• 30 ستمبر, 2020

پہلی صدی کے مجدد حضرت عمر بن عبد العزیزؒ

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔
’’ىقىناً ہم نے تمہارى طرف اىک رسول بھىجا ہے جو تم پر نگران ہے جىسا کہ ہم نے فرعون کى طرف بھى اىک رسول بھىجا تھا۔‘‘

(المزمل:15)

رسول کریم ؐ کی حضرت موسیٰ کے ساتھ کامل مماثلت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ آپؐ کے بعد امت محمدیہ میں مثل انبیائے بنی اسرائیل ایسے وجود آئیں جو دین کامل کا احیائے نو کریں۔ اس بارہ میں آپ ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس ا مت کے لیے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ کھڑا کرتا رہے گا جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔ (سنن ابو داؤد) پس امت محمدیہ میں ہرصدی پر مجدد تجدید دین کے لیے آتے رہے اور اور چودہویں صدی کے مجدد مسیح و مہدی ؑ ہیں۔ اس سلسلہ میں ان چودہ مجددین کے تعارف وسیرت کا ذکر کیا جائے گا۔

پیدائش ونام و نسب

آپ کا نام عمر اور ابو حفص کنیت تھی۔ آپ کے والد محترم کا نام عبد العزیز اور والدہ کا نام ام عاصم ہے۔آپ کے والد بنو امیہ میں ایک ممتاز اور خاص مقام رکھتے تھے اور مصر کے گورنر تھے۔ اور ان کے گورنری کا زمانہ قریباً اکیس سال کے ایک طویل عرصہ پر محیط تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کی والدہ ام عاصم حضرت عاصم بن عمر بن خطابؓ کی صاحبزادی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت عمر خلیفۂ راشد آپ کے پڑنانا ہوئے۔

نافع سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے فرمایا: ’’کاش اپنی اولاد میں سے مجھے وہ شاندار شخص معلوم ہوتا جو زمین کو اسی طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوگی۔‘‘

(طبقات ابن سعدجزء 5صفحہ 330)

عبد اللہ بن دینارؒ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ ’’ہم لوگ بیان کیا کرتے تھے کہ یہ حکومت ختم نہ ہوگی تاوقتیکہ اولاد عمرؓ میں سے اس امت کا والی ایک ایسا شخص نہ ہو جو عمرؓ کے نقشِ قدم پر چلے اور چہرے پر ایک مسّا ہو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبد العزیز کو لایا، ان کی والدہ ام عاصم بنت عاصم بن عمر بن الخطاب تھیں۔‘‘

(طبقات ابن سعد جزء5 ص330)

اس پیشگوئی کے مصداق حضرت عمر بن عبد العزیز مصر کے ایک گاؤں حلوان میں 62ھ میں پیدا ہوئے۔ علامہ ذہبی کے نزدیک آپ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی۔

(تاریخ الخلفاء جزء1 ص171، تذکرۃ الحفاظ جزء1 صفحہ118)

تعلیم و تربیت

آپ کا بچپن مدینہ منورہ میں گزرا اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے زیر سایہ تربیت پائی اور صالح بن کیسان اتالیق مقرر ہوئے۔ بچپن میں ہی آپ نےقرآن کریم حفظ کیا اور فصاحت و بلاغت اور شعر و شاعری میں مہارت حاصل کی اور مدینہ کے متعدد علماء و فقہاء سے علم حاصل کیا۔علوم دینیہ میں آپ بڑے پایہ کے عالم تھے۔ علامہ ذھبی لکھتے ہیں: ’’آپ بڑے امام، بڑے فقیہہ، بڑے مجتہد، حدیث کے بڑے ماہر اور معتبر، حافظ، سند اور نرم خوتھے۔‘‘

(تذکرۃ الحفاظ جزء 1صفحہ118)

میمون بن مہران کہا کرتے تھے کہ ہم عمر ؒکے پاس اس خیال سے آئے تھے کہ ہم سے وہ کچھ سیکھ سکیں لیکن ہم کو معلوم ہوا کہ ہم خود ان کے شاگرد ہیں۔ آپ کے نزدیک علماء شاگردوں کی طرح ہوتے تھے۔‘‘

(تذکرۃ الحفاظ جزء1 صفحہ118)

مدینہ کی گورنری

حضرت عمر بن عبد العزیز87ھ تا 93ھ مدینہ کے گورنر رہے۔ اس دور میں مکہ اور طائف بھی ان کے زیر حکومت تھے۔ آپ نے مسجد نبوی کی از سر نو تعمیر کروائی اور ولید بن عبد الملک کے ایماء پر مسجد میں ایک فوارہ بھی تعمیر کروایا۔ مسجد نبوی کے ساتھ اطرافِ مدینہ کی مساجد جن میں رسول اللہؐ نے نماز ادا فرمائی تھی ان کو منقّش پتھروں سے تعمیر کروایا۔

(فتح الباری جزء1 ص571)

مدینہ میں مختلف جگہوں پر کنوئیں کھدوائے۔ آپؓ نے متعدد بار امیر الحجاج کا فریضہ سر انجام دیا۔ 93ھ میں ولید بن عبدالملک نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو بوجوہ معزول کر کے خالد بن عبد اللہ کو مکہ کا اور عثمان بن حیان کو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔

(تاریخ طبری جزء4 ص11 تا 19)

سلیمان بن عبد الملک کی وفات اور خلعتِ خلافت

ولید بن عبد الملک کے بعد سلیمان بن عبد الملک خلیفہ مقرر ہوئے۔سلیمان کو آپؓ پر بے حد اعتماد تھا اور اہم امور میں آپ سے مشورہ و معاونت لیتا تھا۔ 99ھ میں سلیمان بن عبد الملک کی وفات ہوئی تو رجاء بن حیات نے بنو امیہ کو مسجد وابق میں جمع کر کے ان سے نئے سرے سے سلیمان کے فرمان پر نئے خلیفہ کے لیے بیعت لی اورحسب فرمان حضرت عمر بن عبد العزیز کو اٹھا کر منبر پر کھڑا کیا تو حضرت عمر بن عبد العزیز انّا للہ پڑھ رہے تھے کہ یہ بارِ عظیم مجھ پر کیسے آن پڑا اور ہشام بن عبد الملک اس لیے انّا للہ پڑھ رہا تھا کہ خلافت مجھے کیوں نہیں ملی۔

بیعت ہوجانے کے بعد سلیمان بن عبد الملک کی نماز جنازہ آپ نے پڑھائی۔تجہیز و تکفین کے بعد شاہی سواری آئی لیکن آپ نے اسے ناپسند کیا اور اپنے خچر پر سوار ہوگئے۔ لوگوں نے قصر خلافت کی طرف لے جانا چاہا تو فرمایا کہ جب تک سلیمان کے اہل و عیال وہاں سے منتقل نہ ہوں میں اپنے خیمہ میں رہوں گا۔

(تاریخ طبری جزء4 ص60، طبقات ابن سعد جزء5 ص338)

خدمات و کارنامے

آپ کی خلافت کے بارہ میں لوگوں نے خوابیں دیکھی تھیں۔ خلافت کا آغازآپ نے امن کے پیغام سے کیا۔ کتاب اللہ، دین اللہ اورسنت رسول کو مستحکم کرنے اور اپنانے پر زور دیا۔

(سیرۃ عمر بن عبد العزیز جزء1 ص36،40)

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسلمانوں میں جمہوریت کو از سر نوزندہ کیا اور اسلامی سیاست کی تجدید کر کے اس کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق مقرر کردیا۔ خلافت اسلامیہ کی بنیاد کتاب و سنت اور آثار صحابہ پر قائم کی۔ اسی بناء پر علمائے امت نے ان کو خلفائے راشدین میں شمار کیا ہے اور پہلی صدی کا مجدّد قرار دیا ہے۔ بنو امیہ کے حکمرانوں نے لوگوں کے مال و جائداد پر جو ظالمانہ قبضہ کیا تھا ان کو واپس دلانا ایک مجدّد خلافت اسلامیہ کا سب سے اولین فرض تھا ۔آپ نے سب سے پہلے یہی کام کیا جس پر خاندانِ بنو امیہ نے برہمی کا اظہار کیا۔ باغِ فدک جس پر ان کے خاندان کی معاش کا دارومدار تھا۔ خلیفہ بنتے ہی فدک کے متعلق رسول اللہؐ اور خلفائے راشدین کے طرز عمل کا پتہ کیا جب حقیقت کا پتہ چلا تو آپ نے قریش اور دیگر قبائل کو جمع کر کے کہا کہ فدک آنحضور ؐ کے ہاتھ میں تھا، ان کے بعد حضرت ابو بکرؓ اور بعد میں حضرت عمرؓ اس کا انتظام فرماتے رہے۔ آخر میں مروان نے اس کو اپنی جاگیر میں داخل کر لیا اس کے بعد وہ میرے قبضہ میں آیا اور میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ فدک کی جو حالت عہد رسالت میں تھی اس کو اسی طرف لوٹاتا ہوں۔

(سنن ابو داؤدکتاب الخراج باب فی صفایا النبیؐ من الاموال، طبقات ابن سعد جزء5 ص388)

آپ اسلامی تاریخ میں ایک فاتح کی حیثیت سے تو معروف نہیں لیکن آپ کا عہد خلافت جنگی مہمات سے خالی نہ تھا۔ 100ھ میں عراق میں فرقہ حروریہ نے سر اٹھایاتو آپ نے خود بسطام سردارِخوارج کو خط لکھ کر مناظرہ کی دعوت دی۔ بسطام نے دو افراد کو مناظرے کے لیے بھیجا جوناکام رہے۔ نتیجتاً جنگ ہوئی اور انہوں نے شکست کھائی۔

(تاریخ طبری جزء4 ص62)

وفات و تدفین

حضرت عمر بن عبد العزیز نے 25رجب 101ھ میں زہر خورانی کی وجہ سے بیس روز بیمار رہنے کے بعد بمقام دیر سمعان وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ کی وفات ایک سازش کا نتیجہ تھی۔ اس وقت آپ کی عمر 39 برس تھی۔ آپ دو برس، پانچ مہینے اور چار دن مسندِ خلافت پر متمکن رہے۔

(طبقات ابن سعد جزء 5ص408 ،تاریخ طبری جزء 4ص68)

آپ نے اپنی قبر کے لیے زمین اپنی زندگی میں ہی خرید لی تھی اورخالد بن ابی بکر سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے وصیت کی تھی کہ انھیں پانچ سوتی کپڑوں کا کفن دیا جائے جن میں کرتہ اور عمامہ بھی ہو۔انھوں نے کہا کہ ابن عمرؓ کے اعزہ میں سے جو مرتا تھا وہ اس کو اسی طرح کفن دیتے تھے۔ بوقتِ وفات آپ کی زبان پر سورة القصص کی آیت 84 تھی۔

(طبقات ابن سعد جزء 5ص406)

محمد بن معبد کا بیان ہے کہ شاہ روم نے نہایت غمزدہ حالت میں مجھے بتایاکہ مرد صالح حضرت عمربن عبد العزیزکا انتقال ہوگیا پھر کہا ’’اگر عیسی علیہ السلام کے بعد کوئی مُردوں کو زندہ کر سکتا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز ہی کر سکتے تھے، مجھے اس راہب کی حالت پر کوئی تعجب نہیں جس نے اپنے دروازے کو بند کر کے دنیا کو چھوڑ دیا اور عبادت میں مشغول ہو گیا، مجھے اس شخص کی حالت پر تعجب ہے جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی اور اس نے اس کو پامال کر کے راہبانہ زندگی اختیار کی۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر جزء56 ص15)

ازواج و اولادو سیرت

حضرت عمر بن عبد العزیزکی تین بیویاں تھیں جن میں سے ایک بیوی عبد الملک بن مروان کی صاحبزادی فاطمہ بنت عبدالملک تھیں۔ اس کے علاوہ ایک ام الولد تھی۔ آپ کی اولاد کی مجموعی تعداد 16 تھی۔

حضرت عمر بن عبد العزیز درویش صفت ،نہایت خوش خلق ،حلیم الطبع ،متحمل مزاج اور نرم خو انسان تھے۔ دنیاوی شان و شوکت سے بالکل بیزار تھے۔ آپ اپنی امارت کے دور میں نہایت شان و شوکت سے رہتے تھے لیکن خلافت کے زمانہ میں نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ لباس اور غذا نہایت سادہ تھی۔ متانت، سنجیدگی اور شرم و حیا کا پیکر تھے۔ رحمدلی ان کا خاص وصف تھا۔ اپنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے ہر دلعزیز تھے۔ آپ ہمیشہ علماء کی قدر کیا کرتے تھے اور ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ عبادات کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ عام معمول یہ تھا کہ شام ہونے کے بعد آدھی رات تک امور خلافت انجام دیتے، آدھی رات کے بعد علماء سے صحبت رکھتے اور رات کا پچھلا پہر عبادت میں گزارتے۔ نماز فجر پڑھنے کے بعد پھر حجرے میں چلے جاتے اور اس وقت کوئی دوسرا نہیں جا سکتا تھا۔ آپ نے تقویٰ اور پرہیز گاری سے زندگی کو گزارا۔ بلا شبہ آپ صدق میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، عدل میں حضرت عمر فاروقؓ، حیا میں حضرت عثمان غنیؓ اور زہد میں حضرت علیؓ کے مثیل تھے۔ آپ نے احیائے شریعت، ترویج سنت نبویہ، امحائے بدعات اور تحفظ عقائد کے لیے بہت سعی کی اور اسے ایک خلیفہ کا نصب العین قرار دیا۔ حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ؐ کے بعداس نوجوان یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سوا کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ؐ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔‘‘

(سنن ابو داؤد جلد اول حدیث نمبر886)

یحییٰ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے اور بہت خشیت الہٰی رکھتے تھے۔ محبت رسولؐ اور محبت اہل بیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آپ نے بنو امیہ کے دور سے جاری بد رسم خطبہ میں حضرت علیؓ کے خلاف الفاظ کے استعمال کو ختم کروایا۔

(طبقات ابن سعد جزء5 ،سیرت عمر بن عبد العزیز جزء 1ص47)

کارہائے نمایاں

حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے عہد خلافت میں خلفائے راشدین کے عدل و انصاف اور مساوات کو قائم کر دکھایا۔ آپ نے اپنے پڑنانا حضرت عمر بن خطابؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی رعایا کا خاص خیال رکھا۔ آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے لوگ اتنے خوشحال تھے کہ یحی بن سعید کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے حکم پر میں نے افریقہ میں صدقہ وصول کر کے اسے فقراء میں تقسیم کرنا چاہا تو مجھے کوئی فقیر نہ ملا کیونکہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے لوگوں کو امیر بنا دیا تھا پھر میں نے صدقہ کی رقم سے غلام خرید کر آزاد کر دئیے۔

(سیرت عمر بن عبدا لعزیزلابن عبد الحکم جزء1 ص65)

آپ نے رعایا کے اموال اور حقوق کی حفاظت کی۔ جابجا سرائے بنوائے، مہمان خانے تعمیر کروائے اورغرباء و مساکین کےلیے ایک لنگر خانہ بنوایا۔ آپ کی خلافت کا زمانہ بہت کم تھا لیکن پھر آپ نے بہت سی اصلاحات کیں اور خلافت کو اس سطح پر لائے جس پر خلفائے راشدین کی خلافت تھی۔ آپ نے بدعات کا خاتمہ کیا۔ بیت المال کی اصلاح کی۔ ذمیوں کے حقوق اور ان کے مذہبی مقامات کو پورا تحفظ دیا۔

(طبقات ابن سعدجزء5 ،سیرت عمر بن عبدا لعزیز جزء1ص63)

آپ نے اپنے عہد میں بہت سی مساجد تعمیر کروائیں اور حدود حرم کی تجدید کروائی۔ اپنی زندگی میں صرف ایک محل خناصرہ میں تعمیر کروایا جس میں اکثر رہا کرتے تھے۔

(طبقات ابن سعد،نھر الذھب فی تاریخ حلب جزء1 ص68)

آپ نے بادشاہوں کو بذریعہ خطوط اسلام کی دعوت دی اور ان میں سے بعض نے اسلام بھی قبول کیا اور اپنے نام عربی میں رکھے۔

(فتوح البلدان از علامہ بلاذری جزء1 ص425)

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور خلافت میں لوگوں میں روحانیت کو فروغ دیا اور نیکی و بھلائی کی طرف تحریض دلائی حتیٰ کہ نیکی پر ترغیب دلانے کی خاطر انعامات دینے کا بھی اعلان فرمایا جس کا بہت مثبت نتیجہ نکلا۔

(سیرۃ عمر بن عبد العزیز جزء1ص121)

تدوین حدیث کی طرف آپ کی خصوصی توجہ تھی اور قاضی ابوبکر بن حزم گورنر مدینہ کو لکھا کہ ’’احادیث نبویہ کی تلاش کرکے ان کو لکھ لو کیونکہ مجھے علم کے مٹنے اور علماء کے فنا ہونے کا اندیشہ ہے اور نبی کریمؐ کی حدیث کے علاوہ کوئی حدیث قبول نہ کی جائے۔‘‘

(بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم)

آپ نے نہ صرف تدوین احادیث نبویہ فرمائی بلکہ اس کی تعلیم و اشاعت کے لئے گورنروں اور عمّال کو تلقین کی کہ ممالک میں علماء بھجوائے جائیں اور مدرس و علماء و طلباءکے لیے وظائف مقرر کئے۔

(سیرت عمر بن عبدا لعزیز لابن عبد الحاکم جزء1 ص141، جامع بیان العلم جزء1 ص647، تذکرۃ الحفاظ)

حضرت عمر بن عبد العزیز نےایک یونانی حکیم اہرن القس کی کتاب کا عربی ترجمہ جو ماسرجیس نے مروان بن حکم کے زمانہ میں کیا تھا اور شاہی کتب خانے میں متروک پڑی تھی۔ آپ نے اسے چالیس روز استخارہ کرنے کے بعد شائع کرواکے ممالک میں تقسیم کر دیا۔

(اخبار العلماء باخبار الحکماء جزء 1ص243)

خلافت راشدہ کی یادِنو

غرضیکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت ایسی تھی جس نے مسلمانوں میں خلافت راشدہ کی یاد از سر نو تازہ کردی۔ ابن خلدون لکھتے ہیں: ’’حضرت عمربن عبد العزیزؓ مروانی سلسلہ کی درمیانی کڑی تھے، انھوں نے اپنی تمام تر توجہ خلفائے راشدین اور صحابہؓ کے طریقہ کی طرف مبذول کی۔‘‘

(تاریخ ابن خلدون جزء1 ص258)

معروف شاعرفرزدق نے آپ کی وفات پرحسرت سے کہا:

کَمْ مِنْ شَرِیْعَةِ حَقِِّ قَدْ شَرَعْتَ لَھُمْ
کَاْنَتْ اُمَیْتَتْ وَ اُخْرَیٰ مِنْکَ تُنْتَظَرُ
یَا لَھْفَ نَفْسِیْ وَ لَھْفَ اللَاھِفِیْنَ مَعِی
عَلَی الْعُدُوْلِ الَتِی تَغْتَالَھَا الْحُفَرُ

ترجمہ: کتنی مردہ سچی شریعتوں کو آپ نے جاری کیا اور دوسری (شریعتیں) تعامل کے لیے منتظر تھیں۔میرا افسوس اور میرے ساتھ تمام افسوس کرنے والوں کا افسوس ان عادل لوگوں پر جن کو قبروں نے ہلاک کردیا۔

(سیرۃ عمر بن عبد العزیز لابن جوزی ص335)

٭…٭…٭

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 16 جون 2020ء

اگلا پڑھیں

عالمی اپڈیٹ Covid -19