• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

سیرت حضرت مصلح موعود ؓ کے حسین پہلو

دنیا میں بعض انسان ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جو قوموں کی تقدیر بدلنے کے لئے آتے ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں نمونہ بنا کر بھیجتا ہے تاکہ اس کی تقلید سے قوم میں بھی وہی اعلیٰ عادات و فضائل پیدا ہوں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ بھی ایسے وجودوں میں سے ایک تھے۔ جن کی زندگی کا ہر لمحہ بے نفسی کے ساتھ یادِ خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت میں گزرا۔

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ مورخہ 12 جنوری 1889 بروز ہفتہ قادیان میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام الصلوۃ السلام کی حرم ثانی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگمؓ کے بطن سے حضورؑ کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت باسعادت الہٰی بشارتوں کے مطابق ہوئی جو ہستی باری تعالیٰ، آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپؓ 12 مارچ 1944ء کو بمقام لاہور تقریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’5اور 6 جنوری کی درمیانی رات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ بتایا کہ میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کا حضرت مسیح موعود ؑ کی پیش گوئی میں ذکر کیا گیا تھا اور میرے ذریعہ ہی دور دراز ملکوں میں خدائے واحد کی آواز پہنچے گی۔ میرے ذریعہ ہی محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود ؑ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔‘‘

ایک جگہ آپؓ فرماتے ہیں:
’’وہ کون سا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔ مسئلہ ختم نبوت، مسئلہ کفر، مسئلہ تقدیر قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرے وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون نہیں تھا۔ مجھے خدا نے اس خدمت کی توفیق دی‘‘۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ تعلیم کی عمر کو پہنچے تو مقامی سکول میں آپ کو داخل کرایا گیا مگر طالب علمی کے زمانہ میں چونکہ آپ کی صحت خراب رہتی تھی اس لئے آپ کو دنیاوی تعلیم سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ آپ کے استاد حضرت مسیح موعودؑ سے آپ کی تعلیمی حالت کا ذکر کرتے تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ اس کی صحت اچھی نہیں ہے۔ جتنا یہ شوق سے پڑھے اسے پڑھنے دو، زیادہ زور نہ دو۔

خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے مطابق خود آپ کو ظاہری و باطنی تعلیم دی۔ جس کو دنیا نے دیکھا۔

حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں ہی آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نے اپنی خاص تربیت میں لے لیا۔ آپ نے ان کی صحبت اور فیض سے بہت فائدہ اٹھایا۔ قرآن شریف، حدیثوں کی بعض کتابیں آپ نے حضرت مولوی صاحب سے ہی پڑھیں۔

26 مئی 1908ء کو جب حضرت مسیح موعود ؑ وفات پاگئے۔ آپ 19 برس کے تھے۔ اس وقت آپ نے یہ عظیم الشان عہد کیا کہ الٰہی اگر سارے لوگ بھی حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کو چھوڑ جائیں گے تو پھر بھی میں اپنے عہد پر قائم رہوں گا اور حضرت مسیح موعود ؑ جس مقصد کے لئے مبعوث ہوئے تھے اسے پورا کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک دن اس امر کا گواہ ہے جو آپ نے عہد کیا وہ پورا کر دکھایا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو خدا تعالیٰ سے بے انتہا محبت تھی۔ آپ کی تمام زندگی قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق گزری ہے۔

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ

ترجمہ: تو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔

(الانعام:163)

آپؓ کے 52 سالہ دور خلافت کا ایک ایک دن شاہد ہے کہ مخالفتوں کی آندھیاں چلیں، فتنے اٹھے جماعت کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی گئیں مگر آپ کو اللہ تعالیٰ پر کامل توکل رہا۔ اور اللہ تعالیٰ کا سایہ بھی ہر آن آپ پر رہا۔ آپ فرماتے ہیں:

’’تو خدا تعالیٰ جس سے محبت کرتا ہے اس کے سامنے سب کچھ ہیچ ہو جاتا ہے۔ تم اس کے لئے کوشش کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے تاکہ اس کی مدد اور نصرت تم کو مل جائے۔ اور جب اس کی نصرت تمہارے ساتھ شامل ہوجائے تو پھر ساری دنیا ہے کیا چیز! وہ تو ایک کیڑے کی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔‘‘

آپ کو آنحضرت ﷺ سے بے انتہا عشق تھا۔ جب آپ آنحضور ﷺ کا نام لیتے تو آپ کی آواز میں لرزش اور آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ آپ کے اشعار اس مضمون پر مزید روشنی ڈالتےہیں۔

مجھے اس بات پر ہے فخر محمود
مرا معشوق محبوب خدا ہے
اسی سے میرا دل پاتا ہے تسکین
وہی آرام میری روح کا ہے
ہو اس کے نام پر قربان سب کچھ
کہ وہ شہنشاہ ہر دوسرا ہے

اسی طرح قرآن مجید سے آپ کو بے نظیر عشق تھا ۔ آ پ نے قرآن مجید کی تفسیر لکھ کر اس کی اشاعت کی وہ تاریخ احمدیت کا روشن باب ہے ۔ جن دنوں آپ نے تفسیر کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا نہ سونے کا نہ کھانے کا۔ بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہوجائے رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھتے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہوگئی اور لکھتے چلے گئے۔ ڈاکٹر کہتے تھے کہ آرام کریں زیادہ محنت نہ کریں مگر آپ کو ایک دھن تھی کہ قرآن کے ترجمہ کا کام ختم ہو جائے۔

افراد جماعت آپ کو غیر معمولی محبت تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ جماعت کے افراد آپ کو اپنی بیویوں، اپنے بچوں اور اپنے عزیزوں سے بہت زیادہ پیارے تھے ان کی خوشی سے آپ کو خوشی پہنچتی تھی اور ان کے دکھ سے آپ کرب میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ جب آپ خلیفہ منتخب ہوئے تو اسی سال جلسہ سالانہ پر خطاب کرتے فرمایا:

’’کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ جاننے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔ مگر ان کے لئے نہیں تمہارا اسے فکر ہے درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولا کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔ کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔‘‘

(برکات اخلافت انوار العلوم جلد 2 صفحہ 156)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے طبقہ نسواں پر عظیم الشان احسانات ہیں۔ آپ کے دور خلافت میں احمدی عورت نے علم میں، عمل میں، قربانی میں، نیکی و طہارت میں آپ کے زیر سایہ جس قدر ترقی کی اس کی مثال کسی قوم میں نہیں مل سکتی۔ 1922ء میں آپ نے لجنہ اماء اللہ کا قیام فرما کر مستورات میں ہر احساس پیدا کیا کہ وہ بنی نوع انسان کا ایک جزو لاینفک ہیں۔ اور قوموں کی ترقی میں ان کا بھی ہاتھ ہے آپ فرماتے ہیں:

’’حقیقت یہی ہے کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کےبغیر کام نہیں چل سکتا۔ مجھے خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا ہے کہ اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کرلو۔ تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔ گویا خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کو تمہاری اصلاح کے ساتھ وابستہ کردیا ہے۔ جب تک تم اپنی اصلاح نہ کرلو ہمارے مبلغ خواہ کچھ کریں کائی فائدہ نہیں ہو سکتا۔‘‘

(الازھار لذوات الخمار صفحہ 641)

خلافت ثانیہ کا مبارک دور 14 مارچ 1914 ءکو شروع ہوا اور 8 نومبر 1965 کو ختم ہوا۔ یہ ایک تاریخ ساز دور تھا حضرت مصلح موعودؓ نے اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی ترقی کے لئے عظیم الشان کارنامے سر انجام دئیے جس نے جماعت کی علمی و روحانی ترقی اور تعلیم و تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کیا ور خدا تعالیٰ کے فضلوں کے ساتھ جماعت کا میابی و کامرانی کے ساتھ فتح و نصرت کی نئی منزلوں کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ آپ حضرت مسیح موعودؑ کی مقبول دعاؤں کا عظیم ثمرہ تھے۔ آپ کا وجود قبولیت دعا کا ایک زندہ اور مجسم معجزہ تھا۔ دعاؤں کے ساتھ آپ کو ایک عجیب نسبت تھی اپنی جماعت کے نام ایک پیغام میں فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کے قدم کو ڈگمگانے سے محفوظ رکھے۔ سلسلہ کا جھنڈا نیچا نہ ہو۔اسلام کی آقاز پست نہ ہو، خدا کا نام ماند نہ پڑے، قرآن سیکھو اور حدیث سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ اور خود عمل کرو اور دوسروں ے عمل کراؤ۔ زندگیاں وقف کرنے والے ہمیشہ تم میں ہوتے رہیں۔ خلافت زندہ ہے اور اس کے گرد جان دینے کے لئے ہر مومن آمادہ کھڑا ہو۔ صداقت تمہارا زیور، امانت تمہارا حسن اور تقویٰ تمہارا لباس ہو۔ خدا تمہارا ہو اور تم اس کے ہو۔ آمین‘‘

(الفضل 11 نومبر 1965)

اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتےہیں:

’’اب ہمارا بھی کام ہے کہ اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں ۔ اپنے علم سے، اپنے قول سے، اپنے عمل سےاسلام کے خوبصورت پیغام کو ہرطرف پھیلادیں۔ اصلاح نفس کی طرف بھی توجہ دیں۔ اصلاح اولاد کی طرف بھی توجہ دیں اور اصلاح معاشرہ کی طرف بھی توجہ دیں۔ اور اس اصلاح اور پیغام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بھرپور کوشش کریں۔ جس کا منبع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بنایا تھا۔ پس اگر ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں گے تو یوم مصلح موعود کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 91-9)

(قدسیہ محمود سردار)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ