• 26 فروری, 2024

اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کر کہ جن میں ان کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔ اس آیت کے مخاطب تو آنحضرتﷺ ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طر ف ہے کیونکہ آنحضرتﷺ کے والداور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہوچکے تھے۔ اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند یہ سمجھ سکتاہے کہ جبکہ آنحضرتﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے۔ اور اسی کی طر ف یہ دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔ وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا یعنی تیرے رب نے چاہاہے کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔ …… اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو۔ کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں۔ اور ہر ایک شخص طبعاً یہاں تک کہ درندچرند بھی اپنی اولاد کو ان کی خوردسالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ پس خدا کی ربوبیت کے بعد ان کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خداتعالیٰ کی طرف سے ہے۔

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ213-214)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

رزق اور عمر بڑھانے کا نسخہ