• 9 جولائی, 2020

ہوشیارپور میں خلوت کی عبادت، الہام پسرِموعود اور ایک کتاب کی تصنیف

1886ء کے شروع میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ خدائی منشاء کے ماتحت ہوشیارپور تشریف لے گئے۔ جو قادیان سے قریباً چالیس میل مشرق کی طرف واقع ہے اور پنجاب کے ایک ضلع کا صدر مقام ہے۔ یہاں آپ نے چالیس دن تک ایک علیحدہ مکان میں جو آبادی سے کسی قدر جدا تھا عبادت اور ذکر الٰہی میں وقت گزارا۔ ان دنوں میں آپ اس مکان کے بالاخانہ میں بالکل خلوت کی حالت میں رہتے تھے اور آپ کے تین ساتھی جو خدمت کے لئے ساتھ گئے تھے نیچے کے حصہ میں مقیم تھے اور آپ نے حکم دیا تھا کہ مجھ سے کوئی شخص ازخود بات نہ کرے اور ان ایام میں آپ خود بھی بہت کم گفتگو فرماتے تھے اور اکثر حصہ وقت کا عبادت اور ذکرالٰہی میں گزارتے تھے۔ گویا ایک طرح آپ کی خلوت نشینی اعتکاف کا رنگ رکھتی تھی۔

ان ایام میں آپ پر بہت سے انوار سماوی کا انکشاف ہوا اور پسرموعود کے متعلق بھی انہی دنوں میں الہامات ہوئے جن میں بتایا گیا کہ خدا آپ کو ایسا لڑکا دے گا جو خدا کی طرف سے ایک خاص رحمت کا نشان ہوگا اور اس کے ذریعہ دین کو بہت ترقی حاصل ہوگی۔ چنانچہ اس الہام کے الفاظ یہ ہیں:

’’میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لودھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کردیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر! تجھ پر سلام۔ خدا نے کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۔ موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا شرف لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تالوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین دلائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تاانہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی ﷺ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہوجائے۔ سو بشارت ہوکہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔

اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے وہ نوراللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمۂ تمجید سے بھیجا ہے وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم ہوگا اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مَظْھَرُ الْاَوَّلِ وَالْاٰخِرِ۔مَظْھَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَآئِ کَاَنَّ اللّٰہ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْراً مَّقْضِیًّا۔‘‘

(اشتہار 20 فروری 1886ء)

جب حضرت بانی سلسلہ احمدیہؑ اس چالیس روزہ عبادت کو پورا کرچکے تو اس کے بعد آپ بیس روز مزید ہوشیارپور میں ٹھہرے اور انہی دنوں میں ہوشیارپور کے ایک جوشیلے آریہ ماسٹر مرلی دھر کے ساتھ آپ کا اسلام اور آریہ مذہب کے اصولوں کے متعلق مناظرہ ہوا جس میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ مناظرہ کے بعد جلد ہی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک تصنیف ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کے نام سے شائع فرمائی جس میں اس مناظرہ کی کیفیت درج کرنے کے علاوہ اسلام کی صداقت اور آریہ مذہب کے بطلان میں نہایت زبردست دلائل درج فرمائے اور اعلان کیا کہ اگر کوئی آریہ اس کتاب کا رد لکھ کر اس کے دلائل کو غلط ثابت کرے تو میں اس کو انعام دوں گا۔ مگر کسی کو اس مقابلہ کی جرأت نہیں ہوئی۔ یہ کتاب 1886ء کے آخر میں شائع ہوئی اور سلسلہ احمدیہ کی بہترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کتاب میں معجزات کی حقیقت پر نہایت لطیف بحث ہے اور آریہ مذہب کے اصول دربارہ قدامت روح و مادہ وغیرہ کو زبردست دلائل کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔

(سلسلہ احمدیہ صفحہ 27 ,26)

(حضرت مرزا بشیر احمدؓ ایم اے)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ