• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

غیر از جماعت کا حضرت مصلح موعودؓ کو خراج عقیدت

ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے
غیر از جماعت کا حضرت مصلح موعودؓ کو خراج عقیدت

حضرت مصلح موعودؓ، خلیفۃ المسیح الثانی کا وجود ایک مبارک وجود تھا۔وہ ایک نور تھا جو زمانے کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدلنے کے لئے آیا تھا۔وہ ایک مسیحی نفس تھا جس نے بیمار اور مردہ نفوس کو شفا بخشی اور زندگی کی عطاکی۔ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب بنا۔ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پرتھا۔ اس کی آمد خدا کے فرشتوں کی معیت میں ہوئی۔ملک و قوم اور دین حق کی محبت اس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ اور خدائے واحد کا پیغام دنیا کےکونے کونے میں پہنچانا اس کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔ آپ کی وفات سے نہ صرف احمدیت بلکہ ایک جہان کا باب ختم ہوا۔ ایک زریں باب۔ جس کے بغیر کبھی کوئی تاریخ مکمل نہیں ہو سکے گی اور جس کا تذکرہ کئے بغیر کبھی کوئی مؤرخ غیر جانبدار نہیں کہلا سکے گا۔آپ کی وفات پر ہر منصف مزاج اور صاحب علم و بصیرت نے اس خلاء کو بشدت محسوس کیا اور جرأت مند طبقہ نے اس کا اظہار بھی کیا۔ آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ان میں سے چند ایک کے تاثرات قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔

انگریزی ہفت روزہ ’’دی لائٹ‘‘ نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے وصال پر نذرانہ عقیدت کے طور پر

“A Great Nation Builder”

کے زیر عنوان جو نوٹ اپنی 16 نومبر 1965ء کی اشاعت میں شائع کیا ہے۔ اس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

’’امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی وفات انتہائی طور پر پرازواقعات ایک ایسی زندگی کا اختتام پر منتج ہوئی ہے جو دور رس نتائج کے حامل، بے شمار عظیم الشان کارناموں اور مہمات سے لبریز تھی۔آپ علوم و فنون پر حاوی ایک نابغہ روزگار وجود اور بے پناہ قوت عمل سے مالا مال شخصیت تھے۔گزشتہ نصف صدی کے دوران دینی علم و فضل سے لے کر تبلیغ و اشاعت اسلام کے نظام تک اور مزید برآں سیاسی قیادت تک فکر و عمل کا بمشکل ہی کوئی ایسا شعبہ ہوگا جس پر مرحوم نے (اپنے منفردانہ اثر کا) گہرا نقش نہ چھوڑا ہو۔ دنیا بھر میں پھیلا ہوا اسلامی مشنوں کا ایک جال، اطراف و جوانب میں تعمیر ہونے والی بیت اور عرصہ دراز سے قائم شدہ عیسائی مشنوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والی تبلیغ اسلام کا افریقہ میں وسیع و عمیق نفوذ، یہ وہ کارہائے نمایاں ہیں جو مرحوم کی تخلیقی منصوبہ بندی، تنظیمی صلاحیت اور انتھک جدو جہد کے حق ایک مستقل اور پائیدار یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حالیہ زمانہ میں بمشکل ہی انسانوں کا کوئی اور ایسا لیڈر ہوگا جو اپنے متبعین کی اتنی برجوش محبت اور جاں نثاری کا مستحق ثابت ہوا ہو۔ پھر آپ کے متبعین کی طرف سےپر جوش محبت اور جاں نثاری کا اظہار صرف آپ کی حیات تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس کے بعد بھی اس کا اظہار اسی شدت سے ہوا جب کہ ملک کے تمام حصوں میں سے 60 ہزار لوگ اپنے جدا ہونے والے امام کو آخری نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے دیوانہ وار دوڑے چلے آئے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں مرزا صاحب کا نام ایسے عظیم معمار قوم کے طور پر زندہ رہے گا جس نے شدید مشکلات کے علی الرغم ایک متحد مربوط جماعت قائم کرکے دکھائی اور اسے ایک ایسی قوت بنا ڈالا کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اس عظیم نقصان پر آپ کے سوگوار خاندان کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔‘‘

(ترجمہ: مسعود احمد دہلوی بحوالہ الفضل ربوہ 18 دسمبر65ء صفحہ 8)

علوم قرآنی کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاقگیر تبلیغ میں جو کوشش امام جماعت احمدیہ نے کیں ان کا صلہ اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے۔
مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے اپنے اخبار “صدق جدید” لکھنؤ میں حضور کی وفات پر آپ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا:۔

امام جماعت احمدیہ کا انتقال

کراچی سے خبر شائع ہوئی ہے کہ جماعت احمدیہ (قادیانی) کے امام مرزا بشیر الدین محمود کا 8 نومبر کو ربوہ میں انتقال ہوگیا۔ مہینوں کیا برسوں سے سخت بیمار چلے آتے تھے اور یہ طویل اور شدید بیماری کلمہ گو کے لئے بجائے خود گناہوں کو دھونے والی اور ان کا کفارہ کر دینے والی ہے۔ دوسرے عقیدے ان کے جیسے بھی ہوں قرآن و علوم قرآنی کی عالمگیر اشاعت اور دین حق کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اولعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں، ان کا صلہ اللہ انہیں عطا فرمائے اور ان خدمات کے طفیل میں ان کے ساتھ عام معاملہ درگزر کا فرمائے۔ علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مرتبہ ہے۔

(اخبار صدق جدید۔لکھنؤ جلد15۔18 نومبر 1965ء، بحوالہ الفضل 22 مارچ 66ء صفحہ 8)

بے پناہ تنظیمی قوت کے مالک

مشہور کالم نویس م۔ش لاہور کی ڈائری میں لکھتے ہیں۔

77 سال کی عمر میں ربوہ (مغربی پاکستان) میں سوموار کی صبح کو مرزا بشیر الدین محمود احمد ’’خلیفۃ المسیح الثانی‘‘ کے انتقال سے تاریخ احمدیت کا ایک دور ختم ہوگیا۔ ان کی جگہ ان کے سب سے بڑے بیٹے 56 سالہ مرزا ناصر احمد کو جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایم اے ہیں جماعت کا تیسرا خلیفہ منتخب کیا گیا ہے۔

مرزابشیر الدین محمود احمد نے 1914ء میں خلافت…پر متمکن ہونے کے بعد جس طرح اپنی جماعت کی تنظیم کی اور جس طرح صدر انجمن احمدیہ کو ایک فعال اور جاندار ادارہ بنایا، اس سے ان کی بے پناہ تنظیمی قوت کا پتہ چلتا ہے۔ اگرچہ ان کے پاس کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی لیکن انہوں نے پرائیویٹ طور پر مطالعہ کر کے اپنے آپ کو واقعی علامہ کہلانے کا مستحق بنا لیا تھا۔ انہوں نے ایک دفعہ ایک انٹرویو میں مجھے بتایا تھا میں نے انگریزی کی مہارت ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ کے باقاعدہ مطالعہ سے حاصل کی۔ ان کے ارشاد کے مطابق جب تک یہ اخبار خواجہ نذیر احمد کے دور ملکیت میں بند نہیں ہوگیا انہوں نے اس کا باقاعدہ مطالعہ جاری رکھا…۔

مرزا صاحب ایک نہایت سلجھے ہوئے مقرر اور منجھے ہوئے نثر نگار تھے اور ہر ایک موقع کو بلادریغ استعمال کرتے تھے جس سے جماعت کی ترقی کی راہیں کھلتی ہوں۔ جماعتی نقطہ نگاہ سے ان کا یہ ایک بڑا کارنامہ تھا کہ تقسیم برصغیر کے بعد جب قادیان ان سے چھن گیا تو انہوں نے ربوہ میں دوسرا مرکز قائم کر لیا…۔

(بحوالہ روزنامہ الفضل 11دسمبر65ء صفحہ5)

تحریک کشمیر کے بانی

ہفت روزہ ’’انصاف‘‘ راولپنڈی 11 نومبر میں لکھتا ہے:۔
فرقہ احمدیہ کے پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد بڑا عرصہ علیل رہنے کے بعد وفات پاگئے ہیں۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ
مرزا صاحب فرقہ احمدیہ کے امام ہونے کے علاوہ کشمیر کے تعلق میں ایک بڑی سیاسی اہمیت کے مالک تھے۔آپ کو اگر کشمیر کی تحریکِ آزادی کے بانیوں میں سے قرار دیا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔مرزا صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے بانی اور صدر اول تھے۔اب سے پینتیس سال قبل اسی کمیٹی نے جموں و کشمیر میں تحریکِ آزادی کو فروغ دیا اور اس کی آبیاری کی۔1931ء میں اور اس کے بعد جو ریاست گیر ایجی ٹیشن کئی بار ظہور پذیر ہوئی اس کی قیادت اور حمایت کشمیر کمیٹی کرتی رہی۔ دیگر تحریکوں کی طرح سیاسی تحریکیں بھی مالی امداد کے بغیر نہیں چل سکتیں۔چنانچہ 1931ء میں کشمیر کمیٹی اور جماعت احمدیہ نے کشمیر کی ایجی ٹیشن کے لئے بھاری رقوم خرچ کیں اور درجنوں احمدی وکلاء نے مفت خدمات ریاستی عوام کے لئے پیش کیں۔چنانچہ جہاں بھی کشمیر کا ذکر آتا ہے مرزا صاحب کا ذکر خیر بھی لازمی طور پر آتا ہے۔

آپؓ اللہ تعالیٰ کے سچے عاشق تھے

لائبیریا (مغربی افریقہ) کے ایک عیسائی دوست جو وہاں کی بار ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں اور جنہوں نے سیرالیون کے ایک احمدی دوست کی معیت میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے مارچ 1962ء میں ربوہ میں ملاقات کی تھی۔ حضور کی وفات کی خبر سننے پر جو پیغام بھیجا اس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

اخبار ’’لائبیرین سٹار‘‘ کے آج کے شمارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی وفات جو 8 نومبر کو ربوہ پاکستان میں ہوئی، کی خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ جماعت احمدیہ کے سربراہ تھے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے عاشق تھے۔

مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے30 مارچ 1962ء کو ربوہ میں ملاقات کا موقع ملا جب کہ آپ بیمار تھے۔ باوجود بیماری کے آپ افریقن بھائیوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ میرے ساتھ سیرالیون ایکس سروس میں ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مکرم ابو بگما کمارا بھی تھے۔ ہم آپ کی چارپائی کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سفر کے دوران آپ کی مدد کرے اور خیریت سے واپس افریقہ لے جائے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ میری درد مندانہ دعاؤں کو قبول کر لے کیونکہ اصولی طور پر افریقہ اور ایشیا ایک ہیں۔ اللہ تعالیٰ افریقہ اور ایشیا کے لوگوں کو توفیق دے کہ وہ متحد ہو کر دنیا کو حقیقی روشنی سے آشنا کریں اور دنیا میں امن قائم کرنے کا باعث ہوں۔ بالآخر آپ نے اپنے بابرکت ہاتھ ہمارے سروں پر رکھتے ہوئے ہمیں برکت دی۔

اس عزت افزائی کی بناء پر جس سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ہمیں نوازا تھا، میرا پیغامِ ہمدردی نئے منتخب خلیفہ جو ان کے بیٹے بھی ہیں، صدر انجمن احمدیہ کے افسروں اور جماعت کے تمام ممبروں کو پہنچادیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی وفات نہ صرف…کے لئے نقصان عظیم ہے بلکہ تمام دنیا کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ میں آپ کے ساتھ دعاؤں میں شریک ہوں کہ اللہ تعالیٰ متوفی کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

(بحوالہ روزنامہ الفضل 21 نومبر 1965ء)

اس صدی کی بزرگ ترین ہستی

مظفر علی صاحب قریشی شجاع آباد ضلع ملتان نے لکھا: حضرت قبلہ مرزا صاحب کی خبر سن کر از حد افسوس ہوا۔ آپ میرے نزدیک اس صدی کی بزرگ ترین ہستی تھے۔آپ نے دینِ اسلام کی اشاعت کے لئے جو کچھ کیا وہ غیر جانبدار مبصر کے لئے ایک خزینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ آپ کے روحانی پیشوا تھے۔ جو صدمہ آپ کو پہنچ سکتا ہے اس کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ بہر حال اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا کرے۔

(بحوالہ روزنامہ الفضل27 نومبر 1965ء)

سید غلام شبیر شاہ صاحب میر پور آزاد کشمیر

میر پور آزاد کشمیر کے ایک غیر از جماعت معزز دوست سید غلام شبیر شاہ صاحب نے کہا:
آج کی ریڈیو نشریات انتہائی رنج و غم کے عالم میں سنی گئیں۔جب کہ یہ خبر نشر ہوئی کہ آج جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ربوہ میں انتقال ہوگیا ہے۔ صاحب موصوف ایک بلند اخلاق، غریب پرور و دیگر کئی صفات کے علاوہ تنظیم احمدیہ کے علمبردار تھے۔ انہوں نے نمایاں طور پر قومی و مذہبی خدمات انجام دی ہیں۔ مجھے صاحب موصوف کی وفات سے دلی دکھ ہوا ہے اور دعا کرتا ہوں کہ انہیں اللہ تبارک تعالیٰ اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

(بحوالہ روزنامہ الفضل 27 نومبر 1965ء صفحہ 4)

آپؓ آسمان انسانیت کے درخشندہ و تابندہ قمر تھے

لائنز انٹر نیشنل ڈسٹرکٹ 305 مغربی پاکستان کے زون چیئرمین (زون نمبر2) لائل پور جناب محمد ارشاد خان صاحب سیدنا حضرت المصلح الموعود خلیفہ المسیح الثانی کے وصال پر گہرے غم و الم اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مکتوب میں رقم طراز ہیں۔

حضرت امام جماعت احمدیہ (خدا تعالیٰ ان کی مقدس روح پر کروڑوں رحمتیں اور اربوں فضل نازل فرمائے) آسمان انسانیت کے وہ درخشندہ و تابندہ قمر تھے کہ جن کے بغیر آج انسانیت تہی داماں و سربگریباں ہو کے رہ گئی ہے۔ ایک موقعہ پر آپ نے نعرہ تکبیر اور آقائے مدنیؐ کے بعد انسانیت زندہ باد کا نعرہ لگوایا تھا۔ اور میرا ایمان ہے کہ اسی روز سے انسانی بلند قدروں کا صحیح شعور قلوب میں زندہ ہوا اور یہی شعور و احساس آنے والی بے شمار نسلوں کے لئے روشنی کے مینار کا کام دیتا رہے گا۔ حضرت اقدس کا ایک شعر آج باربار زبان پر آیا۔

ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی
جا لپٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پروا نہ کر

آپؓ نے ایک بھرپور عملی زندگی گزارتے ہوئے واقعی طوفان حوادث اور حالات کے تھپیڑوں کی کبھی پرواہ نہیں کی اور یہی وجہ ہے کہ آج جب میں نے اس جری اور اس عظیم رہنما کے انتقال کی خبر سنی تو دل بے اختیار بھر آیا۔میری طرف سے ان سب دوستوں تک ہمدردی کا پیغام پہنچا دیجئے جو اس صدمہ کو اپنے دلوں کی دھڑکنوں میں محسوس کر رہے ہیں۔ خدا حافظ

(بحوالہ روزنامہ الفضل ربوہ12نومبر1965ء ص6)

آپؓ بڑے علم دوست، علم نواز اور
صلح کل کی طبیعت کے مالک تھے

مکرم حکیم یوسف حسن صاحب ایڈیٹر نیرنگ لاہور نے فرمایا:
میں مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے شاید 30 سال قبل قادیان میں ملا تھا۔ ان دنوں مرزا صاحب نے نیرنگ خیال میں ایک دو علمی مضامین لکھے تھے اور آپ کی دختر نیک اختر اور آپ کے بھائی صاحب نے بھی نیرنگ خیال میں اعلیٰ پایہ کے علمی مضامین لکھے تھے۔ یہ مضمون بڑے پسند کئے گئے تھے اور ان کی علمی شان بڑی بلند تھی۔ میں ان سے مزید مضامین حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس غرض کے لئے قادیان گیا۔میں قادیان کے مہمان خانہ میں ایک دن مقیم رہا۔اس دن ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسرے دن آپ نے بلوایا اور شرف باریابی بخشا۔ جب میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا تو آپ سیڑھی کے سامنے کھڑے تھے۔ بڑی محبت سے پیش آئے اور اپنے پاس بٹھایا۔ خیر وعافیت پوچھی۔ نیرنگ خیال کے متعلق بہت سی باتیں پوچھیں اور رسالہ کی ادبی خدمات کو سراہا۔ پھر موضوع گفتگو بدل کر میری طب و حکمت پر باتیں کرتے رہے۔ آخری ملاقات ربوہ میں آج سے شاید پانچ سال قبل ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے سرگودھا جا رہے تھے۔ سید نازش رضوی میرے ہمراہ تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مدت سے علیل تھے۔ ان کی مزاج پرسی کے لئے ہم ایک دن ربوہ ٹھہر گئے۔ رات کو مہمان خانہ میں قیام کیا اور اپنی آمد کی انہیں اطلاع بھجوا دی۔ صبح جمعہ کا دن تھا۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کو ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔ پھر بھی ہم نے کوشش کی اور اپنی آمد کی اطلاع کرا دی۔ شدید علالت کے باوجود آپ نے طلب فرما لیا۔ خدمت گاروں اور محافظوں نے ہمیں اشارہ کردیاکہ صرف دس منٹ آپ پاس بیٹھیں اور کم سے کم باتیں کریں کیونکہ ڈاکٹروں کی ہدایت یہی ہے۔ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ شدیدنقاہت تھی لیکن ہوش و حواس قائم تھے۔آپ خندہ پیشانی سے مخاطب ہوئے ۔اس قلیل وقت میں آپ نے پہلی ملاقات کا تذکرہ کیا۔ اپنی صاحبزادی کے علاج کے کا بھی ذکرکیا۔ نیرنگ خیال کے متعلق پوچھا اور کئی پرانی باتیں یاد کرائیں۔ اس ملاقات سے 30-25 سال قبل جو ملاقات ہوئی تھی اس کے کئی نشان ان کی زبان سے نکلے۔ جس سے معلوم ہوا کہ انہیں سب کچھ یاد ہے اور یہ معمولی سا واقعہ انہیں خوب یاد ہے۔

اس کے بعد ہم رخصت ہوئے۔ نازش رضوی اور میں میرزا صاحب کے حافظہ اور اخلاق کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔مرزا صاحب یقیناً بڑے علم دوست، علم نواز اور صلح کل طبیعت کے مالک تھے۔ ہر شخص کی قابلیت اور خدمت کے مطابق اس کی حوصلہ افزائی کرتے اور سرپرستی فرماتے تھے۔

(بحوالہ الفضل 28۔ اپریل 1966ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 25 سال میں اسلام اور مسلمانوں کی بڑی بڑی خدمات سر انجام دیں
24 دسمبر 1939ء کے اخبار ’’منادی‘‘ میں جناب خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا ہے۔
یہ تصویر درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے قریب مسجد نواب خاں دوراں خاں میں گزشتہ سال لی گئی تھی جس میں قادیانی جماعت کے خلیفہ صاحب اور چوہدری سر محمد ظفراللہ خان صاحب اور بلبل ہندوستان سروجنی نائیڈو صاحبہ شریک تھیں۔ سامنے نواب خاں دوراں خاں کا مزار ہے جو نادرشاہ ایرانی کی لڑائی میں بمقام پانی پت شہید ہوئے تھے۔ اور جن کے پوتے حضرت خواجہ میر درد کی اولاد میں وہ خاتون ہیں جو جناب مرزا بشیر الدین محمود کی والدہ ہیں۔ آج کل مرزا صاحب کی خلافت کو پچیس سالہ جوبلی قادیان میں ہو رہی ہے اور میں نےاپنے ان تعلقات کی یادگار میں جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے میرے تھے اور ان کے فرزند اورخلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سے ہیں۔ اور مرزا صاحب نے اپنی خلافت کے پچیس سالہ ایام میں اسلام کی اور مسلمانوں کی بڑی بڑی خدمات انجام دی ہیں۔ اور سرمحمد ظفراللہ خان جیسے خادم اسلام اور مسلمین افراد تیار کئے ہیں۔ اس لئے میں یہ تصویر اپنی جماعت اور ناظرین منادی کی معلومات کے لئے اور جوبلی کی خوشی میں دل سے شریک ہونے کے لئے شائع کرتا ہوں۔

(حسن نظامی)

(روزنامہ الفضل قادیان 5 جنوری1940ء)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ