• 1 فروری, 2023

نمائش فتح عظیم مسجد کی سیر

زمانہ گردش شب و روز کا نام ہے لیکن ان میں بعض ایام ایسے آتے ہیں جن کی یاد کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی بلکہ مدتیں گزرنے کے بعد بھی ان کا وہی اثر ہوتا ہے جیسا کہ واقع پر ظہور میں آیا۔ کیا ہم حرا کی غار میں خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت بھول سکتے ہیں یا فتح مکہ کے نظارے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو سکتے ہیں۔ نہیں نہیں۔ ہم جمعۃ الوداع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تاریخی خطبہ جو اپنی مثال آپ ہے اور رہے گا، کبھی بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ ایام ماضی کا سرمایہ ہی نہیں بلکہ حال میں بھی بھولے بھٹکوں کو راہ راست پر لا سکتے ہیں۔ ان کے ان مٹ نقوش اس ماضی کو حال بنا دیتے ہیں اور ان کا ذکر حال کو مستقبل بنانے میں ممد ومعاون ہوتا ہے۔

ان ہی ایام میں چند تواریخ کل عالم کے لیے بشیر و نذیر کا حکم رکھتی ہیں۔ 23؍مارچ 1889ء کا وہ حسین دن تھا جب چالیس افراد نے دیوانہ وار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھ پر بیعت کا عہد کیا اور دنیائے اسلام میں ایک نئی توانائی نظر آئی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ جملہ وعدوں کے پورا ہونے کا وقت نزدیک تر دکھائی دینے لگا۔ ابھی اس تقریب کو صرف 11برس گزرے تھے کہ قادیان سے 11ہزار کلو میٹر مغرب میں ایک بد قسمت معاند اسلام نے صیحون شہر کی بنیاد رکھی اور یکم جنوری 1900ء کو اس شہر کا نقشہ ہزاروں لوگوں کے سامنے بے نقاب کیا اور یہ نعرہ لگایا کہ اس صیحون شہر میں جو مسیح کی آماجگاہ ہے کوئی مسلمان نہ آسکے گا بلکہ میں دعا کرتا ہوں کہ عالم اسلام کا خاتمہ ہو جائے اور خدا کے رسول پر بھی بد زبانی کے ساتھ بددعائیں دیں۔ دو سال میں یہ شہر Zion معرض وجود میں آیا۔ اس بد قسمت کو یہ علم نہ تھا کہ اس نے کس جری اللہ سے مڈ بھیڑ کی ہے۔ ہر گز ہر گز اس خادم رسولؐ بنام مرزا غلام احمد کو یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی شخص خدا کے رسول ؐ کی اہانت کرے اور اسے کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔

اس عیسائی پادری کا نام جان الیگزینڈر ڈوئی تھا جس نے اہانت اسلام کا بیڑا اٹھایا۔اور اپنے ہفت وار شمارے Leaves of Heaven

میں اسلام اور بانی اسلام پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے۔ مگر کسی مسلمان کے سر پر جوں بھی نہ رینگی اور کسی نے اس کا جواب تو کجا اظہار افسوس تک نہ کیا۔ Healing کے نام پر ایذا رسانی اس کا معمول بن گیا لیکن اس کو علم نہ تھا کہ دنیا کے دور دراز خطّے میں اب بھی ایک عاشق رسولؐ رہتا ہے جو یہ کہتا ہے۔

؎دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعفِ دین مصطفٰی
کر مجھے اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار

یہ مرد واحد نہ صرف اللہ کا پیغامبر تھا بلکہ تین لاکھ مرتبہ اسے گفتار یار کا موقع ملا اور اس کا یہ شعر حرف بہ حرف پورا ہوا۔

؎وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم
اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے کرتا ہے وہ پیار

اسی زمانہ میں جب ڈوئی اپنا منحوس کاروبار شروع کر رہا تھا۔ خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو یہ خبر دی

سلطنت برطانیہ تا ہشت سال
بعد ران صنف و فد و اختلال

اور اس پیشگوئی کے عین مطابق ملکہ وکٹوریہ اس جہان سے کوچ کر گئیں اور ان کی وفات کے اگلے دن ہی اخبار نے یہ شہ سرخی لگائی کہ

The Sun on Britsh Empire has set Yesterday.

اور اس طور پر 1893ء کا یہ الہام اپنی پوری شان سے پورا ہوا۔

1902ء میں اور پھر 1903ء میں حضرت مسیح موعودؑ نے ڈوئی کو دعوت مباہلہ دی اور اس کو ایک تہدی کے ساتھ یہ فرمایا کہ یہ میری زندگی میں ہلاک ہو گا۔ آخر وہ دن 9؍مارچ 1907ء آہی گیا جب شریر معاند اسلام حضور اقدس کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہو گیا۔

حضرت مسیح موعود ؑ اپنی مایہ ناز تصنیف حقیقۃ الوحی میں اس نشانِ الٰہی کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی امریکہ کا جھوٹا نبی میری پیشگوئی کے مطابق مر گیا۔

واضح ہو کہ یہ شخص جس کا نام عنوان میں درج ہے اسلام کا سخت درجہ کا دشمن تھا اور علاوہ اس کے اُس نے جھوٹا دعویٰ پیغمبری کا کیا اور حضرت سیّد النبیّین و اصدق الصادقین و خیر المرسلین و امام الطیّبین جناب تقدّس مآب محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو کاذب اور مفتری خیال کرتا تھا اور اپنی خباثت سے گندی گالیاں اور فحش کلمات سے آنجناب کو یاد کرتا تھا۔ غرض بغض و دین متین کی وجہ سے اُس کے اندر سخت ناپاک خصلتیں موجود تھیں اور جیسا کہ خنزیروں کے آگے موتیوں کی کچھ قدر نہیں ایسا ہی وہ توحید اسلام کو بہت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا اور اس کا استیصال چاہتا تھا اور حضرت عیسٰی کو خدا جانتا تھا اور تثلیث کو تمام دنیا میں پھیلانے کے لیے اتنا جوش رکھتا تھا کہ میں نے باوجود اس کے کہ صد ہا کتابیں پادریوں کی دیکھیں مگر ایسا جوش کسی میں نہ پایا چنانچہ اس کے اخبار لیوز آف ہیلنگ موٴرخہ 19؍دسمبر 1903ء اور 14؍فروری 1907ء میں یہ فقرے ہیں:
’’میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جا وے۔ اے خدا !تو ایسا ہی کر۔ اے خدا! اسلام کو ہلاک کر دے۔‘‘

اور پھر اپنے پرچہ اخبار12؍ دسمبر1903ء میں اپنے تئیں سچا رسول اور سچا نبی قرار دے کر کہتا ہے کہ ’’اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔‘‘ علاوہ اس کے وہ سخت مشرک تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو الہام ہو چکا ہے کہ پچیس برس تک یسوع مسیح آسمان سے اُتر آئے گا اور حضرت عیسٰی کو درحقیقت خدا جانتا تھا اور ساتھ اس کے میرے دل کو دکھ دینے والی ایک بات یہ تھی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ وہ نہایت درجہ پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور میں اس کا پرچہ اخبار لیوز آف ہیلنگ لیتا تھا اور اس کی بد زبانی ہمیشہ مجھ پر اطلاع ملتی تھی۔ جب اُس کی شوخی انتہا کو پہنچی تو میں نے انگریزی میں ایک چٹھی اُس کی طرف روانہ کی اور مباہلہ کے لیے اس سے درخواست کی تا خدا ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اُس کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔ یہ درخواست دو مرتبہ یعنی 1902ء اور پھر 1903ء میں اُس کی طرف بھیجی گئی اور امریکہ کے چند نامی اخباروں میں بھی شائع کی گئی تھی۔

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ504-505)

اس طور پر تاریخ احمدیت میں یہ دن 9؍مارچ 1907ء فتح عظیم کی نشان دہی کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی ماہ میں جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی ماہ کی چھ تاریخ کو ایک آریہ معاند لیکھرام اپنے انجام کو پہنچا اور اسی ماہ ڈوئی کی حسرتناک اور عبرت ناک وفات ہوئی اور یہ شعر پورا ہوا:

؎جو خدا کا ہو اسے للکارنا اچھا نہیں
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اَے روبۂ زار و نزار
سنّت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے
تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مُردار خوار

Zion کے سنگ بنیاد کے سو سال بعد جماعت احمدیہ امریکہ کو یہ توفیق ملی کہ 2000ء میں وہ Zion کے شہر میں ایک تقریب کرے جس کا نام Messiah 2000 ہے۔ اس موقعہ پر Carthege کالج کے وسیع ہال میں جلسہ منعقد ہوا جس میں 2000 کے لگ بھگ افراد نے شرکت کی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس موقع پر اپنا پیغام بھی بھیجا۔

اس کے بعد اب ڈوئی کی وفات کے 115سال بعد یکم اکتوبر2022ء کو دنیا نے اس فتح عظیم کی ایک نئی تجلی مشاہدہ کی۔ جب ہمارے امام نے مسجد فتح عظیم کا افتتاح فرمایا۔ اس محفل میں شہر صیحون کا مرکزی نمائندہ جو میئر کہلاتا ہے نے خطاب کیا اور کہا آج میری زبان محو حیرت سے بند ہے کہ ہم مرزا مسرور احمد صاحب کے شکریہ کے لیے کچھ عرض کر سکیں۔ سب باشندگان صیحون کی جانب سے میں آپ کو اس شہر صیحون کی کنجی پیش کرتا ہوں۔

یہ وہی شہر تھا کہ اس کی بناء پر اس کے بانی نے یہ کہا تھا کہ کوئی مسلمان اس میں نہیں رہے گا۔ اب یہ انقلاب رونما ہوا کہ اسی شہر نے حضور اقدس کو اس شہر کی کنجی پیش کی۔ سچ ہے

؎دیکھو خدا نے اک جہاں کو جھکا دیا
گمنام پا کر شہرۂ عالم بنا دیا

اس خوبصورت مسجد فتح عظیم کے ساتھ ایک مستقل نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش کا مقصد یہ ہے کہ ایک صدی پرانا نشان آسمانی ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے اور نمائش کے ملاحظے کے بعد یہ احساس ہو کہ درحقیقت یہ نشان ِ آسمانی حقیقی معنوں میں فتح عظیم ہے۔

آج ساری دنیا میں جلسہ ہائے سالانہ منعقد ہوتے ہیں اور سینکڑوں مقامات پر 1891ء کے جلسہ سالانہ کی یاد دہرائی جاتی ہے۔ اس موقعہ پر جو نعرہ ہائے تکبیر کے ہمراہ دیگر نعرے بلند کیے جاتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے:

غلام احمد کی جے

عین ممکن ہے ک اس نعرے کے الفاظ کہاں سے آئے اور اس کے معنی میں یہ فقرہ الہامی ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے تذکرہ میں اس رؤیا کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا:
’’پھر دیکھا کہ میرے مقابل پر کسی آدمی نے یا چند آدمیوں نے پتنگ چڑھائی ہے اور وہ پتنگ ٹوٹ گئی اور میں اس کو زمین کی طرف گرتے دیکھا پھر کسی نے کہا:

غلام احمد کی جے یعنی فتح

(ماخوذ از تذکرہ صفحہ613)

ڈوئی کی وفات 9مارچ 1907ء کو ہوئی اور وہ حضور ؑ کی پیشگوئی کے مطابق مرا تھا۔ یہ وہ شخص تھا کہ جس کی دولت اور شہرت دنیا میں عروج پر تھی اور چند سال میں حسرت ناک وفات سے دو چار ہوا اور یہ فقرہ پورا ہوا۔

’’غلام احمد کی جے‘‘

یہ اس فتح عظیم کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر حضورؑ نے حقیقۃ الوحی میں پیش کیا۔

آئیے! اب اس نمائش کی طرف چلتے ہیں جو فتح عظیم مسجد کے ساتھ تیار گئی ہے۔ اس نمائش کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعارف۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف اور متعدد احسانات کا اعادہ۔ قرآن کریم کی عظمت اور تراحم کا ذکر۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غیر مسلموں کی آرا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسیح و مہدی کی آمد کی بابت پیشگوئیاں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعارف، تعلیمات اور پیشگوئیاں۔ معاندین اسلام بالخصوص ڈوئی کا تعارف۔ ڈوئی کے نوادرات کی نمائش۔ ڈوئی کے مہلک بیانات اور اسلام دشمنی۔ حضرت مسیح موعودؑ کا دعوت مباہلہ اور اس کی تمام جہان میں اشاعت اور 160اخبارات کی نمائش جن میں چودہ وہ اخبارات ہیں جو ڈوئی کی وفات کے بعد منظر عام پر آئے۔ یہ تمام تراشے دنیا کے مختلف ممالک سے لے کر جمع کیے گئے ہیں جن میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ایشیا، یورپ، کینیڈا اور امریکہ شامل ہیں۔

2۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ جب زائر اس نمائش میں داخل ہو اور اس کی مکمل سیر کے بعد جب وہ باہر آئے تو اس کے دل و دماغ میں یہ بات گھر کر جانی چاہیے کہ اسلام سچا مذہب ہے اور حضرت مرزا صاحب ؑ اپنے دعوے میں باطل نہیں۔

3۔ ہر احمدی کے دل میں خدا تعالیٰ کی حمد و شکر کے جذبات از سر نو اجاگر ہو جائیں اور حضرت مسیح موعودؑ کے مشن سے ایک محبت اور اخلاص پیدا ہو۔

4۔ ایک مزید مقصد یہ ہے کہ ان معلومات کو تبلیغ کے ذریعے غیر مسلموں تک پہنچایا جائے۔

چند اور اہم معلومات

اب ذیل میں ان امور کی نشاندہی کی جائے گی جو کہ اس نمائش کی زینت رہے ہیں۔

یوں تو مجموعی طور پر پوسٹرز، بینرز، تصاویر سے نمائش کو مزین کیا جاتا ہے لیکن اس نمائش میں مندرجہ ذیل پیشکش کی نئی اشکال پیش کی گئیں۔

1۔ Video looping اس طریق میں کمرے میں 9ٹی وی سکرین جو اسی مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں کہ Video کا مواد جاری طور پر ایک سے دوسرے سکرین پر جاری رہے اور تسلسل قائم رہے۔ زائرین اس رواں TVپر دو تین منٹ کے وقفہ سے تمام پیش کردہ مواد کا مشاہدہ کر سکیں۔ نمائش کا سارا مواد ان دس حصوں پر مشتمل تسلسل کے ساتھ پیش کیا گیا۔

2۔ ایک Virtual Tv ایسا بھی تھا جس میں ڈوئی کے بارے میں 14تراشے محفوظ ہیں اور ہاتھ کے اشارے سے وہ باری باری سامنے آتے ہیں اور زائرین انہیں دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔

3۔ ایک اور Virtuel Tv میں حضرت مسیح موعودؑ کی عبارات اسی طریق پر یعنی ہاتھ چلانے سے باری باری پڑھی جا سکتی ہیں۔

4۔ ایک بڑی مشین Kiosk جو Load Screen ہے اس میں ڈوئی کے مباہلہ کے بارے میں دستیاب شدہ 160 تراشے بذریعہ ملک اور بذریعہ ریاست کے جو نقشے نظر آتے ہیں ان کو انگلی سے چھونے سے وہ جملہ تراشے سامنے 55 انچ سکرین پر نظر آتے ہیں جو اس ریاست میں 1903ء سے 1909ء تک شائع ہوئے۔ ان ممالک میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، امریکہ، یورپ اور ایشیا شامل ہیں۔ چھوٹے چھوٹے Dots سے ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

5۔ اس نمائش کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس kiosk کے ساتھ والی دیوار پر ایک 7×7 فٹ کا ایک فریم ہے جس میں Boston Herald موٴرخہ 23؍جون 1907ء آویزاں کیا گیا ہے جو اپنے عظیم سائز کی وجہ سے کئی فٹ دور سے پڑھا جا سکتا ہے اور جس کی شہ سرخی یہ ہے

Great is Mirza Ghulam Ahmad

اور اس کے ساتھ والی دیوار پر حضور اقدس علیہ السلام کی اصل شبیہ بھی جو قد آدم ہے آویزاں کی گئی ہے اور اس تصویر کے نیچے ایک خوبصورت شیشے کے Caseمیں وہ تمام اصلی نواردات رکھے ہیں جو حضورؑ کی پیشگوئیوں دربارہ طاعون، زلزلہ، خسوف و کسوف کے نشانات پیش کر رہی ہیں مثلاً طاعون 1902ء کی اخبار ی سرخیاں اور تراشے، زلزلہ سان فرانسسکو کے اخباری تراشے اور ایک Astronomy book جس میں دو سائنسدان Telescope کے ذریعے خسوف و کسوف 1895ء کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

حضور علیہ السلام کی قد آدم تصویر کے ملحقہ ایک اور Tv Screen پر ہاتھ کے اشارے سے متحرک وہ چودہ تراشے پیش کئے گئے ہیں جن میں حضورؑ کی کامیابی کا تذکرہ درج ہے۔ ان میں Nebraska ریاست کے اخبار کے دو تراشے ہیں ایک 1903ء کا جس میں مباہلہ کی اطلاع ہے اور ایک 1907ء کا جس میں ایڈیٹر نے پرانی اشاعت کے حوالہ سے اس کے انجام کی خبر دی کہ ڈوئی پیشگوئی کے مطابق مر گیا۔

یہ وہ ریاست ہے جس میں کوئی احمدی نہیں رہتا اور کبھی یہاں جماعت قائم نہیں ہوئی۔ اس کا اس طرح خبر شائع کرنا لاریب جماعت احمدیہ کی فتح کی نشانی ہے۔

حضور انور کے تبصرے

حضرت امیر الموٴمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 27؍ستمبر 2022ء کو اس نمائش کا معائنہ فرمایا۔ ذیل میں حضور اقدس کے تبصرے پیش کیے جاتے ہیں:
1۔ ڈوئی کے نوادرات مشاہدہ کرنے کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرعون کے بدن کی حفاظت کرے گا اور اس سے یہ نشان زندہ جاوید ہو گا۔ آپ نے ان نواردات کو جمع کر کے اس نشان الٰہی کو محفوظ کر لیا۔


ہماری ٹیم کے کسی فرد کے ذہن میں یہ بات نہ آئی تھی اور یہ سن کر دل حمدِ الٰہی سے معمور ہو گیا۔ الحمدللّٰہ

2۔ حضرت مسیح موعودؑ کے استعمال شدہ کوٹ کو بھی ایک خوبصورت شیشے کے Case میں Display کیا گیا تھا۔ حضور اقدس چند منٹ تک اس کوٹ کو دیکھتے رہے اور پھر فرمایا غالباً پشاور سے حضورؑ کو یہ تحفہ بھجوایا تھا۔ یہ کوٹ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی پوتی کی ملکیت تھا اور منظور الرحمان صاحب لے کر آئے آئے۔

3۔ ایک گلاس کیس میں literary Digest کی 1903ء کا ایک اوّلین نسخہ پیش کیا گیا اور یہ عرض کی گئی کہ یہ پہلا نسخہ ہے جو ہمیں دستیاب ہوا ہے۔ حضور انور نے اس تراشے کا خلاصہ تیسرے نمبر پر اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں شائع فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی Review of Religions کی اردو اشاعت جس میں اس مباہلے کا ذکر ہے دکھایا گیا ہے۔ اس پر حضور انور نے دریافت فرمایا کہ یہ ریویو کہاں سے حاصل کیا گیا ہے۔

(انور محمود خان۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

آئرلینڈ میں چودھویں نیشنل بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 جنوری 2023