadia کا بے حد شکریہ ادا کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ Nadia کے تعلیمی اخراجات کے لئے دس ہزار ڈالر بھی پیش کئے۔

Nadia کا کہنا تھا کہ وہ تو بس درست وقت پر درست جگہ پر موجود تھی مگر کیا واقعی آپ کو بھی یہ محض ایک اتفاق لگتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اس دنیا میں اس کے خالق کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے ساتھ پیش آتا ہے وہ محض ایک اتفاق ہوتا ہے؟ یا کبھی کوئی اتفاقیہ واقعہ بھی پیش آ سکتا ہے؟

ایسا کچھ نہیں، ہمارے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے، ہمارے لئے ہوتا ہے، ہماری خاطر۔ ہمیں ٹھیک اس وقت جس چیز، شخص یا نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے اسے ہماری طرف بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اس کے خالق نے انسان کے لئے بنائی جس کو احسن ترین تقویم پر تخلیق کیا۔

اور جب ان ہی جانور طبع انسانوں میں سے کسی میں وہ اشرف المخلوقات بن جانے کی کچھ صلاحیت دیکھتا ہے جس میں زندگی، یعنی حیات جاوداں کی کچھ رمق باقی ہوتی ہے تو وہ اسے اپنےفضل و کرم سے ان ہی بظاہر اتفاق نظر آنے والے واقعات کے ذریعہ سے ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے۔ اپنے خاص بندوں کو اس کی زندگی میں شامل کر دیتا ہے جو ایک سبق سکھانے کے لئے آتے ہیں یا راستے درست کرنے کے لئے یا کبھی ساتھ دینے کے لئے۔ کبھی مستقل تو کبھی عارضی طور پر اس زندگی میں آتے ہیں اور انسان آخر اشرف المخلوقات کے قافلے کا حصہ بن جانے کا شرف حاصل کرتا ہے۔ اور اپنے اصل مقصد حیات کی تکمیل کے لئے رواں دواں قافلوں کا حصہ بن کر انسانیت کی فلاح اور روحانی ترقی کا کام کرتا ہے۔

یہی بظاہر اتفاقات نظر آنےوالے واقعات در اصل خالق کے مخلوق سے رابطے اور مکالمے کا انداز ہے۔ انسان اکثر محض اتفاق سمجھ کر اپنے ساتھ پیش آنے والی صورت حال یا واقعہ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ غور نہیں کرتا، سیکھتا ہے نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ خالق کو یہی تو مخلوق سے گلے ہیں کہ ’’شکر نہیں کرتا، توبہ نہیں کرتا، یا باز نہیں آتا اور غور نہیں کرتا۔ وہ اکثر اپنے نشانات سے ظاہر کرتا ہے کہ وہ موجود اور زندہ خدا ہے جو اب بھی مکالمہ اور رابطہ کرتا ہے مگر شائد انسان اس کو کوئی بہت ہی اوپر کی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس کی کہاں یہ اوقات کے خالق اس سے براہ راست مخاطب ہو جیسے وہ نبیوں اور ولیوں سے مخاطب ہوتا ہے۔

کچھ موٹی عقل کے دانائی، شعور اور ادراک سے محروم فلاسفر اور سائنسدان تو وحی، الہام اور کشف کو غیر منطقی قرار دے کر یکسر مسترد کر دیتے ہیں۔ گہرائی میں اتر کر غیب پر مزید تحقیق کرنے کا تردد نہیں کرتے۔ معجزات کو مافوق الفطرت قرار دیتے ہیں۔

یعنی جس طرح یہ کائنات کسی اتفاق یا کسی اچانک اور بے وجہ ہونے والے Big Bang کا نتیجہ نہیں۔ اسی طرح اس کائنات میں کچھ بھی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ یہ سب ایک مکمل اور شاندار خدائی قدرت اور حکمت کا نتیجہ ہے جسے سمجھنے کے لئے شعور، دانائی اور ہدایت یافتہ عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو محض خالق کے فضل و کرم سے ممکن ہے۔ فضل و کرم کا حصول اور اس میں اضافہ ایمان کے تناسب سے ہوتا ہے۔ جتنا ایمان بڑھتا ہے، اور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی فضل و کرم میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

(کاشف احمد)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ اختتامی خطاب جلسۂ سالانہ برطانیہ مؤرخہ7؍اگست 2022ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ