• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

اسی کے موافق جو تو نے مانگا

1880ءکے لگ بھگ حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ کی طباعت کے بعد برصغیر کے طول وعرض کے مذہبی حلقوں میں ایک ہلچل مچ گئی جس کی وجہ حضورؑ کا وہ چیلنج تھا جو حضور نے دیگر ادیان کےلیڈروں کو دین حق کے باالمقابل کوئی نشان دکھانے کےلیے دیا تھا۔

اس چیلنج کو کھول کر پہنچانے کےلیے حضورؑ نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں فرمایا

’’آپ کو اس دین کے حقانیت یا ان آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لاویں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر ان آسمانی نشانیوں کا بچشم خود مشاہدہ کرلیں ولیکن اس شرط نیت سے (جو طلب صدق کی نشانی ہے) کہ بمجرو معائنہ آسمانی نشانوں کے اسی جگہ (قادیان میں) مشرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہوجائیں گے۔‘‘

(دسواں اشتہار مجموعہ اشتہارات)

حضور کے اس کھلے چیلنج کو عموماً قبول تو نہیں کیا گیا مگر قادیان کے بعض با اثر آریوں نے حضور کی خدمت میں اس کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور لکھا کہ:

’’مرزا صاحب مخدوم و مکرم مرزا غلام احمد صاحب سلمہُ
بعد ما وجب بکمال ادب عرض کی جاتی ہے کہ جس حالت میں آپ نے لنڈن اور امریکہ تک اس مضمون کے رجسٹری شدہ خط بھیجے ہیں کہ جو طالب صادق ہو اور ایک سال تک ہمارے پاس آکر قادیان میں ٹہرے تو خدائے تعالیٰ اس کو ایسے نشان دربارہ اثبات حقیقت اسلام ضرور دکھائے گا کہ جو طاقت انسانی سے بالا تر ہوں۔سو ہم لوگ جو آپ کے ہمسایہ اور شہر میں ہیں۔ لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ تر حقدار ہیں۔‘‘

(لچھمن رام ۔بشند اس۔ پنڈٹ نہال چند وغیرہ)

حضور علیہ السلام نے جواباً تحریر فرمایا:
’’بعد ما وجب آپ صاحبوں کا عنائیت نامہ جس میں آپ نے آسمانی نشانوں کے دیکھنے کی درخواست کی ہے مجھ کوملا۔ چونکہ یہ خط سراسر انصاف و حق جوئی پر مبنی ہے اور ایک جماعت طالب حق نے جو عشرہ کاملہ ہے اس کو لکھا ہے اس لیے بہ تمام تر شکر گذاری اس کے مضمون کو قبول کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘

چنانچہ یہ معاہدہ طے پاگیا اور آریوں نے اس کے لیے ستمبر 1885ء سے ستمبر 1886ء کا وقت مقرر کیا۔

مگر آریوں نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ حضور نے اپنے اشتہار میں جو قبول دین حق کی شرط لگا دی ہے اس سے انہیں مبرٴا کردیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا کہ:

’’سو اسقدر تو ہم مانتے ہیں کہ سچ کے کھلنے کے بعد جھوٹ پر قائم رہنا دھرم نہیں ہے اور نہ ایسا کام کبھی بھلے منش اور سعید الفطرت سے ہوسکتاہے۔لیکن مرزا صاحب آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہدایت پا جانا خود انسان کے اختیارمیں نہیں ہے۔ جب تک توفیق ایزدی اس کے شامل حال نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوہم لوگ جو صدہا زنجیروں قوم برادری ننگ و ناموس وغیرہ میں گرفتار ہیں کیونکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود اپنی ہی قوت سے ان زنجیروں کو توڑ کر اور اپنے سخت دل کو آپ ہی نرم کرکے آپ ہی دروازہٴ ہدایت اپنے نفس پر کھول دیں گے اور جو پرمیشر سرب شکتی مان کا خاص کام ہے وہ آپ ہی کر دکھائیں گے۔‘‘

حضورؑ نے اس شرط کو بھی قبول فرمالیا اور جواباً تحریر فرمایا:

’’اور چونکہ آپ لوگ شرط کے طورپر کچھ روپیہ نہیں مانگتے صرف دلی سچائی سے نشانوں کا دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے اس طرف سے بھی قبول اسلام کے لیے شرط کے طور پر آپ سے کچھ گرفت نہیں۔‘‘

معاملہ طے پاگیا تھا اور اب حضور علیہ السلام نے خداتعالیٰ سے راہ نمائی طلب فرمائی۔

حضور علیہ السلام کا ارادہ کسی علیحدہ جگہ پر چلہ کشی کرنے کا تھا۔ حضور کے قدیمی رفیق حضرت مولوی عبداللہ سنوریؓ نے درخواست کی کہ انہیں بھی اس سفر میں شمولیت کا شرف بخشا جائے۔ جسے حضور نے منظور فرمالیا اور سو جان پور جانے کا ارادہ کیا مگر مصلحت الہٰی سے یہ سفر ملتوی ہوتا رہا۔ اور حضور کو الہاماً بتایا گیا کہ ’’تمہاری عقدہ کشائی ہوشیارپور میں ہوگی۔‘‘

چنانچہ اس کے مطابق حضور جنوری 1886ء میں حضرت مولوی عبداللہ صاحؓب ۔حضرت حافظ حامد علی صاحؓب اور فتح خان صاحؓب کو لیکر ہوشیار پور تشریف لے گئے اور مکرم شیخ مہر علی صاحب ریئسؓ کی حویلی کے بالا خانہ میں چالیس روز تک علیحدہ رہائش پذیر رہے جبکہ یہ تینوں دوست نچلی منزل پر فروکش ہوئے۔یہاں وحئی الٰہی کے ذریعہ حضور کی خواہش کے مطابق خوشخبری دی گئی کہ ’’اسی کے موافق جو تو نے مانگا۔‘‘ کے مصداق نشان عطا ہوگا۔ خداتعالیٰ سے یہ عظیم الشان پیش خبری حاصل کرکے حضور بیس روز مزید وہاں ٹھہرے اور مارچ 1886ء میں قادیان واپس تشریف لے آئے اور ایک اشتہار کی صورت میں اسے شائع فرمایا۔

اس کی اشاعت کے ساتھ ہی ہندوستان کی مذہبی حلقوں میں ایک شور پڑگیا۔

حضور نے دعویٰ فرمایا کہ اس پیشگوئی میں ایک فوق العادت خوبیوں والے لڑکے کی پیدائش کی بشارت دی گئ ہے جو نو سال کے عرصہ میں پیدا ہوجائے گا۔ مخالفین نے شوروغوغا اور جھوٹے پراپیگنڈا سے اس پیش گوئی کی عظمت کم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ حتیٰ کہ بعض علما نے بھی اس قسم کی خبریں پھیلانی شروع کر دیں کہ دراصل حضور کے ایک لڑکا پیدا ہو چکا ہے جس کو اخفاء میں رکھا گیا ہے تاکہ کچھ عرصہ کے بعد اس کو ظاہر کرکے اس پیشگوئی کی صداقت کا اعلان کر دیاجائے۔

اس پر حضور نے ایک اشتہار ’’اشتہار واجب الاظہار‘‘ شائع فرمایا کہ ’’ابھی تک جو22 مارچ 1886ء ہے ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز دو لڑکوں کے جن کی عمر 22، 20 سال سے زیادہ ہے پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔ خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔‘‘

آریوں کو جن کے مطالبہ پر یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی۔ گویا آگ لگ گئی پنڈت لیکھرام نے اس کے مقابل ایک پیشگوئی شائع کی جو گندے خیالات اور الفاظ سے بھری ہوئی تھی۔ اس میں ایک بات یہ بھی کہی کہ:

’’مرزا صاحب۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے یہ لڑکا اب کی دفعہ ہوگا یا دوسری نوبت الہام میں؟ تاہم عبارت اصل لکھی ہےکہ اگر اب کی دفعہ لڑکا ہوگیا تو الہام سچاثابت، ورنہ دوسری دفعہ کی تاریکی بتادیں گے۔‘‘

غرض مخالفین نے اس پیشگوئی کو تمسخر واستہزاٴ کا نشانہ بنا لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت وقار کے ساتھ خدا تعالٰی کی طرف سے نازل ہونے والے نشان کا انتظار فرمانے لگے۔

7 اگست1887ء کو حضور علیہ السلام کے یہاں صاحبزادہ بشیر اولؓ کی پیدائش ہوئی اور 4 نومبر 1888ء کو آپ وفات پا گئے۔ کسی شخص کے یہاں اولاد کی وفات ایک دکھ کی بات ہوتی ہے اور شرفاٴ میں تعزیت اور ہمدردی کا طریق جاری ہے مگر مخالفین نے بےہودہ طریق اختیار کرتے ہوئے شور وغوغا برپا کر دیا کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور لڑکا پیداہوکر بجائے ان تمام خوبیوں کا مالک ہونے کے جو پیشگوئی میں درج ہیں۔ کم عمری ہی میں انتقال کر گیا ہے۔

حضور علیہ السلام نے اس موقع پر ایک تقریر فرمائی اور پیشگوئی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہ لڑکا تھا جو فوت ہوگیا ہے۔ 8 اپریل 1886ء کا اشتہار اور نیز 7 اگست1887ء کا اشتہار کہ جو اپریل 1886ء کی بنا پر اور اس کے حوالہ سے بروزتولد بشیر شائع کیا گیا تھا صاف بتلا رہاہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یاکوئی اور ہے۔‘‘

اب مقابلہ زور پکڑ گیا اور ہندوستان کے تمام مذہبی حلقے اس بات کا شدت سے انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں حضور علیہ السلام کے یہاں نوسال کی جو مدت حضورؑ نے متعین فرمائی ہے اس میں کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے کہ نہیں کیونکہ کسی گھر میں لڑکے کی پیدائش خالصتاً ایسا نشان تھا جو انسانی طاقت سے بالا تر تھا۔

خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے صاحبزادہ بشیر اول کی وفات کے تقریباً دو ماہ بعد ہی 12 جنوری 1889ء کو حضور کے یہاں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کی پیدائش ہوئی اور یوں آریوں نے جو نشان طلب کیا تھا اور حضور نے خدا تعالیٰ سے جس قسم کا نشان طلب کیا تھا اور عطا کرنے والے نے ان الفاظ میں کہ ’’اسی کے موافق جو تونے مانگا‘‘ تسلی دی تھی۔ بڑی شان و شوکت سے پورا ہوا۔

اس وقت تک اس نشان کی صداقت کا ثبوت صرف ایک لڑکے کی پیدائش کی حد تک ہی تھا۔سوال یہ تھا کہ کیا اس لڑکے میں وہ تمام خوبیاں موجودہوں گی جو اس پیشگوئی میں بیان کی گئی ہیں۔

پھر وقت نے ثابت کیا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس پیشگوئی کے ہر پہلو کا مصداق بنا رہا۔ اور مخالفین احمدیت کو اس پیشگوئی کی صداقت پر کسی قسم کا اعتراض کرنے کی آج تک جرات نہیں ہوئی۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کا دم بھرنے والے بعض سادہ لوح افراد اس کوشش میں رہے کہ اس کی صداقت لوگوں پر مشتبہ کی جائے۔کسی نے کہا موعود لڑکا توسولہویں صدی ہجری میں پیدا ہوگا۔کسی نے سوسال کے بعد دعویٰ کیا کہ وہ موعود لڑکا تو دراصل میں ہوں۔میری سنو۔ وغیرہ ۔وغیرہ۔

مگر عطا کرنے والے نے اعلان کیا تھا کہ نشان ’’اسی کے موافق جو تونے مانگا‘‘ کے مصداق ہوگا۔ مانگنے والا دعویٰ کر رہاتھا کہ وہ لڑکا نو سال کی مدت میں پیدا ہوگا۔ مخالفین استہزاٴ کررہے تھے۔ اور معجزہ کی طلب قادیان کے ہندووٴں کی طرف سے تھی۔ جو دو سوسال کے انتظار کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ اگر اس لڑکے نے موجود آریوں کی زندگیوں میں نہیں آنا تھا تو دوسوسال کا انتظار تو اس پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کا مصداق ہونا تھا۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیشگوئی میں مصلح موعود کو مامور من اللہ قرار دیا گیا تھا۔یا فوق العادت خوبیاں رکھنے والا انسان قرار دیا گیا تھا۔ جب مقابلہ ہوا تو حضور علیہ السلام نے اس سے قبل یہ شرط بھی عائد فرمائی تھی کہ اگر نشان دکھا دیا گیا تو مخالفین کو اسلام قبول کرنا ہوگا۔ آریوں نے اس شرط کو ختم کرنے کی درخواست کی جسے حضور علیہ السلام نے ختم کر دیا۔ صرف یہ شرط قائم رکھی گئی کہ وہ اس نشان سے دین حق کی صداقت کا اظہار کریں گے۔ اگر مصلح موعود کا ماموریت کا مقام ہوتا تو پھر آپ کو مانے بغیر جائے مفر نہیں ہوسکتی۔ احمدیوں نے 1914ء میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کے ہاتھ پر جو بیعت کی تھی وہ حضرت مسیح موعودؑ کے خلیفہ کے طور پر کی تھی نہ مصلح موعود کے مقام پر فائز ہونے کے طور پر اور حضور نے تو اسوقت مصلح موعود ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا۔

مصلح موعود ہونے کا دعویٰ 1944 میں کیا گیا اور اس حوالہ سے کبھی بھی تجدید بیعت نہیں ہوئی۔

حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی خدمت میں یہ سوال کیا گیا کہ:
’’جس شخص کو حضور کے مصلح موعود ہونے کا علم دیا جائے اور اس پر حجت تمام کر دی جائے تو پھر بھی وہ حضور کا انکار کرے تو ہم اسے کیا کہیں گے۔‘‘

حضور نے جو فرمایا:
’’ہم کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا اسے ہدایت دے گا۔ دعوت پر اصرار کرکے منوانا غیر مامور کا کام نہیں ہوتا۔ اس شخص نے کہا کہ حضور کے متعلق تو ایک مامور کی پیشگوئیاں موجود ہیں اور مامور ہمیشہ مامور کے متعلق ہی پیشگوئی کیا کرتا ہے۔

حضور نے فرمایا:’’یہ پھر وہی نفس کا دھوکہ ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ہر بیٹے کے متعلق پیشگوئی موجود ہے۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کا ہر بیٹا مامور ہے۔‘‘

(الفضل 3 جون 1960)

یارو جو مرد آنےکو تھا وہ تو آچکا

(سید قمر سلیمان احمد)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ