• 14 جولائی, 2024

لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کے تحت دنیا بھر میں مساجد کا قیام (قسط اول)

اسلام کا عالمگیر غلبہ جو آخری زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کی بعثت سے وابستہ تھا۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سی بشارتیں دی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا کہ خود ایسے سامان پیدا کرتا چلا جائے گا جو اس غلبہ کے دن کو قریب لانے کا موجب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگر نشانات کے ساتھ ساتھ ایک فعال اور قربانی کا جذبہ رکھنے والی جماعت بھی عطا کی۔ قربانی کی اعلیٰ روح رکھنے والوں میں مستورات بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے آقا کے ارشاد پر جو کچھ ان کے پاس تھا سب رضائے الہٰی کی خاطر پیش کردیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق عطا فرمائی کہ خلفائے احمدیت کی قیادت میں توحید کا پرچم بلند کرنے کے لیے خدا کے گھر تعمیر کرسکیں الحمدللّٰہ۔

ایک جگہ مسجد کی تعمیر کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔ جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔ اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہئے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ119 ایڈیشن 1984ء)

قربانی و ایثار کے باب میں مردوں کے دوش بدوش احمدی مستورات نے بھی کئی اہم سنگ میل نصب کیے ہیں۔ برلن کے علاوہ مسجد فضل لندن، مسجد مبارک ہیگ، ہالینڈ اور مسجد نصرت جہاں کوپن ہیگن،ڈنمارک) کی تعمیر کے تمام تر اخراجات خواتین نے ہی برداشت کیے۔

مسجدخدیجہ برلن (جرمنی) کی تاریخ

لجنہ اماء اللہ کے قیام کے بعد سب سے پہلی مالی تحریک جوحضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے احمدی مستورات کیلئے کی گئی وہ مسجد برلن کی تحریک تھی۔ اس کی تاریخ بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍اکتوبر 2008ء میں فرماتے ہیں:
1922ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جرمنی میں مشن کے قیام کا فیصلہ فرمایا اور مولوی مبارک علی صاحب بنگالی بی اے کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ وہ جرمنی جائیں اور وہاں مشن کا آغاز کریں۔ مولوی مبارک علی صاحب1920ء سے لندن میں بطور مبلغ کے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشاد پر 1922ء میں وہ لندن سے برلن آ گئے۔

(الفضل انٹرنیشنل مؤرخہ 7 تا 13؍نومبر 2008ء صفحہ5-8)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’میرا یہ منشاء ہے کہ جرمن میں مسجد عورتوں کے چندہ سے بنے۔ کیونکہ یورپ میں لوگوں کا خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔ جب یورپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت اس شہر میں جو دنیا کا مرکز بن رہا ہے۔ اس میں مسلمان عورتوں نے جرمن کے نومسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کرائی ہے تو یورپ کے لوگ اپنے اس خیال کی وجہ سے جو مسلمان عورتوں کے متعلق ہے۔ کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے اور جب وہ مسجد کے پاس سے گزریں گے تو ان پر ایک موت طاری ہوگی اور مسجد بآواز بلند ہر وقت پکارے گی کہ پادری جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت کی اسلام میں کچھ حیثیت نہیں۔ وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عورتیں بالکل جانور ہیں اور ان کو جانور ہی سمجھا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے۔ مسلمان عورتوں کو جانور کی طرح سمجھتے ہیں۔ اب جب صرف عورتوں کے چندہ سے وہاں مسجد بنے گی۔ تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کی عورتوں کو تو یہ بھی علم ہے کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو ایک بندے کی پرستش کرتے ہیں۔‘‘

(خطبات محمود جلد8 صفحہ19)

’’میں اب خطبہ کے ذریعہ تمام احمدی عورتوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے تین ماہ کے اندر پچاس ہزار روپیہ چندہ جمع کردیں۔ …اس میں صرف عورتوں کا ہی روپیہ ہوگا تاکہ یہ مسجد ہمیشہ کے لئے عورتوں کی ہی یادگار رہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عورتوں کو اس کام کی توفیق عطا کرے۔‘‘

(خطبات محمود جلد8 صفحہ21)

مسجد برلن کے لیے
لجنہ اماء اللہ کی بےمثال مالی قربانیاں

لجنہ اماء اللہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی آواز پر والہانہ لبیک کہتے ہوئے بے مثال عملی نمونہ کا اظہار کیا۔ احمدی مستورات نے جس جوش اور ولولے سے اس تحریک پر عملی نمونہ کا آغاز فرمایا اس کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے الفضل کے ایک مضمون میں کچھ یوں فرمایا: ’’مجھے مسجد برلن کے چندہ کے متعلق اعلان کیے ابھی ایک ماہ نہیں گزرا کہ ہماری بہنوں کے اعلیٰ درجہ کے اخلاص اور بے نظیر ایثار کے سبب سے چندہ کی رقم بیس ہزار سے اوپر نکل چکی ہے ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے اور درحقیقت ہمارے پاس ایمان اور محبت باللہ و محبت بالرسل …کے متاع کے سوا کہ وہی حقیقی متاع ہے اور کوئی دنیوی متاع اور سامان نہیں ہے۔‘‘

(الفضل قادیان یکم مارچ 1923ء صفحہ1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے یکم مارچ 1923ء کو الفضل میں ایک مضمون ’’مسجد برلن۔ مخلص بہنوں کے اخلاص کا نمونہ‘‘ میں احمدی خواتین کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے فرمایا: ’’قادیان سے باہر چندوں میں سب سے اول نمبر پر کپتان عبدالکریم صاحب سابق کمانڈر انچیف ریاست خیرپور کی اہلیہ کا چندہ ہے جنہوں نے اپنا کل زیور اور اعلیٰ قیمتی کپڑے قیمتی ڈیڑھ ہزار روپیہ فی سبیل اللہ دے کے ایک نیک مثال قائم کی، دوسری مثال اسی قسم کے اخلاص کی چودھری محمد حسین صاحب صدر قانون گو سیالکوٹ کے خاندان کی ہے۔ان کی بیوی، بھاوج، بہو نے اپنے زیورات قریباً سب کے سب اس چندہ میں دے دیے جن کی قیمت اندازاً دو ہزار روپیہ تک پہنچتی ہے۔‘‘

(الفضل قادیان یکم مارچ 1923ء)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک نہایت غریب وضعیف بیوہ جو پٹھان مہاجر تھیں اور سوٹی سے بمشکل چل سکتی تھیں، خود چل کر آئیں اور حضورؓ کی خدمت میں دو سو روپے پیش کر دیے۔ یہ عورت بہت غریب تھی۔اس نے دوچار مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے انڈے فروخت کر کے اپنی کچھ ضروریات پوری کیا کرتی تھیں،باقی دفتر کی امداد پر گزارا چلتا تھا۔ اسی طرح ایک پنجابی بیوہ جس کی واحد پونجی صرف ایک زیور تھا وہی اُس نے مسجد کے لیے دے دیا۔ ایک بیوہ عورت جو کئی یتیم بچوں کو پال رہی تھی اور زیور یا نقدی کچھ بھی اُس کے پاس نہ تھا، اس نے استعمال کے برتن چندے میں دےدیے۔ قربانی کا ایک جوش تھا، ایک جذبہ تھا جس کے تحت انہوں نے یہ مالی قربانی کی۔ ایک بہاولپورکے دوست تھے۔اُن کی بیوی کے پاس دو بکریاں تھیں وہ بکریاں لے کر چندے میں دینے کے لیے آگئی۔

(ماخوذ از الحکم 21؍فروری 1923ء صفحہ7)

لجنہ اماء اللہ کی قلمی خدمات

اس مسجد کی تعمیر کے لیے رقم وصول کرنے کی خاطر لجنہ اماءاللہ کی بعض ممبرات نے مضامین بھی لکھے۔ چنانچہ اس کا ذکر لجنہ اماءاللہ کی تاریخ میں اس طرح ملتا ہے:
’’مسجد برلن کی تحریک کو بہنوں میں وسیع تر کرنے کے لیے اس زمانہ کی بعض خواتین نے بھی قلم اٹھایا چنانچہ الفضل میں اہلیہ صاحبہ منشی کظیم الرحمٰن، مریم بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت حافظ روشن علی صاحب اور استانی سکینۃ النساء صاحبہ کے مضامین شائع ہوئے۔یہ مضامین اس امر پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ گو یہ وہ زمانہ تھا جب کہ قادیان میں عورتوں میں تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی لڑکیوں کے مدرسے ابھی پرائمری تک ہی تھے پھر بھی اس زمانہ کی خواتین میں چند کا مضمون نگار بن جانا اس عظیم الشان انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے جس انقلاب کے برپا کرنے کے لیے حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے تھے۔‘‘

(تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد اوّل صفحہ102)

نقشہ کی منظوری

تایخ کے مطالعہ سے اس بات کا بھی علم ہوتا ہے مسجد برلن کا نقشہ برلن کے ایک مشہور آرکیٹیکٹ A.K.Hermann سے تیار کروا کے منظوری کے لیے متعلقہ محکمہ میں جمع کروادیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں تشہیر

زمین کی خرید کے بعد نقشہ کی تیاری کے ساتھ ساتھ مولوی صاحب نے مقامی میڈیا کے ذریعے عوامی حلقوں میں مسجد کی تعمیر کے متعلق معلومات فراہم کرنی شروع کردی تھیں۔چنانچہ سنگ بنیاد کی تقریب سے بھی پہلے تعمیر مسجد کے حوالہ سے مختلف اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں۔ مثلًا Berliner Lokal-Anzeiger نے 19؍جون 1923ء کی اشاعت میں Kaiserdamm پر ’’ایک عجیب تعمیر‘‘ کے عنوان سے ایک خبر شائع کی۔پھر اسی اخبار نے اپنی 7؍اگست 1923ء کی اشاعت میں مسجد سے متعلق ’’برلن میں ہندوستان‘‘ کے عنوان سے تفصیلی خبر شائع کی۔

اس دوران تعمیر مسجد کی اجازت کے لیے قانونی مراحل طے ہونے کے بعد 27؍جولائی 1923ء کو مسجد کی تعمیر کی اجازت بھی حاصل ہوگئی تو اسی دن بنیادوں کی کھدائی کا کام شروع ہوگیا تھا۔

(اخبار احمدیہ ستمبر 2022ء صفحہ18)

مسجد کا کام التواء میں پڑ جانا

احمدی خواتین نے خداتعالیٰ کے فضل سےبڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصّہ لیا…لیکن خواتین کی قربانیاں ایک طرف اور معروضی حالات دوسری طرف! یہ جنگِ عظیم اوّل کے بعد کا وقت تھا۔ ساری دنیا کی معیشت بری طرح متاثر تھی۔ اس جنگ کے بعد کے اثرات میں سے ایک تو یہ ہوا کہ یک لخت جرمن کرنسی کی قیمت کے گر جانے کی وجہ سے مسجد کی تعمیر کے لئےرقم کا اندازہ بڑھ گیا تھا۔نیز جرمن حکومت کی طرف سے بھی ایک روک ڈال دی گئی۔ گورنمنٹ کا مطالبہ تھا کہ پانچ منزلہ عمارت بنائی جائے جس پر چھ لاکھ خرچ کا اندازہ تھا۔ یہ مطالبہ پورا کرنا ان حالات میں ممکن نہیں تھا۔ 1924ء کی مجلس مشاورت میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے بہت غور اور بحث کے بعد جرمن مشن کو بند کرنے کا فیصلہ فرمایا… لیکن جماعت احمدیہ کی خواتین کی یہ مالی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ ایساہوا کہ برلن میں رقم کی کمی کی وجہ سے جو مسجد بننا ناممکن ہو گئی تھی، احمدی خواتین کے اسی چندہ سے مسیحیت کے مرکز لندن میں پہلی عا لمگیر شہرت رکھنے والی مسجد تعمیر کردی گئی۔

(تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول صفحہ96، 117,116,114 ماخوذ)

دیرینہ خواب کی عملی تعبیر

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍اکتوبر 2008ء میں فرماتے ہیں:
’’اُس زمانہ میں جو ایک انقلابی صورت پیدا ہوئی تھی لجنہ کی ایکٹیوٹیز (activities) میں اور خاص طور پر اس تحریک کے لئے قربانی میں، ایسی قربانیاں قرون اولیٰ میں نظر آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس زمانے کی جو جاگ لگی ہوئی ہے، آج تک اس کی مثالیں ملتی رہتی ہیں۔ اُس وقت احمدی عورتوں نے نقد رقمیں اور طلائی زیورات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں پیش کئے۔ …خلاصہ یہ ہے کہ 5؍اگست 1923ء کو مسجد برلن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ جس میں جرمنی کے وزیر داخلہ اور وزیر برائے رفاہ عامہ، ترکی اور افغانستان کے سفراء، متعدد اخبار نویس اور بعض دیگر معززین شامل تھے اور مہمانوں کی تعداد 400 تھی اور احمدی اس زمانے میں صرف چار تھے۔ یہ اُس وقت حال تھا لیکن اتنے وسیع تعلقات تھے۔ یہ تھی اُس وقت کے مبلغین کی کوشش کہ اتنے وسیع تعلقات تھے اور یہ سب بڑی بڑی شخصیات اُس وقت مسجد کی بنیاد کے لئے تشریف لائیں اور بہرحال مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

لیکن کیونکہ اقتصادی حالات یہاں کے بہت خراب ہو گئے تھے، جنگ عظیم کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوا تو وہی جوخیال تھا کہ 50-60 ہزار میں مسجد بن جائے گی اس کا اندازہ خرچ 15لاکھ روپیہ پہ لگایا گیا۔ اتنے اخراجات پورے کرنا جماعت کے وسائل کے لحاظ سے بہت ناممکن تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فیصلہ فرمایا کہ دو مراکز کو چلانا بہت مشکل ہے، ایک لندن والابھی اور ایک برلن میں بھی۔ تو 1924ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ برلن مشن کو ان حالات کی وجہ سے بند کر دیا جائے کیونکہ مالی وسائل بھی نہیں ہیں اخراجات بھی نہیں پورے ہو سکتے، حالات یہاں بہت خراب ہو گئے تھے۔ لیکن وہ جو عورتوں نے، احمدی خواتین نے قربانیاں کی تھیں، وہ رقم حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر لندن بھیج دی گئی اور وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد فضل لندن تعمیر ہوئی۔ پھر یہاں 1948ء میں دوبارہ شیخ ناصر احمد صاحب آئے تھے جنہوں نے ہمبرگ میں مشن شروع کیا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خلافت خامسہ کے دور میں 2جنوری 2007ء کو مسجد خدیجہ کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔ 12؍جنوری 2007ء بروز جمعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے برلن کی مسجد خدیجہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’1923ء میں جب مسجد برلن بنانے کی تحریک کی گئی تھی تو لجنہ اماء اللہ نے رقم جمع کی تھی۔ جب جرمنی کی لجنہ کو یہ علم ہوا کہ پہلی برلن مسجد بنانے کے لئے جو کوشش ہو رہی تھی وہ بھی لجنہ کی قربانیوں سے ہی بننا تھی تو لجنہ جرمنی نے کہا کہ ہم اس مسجد کا خرچ برداشت کریں گی… اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے… حضور نے مزید فرمایا کہ اس مسجد کا نام مسجد خدیجہؓ رکھا گیا … پس جہاں یہ مسجد احمدی عورت کو قربانی کے اعلیٰ معیار کی طرف توجہ دلانے والی بنی رہے۔ وہاں دُ نیا سے بے رغبتی اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والی بنی رہے۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 2-8؍فروری 2007ء صفحہ 9)

مسجد برلن کی تعمیر کا یہ خواب خلافت خامسہ کے دور میں 86سال بعد پورا ہوا۔ خلافت خامسہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح پاکؑ کی جماعت کو جرمنی کے شہر برلن میں مسجد خدیجہ تعمیر کرنے کی توفیق دی اور یوں مسجد برلن 1923ء کا منصوبہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ مسجد 17لاکھ یورو میں تعمیر ہوئی جس میں سے 13لاکھ جرمنی کی لجنہ نے دیا اور 4 لاکھ باہر سے آیا۔ اس میں سے بھی زیادہ بڑا حصہ لجنہ UK نے دیا تھا۔

حضور انور مزید فرماتے ہیں…پس آج یہ قربانی کرنے والیاں جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی کہ یہ مسجد تعمیر کر سکیں۔ اس مسجد کے کچھ کوائف بھی بیان کر دیتا ہوں۔ اس زمانے میں تو دو ایکڑ رقبہ مل گیا تھا لیکن اس کا یہ کُل پلاٹ، 4ہزار 790مربع میٹر ہے جو ایک ایکڑ سے کچھ زیادہ ہے اور اس پر جو رقبہ تعمیر کیا گیا ہے وہ ایک ہزار 8مربع میٹر ہے۔ اسی طرح باوجود پابندیوں کے 13میٹر مینارہ کی اجازت مل گئی۔ 168مربع میٹر کے دو ہال ہیں یعنی کل 336 مربع میٹر کے مسجد کے ہال ہیں۔ اس میں 4کمروں کا ایک فلیٹ ہے۔ اس کے علاوہ جو گھر بنائے گئے ہیں، ایک دو کمروں کا ہے۔ ایک کمرے کا گیسٹ ہاؤس شامل ہے۔ 4دفترہیں۔ لائبریری ہے۔ کانفرنس کا کمرہ ہے اور بچوں کے لئے ایک چھوٹا سا پارک بنانے کاان کا ارادہ ہے۔ تھوڑی سی پارکنگ بھی ہے۔

(الفضل انٹرنیشنل مؤرخہ 7 نومبر تا 13؍نومبر 2008ء)

جیسا کہ بیان ہوچکا ہے مسجد برلن کی رقم مسجد فضل لندن کی تعمیر کے مصرف میں لائی گئی اور جوکام مسجد برلن کی تحریک کے ساتھ شروع ہوا وہ مسجد فضل لندن کی شکل میں اختتام پذیر ہوا جو سارے یورپ اور انگلستان میں پہلی مسجد تھی۔ لاریب کہ یہ مسجد ہمیشہ ہمیش کے لیے لجنہ اماء اللہ کی قربانیوں کی گواہی دیتی رہے گی۔ بلاشبہ لجنہ اماء اللہ نے اپنے امام کے ایک اشارہ پر ایسی مالی قربانیاں پیش کیں جن کی بدولت قرون اولیٰ کی خواتینِ اسلام کی یاد تازہ ہو گئی اور یہ قربانیاں احمدی خواتین کی تاریخ میں موسلا دھاربارش میں آنے والے پہلے قطرات کی مانند تھیں اور ایک ایسے انقلاب کا پیش خیمہ تھیں جس کا مشاہدہ آج ہم جگہ جگہ افق احمدیت پر کر رہے ہیں۔

ہیمبرگ، جرمنی میں مسجد کا قیام

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جرمنی میں ایک مسجد بنانے کی تحریک فرمائی جس کے خرچ کا اندازہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ تھا۔ یہ تحریک گو تمام جماعت کے لیے تھی، لیکن جماعت کی مخلص اور قربانی کرنے والی خواتین نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس تحریک میں شامل ہونے والوں کے لیے کم از کم ڈیڑھ صد روپے دینے کی شرط تھی۔ اس مسجد کی بنیاد 22؍فروری 1957ء کو رکھی گئی اور 22؍جون 1957ء کو اس کا افتتاح ہوا جس کے لیے مرکز سے حضرت مصلح موعودؓ نے خاص طور پر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کو ہیمبرگ بھجوایا۔

(تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد دوم صفحہ464، ایڈیشن 1972ء)

اس بارے میں تاریخ احمدیت میں مذکور ہے:
’’مسجد فضلِ عمر کی تعمیر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوئی۔ مکرم عبدالکریم ڈنکر صاحب کے ایک دوست Herr Knaak کے سیاسی جماعت SPD میں تعلقات تھے اس کے علاوہ کناک صاحب ہمبرگ شہر کی انتظامیہ کمیٹی میں بھی اچھا اثرو رسوخ رکھتے تھے۔ان کی کوشش سے 1200 مربع میٹر زمین کا ایک ٹکڑا جماعت کومل گیا۔ 22؍فروری 1957ء کو مسجد فضلِ عمر کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔ اسی سال مسجد کی تعمیر مکمل ہونے پر 22؍جون 1957ء کو جملہ احباب اور اعلیٰ سرکاری حکام کی مو جودگی میں افتتاح مکرم چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نے مسجد کادروازہ کھول کر کیا۔ سب ہمسائے بھی اس تقر یب میں شامل ہوئے۔ مسجد میں ہی مبلغ انچارج صاحب کے لئے ایک چھوٹا سا فلیٹ بن گیا تھا۔ مسجد میں تہہ خانہ بھی بنا یا گیا تھا اور دفاتر بھی بنائے گئے تھے۔‘‘

(ماخوذ سیرت و سوانح حضرت غلام فرید ؓصفحہ114 تاریخ احمدیت جلد صفحہ147-150)

اس کے علاوہ لجنہ اماء اللہ کے چندے سے ایک لجنہ ہال بھی تعمیر کیا گیا جس میں نمایاں قربانی کرنے والی مستورات کے نام تاریخ لجنہ جرمنی میں مذکور ہیں۔ الحمد للّٰہ جماعت جرمنی میں اس وقت تک 73مساجد جن میں 64مکمل بن چکی ہیں اور بقایا ابھی تعمیری مراحل میں ہیں یا ہدف کو پورا کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔اس میں بھی لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کو ہر سال ایک خطیر رقم شعبہ سو مساجد میں پیش کرنے کی توفیق ملتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ سو مساجد سکیم کے تحت لجنہ اماء اللہ جرمنی نے صدسالہ جوبلی کے اہداف میں اس پراجیکٹ کو شامل رکھا ہے جس کے تحت جرمنی میں دس مساجد بنا کر دینے کا وعدہ اپنے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور کرچکی ہیں۔ اس سلسلے میں دو مساجد پر عنقریب تعمیراتی کام شروع ہونے کا امکان ہے۔ خدا تعالیٰ لجنہ اماء اللہ جرمنی کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ آج کے دور میں قرون اولیٰ کی صحابیات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاریخ کے نئے روشن باب رقم کرنے والی ہوں آمین۔

مسجد فضل لندن

1924ء کا سال تاریخ احمدیت میں اس لئے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس سال 12؍جولائی کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کا پیغام پہنچانے کی خاطر انگلستان کا سفر اختیار کیا اور مسجد فضل لندن کی بنیاد رکھی۔ یہی وہ مسجد ہے جس کی تحریک تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1920ء میں کی تھی۔ مگر اس کی تعمیر کا کام 1924ء میں شروع ہوا۔ بعد ازاں حضور نے فیصلہ فرمایا کہ جو رقم احمدی عورتوں نے مسجد برلن کے لئے جمع کی تھی وہ ادھر منتقل کر دی جائے۔ چونکہ بعض حالات کی وجہ سے مسجد برلن اس وقت تعمیر نہ ہو سکتی تھی۔ اس طرح بفضل اللہ تعالیٰ جو کام مسجد برلن کے لئے تحریک کے ساتھ شروع ہوا تھاوہ مسجد فضل لندن کی شکل میں اختتام پذیر ہوا۔ جو سارے یورپ اور انگلستان میں پہلی مسجد تھی اور ہمیشہ ہمیش کے لئے احمدی خواتین کی تصویری داستان ہے۔ جہاں جہاں اس مسجد کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچے گا وہ ساتھ ہی اس زمانے کی خواتین کی قربانیوں کی داستان بھی دہرائے گا اور ہر طرف سے ان پر سلامتی کی بارش ہوگی۔ جب حضرت مصلح موعودؓ نے مسجد فضل لندن کی تعمیر کے لیے چندے کی تحریک فرمائی تو کئی خواتین نے اپنا تمام تر زیور بلاجھجھک حضورؓ کے قدموں میں نچھاور کردیا۔ ایک مخلص خاتون محترمہ کریم بی بی صاحبہ زوجہ محترم منشی امام الدین صاحب پٹواری نے اپنی والدہ کی نشانی کے طور پر صرف ایک زیور اپنے پاس رکھ کر باقی سارا زیور پیش کردیا جو ترازو میں سیروں کے حساب سے تولا گیا۔

(اصحاب احمد جلد اول صفحہ125)

19؍اکتوبر 1924ء کا دن تاریخ لجنہ میں یادگار دن ہے۔ جس دن حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ مسجد کی تعمیر قریباً دو سال میں ہوئی اور 3؍اکتوبر 1926ء کو شیخ عبد القادر صاحب نے اس مسجد کا افتتاح کیا۔

مسجد لندن کا خرچ

مسجد لندن کی تعمیر کے بعد انگلستان میں تبلیغ اسلام کا کام روز بروز بڑھ رہا تھا چنانچہ مبلغ انگلستان خان صاحب فرزند علی صاحب کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں یہ درخواست پہنچی کہ کام زیادہ ہے اور عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے اس کی تائید حضرت شیخ یعقوب علیؓ صاحب عرفانی نے بھی ولایت کے دوران قیام میں کی تھی۔ اس لئے حضور نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ایک مبلغ کا وہاں اضافہ کردیا جائے اور بجائے ہندوستان سے کوئی نیا مبلغ بھیجنے کے خود انگلستان کے کسی نو مسلم کو اس کام پر مقرر کیا جائے۔ صدر انجمن کے بجٹ میں اس کی گنجائش نہیں تھی اس لئے حضور نے 12؍اکتوبر 1928ء کو احمدی خواتین کو تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
لندن کی مسجد چونکہ احمدی عورتوں کے چندہ سے بنی ہے اس لئے انہی کی ہے… چونکہ وہ مسجد عورتوں ہی کی ہے اس لئے اس مشن کا سارا خرچ عورتوں کو ہی برداشت کرنا چاہئے۔ اس سال نوہزار کی تحریک عورتوں میں کی جاتی ہے … میں سمجھتا ہوں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت کی عورتوں کے لئے 9 ہزار کی رقم نہایت قلیل ہے اور وہ بہت جلدی اسے پورا کردیں گی …‘‘

(خطبات محمود جلد11 صفحہ499)

چنانچہ احمدی مستورات نے حسب سابق حضور کے اس مطالبہ پر پورے اخلاص سے لبیک کہا اور قادیان، امرتسر، لدھیانہ، کراچی، گوجرانولہ، سنتوکداس، سیالکوٹ، کیمبل پور، لاہور، فیروزپور، لالہ موسیٰ، گھٹیالیاں، میلسی، ملتان، میرٹھ، دہلی، نوشہرہ چھاؤنی، ایبٹ آباد، فیض اللہ چک ضلع گورداسپور، ضلع محبوب نگر، ڈیرہ غازی خاں، جہلم، بھیرہ، چکوال، کتھوالی چک 312، کوہاٹ اور راولپنڈی وغیرہ مقامات کی مستورات نے اس مالی قربانی میں نہایت اخلاص سے حصہ لیا۔ بیرونی ممالک میں سے ماریشس کی احمدی عورتوں نے بھی چندہ دے کر اپنے اخلاص کا ثبوت دیا۔

(تاریخ احمدیت جلد5 صفحہ63)

(ان جماعتوں کی مستورات کی قربانی کی تفصیل الفضل قادیان کے نومبر دسمبر 1928ء کے شمارہ جات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)

مسجد لندن کی مرمت کے لئے خواتین سے اپیل

حضرت مصلح موعودؓ نے 1931ء میں فرمایا:
انگلستان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد لندن میں جو صرف احمدی خواتین کے روپیہ سے تیار ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے ہماری جماعت کی مستورات کے اخلاص اور قربانی کی تمام دنیا میں دھوم مچ گئی تھی۔ اس کا گنبد کسی انجینئرنگ کے نقص کی وجہ سے خطرہ کی حالت میں ہے اور عمارت کے فن کے ماہروں نے مشورہ دیا ہے کہ فوراً گنبد کی مرمت کی جائے اور ایسے خول چڑھائے جائیں جن سے وہ کلی طورپر محفوظ ہو جائے ورنہ مسجد کی تمام عمارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ غالب یقین ہے …

عورتوں کو ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا:
اپنے عمل سے یہ ثابت کردو کہ اگر دوسری قوموں کی عورتیں مذہبی اور قومی کاموں سے بے پرواہ اور غافل ہیں تو احمدی جماعت کی مستورات ایسی نہیں ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ دل و گردہ دیا ہے کہ ہر ایک آواز جو دین کی خدمت کے لئے اٹھتی ہے۔ وہ اس پر لبیک کہتی ہیں اور دین کی خدمت پر ان کے دل میں ملال نہیں پیدا ہوتا بلکہ ان کا دل اس خوشی سے بھر جاتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک کام کرنے کا موقع ملا۔

(الفضل 27؍اگست 1931ء)

حضور کی اس تحریک میں بیگم صاحبہ سیٹھ عبداللہ الٰہ دین صاحب نے مبلغ ایک ہزار روپیہ چندہ دیا اور باقی رقم بھی دوسری خواتین سلسلہ کے اخلاص اور قربانی کی وجہ سے وقت کے اندر پوری ہو گئی۔

(الفضل 13؍ستمبر1931ء)

مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک (قادیان) کی توسیع

مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک قادیان کی توسیع کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 23؍دسمبر 1938ء کو ایک تحریک کی کہ ہر کمانے والا دس روپے فی کس کے حساب سے چندہ دے اور جن عورتوں کی کوئی آمدنی نہیں اور بچے بھی صرف ایک پیسہ فی کس چندہ دیں تاکہ جماعت کا کوئی فرد اس ثواب سے محروم نہ رہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کے جذبہ قربانی کا یوں تذکرہ فرمایا:
’’جب میں نے اس کے متعلق خطبہ پڑھا تو باوجود یہ کہ میں نے کہہ دیا تھا کہ اس تحریک میں دس روپے سے زیادہ کسی سے نہ لیا جائے گاپھر بھی ایک عورت نے اپنی دو سو روپے کے قریب مالیت کی چوڑیاں اس فنڈ میں داخل کرنے کے لئے مجھے بھیج دی ہیں جو میں نے بزور واپس کیں اور کہا کہ آپ اس میں دس روپے تک ہی دے سکتی ہیں۔‘‘

(تاریخ لجنہ جلد اول صفحہ491)

مسجد مبارک (ہیگ، ہالینڈ) کے لئے تحریک

مسجد مبارک ہیگ کی تحریک حضرت مصلح موعود کی طرف سے 1950ء میں ہوئی۔ اس سلسلہ میں یہ اعلان الفضل میں شائع کیا گیا:
’’خدا کا گھر بنانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ جنت میں گھر بنائے گا‘‘

احمدی بہنوں کی خدمت میں

احباب جماعت کے لئے یہ اطلاع مسرت کا باعث ہوگی کہ واشنگٹن (امریکہ) اور ہیگ (ہالینڈ) میں مساجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر کے لیے زمین خرید لی گئی ہے…سیدنا حضرت امیر الموٴ منین خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا منشاء ہے کہ جس طرح مسجد لندن کی تعمیر میں احمدی مستورات نے حصہ لیا تھا اسی طرح یہ مساجد بھی صرف احمدی بہنوں کی قربانی سے تعمیر کی جائیں۔اس لیے حضور کے ارشاد کے ماتحت یہ اعلان شائع کیا جاتا ہے کہ احمدی بہنیں ان ممالک میں مسجد کی تعمیر کے لیے دل کھول کر حصہ لیں…چونکہ روپیہ کی فوری ضرورت ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ وعدوں کی رقوم جلد از جلد ادا کردی جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی بہن کو اس تحریک میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

(الفضل 3؍مارچ 1950ء صفحہ6)

حضرت مصلح موعودؓ کا ارشاد سنتے ہی مستورات نے اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے لبیک کہا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔ جماعت کی اکثریت ہجرت کرکے پاکستان آئی تھی ان نامساعد حالات میں عورتوں کا ایک مسجد تعمیر کرنے کے لیے چندہ دینا ایسی قربانی ہے جو زندہ وجاوید رہے گی۔ اس وقت قربانی کرنے والی خواتین کے ناموں اور قربانی کی تفاصیل کی رپورٹس الفضل کے 1950ء کے مئی کے شمارہ جات میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ 12؍مئی 1950ء کو حضرت امیر الموٴمنین خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ربوہ میں خطبہ جمعہ میں مسجد ہالینڈ کی تحریک خود فرمائی۔آپ نے پہلے مسجد واشنگٹن (امریکہ) کے چندہ کا ذکر فرمایا پھر مسجد ہالینڈ کے چندہ کا ذکر کرتے ہوئے عورتوں کے چندہ کی رفتار پر اطمینان کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’دوسری تحریک مسجد ہالینڈ کے چندہ کی ہے۔ کہتے ہیں عورتوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا لیکن شاید ان کا دل بڑا ہوتا ہے۔ مردوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اکٹھا کرنا ہے اور اس وقت تک پونے بارہ ہزار کے وعدے ہوئے ہیں اور عورتوں نےساٹھ ہزار روپیہ جمع کرنا ہے مگر اس وقت تک ان کے پونے سترہ ہزار کے وعدے ہیں گویا عورتوں کے وعدے مردوں سے ڈیڑھ گنا ہیں۔‘‘

(الفضل لاہور18؍مئی 1950ء صفحہ4)

اس ارشاد کے بعد عورتوں نے بڑھ چڑھ کر اس مد میں وعدے لکھوانے شروع کردیے اور چندہ کی وصولی ابھی جاری تھی کہ حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج احمدیہ مشن ہیگ نے بذریعہ تار اطلاع دی کہ مسجد ہیگ ہالینڈ کے لیے زمین خرید لی گئی ہے اور جو قطعہ اراضی خریدا گیا ہے وہ تبلیغی لحاظ سے بہت عمدہ جگہ پر واقعہ ہے۔ اس علاقہ میں کھلے کھلے مکانات اور کشادہ سڑکیں ہیں اور ہیگ میں سب سے اچھا علاقہ شمار ہوتا ہے۔

(الفضل 20؍جولائی 1950ء صفحہ2)

اس سلسلے میں ایک خط تیار کیا گیا جس میں وہاں کے مقامی اخبارات اور اداروں کو مسجد کی تعمیر کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

(الفضل 3؍اگست 1950ء صفحہ2)

جلسہ سالانہ 1950ء کے موقع پر 27؍دسمبر کو حضرت مصلح موعودؓ نے مردانہ جلسہ گاہ میں تقریر فرماتے ہوئے جہاں مردوں کو مسجد واشنگٹن کے چندہ کی طرف توجہ دلائی وہاں مستورات کو مسجد ہالینڈ کے چندہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: ’’میں نے چند ماہ ہوئے مسجد واشنگٹن اور مسجد ہیگ کی تحریک کی تھی۔جب میں نے مسجد لندن کی تحریک کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے دس گنا کم تھی اور میں نے چندہ کی عورتوں میں تحریک کی تھی جن کی آمد بالعموم مردوں سے نصف ہوتی ہے پھر بھی انہوں نے ساٹھ ستر ہزار روپیہ چندہ دے دیا تھا۔ اب جبکہ ہماری تعداد دس گنا زیادہ ہوگئی ہے ہم ان نیک کاموں میں سستی کیوں دکھائیں۔ ہمیں ہر اہم جگہ پر ہی نہیں ہر جگہ پر مسجدیں بنانا ہوں گی۔‘‘

(الفضل 2؍جنوری 1951ء صفحہ3)

اس زمانہ میں ممبرات لجنہ پر اپنے دفتر کی تعمیر کا بھی کافی بوجھ تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے مسجد ہالینڈ کے چندے کو جلد از جلد جمع کرنے کی کوشش کی جس کا اظہار حضرت مصلح موعود نے 14؍دسمبر 1951ء کے خطبہ جمعہ میں یوں فرمایا:
’’ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے … انہوں نے زمین کی قیمت ادا کردی ہے اور ابھی چھ سات ہزار روپیہ ان کا جمع ہے جس میں اور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔ پھر چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ لجنہ کا دفتر بنانے کے لئے بھی انہوں نے چودہ پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا۔‘‘

(الفضل 20؍دسمبر 1951ء صفحہ5 کالم1-2)

سالانہ جلسہ فرمودہ 27؍دسمبر 1951ء کے موقع پر اس مسجد کی بابت فرمایا:
’’مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتوں نے مردوں سے زیادہ دیا ہے۔ مردوں کے ذمہ واشنگٹن کی مسجد لگائی گئی ہے اور اس کا خرچ مسجد بنا کر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمہ لگایا گیا تھا مسجد ہالینڈ کا اس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملا کر کوئی اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے۔ انہوں نے اپنے اسی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کردیا ہے … میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو توجہ دلانے کی اتنی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہ وہ میری اس مختصر سی تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اس نیک کام کو تکمیل تک پہنچا دیں گی۔ میں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے۔ اپنی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھولنا۔ اس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزارروپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ ہمارا پہلا اندازاً مکان اور مسجد کی تعمیر کا تیس ہزار کے قریب تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اس سے کم نہیں دیتے۔ پس زمین کی قیمت مل کر نوے ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہوگا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اس وقت تک ادا کرچکی ہیں۔‘‘

(الازہارلذوات الخمار حصہ دوم 136-137)

جلسہ سالانہ 1952ء کے موقع پر مسجد ہالینڈ کے چندہ کی وصولی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا: ’’عام تقریر شروع کرنے سے قبل میں مستورات کو توجہ دلاتا ہوں کہ تمہارے ذمہ مسجد ہالینڈ کی تعمیر کا چندہ ہے اسی طرح لجنہ کے دفاتر کے سلسلے میں بھی قرضہ ابھی باقی ہے تمہیں اس بوجھ کو اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تمہارے اندر قربانی کا جذبہ مردوں سے زیادہ ہے کیونکہ تمہیں خدا نے قربانی کی ہی جنس بنایا ہے…جو روح فدائیت کی عورتوں میں نظر آتی ہے وہ مافوق الانسانیت معلوم ہوتی ہے پس تمہیں اپنے امتیاز کو قائم رکھنا چاہیے۔‘‘

(الفضل 31؍دسمبر 1952ء صفحہ3)

جلسہ سالانہ 1953ء کے موقع پر 27؍دسمبر کو پھر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: ’’ایک اور تحریک میں نے عورتوں میں مسجد ہالینڈ کے لیے چندہ کی کی تھی …اس چندہ میں اس وقت تک 52ہزار کے قریب روپیہ آ چکا ہے اور اندازا ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کا ہے گویا 63ہزار ابھی باقی ہے۔ میں عورتوں میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ ہمت کرکے اسے بھی پورا کرلیں اور مجھے امید ہے کہ وہ پورا کریں گی۔‘‘

(الفضل 5؍جنوری 1954 صفحہ2-3)

اس طرح بار بار کی یاددہانی کے ساتھ 1954ء کے اختتام سال تک مسجد ہالینڈ کی مد میں 61,000چندہ آچکا تھا۔ گو ابتداء میں جتنا مطالبہ تھا وہ پورا ہوچکا تھا مگر بعد میں خرچ بڑھ جانے کی وجہ سے مطالبہ بھی بڑھ گئی۔

المختصر 12؍فروری 1955ء کو کھدائی کا کام شروع کیا گیا۔ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے دعا کرائی اور کدال چلا کر کام کا آغاز کیا۔ 20؍مئی 1955ء کو تین بجے سہ پہر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحبؓ نے سر زمین ہالینڈ کی پہلی مسجد کا سنگ بنیاد ہیگ میں رکھا۔اس موقع پر بہت سے مسلم ممالک کے نمائندے اور ممتاز صحافی بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔سنگ بنیاد رکھنے کی یہ بابرکت تقریب بفضلہ تعالیٰ نہایت کامیابی اور خیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

(تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ163)

حاضری دو صد تھی مختلف ممالک کے نمائندگان نے بھی شرکت فرمائی۔ محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحبؓ نے حضورؓ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

انچارج احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ کی تقریب کی تفصیلی اطلاع حضرت مصلح موعودؓ کو دی جس کا مندرجہ ذیل جواب حضرت مصلح موعودؓ نے لکھوایا: ’’جزاک اللّٰہ۔ مبارک ہو آپ کو بھی سب احمدی نو مسلموں کو بھی۔ اللہ تعالیٰ چوہدری صاحب کے لیے یہ خدمت عظیم بہت بہت مبارک کرے اور ثواب کا موجب بنائے۔‘‘

(ماخوذ از الفضل 23؍جون 1955ء صفحہ3)

حضرت مصلح موعود 18ؓجون 1955ء کو ہیگ بہ نفس نفیس تشریف لائے اور 19 تا 23؍جون تک آپ کا قیام رہا۔اس دوران آپ زیر تعمیر احمدیہ مسجد کو دیکھنے بھی گئے۔ اس موقع پر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا اور باقی اہل قافلہ بھی حضور کے ہمراہ تھے۔ حضور نے مسجد کا معائنہ فرمایا اور ہال میں کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔

(ماخوذ الفضل ربوہ یکم ستمبر 1955ء صفحہ3)

دورہ جرمنی کے دوران حضورؓ نے ہالینڈ میں تعمیر مسجد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ مسجد پاکستان کی احمدی مستورات کے چندہ سے بنائی گئی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہالینڈ میں اللہ تعالیٰ نے متعدد خواتین کو بھی قبولِ اسلام کی توفیق عطا فرمائی ہے اور وہ سب بہت مخلص ہیں۔‘‘

(الفضل 10؍جولائی 1955ء)

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تعمیر مکمل ہونے جانے پر 9؍دسمبر 1955ء بروز جمعہ المبارک سرزمین ہالینڈ میں پہلی مسجد کا افتتاح ہوا۔ افتتاح کی رسم حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب نے ادا کی۔ افتتاح کے موقع پر متعدد ممالک کے سفارتی مندوبین، مبلغین کرام، مقامی اور دیگر احمدی احباب کے علاوہ پریس اور ریڈیو کے نمائندگان بھی موجود تھے۔

(ماخوذ الفضل 13؍دسمبر 1955ء صفحہ1)

تکمیل مسجد کے لئے مزید چندہ کی تحریک

مسجد ہالینڈ پر چونکہ اندازہ سے زیادہ خرچ ہوچکا تھا اس لئے حضرت مصلح موعود نے احمدی خواتین کو چندہ کی تحریک برابر جاری رکھی اور اس پر بہت زور دیا۔ چنانچہ جلسہ سالانہ 1956ء کے موقع پر 27؍دسمبر کو اپنی تقریر میں فرمایا:
’’اس سال ہالینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف احمدی مستورات کے چندہ سے ہی ایک نہایت عظیم الشان مسجد تعمیر ہوئی ہے لیکن اس پر جو خرچ ہوا ہے وہ ابتدائی اندازے سے بہت بڑھ گیا ہے۔ اس وقت تک مستورات نے جو چندہ دیا ہے۔ 91 ہزار روپیہ اس سے زائد خرچ ہوگیا ہے۔ مستورات کو چاہئے کہ جلد یہ رقم جمع کردیں ‘‘

(الفضل 4؍ جنوری 1957ء صفحہ1)

’’عورتوں نے ہالینڈ کی مسجد کا چندہ اپنے ذمہ لیا تھا مگر اس پر بجائے ایک لاکھ کے جو میرا اندازہ تھا ایک لاکھ چوہتر ہزار روپیہ خرچ ہوا۔ 78 ہزار ان کی طرف سے چندہ آیا تھا گویا ابھی 96 ہزار باقی ہے۔ پس عورتوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ وہ 96 ہزار روپیہ جلد جمع کریں تاکہ مسجد ہالینڈ ان کی ہوجائے۔‘‘

(الفضل 9؍مارچ 1957ء صفحہ4)

بعدازاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:
’’میں نے مسجد ہالینڈ کی تعمیر کے لئے عورتوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی جس میں سے 99 ہزار روپیہ عورتیں اس وقت تک دے چکی ہیں لیکن جو اندازہ وہاں سے آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپیہ خرچ ہوچکا ہے۔ تحریک جدید کا ریکارڈ کہتا ہے عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں… میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چوہدری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے ان سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رو سے زیادہ رقم اکٹھی کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔ میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کے جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی۔ انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے۔ اس لئے میں یہ فیصلہ کرتاہوں کہ لجنہ اماء اللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ کرکے تحریک جدید کو دے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔ لجنہ اماء اللہ چھتیس ہزار روپے سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی۔‘‘

(الفضل 23؍فروری 1958ء صفحہ3)

حضرت مصلح موعودؓ نے تعمیر مسجدہیگ کے لئے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک خاص فرمائی تھی مگر خواتین احمدیت نے اپنے آقا کے حضور ایک لاکھ تینتالیس ہزار چھ سو چونسٹھ روپے کی رقم پیش کردی بلکہ بعض مستورات تو اس مد کے ختم ہونے کے بعد بھی چندہ بھجواتی رہیں۔

(تاریخ احمدیت جلد12 صفحہ182)

(باقی آئندہ کل ان شاءاللّٰہ)

پچھلا پڑھیں

مسلم خواتین کی میراث

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 دسمبر 2022