• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

اخبار الفضل کا اجرا۔مصلح موعودؓ کا ایک کارنامہ

’’سوانح فضل عمر جلد اوّل‘‘ کا اقتباس آج اس شمارے کےاداریے کےطور پر دیاجارہاہے جو اس شمارے کی خوبصورتی میں چار چاند لگانے کے مترادف ہے۔

(ایڈیٹر)

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے کارنامہ الفضل کے اجراء پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے تحریر فرمایا۔

تشحيذاگرچہ جماعت کی علمی ضروریات کو بہت حدتک بڑی عمدگی سے پوری کررہا تھا، لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب نے بجاطور پر یہ ضرورت محسوس کی کہ جب تک سلسلہ کا ایک باقاعدہ اخبار جاری نہ ہو صحیح معنوں میں مرکز اور جماعت کے مابین رابطہ قائم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس شدید ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے جون 1913ء میں الفضل اخبار کا اجراء فرمایا۔ یہ اخبار آج تک جماعت احمدیہ کا مرکزی روزنامہ چلا آرہا ہے۔ اس بارہ میں ’’اعلانِ فضل‘‘ کے عنوان کے تحت آپ نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں آپ نے اس فلسفہ پر روشنی ڈالی کہ بعض چھوٹے چھوٹے امور کس طرح بڑے ہو جاتے ہیں اور ایک چھوٹے سے بیج سے کس طرح بڑے بڑے عظیم القامت درخت بن جاتے ہیں۔ فرمایا: یہی مثال روحانی سلسلوں کی ہے گذشتہ الہٰی سلسلوں کی طرح جماعت احمدیہ کی ضروریات بھی بڑھتی چلی جاری ہیں۔ پھر فرمایا:۔

’’اس لئے بموجب ارشاد حضرت خلیفۃالمسیح توکلاً علی ﷲ اس اخبار کو شائع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ہمارا کام کوشش ہے۔ برکت اور اتمام خداتعالیٰ کے اختیارمیں ہے۔ لیکن چونکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اس لئے اس کی مدد کا یقین ہے۔ بے شک ہماری جماعت غریب ہے لیکن ہمارا خدا غریب نہیں ہے اور اس نے ہمیں غریب دل نہیں دیئے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس طرف پوری توجہ کرے گی۔ اور اپنی بے نظیرہمت اور استقلال سے کام لے کر، جو وہ اب تک ہر ایک کام میں دکھاتی رہی ہے اس کام کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرے گی اور میں دعا کرتا ہوں کہ الله تعالیٰ مذکورہ بالا تحریر کو صرف ارادوں اور خواہشوں تک ہی نہ رہنے دے۔ اور سلسلہ کی ضروریات کے پورا کرنے میں ہمارا ہاتھ بٹائے۔‘‘

(’’بدر‘‘ قادیان 5 جون 1913ء ص17)

ان علمی خدمات کے پیچھے قربانی اور ایثار، شوق اور جذب کے جو جذبات کار فرما تھے، ان کا کچھ اندازہ ان ذاتی قربانیوں سے ہوسکتا ہے جو آپ نے اور آپ کے اہل بیت نے ان اخبارات و رسائل کے سلسلہ میں پیش کیں۔ اس ضمن میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی بعض بعد کی تحریرات کے چند اقتباس ناظرین کی دلچسپی کا موجب ہوں گے۔

’’مجھے اس وقت ساٹھ روپے ملتے تھے جن میں سے دس روپے ماہوار تو تشحيذ پر خرچ کرتا تھا۔ دو بچے تھے بیوی تھی اور گو کوئی خاص ضرورت تو نہ تھی مگر خاندانی طور طریق کے مطابق ایک کھانا پکانے والی اور ایک خادمہ بچوں کے رکھنے اور اوپر کے کام میں مدد دینے کیلئے میری بیوی نے رکھی ہوئی تھی۔سفر اور بیماری وغیرہ کے اخراجات بھی اس میں سے تھے۔ پھرمجھے کتابوں کا شوق بچپن سے ہے چنانچہ اس گزارہ سے اپنی علمی ترقی کے لئے اور مطالعہ کے لئے کتابیں بھی خریدتا رہتا تھا اور کافی ذخیرہ میں نے جمع کرلیا تھا۔‘‘

(الفضل 28 دسمبر 1939ء)

’’بدر اپنی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے لئے بند تھا۔ الحكم اول تو ٹمٹماتے چراغ کی طرح کبھی کبھار نکلتا تھا اور جب نکلتا بھی تھا تو اپنے جلال کی وجہ سے لوگوں کی طبیعتوں پر جو اس وقت بہت نازک ہو چکی تھیں، بہت گراں گزرتا تھا۔ ریویو ایک بالا ہستی تھی جس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ میں بے مال و زر تھا۔ جان حاضرتھی۔ مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لاتا۔ اس وقت سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جواحمدیوں کے دلوں کو گرمائے۔ ان کی سستی کو جھاڑے۔ ان کی محبت کو ابھارے، ان کی ہمتوں کو بلند کرے اور یہ اخیار ثریا کے پاس ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا۔ اس کی خواہش میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے ثریا کی خواہش۔ نہ وہ ممکن تھی نہ یہ۔ آخر دل کی بے تابی رنگ لائی۔ امیدبَر آنے کی صورت ہوئی۔

…خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہؓ کے دل میں رسول کریم ﷺ کی مدد کی تحریک کی تھی۔ انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیاده مذموم تھا، اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کرکے اخبار جاری کر دوں۔ ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلّمہا اللّٰہ تعالیٰ کےاستعمال کے لئے رکھے ہوئےتھے۔‘‘

یہ زیور حضرت صاحبزادہ صاحب نے خود لاہور جاکر پونے پانچ سو روپے میں فروخت کئے۔ یہ تھا ’’الفضل‘‘ کا ابتدائی سرمایہ۔

(سوانح فضل عمر جلد اوّل ص 238)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ