• 5 اگست, 2021

میں پہلے دل کی دیواروں کو دھو لوں

میں پہلے دل کی دیواروں کو دھو لوں
پھر اس کے بعد ہمت ہو تو بولوں
تقاضا کر رہی ہے تن کی مٹی
کہ اب زیرِ زمیں کچھ دیر سو لوں
میں اکثر دل ہی دل میں سوچتا ہوں
کہ سولی پر بھی بولوں یا نہ بولوں
مسلسل ہو رہی ہے دل پہ دستک
مگر میں ہوں کہ دروازہ نہ کھولوں
میں کیوں شکوہ کروں فرقت کی شب کا
میں کیوں اس انگبیں میں زہر گھولوں
یہ تیری یاد کے آنسو ہیں ان کو
چھپا لوں اور پلکوں میں پِرو لوں
محبت کی زباں آتی ہے مجھ کو
میں سب کہہ دوں مگر منہ سے نہ بولوں
اگر ہو اذن تو فردِ عمل کو
میں چھپ کر آنکھ کے پانی سے دھو لوں
محبت راز ہے اور سوچتا ہوں
کہ میں یہ راز کھولوں یا نہ کھولوں
تمہارے نام کا دامن پکڑ کر
میں سولی پر بھی گھبراؤں نہ ڈولوں
مجھے آتے ہیں آدابِ جنوں بھی
ہنسوں محفل میں تنہائی میں رو لوں
میں اپنی سوچ میں دشتِ وفا کا
کوئی کانٹا کوئی کنکر چبھو لوں
یہ بزمِ یار کی خوشبو ہے مضطرؔ
اسے میں جسم اور جاں میں سمو لوں

(چوہدری محمد علی مضطرؔ عارفی
اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم صفحہ599-600)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 جون 2021

اگلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام ڈاک