• 6 جولائی, 2020

قرآن کریم اور حضرت مصلح موعود ؓ

حضرت مسیح موعودؑ نے 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا اور ایک پیش گوئی جو کہ بلاشبہ خوشخبری تھی سنائی کہ خدا تعالی مجھے ایک بیٹا عطا فرمائے گا جس کی 52 صفات ہوں گی آپؑ نے ’’فرزند موعود‘‘ کی ان صفات اور اس پیش گوئی کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔

’’تا اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام بر کتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم ہو گا اور علومِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص95)

حضرت مصلح موعودؓ کی علم قرآن میں مہارت اورعشق ومحبت کا احوال ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔

تعلیم القرآن

حضرت مصلح موعودؓ کی تعلیم القرآن کی ابتداء 1895ء میں ہوئی حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوری کو یہ سعادت حاصل ہوئی انہوں نے آپ کو قرآن کریم سادہ پڑھایا۔

7 جون 1897ء کا دن حضرت مصلح موعود ؓ کی زندگی میں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دن آپؓ نے قرآن کریم کا پہلا دور مکمل فرمایا تھا اور اس دن کی جماعت کی تاریخ میں بھی ایک خاص اہمیت ہے وہ یہ کہ اسی روز حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے اپنے اس بیٹے کی بڑی دعاؤں کے ماحول میں تقریبِ آمین کا اہتمام فرمایا تھا چنانچہ اس مبارک موقعہ پر آپ نے ایک نظم بعنوان ’’آمین‘‘ جس میں اپنی تمام مبشر اولاد کے لئے عموماً اور سیّدنا مصلح موعود ؓ کے لئے خصوصاً دردِ دل کے ساتھ دعائیں کی ہیں۔ آپؑ اپنی اس نظم میں فرماتے ہیں۔

تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا
دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنایں گایا
صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن یَّرَانِی

ہے آج ختم قرآن نکلے ہیں دل کے ارماں
تونے دکھایا یہ دن میں تیرے منہ کے قرباں
اے میرے رب محسن کیوں کر ہو شکر رحماں
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن یَّرَانِی

لختِ جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا
دے اس کو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرہ
دن ہوں مرادوں والے پُر نور ہو سویرا
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن یَّرَانِی

(درثمین)

آپؓ کا علمِ قرآن

حضرت مصلح موعودؓ کے علم القرآن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1906ء میں آپ نے پہلی پبلک تقریر کی۔ یہ پُرمعارف تقریر جو آپؓ نے صرف 17 برس کی عمر میں فرمائی تھی ردِ شرک میں تھی اور ’’چشمہ توحید‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ اس تقریر کے دوسرے حصہ میں آپؓ نے سورہ لقمان کے دوسرے رکوع کی نہایت لطیف تفسیر فرمائی۔ آپؓ فرماتے ہیں۔

’’اب میں خود اس تقریر کو پڑھ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ وہ باتیں کس طرح میرے منہ سے نکلی اور اگر اب بھی وہ باتیں بیان کروں تو یہی سمجھوں گا کہ خداتعالی نے اپنے فضل سے سمجھائی ہیں۔‘‘

(سیّدنا مصلح موعودؓ نمبر جون ،جولائی2008)

حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد ہونے والے جلسہ میں آپ نے تقریر فرمائی جب تقریر ختم ہوگئی تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے فرمایا۔
’’میاں نے بہت سی آیات کی ایسی تفسیر کی ہے جو میرے لئے بھی نئی تھی۔‘‘

(روزنامہ الفضل 5 نومبر 1938ء)

آپؓ کی بیان فرمودہ تفاسیر ہمارے لئے بیش بہا خزانہ ہیں کیونکہ یہ تفاسیر آپ کو خدا نے اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے سکھلائی ہیں۔ 1907ء میں آپؓ کو ایک فرشتہ نے سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھلائی آپؓ اس رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے خود فرماتے ہیں۔

’’یہ رؤیا اصل میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ اللہ تعالی نے بیج کے طور پر میرے دِل اور دماغ میں قرآنی علوم کا خزانہ رکھ دیا ہے‘‘

(انوار العلوم جلد17 صفحہ 571)

آپ ؓ اپنے دروس کے متعلق فرماتے ہیں کہ

’’ہمارے ایک استاد تھے میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں درس دیتا تو وہ باقاعدہ میرے درس میں شامل ہوتے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں میرے ایک اور استاد تھے جب کبھی وہ درس دے رہے ہوتے تو پہلے صاحب مسجد میں آکر انہیں درس دیتے ہوئے دیکھتے تو چلے جاتے اور کہتے کہ اس کی باتیں کیا سننی ہیں۔ یہ تو سنی ہوئی ہیں۔ مگر میرے درس میں باوجود اس کے کہ میں ان کا شاگرد تھا بوجہ اس کے کہ مجھ پر حسن ظن رکھتے تھے ضرور شامل ہوتے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس کے درس میں اس لئے شامل ہوتا ہوں کہ اس کے ذریعہ قرآن کریم کے بعض نئے مطالب مجھے معلوم ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالی کا فضل ہوتا ہے کہ بعض لوگوں پر چھوٹی عمر میں ہی ایسے علوم کھول دئے جاتے ہیں جو دوسروں کے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہوتے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 26 ستمبر 1941ء)

عشقِ قرآن

آپؓ کو قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کی آیات پر غوروخوض کرنے کا تو گویا عشق تھا چنانچہ آپؓ اپنے عشقِ قرآن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’ہم نے قرآن کے صرف لفظوں کو نہیں دیکھا بلکہ ہم خود اس کی محبت کی آگ میں داخل ہوئے۔ اور وہ ہمارے وجود میں داخل ہو گئی۔ ہمارے دلوں نے اس کی گرمی کو محسوس کیا اور لذت حاصل کی۔ ہماری حالت اس شخص کی نہیں جو دیکھتا ہے کہ بادشاہ باغ کے اندر گیا ہے اور وہ باہر کھڑا اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ کب بادشاہ باہر نکلے تو میں اس کی دست بوسی کروں بلکہ ہم نے خود بادشاہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور باغ کے اندر داخل ہوئے اور روش روش پھرے اور پھول پھول دیکھا…..خدا تعالی نے ہمیں وہ علوم عطاء فرمائے ہیں کہ جن کی روشنی میں ہم نے دیکھ لیا کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور محمد ﷺ ایک زندہ رسول ہے۔‘‘

(الفضل 16 اپریل 1924)

پھر آپؓ اپنی شہرہ آفاق تقریر ’’سیرِ روحانی‘‘ میں یوں فرماتے ہیں۔

’’پس اے دوستو! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان خزانے سے آپ کو مطلع کرتا ہوں۔ دنیا کے تمام علوم اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔دنیا کی تمام تحقیقاتیں اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیںاور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میں اتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میں ایک کرم شب تاب حقیقت رکھتا ہے۔ دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں۔قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معار ف و حقائق کا حامل ہے۔ یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے کھلا ہے……آج جب کہ دنیا کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے یہ پھر بھی کھلا ہے بلکہ جس طرح دنیوی علوم میں زیادتی ہو رہی ہے اسی طرح قرآنی معارف بھی آج کل نئے سے نئے نکل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ ہی جو حضرت مسیح موعودؑ نے تقسیم کیے یہ وہی خزائن ہیں جو آج ہم تقسیم کر رہے ہیں دنیا اگر حملہ کرتی ہے تو پروا نہیں، وہ دشمنی کرتی ہے تو سو بار کرے، وہ عداوت و عناد کا مظاہرہ کرتی ہے تو لاکھ بار کرے۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ تم بے شک ہمارے سینوں میں خنجر مارے جاؤ۔ اگر ہم مر گئے تو یہ کہتے ہوئے مریں گے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے مارے گئے اور اگر جیت گئے تو یہ کہتے ہوئے جیتیں گے کہ ہم نے محمد رسول اللہ ﷺکا جھنڈا دنیا میں بلند کر دیا۔‘‘

(سیرِ روحانی صفحہ 96, 95)

ایک اور موقعہ پر فرمایا۔

’’میں نے تو آج تک نہ کوئی ایسی کتاب دیکھی نہ مجھے ایسا آدمی ملا جس نے مجھے کوئی ایسی بات بتائی جو قرآن کریم کی تعلیم سے بڑھ کر ہو یا قرآن کریم کی کسی غلطی کو ظاہر کر رہی ہویا کم از کم قرآنِکریم کے برابر ہی ہو۔ محمد ﷺ جس کے سامنے تمام علوم ہیچ ہیں۔

چودہویں صدی ترقی کے لحاظ سے ایک ممتاز صدی ہے۔ اس میں بڑے بڑے علوم نکلے۔بڑی بڑی ایجادیں ہوئیں بڑے بڑے سائنس کے عُقدے حل ہوئے۔ مگر یہ تمام علوم محمد ﷺ کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکے‘‘

(الفضل 30 جون 1939)

حضرت سیّدہ مریم صدیقہ (ام متین) حرم حضرت مصلح موعودؓ آپؓ کے عشقِ قرآن کے متعلق بیان کرتی ہیں۔

’’قرآن کریم کی تلاوت کا کوئی وقت مقرر نہ تھا جب بھی وقت ملا تلاوت کرلی یہ نہیں کہ دن میں ایک بار یا دو بار۔ عموماً یہ ہوتا کہ ناشتے سے فارغ ہو کر ملاقاتوں کی اطلاع ہوئی آپ انتظار میں ٹہل رہے ہے قرآن مجید ہاتھ میں ہے لوگ ملنے آگئے قرآن مجید رکھ دیا مل کر چلے گئے پڑھنا شروع کر دیا۔ تین تین چار چار دنوں میں عموماً میں نے ختم کرتے دیکھا ہے۔ ہاں جب کام زیادہ ہوتا زیادہ دن میں بھی لیکن ایسا بھی ہوتا تھا کہ صبح سے قرآن مجید ہاتھ میں ٹہل رہے ہیں اور ایک ورق بھی نہیں الٹا دوسرے سن دیکھا تو پھر وہی صفحہ میں نے کہنا آپ کے ہاتھ میں قرآن مجید ہے مگر آپؓ پڑھ نہیں رہے تو فرماتے۔

’’ایک آیت پر اٹک گیا ہوں جب تک اس کے مطالب حل نہیں ہوتے کس طرح آگے چلوں‘‘

ایک دفعہ یوں ہی خدا جانے مجھے کیا خیال آیا میں نے پوچھا آپ نے کبھی موٹر چلانی بھی سیکھی؟ کہنے لگے ہاں ایک دفعہ کوشش کی تھی مگر اس خیال سے ارادہ ترک کر دیا کہ ٹکر نہ مار دوں ہاتھ سٹیرنگ پر تھے اور دماغ قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر میں الجھا ہوا تھا موٹر کیسے چلاتا۔‘‘

(الفضل 25 مارچ 1966ء)

آپؓ کے عشقِ قرآن کا ذکر کرتے ہوئے محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد فرماتے ہیں۔

’’ایک روز حضرت مصلح موعود گھر کے دالان مین ٹہل رہے تھے اور ہم بچے بھی گھر میں موجود تھے آپؓ نے ہمیں بلایا اور فرمانے لگے کہ قرآن ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔ جیسے سمندر میں غوطہ خور غوطہ مارتا ہے تو جو بہت محنت کرتا ہے موتی نکال کر لے آتا ہے اور جو تھوڑی محنت کرتا ہے سیپی ہی نکال لاتا ہے۔ اس طرح تمہیں ابھی سے قرآن کریم پر غور و فکر کی عادت ڈالنی چاہیے اور موتی نہیں تو سیپی ہی نکال کر لے آؤ۔ اس واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضور کو قرآن سے کس قدر عشق تھا۔‘‘

(ماہنامہ خالد فروری 1991 صفحہ 12)

تفاسیرِ قرآن

آپؓ نے اپنے خطبات میں خطابات میں اور اپنی تصانیف میں جابجا قرآنِ کریم کی پُرمعارف تفسیر فرمائی ہے اس کے علاوہ آپؓ کی مندرجہ ذیل تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں۔

تفسیرِ کبیر

سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے قرآن کریم کی نہایت پر معاف تفسیر بیان فرمائی ہے یہ تفسیر ’’تفسیرکبیر‘‘ کے نام سے 10 جلدوں پر مشتمل ہے گو پورے قرآن کی تفسیر تو مکمل نہیں ہو سکی مگر تیار ہونے والی یہ 10 جلدیں علم و معرفت کا عظیم خزانہ ہیں۔ آپؓ نے یہ تفسیر 1940ء تا 1962ء یعنی 23 سال کے عرصہ میں مکمل فرمائی تفسیرِ کبیر کی پہلی جلد 1940ء میں شائع ہوئی اس پُرمعارف تفسیر میں آپؓ نے ہر آیت کا اگلی آیت سے ربط بیان فرمایا ہے۔ ہر آیت کی مفصل حلِ لغت۔ اورخدا تعالیٰ، قرآن، اسلام اور بانی اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے مفصل ومدلل دندان شکن جوابات دیئے ہیں۔ اور بلاشبہ یہ ایک بےمثل تفسیر ہے۔

تفسیرِ صغیر

یہ بھی آپ ؓ کا ایک بے مثل علمی شاہکار ہے۔ تفسیرِ صغیر پہلی بار 1957ء میں شائع ہوئی قرآن کریم کا نہایت ہی پیارا ترجمہ ہے اور جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں نہایت ہی مختصر اور جامع تفسیر بھی شامل ہے اس کا ترجمہ قرآنی محاورہ کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔

دیباچہ تفسیر القرآن

یہ دیباچہ آپؓ نے نہایت قلیل وقت میں لکھوایا تھا۔ آپؓ نے اس میں اسلام پر کئے جانے والے اعتراضات کے دندان شکن جوابات دئے ہیں اور ضرورتِ قرآن کے مضموں پر نہایت ہی پیارے رنگ میں بحث فرمائی ہے اور بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کی سیرت کے واقعات پیدائش سے لے کر وصال تک نہایت ہی پیارے انداز میں بیان فرمائے ہیں۔

تفاسیرِ کی تصنیف میں انہماک

حضرت سیّدہ مریم صدیقہ (ام متین) حرم حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتی ہیں۔
’’اسی طرح قرآن کریم سے جو آپؓ کو عشق تھا اور جس طرح آپؓ نے اس کی تفسیریں لکھ کر اس کی اشاعت کی وہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہے۔ خداتعالیٰ کی آپؓ کے متعلق پیشگوئی ہے کہ کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہواپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ جن دنوں میں تفسیرِ کبیر لکھی نہ آرام کا خیال تھا نہ سونے کا نہ کھانے کا، بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہو جائے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح اذان ہو گئی اور لکھتے چلے گئے۔ تفسیرِ صغیر تو لکھی ہی آپؓ نے بیماری کے پہلے حملے کے بعد یعنی 1956ء میں۔ طبیعت کافی کمزور ہو چکی تھی گو یورپ سے واپسی کے بعد صحت ایک حد تک بحال ہو چکی تھی مگر پھر بھی کمزوری باقی تھی ڈاکٹر کہتے تھے کہ آرام کریں، فکر نہ کریں، زیادہ محنت نہ کریں لیکن آپؓ کو ایک دھن تھی کہ قرآن کے ترجمہ کا کام ختم ہو جائے بعض دن صبح سے شام ہو جاتی اور لکھواتے رہتے۔ کبھی مجھ سے املاء کرواتے۔ مجھے گھر کا کام ہوتا تو مولوی یعقوب صاحب مرحوم کولکھواتے رہے۔ آخری صورتین لکھوا رہے تھے غالباً انتیسواں پارہ تھا یا آخری شروع ہو چکا تھا (ہم لوگ نخلہ میں تھے وہیں تفسیر مکمل ہوئی تھی) کہ مجھے بہت تیز بخار ہو گیا میرا دِل چاہتا تھا کہ متواتر کئی دنون سے مجھے ہی ترجمعہ لکھوارہے ہیں میرے ہاتھوں ہی ہے مقدس کام ختم ہو۔ مَیں بخار میں مجبور تھی ان سے کہا کہ میں نے دوائی کھالی ہے آج یا کل بخار اتر جائے گا دو دن آپ بھی آرام کر لیں۔ آخری حصہ مجھ سے ہی لکھوائیں تا کہ میں ثواب حاصل کر سکوں۔ نہیں مانے کہ میری زندگی کا کیا اعتبار۔ تمہارے بخار اُترنے کے انتظار میں اگر مجھے موت آجائے تو؟ سارہ دن ترجمہ اور نوٹس لکھواتے رہے اور شام کے وقت تفسیرِ صغیر کا کام ختم ہو گیا۔‘‘

(الفضل 25 مارچ 1966ء)

علمِ قرآن میں تمام دنیا کو چیلنج

آپؓ ایک موعود وجود تھے اس لئے آپؓ نے بارہا تمام دنیا کے اپنے اپنے علوم کے ماہرین کو مقابلہ کی دعوت دی کہ قرآن پر اعتراض کریں آپ کے اعتراض کا جواب آپ کو قرآن سے ہی دوں گا اور علماء کو دعوت دی کہ میرے مقابلہ میں تفسیر لکھیں مگر کسی میں اتنی ہمت پیدا نہ ہوئی۔ چنانچہ آپؓ 1914ء میں مقابلہ کی دعوت دیتے ہوئے یوں گویاں ہوئے۔

’’صرف یہی نہیں کہ مسیح موعودؑ میں ہی یہ بات تھی بلکہ آپؑ آگے بھی یہ بات دے گئے ہیں۔ اور آپؑ کے طفیل مجھے بھی قرآن کریم کے ایسے معارف عطا کئے گئے ہیں کہ کوئی شخص خواہ کسی عمل کا جاننے والا ہو اور کسی مذہب کا پیرو ہو قرآن کریم پر جا چاہے اعتراض کرے۔ اللہ تعالی کے فضل سے اس قرآن کریم سے ہی اس کا جواب دوں گا۔ میں نے بارہا دنیا کو چیلنج کیا ہے کہ معارفِ قرآن میرے مقابلہ میں لکھو۔ حالانکہ میں کوئی ما ٔمور نہیں ہوں مگر کوئی اس کے لئے تیار نہیں ہوا اور اگر کسی نے منظور کرنے کا اعلان بھی کیا تو بے معنی شرائط سے مشروط کرکے ٹال دیا مثلاً بند کمرہ ہو۔ کوئی کتاب پاس نہ ہومگر اتنا نہیں سوچتے کہ اگرخیال ہے کہ میں پہلی کتب اور تفاسیر سے معارف نقل کر لوں گا تو وہی کتب تمہارے پاس بھی ہوں گی۔ تم بھی ایسا کر سکتے ہو۔ پھر اگر میں دوسری کتب سے نقل کر دوں گا تو اپنے ہاتھ سے اپنی ناکامی ثابت کردوں گا۔ کیوں کہ میرا دعوی تو یہ ہے کہ نئے معارف بیان کروں گا۔ لیکن جب مقابلہ کے وقت جب پرانی تفاسیر سے نقل کروں گا تو خود ہی میرے لئے شرمندگی اور ندامت کا موجب ہو گا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ یہ سب بہانے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو سامنے آنے کی جرأت ہی نہیں۔‘‘

(الفضل 24۔اپریل 1943ء)

پھر آپ نے 1936ء میں فرمایا ۔
’’قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی کتاب بھی کسی اہمیت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔ اگر کوئی تورات کا پیرو ہے تو میرے سامنے آئے۔ اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو میرے سامنے آئے۔ اور قرآن کریم کا کوئی استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں۔ پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی نہ کردوں تو وہ بے شک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے۔ لیکن اگر پیش کردوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں ۔‘‘

(فضائل القرآن، انوارالعلوم جلد نمبر 14 صفحہ 408)

1944ء میں آپؓ نے دنیا کو پھر للکارا اورمقابلہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا۔
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے کے ذریعہ مجھے قرآن کریم کا علم عطاء فرمایا ہے۔ اور اس نے میرے اندر ایسا ملکہ پیدا کر دیا ہے جس طرح کسی کو خزانہ کی کنجی مل جاتی ہےاسی طرح مجھے قرآنِ کریم کے علوم کی کنجی مل چکی ہے۔ دنیا کا کوئی عالم نہیں جو میرے سامنے آئے اور میں قرآن کریم کی افضلیت اس پر ظاہر نہ کرسکوں۔یہ لاہور شہر ہے یہاں یونیورسٹی موجود ہے۔ اور کئی کالج کھلے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے علوم کے ماہر یہاں پائے جاتے ہیں میں ان سب سے کہتا ہوں کہ دنیا کے کسی علم کا ماہر میرے سامنے آجائے۔ دنیا کا کوئی پروفیسر میرے سامنے آجائے۔ دنیا کا کوئی سائنسدان میرے سامنے آجائے وہ اپنے علوم کے ذریعہ قرآن کریم پر حملہ کر کہ دیکھ لے۔ میں اللہ تعالی کے فضل سے اسے ایسا جواب دے سکتا ہوں کہ دنیا تسلیم کرے گی کہ اس کے اعتراض کا رد ہو گیا اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اللہ کے کلام سے ہی اس کا جواب دوں گا۔ اور قرآن کریم کی آیات کے ذریعہ سے ہی اس کے اعتراضات کا رد کر کے دکھا دوں گا۔‘‘

(الفضل 18 فروری 1958ء)

پھر ایک اور موقع پر آپؓ نے ببانگِ دُھل یہ اعلان فرمایا۔
’’میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں۔ کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعوی کرتا ہو کہ خدا تعالی کی طرف سے اسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آج دنیا کے پردہ پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔ خداتعالیٰ نے مجھے علمِ قرآن بخشا ہے اور اِس زمانہ میں اُس نے قرآن سکھانے کے لئے مجھے استاد مقرر کیا ہے۔‘‘

(الموعود، انوارالعلوم جلد 17 صفحہ 647)

آپؓ کا علمِ قرآن غیروں کی نظر میں

آپؓ کے علم القرآن کے صرف اپنے ہی قائل نہیں ہیں بلکہ غیر بھی رطب اللّسان نظر آتے ہیں بلاشبہ یہ تمام تأثرات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ وہ وجود جس کے بارے میں حضرت مسیح موعودؑ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس کا آنے کا ایک یہ مقصد ہے کہ
’’تا دین (حق) کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو‘‘

وہ موعود وجود آپؓ ہی ہیں۔

مولوی ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار ’’زمیندار‘‘ نے 13 مارچ 1936ء کو امرتسر کی مسجد ’’خیر الدین‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ کے مخالفین اور حریفوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

’’احراریو ! کان کھول کر سن لو۔ تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود صاحب کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔ مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا خاک دھرا ہے تم میں سے کوئی قرآن کے سادہ حرف بھی پڑھ سکے۔ تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا تم خود کچھ نہیں جانتے۔ تم لوگ کیا بتاؤ گے۔ مرزا محمود کی مخالفت تمہارے فرشتے بھی نہیں کر سکتے۔ میں حق بات کہنے سے باز نہیں آسکتا‘‘

(ایک خوفناک سازش مصنفہ مظہر علی اظہر صفحہ 196)

علامہ نیاز فتح پوری جو کہ مشہور اہلِ قلم، محقق، ادیب اور ماہنا مہنگار کے مدیر تھے انہوں نے جب تفسیرِ کبیر کا مطالعہ کیا تو حضرت مصلح موعودؓ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں۔

’’تفسیرِ کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور میں اسے نگاہِ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویۂ فکر آپ نے پیدا کیا ہے۔ اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے با لکل پہلی تفسیر ہے۔ جس میں عقل و نقل کوبڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کے تبحر علمی، آپ کی وسعتِ نظر، آپ کی گیر معمولی فکر و فراست، آپ کا حسنِ استدلال، اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے۔ اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا کل سورہ ہود میں حضرت لوط ؑ پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا۔ آپ نے ھٰؤُلَاءِ بَنَاتِیْ کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں خدا آپ کو تا دیر سلامت رکھے۔‘‘

(الفضل17 نومبر 1963)

اسی طرح سیّد جعفر حسین بی اے۔ایل ایل بی حیدرآباد دکن نے تفسیرِ کبیر کے مطالعہ کا بیان یوں فرمایا۔ آپ لکھتے ہیں۔

’’میں نے تفسیرِ کبیر کا مطالعہ شروع کیا۔ تو مجھے اس تفسیر میں زندگی سے معمورظر آیا اس میں وہ سب کچھ تھا جس کی مجھ کو تلاش تھی۔

(الفضل 23 جون 1962ء)

مدیر ’’صدق جدید‘‘ مولانا عبدالماجد دریا آبادی جو کہ خود بھی مشہور مفسرِ قرآن تھے نے حضرت مصلح موعود ؓکے وصال پر لکھا۔
’’قرآن اور علومِ قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوشش انہوں نے سرگرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ان کا اللہ انہیں صلہ دے۔ علمی حیثیت سے قرآنی حقائق ومعارف کی جو تشریح متبیّن و ترجمانی وہ کرگئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مرتبہ ہے۔‘‘

(صدقِ جدید 18 نومبر 1965ء)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو پیش گوئی مصلح موعود ؑ کا ادراک عطا فرمائے اور حضرت مصلح موعودؓ کے علمِ قرآن سے فائدہ اٹھانے اور اسے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

(ندیم احمد فرخ)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ