• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

ارضِ ربوه جس كى شاہد ہے، وہ معمولی نہ تھا

دنیا میں تاریکی اور کفر کے اسلام پر حملہ کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جن روشن نشانوں کے ساتھ مبعوث فرمایا ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ’’مصلح موعود‘‘ کا ظہور تھا۔

یوں تو سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کی آمد کے اشارے حدیث ِ پاک اور صحفِ سابقہ میں بھی ملتے ہیں مگر امت کے بعض بزرگوں نے جن میں نعمت اللہ ولی جیسے عارف باللہ بھی شامل ہیں، نےمہدئ آخرالزماں اور ان کے اس فرزندِ دلبند گرامئ ارجمند کا ذکر ذرا کھل کر کیا ہے ۔ وہ لکھتےہیں:

عیسئ وقت و مہدئ دوراں
ہر دو راشاہسوار مے بینم
دوراو چوں شود تمام بکام
پسرش یادگار مے بینم

یعنی یہ موعود بیٹا اپنے باپ کی خوبو اور رنگ ڈھنگ پر ہو گا اور نبیوں والی اولوالعزمی کا وارث ہوگا۔

ہزاروں ہمتیں قربان ہوں اس ابنِ مہدئ موعود علیہ السلام پر جس نے اپنے عزم اور ہمت سے طوفانوں میں سے گزر کر کامیابیوں کو چھوا۔ پیشگوئیوں کے الفاظ اس ذات میں اس طرح پورے ہوتے دکھائی دیتے ہیں گویا وہ کوئی انسان نہیں انجمن ہے۔ پھول نہیں بلکہ گلدستہ ہے۔ آئیے اس موعود کی زندگی سے عزم و استقلال کی چند مثالوں کو تازہ کریں۔

1900ء میں جبکہ آپ کی عمر گیارہ سال تھی آپ نے ایک دن اشراق کے وقت وضو کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جبَہ پہن کر کمرے کا دروازہ بند کرکے نماز شروع کی اور خوب روئے اور اقرار کیا کہ اب کبھی نماز نہیں چھوڑوں گا اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپؓ خود فرماتے ہیں ’’گیارہ برس کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا اس واقعہ کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی‘‘

(سوانح فضلِ عمر جلد 1صفحہ 96)

ابھی آپؓ کی جوانی کی اُٹھان ہی تھی کہ مسیح پاک علیہ السلام کا سانحۂ ارتحال پیش آیا اس وقت جبکہ آپ کی عمر صرف اور صرف انیس سال تھی آپ ؓنے اپنے مقدس باپ کے سرہانے کھڑے ہو کر عہد کیا کہ

’’اے خدا !میں تجھ کو حاضروناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت، احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود ؑکے ذریعے تو نے نازل فرمایا ہے اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلاؤں گا‘‘

(الفضل 21 جون 1944ء)

یہ ایک عظیم عہد تھا۔ زمانے نے چیلنج کے بعد چیلنج آپ کے سامنے لا کھڑا کیا مگر تاریخ شاہد ہے کہ اس اولوالعزم نے اپنے الفاظ کی پچ رکھی اور ہمیشہ ایک ہی سبق یاد رکھا

مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو صدا
رنج و غم یاس و الم فکرو بلا کے سامنے

جونہی آپ منصبِ خلافت پر رونق افروز ہوئے تو صاحبِ کلاه و دستار اور جماعت کے جبَہ پوشوں کو ایک دھکا لگا اور وہ روٹھ کر نہ صرف لاہور آ بیٹھے بلکہ ان کے ترکش کا ہر تیر اس وجود پر پڑنے لگا مگر اس کوہِ وقار کے پائے ثبات میں ذرا بھر بھی لغزش نہ آئی 25 سالہ اس نوجوان نے اپنے اور غیروں کے ہر وار کو اپنے سینہ پر لیا۔ نہ درماندہ ہوا نہ ہمت ہاری اور نہ ہی قافلے کی رفتار میں فرق آنے دیا۔ آنچ آنے نہ دی اس نےاسلام پر اپنے سینہ پہ ہر وار سہتا رہا۔

آپؓ کے 52 سالہ دور خلافت کاایک ایک ورق اس بات کی شہادت کے لئے حاضر ہے کہ کس طرح اپنوں نے جانچا۔ غیروں نے پرکھا اور بار بار پرکھا۔ وہ آزمایا گیا اور وہ ستایا گیا مگر وہ تو تھا ہی کوہ ِوقار، عزم کی چٹان اور ہمتوں کا شہزادہ۔ احرار نے ٹکر لی، حکومت نے طاقت آزمائی کی، سیاست دانوں نے چالیں چلیں، شعراء نے سحر کاری کی مگر سوائے شرمندگی اور نامرادی کے کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی تو نہ آیا۔ اس کا تو ایک ہی ماٹو اور ایک ہی نصب العین تھا۔ ؂

جا لپٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پرواہ نہ کر

1934ء میں جب احرار نے فتنہ کھڑا کیا انہوں نے احمدیت کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہا۔

انہوں نے قوم کے لیڈروں اور حکومت کی اشیرباد سے دنیائے احمدیت پر ہلہ بول دیا اور قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا اعلان کر دیا تو اس وقت خدا ئے تعالی کا یہ بلند ہمت اور پر عزم شیر دھاڑا اور فرمایا ’’دنیا کی تمام طاقتیں جمع ہیں۔ احراری بھی ہیں، پیرزادے بھی ہیں، دیوبندی بھی ہیں …شاعر اور فلاسفر بھی ان کے ساتھ ہیں … گویا دنیا اپنی تمام طاقتیں احمدیت کے کچلنے پر صرف کرنے کے لئے آمادہ ہو رہی ہے…اپنی ساری طاقتیں جمع کرکے احمدیت کو مٹانے کے لئے تل جاؤ پھر بھی یاد رکھو کہ سب کے سب ذلیل و رسوا ہو جاؤ گے …‘‘

(الفضل 30 مئی 1935ء)

آپؓ کومخالفین کے لئے نرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا تو آپؓ نے ایک یقینِ کامل کے ساتھ واضح کر دیا کہ جس قدر فتنہ بڑھتا ہے اسی قدر ہمیں یقین ہوتا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کی تائید میں کوئی نشان دکھانا چاہتا ہے اور آپ کسی قسم کی مداہنت اور نرمی کر کے خدا تعالیٰ کے نشان کو دُھندلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایسے نازک وقت میں جبکہ قادیان مخالفت کے خوفناک طوفانوں کی لپیٹ میں تھا آپؓ نے فرمایا۔

’’خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے جس راستہ پر مجھے کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کے اختیار کرنے کی اس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و بامراد کرنے والے ہیں اس کے مقابلے میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں اتنی ہی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے‘‘

(الفضل 30 مئی 1935ء)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان بدر کے موقع پر پھینکی جانے والی کنکریوں کی مٹھی ثابت ہوا جس نے آن واحد میں مخالفوں کی آنکھوں کو اندھا کر دیا اور وہ خائب و خاسر رہے بلکہ اس طوفان کی کوکھ سے تحریک جدید کا وہ شگوفہ پھوٹا جس کے خوشنما پھولوں سے آج ایک عالم معطر ہو رہا ہے

آپؓ کبھی بڑی سے بڑی مخالفت سے بھی نہ گھبرائے اور ہمیشہ اپنے خدا پر یقین رکھا۔ 1953 ء کے طوفان بے تمیزی کے موقع پر جبکہ دشمن جماعت کو کھا جانے کے لئے تیار تھا ملک میں لاقانونیت تھی امن و امان قائم کرنے والی طاقتیں بےبس دکھائی دے رہی تھیں ۔ روزنامہ الفضل کی بندش کر کے امامِ جماعت اور افرادِ جماعت کے درمیان رابطے کے اہم ذریعے کو منقطع کر دیا گیا تو اس وقت آپؓ نے جماعت کو ایک پر عظم راہنما کے طور پر تسلی دیتے ہوئے لاہور سے جاری کردہ “فاروق” اخبار کے پہلے ہی پرچہ میں پیغام دیا۔

’’الفضل کو ایک سال کے لئے بند کر دیا گیا ہے احمدیت کے باغ کو جو ایک ہی نہر لگتی تھی اس کا پانی روک دیا گیا ہے پس دعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو ان شاء اللہ فتح ہماری ہے ۔کیا آپ نے گزشتہ 40 سال میں کبھی دیکھا ہے کہ خدا تعالی ٰنے مجھے چھوڑ دیا؟ تو کیا اب وہ مجھے چھوڑ دے گا؟ ساری دنیا مجھے چھوڑ دے مگر وہ ان شاء اللہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا سمجھ لو کہ وہ میری مدد کو دوڑا چلا آ رہا ہے وہ میرے پاس ہے وہ مجھ میں ہے خطرات ہیں اور بہت ہیں مگر اس کی مدد سے سب دور ہو جائیں گے۔‘‘

(سوانح فضل عمر جلد 4 صفحہ 352)

مکہ کی بے آب و گیاہ وادی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں اور دعاؤں کی بدولت اسلام کا مرکز بنی تھی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اپنی والدہ حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ ایک ربوہ میں پناہ لی تھی تو آج دور مسیح آخر الزماں اور اسلام کی نشأة ثانیہ کے وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی نے ایک دفعہ پھر ان نبیوں جیسی اولو العزمی دکھا کر اس یاد کو تازہ کر دیا کہ آپؓ نے بھی اپنی والدہ حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربوہ کو دار الامان بنایا۔ لٹُے پٹُے قافلے کے ساتھ ہجرت کر کے آنے والے اس فرزند مسیح الزمان نے ایک لق و دق چٹیل میدان میں، جہاں نہ پانی تھا نہ سبزہ، نہ چرند تھا نہ پرند، جس کا سارا سرمایہ گردا تھا اور صرف گردا، وہاں خیمے لگا دئیے تو ہمت اور عزم کی کوکھ سے ایک شہر آباد ہو گیا اور پھر یہیں سے چہار دھانگ عالم میں اسلام کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ یہ ربوہ وہی سرزمین ہے جس کی بنیاد رکھتے ہوئے اس کے چاروں کونوں میں بکروں کی قربانی خدا تعالیٰ کے حضور پیش کی گئی اور اس کے وسط میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے ایک بکرا ذبح کیا اور اس کے بارے میں فرمایا۔ ’’یہ کبھی وہم نہ کرنا کہ ربوہ اجڑ جائے گا ۔ربوہ کو خدا تعالیٰ نے برکت دی ہے ۔ربوہ کے چپہ چپہ پر اللہ اکبر کے نعرے لگے ہیں ربوہ کے چپہ چپہ پر حضرت محمد رسول اللہ پر درود بھیجا گیا ہے …یہ بستی قیامت تک خدا تعالیٰ کی محبوب بستی رہے گی اورقیامت تک اس پر برکتیں نازل ہوں گی۔ اس لئے کبھی نہیں اجڑے گی ۔ کبھی تباہ نہیں ہو گی بلکہ حضرت محمد رسول اللہ کا جھنڈا دنیا میں کھڑا کرتی رہے گی‘‘

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کی خوبیوں کی داستان تو سمیٹے نہیں سمٹتی ۔ آپؓ کی انہی بےپناہ خوبیوں کو دیکھ کر انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے اور زبان سے بے ساختہ نکلتا ہے۔

ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

(امۃ القیوم انجم۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ