• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی ملی خدمات

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی خدمات کو دو حصوں میں تقسیم کر کے بیان کیا جا سکتا ہے۔ ایک مذہبی اور دینی خدمات اور دوسرے قومی و ملی خدمات اس مضمون میں آپؓ کی سیاسی ملی اور قومی خدما ت کا مختصراً ذکر کرنا مقصود ہے۔

یاد رہے کہ برصغیر ہند میں انگریز کی حکومت 1857ء سے لے کر 1947ء تک رہی ہے اور اس وقت سے لے کر مسلمانوں کے حقوق کسی نہ کسی رنگ میں نصب کئے جا تے رہے ہیں ۔چونکہ برصغیر ہندوستان میں دو قومیں آباد تھیں اور ہیں یعنی ہندو اور مسلمان اور ہندو بوجہ اکثریت میں ہونے اور تعلیمی لحاظ سے مسلمانوں سے آگے ہونے کی بناء پر اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کے حقوق مارنے سے ذرا بھی دریغ نہ کرتے تھے لہٰذا دو قومیں آباد ہونے کی وجہ سے لازماً دو قومی نظریہ کی بنیاد پڑنا تھی مسلمان اس بات پر مجبور ہو گئے کہ وہ انگریز سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماریں چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر مسلم لیگ کی بنیاد بمقام ڈھاکہ بنگلہ دیش سابقہ مشرقی پاکستان 30 دسمبر 1906ء کو پڑی اور جس کے پرچم تلے جمع ہو کر مسلمانوں نے پاکستان جیسی عظیم مملکت خداداد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے مسند امامت پر بیٹھتے ہی مسلمانوں کی رہنمائی کرنا شروع کر دی اور جماعت احمدیہ کو ہندوستان کی قومی جدوجہد میں ایک اہم اور نمایاں مقام پر کھڑا کر دیا۔ اور مسلمانان ہند کے حقوق کے لئے پوری سرگرمی اور جانفشانی سے اس جدوجہد میں حصہ لیا۔

اور اپنی خداداد فراست سے اعلیٰ قیادت کی بھی رہنمائی کی۔ تحریک پاکستان کی سیاسی تگودو اور جدوجہد میں آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپؓ نے 1933ء میں جب ہندوستان کے حالات ناگفتہ بہ تھے اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار پایا جاتا تھا ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے مایوسی کے عالم میں ہندوستان چھوڑ کر لندن جابیٹھنا گوارا کر لیا تھا تو آپؓ کی ہدایت پر جو آپ نے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد کو فرمائی تھی کہ قائد اعظم کو وطن واپس لانے کی سعی کریں تاکہ وہ مسلمانوں کے حقوق کے لئے سابقہ کوشش جاری رکھیں۔ آپؓ نے کوشش فرمائی اور قائد اعظم کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی جس کا ذکر مؤرخ احمدیت مکرم مولانا دوست محمد شاہد نے ان الفاظ میں کیا ہے لکھتے ہیں۔

’’اپریل 1933ء عید الاضحیہ کے موقع پر بیت احمدیہ لندن میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں 200 کے قریب مشہور شخصیتیں مدعو تھیں۔ اس موقع پر حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد کی تحریک پر قائد اعظم محمد علی جناح نے ’’ہندوستان کے مستقبل‘‘ پر سر سٹیوارٹ سنڈ یمن ایم اے کی صدارت میں تقریر کی جس میں آپ نے بتایا کہ ہندوستان اب بہت جلد جلد ترقی کرے گا نیز یہ کہ قرطاس ابیض کی تجاویز ہندوستان کو مطمئن نہیں کر سکتیں۔ انہیں کامل خود مختاری ملنی چاہئے۔ آپ نے اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا۔

The Eloquent persuasion of the Imam left me no escape.

یعنی امام صاحب کی فصیح وبلیغ ترغیب نے میرے لئے کوئی راہ بچنے کی نہیں چھوڑی۔

اس وقت کے حالات کے متعلق قائد اعظم خود لکھتے ہیں۔
’’اب میں مایوس ہو چکا تھا۔ مسلمان بے سہارا اور ڈانواں ڈول ہو رہے تھے۔ کبھی حکومت کے یار، وفادار ان کی رہنمائی کے لئے میدان میں آموجود ہوتے تھے کبھی کانگرس کے نیا زمندان خصوصی ان کی قیادت کا فرض ادا کرنے لگے تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں آخر میں نے لندن ہی میں بودو باش کا فیصلہ کر لیا۔‘‘

اس ناموافق صورتحال کے باوجود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کا دلی منشاء اور خواہش تھی کہ پھر سے قائد اعظم کو سیاست ہند میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کیا جائے آپؓ نے اس کام کے لئے حضرت مولوی عبدالرحیم درد کو منتخب فرمایا چنانچہ انہوں نے مارچ 1933ء میں انگلستان پہنچ کر حضرت صاحبؓ کی ہدایت کے مطابق قائد اعظم سے رابطہ کر لیا تھا اور یہ تقریر اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ آپ واپس آئے اور مسلمانوں کی قیادت سنبھالی اس طرح بالآخر 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔

حضرت مولوی عبدالرحیم درد اپنی مختصر سوانح حیات میں لکھتے ہیں ۔
’’میں نے قائد اعظم سے مارچ 1933ء میں ان کے دفتر واقع King’s Bench Walk London میں ملاقات کی اور تین گھنٹوں کی بحث و تمحیص کے بعد انہیں اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ مسلمانان ہند کی خدمت کیلئے وہ پھر پبلک میں آئیں۔ قائد اعظم میری درخواست پر ’’ہندوستان کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر تقریر کرنے کے لئے رضامند ہو گئے اور میں نے 63میل روز لندن میں تقریر کے انتظامات کروا دئیے۔

میرے خیال میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا یہ کارنامہ قومی خدمت کے دیگر کارناموں میں نمایاں ترین ہے کیونکہ آپؓ اگر مولانا عبدالرحیم درد کو ہدایت نہ فرماتے کہ قائد اعظم کو ہندوستان واپس آ کر سیاست میں دوبارہ آنے کی ترغیب و تلقین کریں تو پاکستان بھی معرض وجود میں نہ آتا۔ یہ امر یاد رہے کہ اس واقعہ یعنی بیت الفضل لندن میں قائد اعظم کی تقریر کے کئی ماہ بعد یعنی جولائی 1933ء میں نوابزادہ لیاقت علی خاں اور ان کی بیگم قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہندوستان واپس آنے کی درخواست کی۔ آخر آپ واپس تشریف لے آئے اور پاکستان کے حصول تک مسلمانوں کی قیادت فرمائی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے فرمایا ۔
’’وقت آ گیا ہے کہ انگلستان برٹش ایمپائرکے دوسرے ممالک بالخصوص ہندوستان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ صلح کرنے کے لئے پرانے جھگڑے کو بھلا دے اور دونوں مل کر دنیا میں آئندہ ترقیات اور امن کی بنیادوں کو مضبوط کریں… اے انگلستان تیرا فائدہ ہندوستان سے صلح کرنے میں ہے… دوسری طرف ہندوستان کو یہی نصیحت کرتا ہوںکہ وہ بھی انگلستان کے ساتھ اپنے پرانے اختلافات کو بھلا دے۔‘‘

نیز فرمایا:
’’میں اپنی طرف سے دنیا کو صلح کا پیغام دیتا ہوں۔ میں انگلستان کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ آؤ اور ہندوستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کو دعوت دیتا ہوں کہ جاؤ اور انگلستان سے صلح کر لو اور میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں اور پورے ادب و احترام سے ساتھ دیتا ہوں بلکہ لجاجت اور خوشامد سے ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کر لو اور میں ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک دنیوی تعاون کا تعلق ہے ہم ان کی باہمی صلح اور محبت کے لئے تعاون کرنے کو تیار ہیں اور میں دنیا کی ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں۔ ہم کانگرس کے دشمن نہیں۔ ہم ہندو مہاسبھا والوں کے بھی دشمن نہیں ۔ مسلم لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں اور خاکساروں کے بھی دشمن نہیں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم احراریوں کے بھی دشمن نہیں ۔ ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور ہم صرف ان کی ان باتوں کو برا مناتے ہیں جو دین میں دخل اندازی کرنے والی ہوتی ہیں ورنہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور ہم سب سے کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم خدا تعالیٰ کی اور اس کی مخلوق کی خدمت کریں۔…‘‘

(الفضل 17 جنوری 1945ء)

آپؓ کا یہ انقلابی خطبہ جو آپ نے 12 جنوری 1945ء کو آزادی ہند اور قیام پاکستان کے سلسلہ میں فرمایا تھا کے ضروری اقتباسات حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے انگریزی زبان میں دو ورقہ شکل میں شائع کر کے وزراء دارالعلوم اور دارالامراء کے چھ سو ممبران کے علاوہ دیگر عمائدین و اکابر کو بھجوایا جس پر انہوں نے شکریہ ادا کیا اور حضرت امام صاحب کی نصیحت کا خاص دلچسپی سے مطالعہ کیا۔ پھر اس آواز کو امریکہ اور ہندوستان میں پھیلایا۔ اس کا خلاصہ مشرقی افریقہ ریڈیو سے چوہدری محمد شریف صاحب بی ۔اے نے نشر کیا۔

(الفضل 9 جون 1945ء)

تحریک پاکستان کے اہم ترین مراحل میں سے ایک اہم مرحلہ 1945-46ء کے ہندوستان میں مرکزی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات تھے جس میں آپؓ نے ہر احمدی کو مسلم لیگ کی زبردست مدد کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اس بارے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے اخبار ڈان 8۔اکتوبر 1945ء کے شمارہ میں ایک مفصل خبر شائع کی گئی جس کا عنوان تھا۔

Ahmadiyya Community to support Muslim League.

یعنی ’’جماعت احمدیہ مسلم لیگ کی حمایت کرے گی۔‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے ان الفاظ میں مندرجہ بالا اعلان فرمایا :۔
’’میں اس اعلان کے ذریعہ… تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر پورے زور اور قوت کے ساتھ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کی مدد کریں۔ اس طرح کہ جس قدر احمدیوں کے ووٹ ہیں وہ اپنے حلقہ کے مسلم لیگی امیدوار کو دیں۔‘‘

(الفضل 22 اکتوبر 1945ء)

اللہ تعالیٰ کے بندوں کی زبان میں خدا تعالیٰ تاثیر رکھ دیتا ہے اور اسے اپنی زبان بنا لیتا ہے چنانچہ تھوڑے دنوں بعد حکومت ہند نے احمدیت کے مایہ ناز فرزند چوہدری سر محمد ظفراللہ خان کو کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں ہندوستانی وفد کے قائد کی حیثیت سے لندن بھجوایا تو آپ نے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں اسی بات کو پیش کیا اور کمال خوبی سے انگلستان کے سامنے رکھا تو پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ اس بات کے حق اور مخالفت میں انگلستان کے اخبارات میں مضامین شائع ہوئے اور ہندو مسلم پریس نے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

آپ کی اس تقریر کے نتیجہ میں حکومت برطانیہ نے لارڈ ویول کو لندن بلایا اور یوں ہندوستان کی آزادی کا آخری مرحلہ شروع ہوا۔ پھر لارڈ ویول نے ہندوستان پہنچ کر اپنی تقریر میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اسی اصول کو بیان کیا کہ ہمارے راستہ میں کئی نشیب و فراز ہیں ۔ ہر طرف ہمیں معاف کرو اور بھول جاؤ کے سنہری اصول پر عمل کرنا پڑے گا۔

(الفضل 16 جون 1945ء)

آپؓ نے آزادیٔ ہند کے مسئلہ کی طرف رجحان کو دیکھ کر 22جون 1945ء کے خطبہ میں ہندوستانی لیڈروں کو پیغام دیا کہ انگلستان ہندوستان کی طرف اپنا صلح کا ہاتھ بڑھا رہا ہے۔ اس برطانوی پیشکش کو قبول کرنا اپنے پر اور اپنی نسلوں پر احسان عظیم کرنا ہے۔

فرمایا ۔
’’میرے نزدیک ہندوستان کی اس پیشکش کو قبول کرنا انگریزوں سے صلح کرنا نہیں بلکہ اپنے آپ پر اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر احسان عظیم کرنا ہے۔ دو سو سال ہندوستان غلامی کی زندگی بسر کرتا چلا آیا ہے اور یہ ایک ایسی خطرناک بات ہے جو انسانی جسم کو کپکپا دیتی ہے… جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں کسی کا غلام ہوں تو وہ کہتا ہے مجھے کیا زمین الٹی ہو یا سیدھی آسمان گرے یا قائم رہے فائدہ تو مالک کو ہے میں کیوں تکلیف اٹھائوں۔ میں سمجھتا ہوں لیڈر لیڈر نہیں ہوں گے بلکہ اپنی قوم کے دشمن ہوں گے۔ جو ان حالات کے بدلنے کے امکان پیدا ہونے پر بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ضد کر کے بیٹھ جائیں اور ان معمولی معمولی باتوں میں اس اہم ترین موقع کو ضائع کر دیں … پس ان دنوں میں اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر دعائیں کرو کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں یہ معاملات ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ راہ راست پر آ جائیں اور ہندوستان کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ کر وہ ہندوستان کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے والے ثابت ہوں۔‘‘

(الفضل 23 جون 1945ء)

اس خطبہ پر اخبار اہل حدیث کے ایڈیٹر مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا۔
’’یہ الفاظ کس جرأت اور حیرت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ کانگرسی تقریروں میں اس سے زیادہ نہیں ملتے۔ چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا ولولہ جس قدر خلیفہ جی کی اس تقریر میں پایا جاتا ہے وہ گاندھی جی کی تقریر میں نہیں ملے گا۔‘‘

ان اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مسلمانوں کو ایک عظیم مملکت دلانے میں کس قدر ان تھک محنت اور مسلسل تگ و دو فرمائی۔ ان کی یہ خدمات کبھی بھی فراموش نہیں کی جا سکیں گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی تشکیل کا ذکر ہو گا آپ کو بھی یاد کیا جائے گا۔ اللہ نے چاہا تو۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور خدمات عظیمہ کا بہترین اجر بخشے۔ آمین

ع ملت کے اس فدائی پر رحمت خدا کرے

(مرزا محمد اقبال)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ