• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی نظر میں مصلح موعودؓ کا مقام

حضرت مسیح موعودؑ نے خداتعالیٰ سے خبر پا کر 20 فروری 1886ء کو پیشگوئی مصلح موعود کا اعلان فرمایا اور اس موعود فرزند کی پیدائش کو اسلام اور اپنی صداقت کا ایک نشان ٹھہرایا تھا۔ آپؑ ابھی تک نئی جماعت بنانے اور بیعت لینے سے رُکے ہوئے تھے تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو نئی جماعت بنانے اور بیعت لینے کی اجازت عطا فرمائی۔ 12 جنوری 1889ء کو اس فرزند موعود کی پیدائش ہوئی۔اور آپؑ نے اسی روز شرائط بیعت کا اعلان فرمایا اور پھر 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں جماعت احمدیہ کا قیام ہوا۔گویا مصلح موعودؓ کی پیدائش اور جماعت احمدیہ کا قیام توام ہیں۔ ایسا کیوں ہوا بعد کے واقعات نے اس کی تصدیق کر دی۔

اس کے علاوہ حضرت مسیح موعودؑ اپنی متعدد زیر تصنیف کتب میں اس فرزند موعود کے بارے میں ذکر فرماتے رہے کہ وہ اب اتنے سال میں ہے حضرت مسیح موعودؑ کو یقین کامل تھا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ ہی وہ فرزند موعود اور مصلح موعود ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے ان کو 20 فروری 1886ء کے اشتہار میں بشارت دی تھی۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کے قریب جتنے صحابہؓ تھے وہ بھی اسی حقیقت پر علیٰ وجہ البصیرت قائم تھے اور حضرت مولانا حکیم نورالدین خلیفۃ المسیح الاولؓ کو اپنی خداداد فہم و بصیرت اور حضرت مسیح موعودؑ کے قرب اور حضرت صاحبؑ کے صاحبزادہ صاحبؓ سے سلوک کے مشاہدہ سے یقینِ کامل تھا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ ہی مصلح موعود ہے۔ ذیل میں اس سلسلہ میں چند واقعات پیش خدمت ہیں۔

سلسلہ احمدیہ کے ایک صاحب رویاء کشوف بزرگ مربی سلسلہ اور صحابیؓ حضرت مسیح موعودؑحضرت مولانا ابراہیم بقاپوریؓ کے سامنے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کا پاکیزہ بچپن گزرا تھا۔ اس لئے حضرت مولانا نے صاحبزادہ صاحبؓ کے بچپن کے بارے میں اپنے چشم دید واقعات تحریر فرمائےہیں۔

رسالہ تشحیذ الاذہان کے اجراء پر 1905ء پر میں جو مقالہ لکھا تھا، خدا تعالیٰ نے اس کی قبولیت دشمنوں سے بھی کرائی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ میں یوں ریویو کیا کہ

’’میں سمجھتا تھا کہ یہ سلسلہ احمدیہ صرف مرزا صاحب (حضرت مسیح موعود) کی زندگی تک ہی ہے لیکن ان کے فرزند ارجمند کے اس مضمون کو پڑھ کر میں یقین کرتا ہوں کہ اب یہ سلسلہ چلا لیں گے‘‘

اس کا ذکر حضرت مولوی نورالدین ؓنے صاحبزادہ صاحب کی موجودگی میں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں عرض کیا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے محبت بھری نگاہ سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی جانب دیکھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضورؑ دعا فرما رہے ہیں۔

(ماہنامہ خالد ستمبر، اکتوبر 1956ء ص 93)

حضرت مولانا محمد ابراہیم بقاپوریؓ لکھتے ہیں:۔

حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں جب ایک جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے سورہ لقمان کے دوسرے رکوع کی تفسیر کر کے سنائی۔تو اس میں ایسے ایسے حقائق و معارف سنائے کہ ہم نے کبھی ایسے معارف نہیں سُنے تھے۔ اس پر چند دوست جوں جوں سنتے تھے خوشی سے سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگ پڑے۔حضرت حکیم الامت ؓ کے صاحبزادہ محمود احمدشاگرد جو ہوئے۔ میں نے کہا ہم تو ہمیشہ حکیم الامت کے درس سنتے ہیں مگر ایسے حقائق معارف ان سے کبھی نہیں سنے۔

خدا تعالیٰ کی قدرت جب حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کی یہ تقریر ختم ہوئی تو جھٹ مولوی نور الدین صاحبؓ صاحبزادہ صاحب کے پاس آگئے اور آپؓ کے کان پر انگلی رکھ کر فرمانے لگے۔ میاں ہمارے ملک میں کہاوت ہے کہ ’’اوٹھ چالی بوتا بتالی‘‘ یعنی اونٹ کی قیمت اگر چالیس روپیہ ہو تو اس کے بچہ کی قیمت بتالیس روپے ہوتی ہے۔ یعنی آپؓ کے حقائق معارف حضرت مسیح موعودؑ جیسی شان کے ہیں۔ پھر مجھے حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کیوں مولوی صاحب میرا بھی آپ درس سنتے ہی ہیں۔مگر اس طرح حقائق و معارف تو انہی کا حق ہے۔

میں نے عرض کیا ۔جی ہاں یہ تو کوئی ایسی بات نہیں ہے۔یہ کہہ کر میں نے خواجہ صاحب کی طرف نظر کی تو انہوں نے اپنی نظر نیچے کر لی۔

(ماہنامہ خالد ستمبر اکتوبر 1956ء ص 93)

حضرت نواب محمد علی خاں کے صاحبزادے نواب عبدالرحیم خان بار ایٹ لاء آف مالیر حضرت مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاول ؓ کے شاگرد تھے اپنی تعلیم کے دوران کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہ حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کو حضرت صاحبزادہ صاحبؓ سے کس قدر انس اور محبت تھی۔

مولوی عبدالحی کا درس معاً بعد مغرب ہوا کرتا تھا۔محموداللہ شاہ مرحوم جو میرے ہی ہم عمر تھے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ایک دن نماز مغرب شروع ہوگئی تھی نماز کے دوران میں وہاں پہنچا آپ کے سب نیچے چٹائیوں پر نماز پڑھ رہے تھے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایک چارپائی پر بیٹھے شریک جماعت تھے۔محموداللہ صاحب سے دریافت کیا۔انہوں نے بتلایا میاں صاحب کو شدید سردرد ہے۔میاں صاحب سے آپ کو بہت محبت تھی اور بار بار لوگوں سے دریافت فرماتے کہ اب طبیعت کیسی ہے۔

(الفضل 21 جنوری 1971ء)

حضرت مفتی محمد صادقؓ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی حضرت مصلح موعودؓ سے پیار و محبت اور شفقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتےہیں۔

’’حضرت خلیفہ اول مولوی حکیم نورالدین صاحبؓ جس طرح کی محبت اس وجود کے ساتھ کرتے تھے اور اس کے بچپن میں بھی جس قدر ادب اور احترام آپ کا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہونا تھا کہ حضرت مولوی صاحب کو اپنی فراستِ مومنانہ اور کشف ولیانہ سے محسوس و مشہود ہورہا تھا کہ یہ بچہ منشا ئے الٰہی کے ماتحت کسی منصب عالی کے واسطے تیار کیا جارہا ہے۔‘‘

’’ایک دفعہ ہم سب ہم سفر تھے۔ (حضرت مسیح موعودؑ ساتھ نہ تھے) ایک ریل کے اسٹیشن پر ہم گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ کھا رہے تھے۔حضرت مولانا نور الدین صاحب عاجز پیر سراج الحق صاحب ڈاکٹر اسمٰعیل صاحب اور چند اصحاب تھے۔ حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب کہیں پلیٹ فارم پر پھر رہے تھے۔ جب آپ گاڑی کے اندر آئے تو بظاہر ان کے بیٹھنے کے واسطے جگہ نہ معلوم ہوتی تھی۔

حضرت مولانا فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کر نیچے بیٹھ گئے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو اپنی جگہ پر بٹھایا۔ مولوی صاحب کو نیچے بیٹھا دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور جگہ نکال کرباصرار حضرت مولوی صاحب کو اوپر بٹھایا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کے واسطے تو جگہ بہر حال بن ہی جاتی۔ضرورت ہوتی تو ہم سب میں سے ایک بخوشی اپنی جگہ چھوڑ دیتا۔ لیکن پیشتر اس کے کہ اور کوئی اٹھتا جس پُھرتی اور جلدی سے حضرت مولوی صاحب نے نہ صرف اپنی جگہ چھوڑی بلکہ نیچے بیٹھ گئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وہی ادب اور خاکساری اور بے نفسی کی روح تھی جس نے حضرت مولانا کو حضرت مسیح موعودؑ کا جانشین بنایا۔

(الفضل 20 جنوری 1928ء)

جناب شوق محمد عرائض نویس لاہور بیان کرتے ہیں۔

’’1903ء میں میں قادیان میں بغرض تعلیم مقیم تھا۔ میں نے اپنے زمانہ قیام دارالامان میں متعدد بار دیکھا (صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ) کو آشوب چشم کا عارضہ عموماً رہتا تھا اس لئے کئی بار میں حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اولؓ کو خود اپنے ہاتھ سے آپ کی آنکھوں میں دوائی ڈالتے دیکھا۔ وہ دوائی ڈالتے وقت عموماً نہایت محبت اور شفقت سے آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا کرتے اور رخسار مبارک پر دست مبارک پھیرتے ہوئے فرمایا کرتے:

میاں تو بڑا ہی میاں آوی ہے اے مولا اے میرے قادر مطلق مولا! اس کو زمانہ کا امام بنا دے۔

بعض اوقات فرماتے: ’’اُس کو سارے جہان کا امام بنا دے‘‘

مجھ کو حضورؓ کایہ فقرہ اس لئے چبھتا کہ آپؓ کسی اور کے لئے ایسی دعا نہیں کرتے صرف ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔

چونکہ طبیعت میں شوخی تھی۔ اس لئے میں نے ایک روز کہہ ہی دیا کہ آپ میاں صاحب کے لئے اس قدر عظیم الشان دعا کرتے ہیں کسی اور کے لئے اس قسم کی دعا کیوں نہیں کرتے اس پر حضور نے فرمایا:

’’اس نے تو امام ضرور بننا ہے۔ میں تو صرف حصول ثواب کے لئے دعا کرتا ہوں ورنہ اس میں میری دعا کی ضرورت نہیں‘‘ میں یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا۔

(حیات نور ص602 از شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل)

(مرزا خلیل احمد قمر)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ