• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

اخلاقِ محمود

اخلاق کو انسان کی زندگی میں جو اہمیت حاصل ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ تاریخ میں ایسی قوم کی مثال نہیں ملتی جس میں نیکی و بدی کا سرے سے کوئی تصور نہ پایا جاتا رہا ہو۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ سچائی، خیر پسندی اور دیانت داری انسان کی مطلوب صفات ہیں۔ انسانی ضمیر کے لئے یہ بھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ وہ ایفائے عہد کے مقابلے میں مکر و فریب کو ، ایثار و قربانی کے مقابلے میں خودغرضی کو اور جذبہ اخوت و ہمدردی کے مقابلہ میں بغض وحسد اور ظلم وستم کو بہتر سمجھنے لگے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اخلاق کا تعلق انسان کے ارادہ و اختیار سے ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں حقیقی حسن و خوبی اخلاق سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اخلاق سے عاری ہونے کے بعد انسان کے پاس کوئی قابل قدر شئی باقی نہیں رہتی۔

اخلاق در حقیقت ایک عالمگیر اور آفاقی اصول کا نام ہے وہی ہماری باطنی زندگی کا قانون بھی ہے اور اس کے در پہ ہی انسان کی اندرونی زندگی میں توازن اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔ اخلاق کے ذریہ ہی آدمی کی تکمیل ہوتی ہے اور اسی کے ذر یہ انسانی زندگی کی تشکیل بھی، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاقی قدروں کالحاظ زندگی کے تمام گوشوں میں مطلوب ہے۔

اخلاق ’’خلق‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنیٰ خصلت، عادت اور طبیعت کے ہیں۔ اصطلاح میں اخلاق سے مراد وہ خصائل و عادات ہیں جو انسان سے روز مرہ اور مسلسل سرزد ہوتے رہتے ہیں اور یہی عادات و خصائل رفتہ رفتہ انسانی طبیعت کا جزو بن کر رہ جاتے ہیں جسے انسان دوسرے کے لیے تمثیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر یہ عادات اچھی ہوں تو ’’اخلاق حسنہ‘‘ اور اگر بُری ہوں تو ’’اخلاق سیٔہ‘‘ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

اس مضمون میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخلاق عالیہ کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اخلاق عالیہ کو اپنے سامنےرکھیں اور ان اخلاقِ حسنہ پر گامزن ہونے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حلیہ مبارک

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
“ آپ ایک کوہ وقار تھے، وفا کے پتلے، جرأت کا ایک نشان، عدل و انصاف کے بے لاگ ترازو لطیف احساسات کے آبگینے۔ سب زندہ لوگوں میں سب سے زیادہ شجاع، سب سے بڑھ کر حلیم، غیور، ہمدرد، شفیق ومہربان، قانع، متوکل، مہمان نواز وسیع حوصلہ، وسیع خیال، مردم شناس، ہر صاحب فضیلت کا اکرام کرنے والے، ہر تہی دست پر لطف و عنایت کی نظر رکھنے والے، صاحب لطافت و ظرافت، نجیب و نظیف، علوم ظاہری و باطنی سے پر ایک باکمال ادیب اور بلند پایہ شاعر ایک ماہر فن طبیب، تجربہ کار ہومیوپیتھ، ایک عظیم مصنف، ایک بے بدل مقرر، ایک لا جواب منتظم، مورخ، مدبر، مفکر، عالمی سیاست کا گہرا ادراک رکھنے والے۔۔ آپ کا رنگ کھلا ہوا گندمی اور چہرہ مردانہ حسن سے مرقع تھا۔ کشادہ پیشانی، ستواں ناک، روشن بڑی بڑی آنکھیں جو عموماً نیم باز رہتی تھیں لیکن گردوپیش کے ہر اونچ نیچ حرکت و سکون سے پوری طرح باخبر ہوتی تھیں۔ جب آنکھ اٹھا کر بھر پور نگاہ سے دیکھتے تھے تو وہ پر تاثیر نظر بے روک ٹوک دل کی گہرائی تک اتر جاتی تھی۔ ایسے مواقع پر بسا اوقات ایسا احساس ہوتا تھا۔ جیسے اندھیرے میں راستہ چلتے اچانک کسی ٹارچ کی بھرپور روشنی چہرہ پر آ پڑے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دل کے سب چھوٹے چھوٹے راز اس روشنی کے نیچے ننگے ہو رہیں۔ لیکن اس سے پرے کون کیا دیکھ رہا ہے اس کا کچھ علم نہیں۔ میرے لئے اس کیفیت کا بیان مشکل ہے۔ مگر ہر صاحب تجربہ جسے حضور نے ان بھر پور متلاشی نظر وں سے دیکھا ہوا ہے اس کی کنہ سے خوب خوب واقف ہے ۔۔۔۔آپ کا قد درمیانہ چھاتی چوڑی اور جسم بھرا ہوا اور مضبوط تھا رفتار تیز تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے احادیث نبوی میں سروردو عالم حضرت رسول اکرم ﷺ کی رفتار کے بارہ میں جو آتا ہے حضور بھی اسی سنت کی پیروی فرما رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی تیز رفتاری سے چلا کرتے تھے۔ حضور کی رفتار باوقار ہونے کے باوجود اس قدر تیز تھی کہ عام آدمی دوڑ دوڑ کر ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے ۔‘‘

(ماہانہ مصباح نومبر،دسمبر 1965ء)

ٹوپی پہننے کی عادت

مورخ احمدیت مکرم مولانا دوست محمد شاہد لکھتےہیں۔
’’سیدنا حضرت محمود بچپن میں ٹوپی پہنا کرتے تھے لیکن ایک دفعہ عید کے روز آپ نے ٹوپی پہن رکھی تھی حضور علیہ السلام نے آپ کو دیکھ کر فرمایا میاں تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ آپ نے اسی وقت ٹوپی اتار دی اور پگڑی پہن لی۔ اور کچھ عرصہ کے بعد ٹوپی کا استعمال ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا۔‘‘

کھیل

’’ہمارے ملک کے بچوں میں ایک دلچسپ کھیل رائج ہے کہ ایک لڑکا بیٹھ جاتا ہے اور باقی سب لڑکے اس کے سرپر اوپر نیچے مٹھیاں بند کر کے رکھتے چلے جاتے ہیں۔ آپؓ بھی بچپن میں یہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔ مگر یہ ابتدائی عمر کی بات ہے۔ ورنہ تعلیمی دور اور اس کے بعد آپؓ کی پسندیدہ کھیل بیڈمنٹن اور فٹ بال تھی۔ جو اپنے زمانہ خلافت سے قبل آپ ایک عرصہ تک کھیلتے رہے۔ ان ورزشی کھیلوں کے علاوہ شکار سے بھی آپؓ کو رغبت تھی۔ آپؓ کشتی رانی اور تیراکی بھی کرتے تھے۔ چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کشتی بھی جہلم سے منگوا رکھی تھی اور آپؓ کو تیرنا سکھانے کے لئے ابو سعید عرب مقرر ہوئے تھے ۔۔۔ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ؓ جو پہلی مرتبہ 1905ء میں قادیان آئے۔ تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے حضور کو ڈھاب میں کشتی چلاتے دیکھا ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ نمبر18)

تربیت قبول کرنے کی اہلیت

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں ۔
’’بعض لوگوں کی بچپن میں تربیت کا اب تک مجھ پر اثر ہے اور جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ ایک دفعہ میں ایک لڑکے کے کندھے پر کہنی ٹیک کر کھڑا تھا۔ کہ ماسٹر قادر بخش صاحبؓ نے جو مولوی عبد الرحیم دردؓ صاحب کے والد صاحب تھے۔ اس سے منع کیا اور کہا کہ یہ بہت بری بات ہے۔ اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی۔ لیکن جب بھی وہ نقشہ میرے سامنے آتا ہے۔ ان کے لئے دل سے دعانکلتی ہے۔ اسی طرح ایک صوبیدار صاحب مرادآباد کے رہنے والے تھے۔ ان کی ایک بات بھی مجھے یاد ہے۔ ہماری والدہ چونکہ دلّی کی ہیں۔ اور دلّی بلکہ لکھنؤ میں بھی ’’تم‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں بزرگوں کو بے شک آپ کہتے ہیں لیکن ہماری والدہ کے کوئی بزرگ چونکہ یہاں تھے نہیں کہ ہم ان سے آپ کہہ کر کسی کو مخاطب کرنابھی سیکھ سکتے۔ اس لیے میں دس گیارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ’’تم’’ ہی کہا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے مدارج بلند کرے۔

صوبیدار محمد ایوب خان صاحب مرادآباد کے رہنے والے تھے، گورداسپور میں مقدمہ تھا اور میں نے بات کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ’’تم‘‘ کہہ دیا ۔وہ صوبیدارصاحب مجھے الگ لے گئے اور کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ہیں اور ہمارے لئے باعث ادب ہیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ’’تم‘‘ کا لفظ برابر والوں کے لئے بولا جاتا ہے بزرگوں کے لئے نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اس کا استعمال میں بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ پہلا سبق تھا جو انہوں نے اس بارہ میں مجھے دیا۔‘‘

(الفضل 11مارچ 1933ء)

صفائی

حضرت سیدہ مریم صدیقہ (ام متین) حرم حضرت مصلح موعود ؓ بیان کرتی ہیں:
’’حضور کی طبیعت نہایت نفیس اور صفائی پسند تھی۔ سادہ صاف ستھرے کپڑے پہنتے تھے۔ صابن ہمیشہ اچھی قسم کا استعمال فرماتے تھے۔اپنی ذات پر کبھی زیادہ خرچ نہ کیا۔ لیکن کہا کرتے تھے کہ عام بنے ہوئے صابن سے مجھے بو آتی ہے۔ بہترین کمپنی کا بنا ہوا اعلیٰ ترین صابن ہمیشہ استعمال میں رہا۔ خوشبو بہت پسند تھی لیکن بہت نفیس قسم کی۔ اسی پسند کی وجہ سے خود بھی خوشبو تیار کرنے میں لگ گئے تھے۔بہت کم بازاری بنا ہوا عطر پسند آتا تھا۔ حس اتنی تیز تھی کہ تیز خوشبو کوئی ملاقاتی لگا کر آجاتا تو سر میں درد ہونے لگ جاتا۔ ناک کے آگے رومال رکھ لیتے تھے کہ تکلیف اس خوشبو سے بڑھ نہ جائے۔ تولئے ہمیشہ اچھی قسم کے خریدتے تھے۔ جسم کی کھال اتنی نازک اور ملائم تھی کہا کرتے تھے کہ معمولی تولئے سے کھال چھل جاتی تھی۔ یہ چاہتے تھے کہ کمرہ صاف رہے پر یہ برداشت نہ تھا کہ میرے رکھے ہوئے کاغذات اور کتب ادھر ادھر رکھ کردی جائیں۔ اس سے بہت گھبراتے تھے کہ کبھی صفائی کرتے ہوئے آپ کی کتب جگہ سے بے جگہ ہو جاتیں یا ضروری کاغذات نہ ملتے تو پریشان ہو جاتے۔‘‘

(ماہنامہ خالد فروری 1969ء)

اللہ تعالیٰ سے محبت

حضرت سیدہ مریم صدیقہ (ام متین) حرم حضرت مصلح موعود ؓبیان کرتی ہیں:
’’آپؓ کو اللہ تعالیٰ سے کتنی محبت تھی اسلام کے لئے کتنی تڑپ تھی۔ اس کی مثال کے طور پر ایک واقعہ لکھتی ہوں۔ عموماً شادیاں ہوتیں، اور دولہا اور دلہن ملتے ہیں تو سوائے عشق اور محبت کی باتوں کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ میری شادی کی پہلی رات بے شک عشق و محبت کی باتیں بھی ہوئیں مگر زیادہ تر عشق الہٰی کی باتیں تھیں۔ آپ کی باتوں کا لب لباب یہ تھا کہ اور مجھ سے ایک طرح عہد لیا جا رہا تھا کہ میں ذکر الہی اور دعاؤں کی عادت ڈالوں۔ دین کی خدمت کروں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی عظیم ذمہ داریوں میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں۔ بار بار آپ نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں نے تم سے شادی اسی غرض سے کی ہے اور میں خود بھی اپنے والدین کے گھر سے یہی جذبہ لے کر آئی تھی۔‘‘

(الفضل 25 مارچ 1966ء)

ایمان باللہ ہونے کے ایمان افروز نمونے

حضرت سیدہ مریم صدیقہ (ام متین) حرم حضرت مصلح موعود ؓبیان کرتی ہیں:
’’انسان جس ہستی سے محبت کرتا ہے اس سے ناز بھی کرتا ہے اور وہ اپنی محبوب ہستی کے ناز بھی اٹھاتا ہے۔ آپ کے ایک مضمون کا اقتباس درج کرتی ہوں جس سے اس مضمون پر روشنی پڑھتی ہے۔ آپؓ تحریر فرماتے ہیں۔

’’کچھ دن ہوئے ایک ایسی بات پیش آئی جس کا کوئی علاج میری سمجھ میں نہ آتا تھا۔ اس وقت میں نے کہا کہ ہر ایک چیز کا علاج خدا تعالیٰ ہی ہے۔ اسی سے اس کا علاج پوچھنا چاہئے۔ اُس وقت میں نے دعا کی اور اس وقت ایسی حالت تھی کہ میں نفل پڑھ کر زمین پر ہی لیٹ گیا۔ اور جیسے بچہ ماں باپ سے ناز کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے کہا اے خدا میں چارپائی پرنہیں زمین پر ہی سوؤں گا اس وقت مجھے خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اوّل نے مجھے کہا ہوا ہے کہ تمہارا معدہ خراب ہے۔ لیکن میں نے کہا آج تو میں زمین پرہی سوؤں گا۔۔۔۔ جب میں زمین پر سو گیا تو خدا کی نصرت اور مدد کی صفت جوش میں آئی، اور متمثل ہو کر عورت کی شکل میں زمین پر اتری ایک عورت تھی اس کو اس نے سوٹی دی اور کہا کہ اسے مار اور کہو کے جاکر چارپائی پر سو میں نے اس عورت سے سوٹی چھین لی۔ اس پر اس نے (خدا تعالیٰ کی اس مجسم صفت نے) سوٹی پکڑ لی اور مجھے مارنے لگی اور میں نے کہا لو مار لو۔ مگر جب اس نے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔ تو زور سے سوٹی کو گھٹنے تک لا کر چھوڑ دیا اور کہا دیکھ محمود میں تجھے مارتی نہیں پھر کہہ رہی ہوں کہ اٹھ کے سو رہو یا نماز پڑھ۔ میں اسی وقت کود کر چارپائی پر چلا گیا ور جا کر سو رہا۔ اس حکم کی تعمیل میں سونا ہی بہت بڑی برکات کا موجب ہے۔‘‘

(الفضل 25 مارچ 1966ء)

دعا کی قوت پر کامل یقین

حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد فرماتے ہیں :
’’آپؓ کے کردار کا ایک نمایاں پہلو دعاپر کامل یقین اور اعتماد تھا۔ جب بھی جماعت پر کوئی ابتلاء آتا تو آپ بیت الدعا میں گھنٹوں دعا میں صرف فرماتے۔ میں نے ہجرت کے موقع پر کئی مرتبہ دیکھا کہ آپ جب بیت الدعا سے باہر تشریف لاتے تو آپ کی آنکھیں سرخ اور متورم ہوتیں۔

ایک اور واقعہ جس کا آج تک میرے دل و دماغ پر گہرا اثر ہے اور مجھے اس طرح لگتا ہے جس طرح کل کا واقعہ ہوکہ میں رات کو اپنے قادیان والے گھر کے باہر والے مردانہ حصہ کے صحن میں سویا ہوا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا کہ میری آنکھ دردناک دل ہلا دینے والی کرب میں ڈوبی ہوئی آواز سے کھل گئی اور مجھے خوف محسوس ہوا۔ جب میں نیند سے پوری طرح بیدار ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ حضرت مصلح موعود تہجد کی نماز جو آپ حضرت اُم ّناصر والے مکان کے اوپر والے صحن میں ادا فرما رہے تھے۔ جس کی دیوار ہمارے گھر سے ملحقہ تھی، کی دردناک دعاؤں کی آواز تھی میں نے غورسے سننے کی کوشش کی تو آپ باربار اِھْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِیْم کو اتنے گداز سے پڑھ رہے تھے کہ یوں معلوم دیتا تھا کہ ہانڈی اُبل رہی ہو مجھے یوں لگا کہ آپ نے اس دعا کو اتنی مرتبہ پڑھا جیسے کبھی ختم نہ ہوگی۔ اس رات کی یاد مجھے جب تک زندہ ہوں کبھی نہ بھولے گی۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 16 تا 22 فروری 1996ء)

دعاؤں میں انہماک

حضرت شیخ محمد اسماعیل سرساوی صاحب کا بیان ہے۔
’’ہم نے اپنی آنکھوں سے آپ کے بچپن کو دیکھا اور پھر اسی بچپن میں آپ کے ایثار اور آپ کی نیکی اور تقوی کو خوب دیکھا۔ہم نے دیکھا کہ آپ کے قلب میں دین کا ایک جوش موجزن تھا اور بچپن ہی سے آپ دعاؤں میں اس قدر محو اور غرق ہوتے تھے کہ ہم تعجب سے دیکھا کرتے تھے کہ یہ جوش ہم میں کیوں نہیں؟ آپؓ بعض وقت دعاؤں میں ایسے محو ہوتے تھے کہ ہم ہاتھ اٹھائے اٹھائے تھک جاتے تھے ۔لیکن آپ کواپنی محویت میں اس قدر بھی معلوم نہ رہتا کہ کس قدر وقت گزر گیا ہے ۔چناچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سورج گرہن کی نماز پڑھنے کے لئے ہم مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے ۔نماز مولوی احسن صاحب امروہی نے پڑھائی اور نماز کے بعد مولوی صاحب نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ ’’میاں آپ دعا شروع کریں‘‘ آپ نے دعا شروع فرمائی مگر آپ اس دعامیں ایسے محو ہوئے کہ آپ کویہ خبر ہی نہ رہی کہ میرے ساتھ اور لوگ بھی دعا میں شریک ہیں۔دعا میں جس قدر لوگ شامل تھے ان کے ہاتھ اٹھے اٹھے اس قدر تھک گئے کہ وہ شل ہونے کے قریب ہو گئے اور کئی کمزور صحت کے لوگ تو پریشان ہو گئے ۔تب مولوی محمد احسن صاحب نے جو خود بھی تھک چکے تھے دعا کے خاتمہ کے الفاظ بلند آواز سے کہنے شروع کئے، جسے سن کر آپ نے دعا ختم کی۔‘‘

(الحکم 28 دسمبر 1939ء)

نماز باجماعت کے قیام کی کوشش

حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں کہ
’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کو خدمت دین کی جووالہانہ لگن تھی اس میں نماز باجماعت کے قیام کی کوشش کو ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ آپ کے خطبات اور فرمودات اور انتظامی اقدامات میں ہمیں بیسوں جھلکیاں اس کوشش کی نظر آتی ہیں اگرچہ شدید جماعتی مصروفیات کے باعث اپنے بچوں کی خصوصی تربیت کا ان کو بہت کم وقت میسر آتا لیکن اگر آپ کی اولاد کی بچپن کی یادوں کو چھیڑا جائے تو بلا امتیاز ایک بات جو سب کے ذہنوں میں نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئے گی وہ حضور کی نماز باجماعت کی لگن ہے۔ یہ ایک ایسی کوتاہی تھی جسے آپ برداشت نہ کر تے اور اگر کبھی کوئی بچہ نماز کے وقت مسجد سے غیر حاضر پایا جاتا۔ تو جو اس پر گزرتی تھی وہ اس کا دل جانتا تھا۔

ایک مرتبہ تو مجھے یاد ہے۔ کہ ہم پانچ چھ بچے کسی کھیل میں مصروف عصر کی نماز باجماعت سے محروم رہ گئے۔ حضور جب نماز پڑھا کر واپس تشریف لائے تو ہمیں کھیلتے دیکھ لیا اور سب کو اکٹھا کر کے اپنے ساتھ حضرت امی جان کے صحن میں لے گئے اور وہاں ایک صف میں بدنی سزا دینے کے لیے کھڑا کر دیا گویا نماز باجماعت سے غیر حاضری کی سزابھی باجماعت تجویز ہوئی۔ حضور کو یہ لگن بچپن سے ہی تھی۔ اور بہت چھوٹی عمر میں ہی آپ کامسجد پہنچ کر خدا کے حضور گریہ و زاری کرنا اوراسلام کی فتح کی دعائیں مانگتے ہوئے آنسوؤں سے سجدہ گاہ کو تر کر دینا معتبر روایات سے ثابت ہے۔‘‘

(ماہانہ خالد نومبر 1975ء)

قرآن کریم سے عشق

حضرت سیدہ مریم صدیقہ (ام متین) حرم حضرت مصلح موعود ؓبیان کرتی ہیں:
’’اسی طرح قران مجید سے آپ کو جو عشق تھا ۔اور جس طرح آپ نے اس کی تفسیریں لکھ کر اس کی اشاعت کی وہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہے ۔خدا تعالیٰ کی آپ کے متعلق پیشگوئی کہ کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ جن دنوں میں تفسیر کبیر، لکھی نہ آرام کا خیال تھا، نہ سونے کا نہ کھانے کا بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہو جائے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھتے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہو گئی اور لکھتے چلے گئے۔ تفسیر صغیر تو لکھی ہی آپؓ نے بیماری کے پہلے حملے کے بعد یعنی 1956ء میں۔

طبیعت کافی کمزور ہو چکی تھی۔ گو یورپ سے واپسی کے بعد صحت ایک حد تک بحال ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی کمزوری باقی تھی۔ ڈاکٹر کہتے تھے آرام کریں، فکر نہ کریں، زیادہ محنت نہ کریں۔ لیکن آپ کو ایک دھن تھی کہ قرآن کے ترجمہ کا کام ختم ہو جائے۔ بعض دن صبح سے شام ہو جاتی اور لکھواتے رہتے۔ کبھی مجھ سے املاء کرواتے۔ مجھے گھر کا کام ہوتا تو مولوی یعقوب صاحب مرحوم کو ترجمہ لکھواتے رہتے۔ آخری سورتیں لکھوا رہے تھے کہ غالباً انتیسواں سپارہ ہی تھایا آخری شروع ہو چکا تھا۔ (ہم لوگ نخلہ میں تھے وہیں تفسیر مکمل ہوئی تھی) کہ مجھے بہت تیز بخار ہو گیا میرا دل چاہتا تھا کہ متواتر کئی دنوں سے مجھے ہی ترجمہ لکھوا رہے ہیں۔ میرے ہاتھوں ہی یہ مقدس کام ختم ہو۔ میں بخار سے مجبور تھی ان سے کہا کہ میں نے دوائی کھا لی ہے۔ آج یا کل بخار اتر جائے گا۔ دو دن آپ بھی آرام کر لیں آخری حصہ مجھ سے ہی لکھوائیں۔ تا میں ثواب حاصل کر سکوں۔ نہیں مانے کہ میری زندگی کا کیا اعتبار۔ تمہارے بخار اُترنے کے انتظار میں گر مجھے موت آ جائے تو؟ سارا دن ترجمہ اور نوٹس لکھواتے رہے۔ اور شام کے قریب تفسیر صغیر کا کام ختم ہو گیا۔

قرآن مجید کی تلات کا کوئی وقت مقرر نہ تھا ۔جب بھی وقت ملا تلاوت کر لی یہ نہیں کہ دن میں صرف ایک بار یا دو بار عموماََ یہ ہوتا کہ صبح اٹھ کر ناشتہ سے فارغ ہو کر ملاقاتوں کی اطلاع ہوئی آپ انتظار میں ٹہل رہے ہیں قرآن مجید ہاتھ میں ہے لوگ ملنے آ گئے ۔قرآن مجید رکھ دیا لوگ مل کر چلے گئے پڑھنا شروع کر دیا تین تین چار چار دنوں میں عموماََ میں نے ختم کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ہاں جب کام زیادہ ہوتا تو زیادہ دن میں بھی لیکن ایسا بھی ہوتا تھا کہ صبح سے قرآن مجید ہاتھ میں ہے ٹہل رہے ہیں اور ایک ورق بھی نہیں الٹا ۔دوسرے دن دیکھا تو پھر وہی صفحہ میں نے کہنا کہ آپ کے ہاتھ میں قرآن مجید ہے لیکن آپ پڑھ نہیں رہے تو فرماتے “ایک آیت پر اٹک گیا ہوں جب تک اس کے مطالب حل نہیں ہوتے آگے کس طرح چلوں۔‘‘

آنحضرت ﷺ سے بے انتہا عشق

حضرت سیدہ مر یم صدیقہ صاحبہ(ام متین)حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتی ہیں۔
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بےانتہا عشق تھا مجھے کبھی یاد نہیں کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا اور آپ کی آواز میں لرزش اور آپ کی آنکھوں میں آنسوں نہ آگئے ہوں آپ کے مندرجہ ذیل اشعار جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کہے گئے ہیں آپ کی محبت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

مجھے اس بات پر ہے فخر محمود
میرا معشوق محبوب خدا ہے
ہو اس کے نام پر قربان سب کچھ
کہ وہ شہنشہ ہر دو جہاں ہے
اسی سے میرا دل پاتا ہے تسکین
وہی آرام میری روح کا ہے
خدا کو اس سے مل کر ہم نے پایا
وہی اک راہ دیں کا رہنما ہے

اسی طرح آپؓ کی مندرجہ ذیل تحریر بھی آپؓ کی آنحضرتﷺ سے محبت پر روشنی ڈالتی ہے۔

’’نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعودؑ کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتے ہیں اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کا کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے ۔وہ کیا جانے کہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ۔وہ میری جان ہے ۔میرا دل ہے میری مراد ہے ۔میرا مطلوب ہے ۔اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری میرے لئے تحت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے ۔اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم ہیچ ہے ۔وہ خدا تعالیٰ کاپیارا ہے۔پھر میں کیوں اس سے پیارنہ کروں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے ۔پھر میں کیوں اس کا قرب تلاش نہ کروں ۔میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ

بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم‘‘

(الفضل 26 مارچ 1966ء)

حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان اور محبت

’’ دوسرا واقعہ یوں ہے ۔بیوقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے ۔کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کرکے ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسوں بھی آ گئے ۔مگر میں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنی زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے ۔ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے ایک رات میں ہم سب صحن میں سو رہے تھے گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا اور زور سے گرجنے لگا ۔اسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی ۔مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے سمجھا کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گر گئی ہے ۔اس کڑک اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے ۔جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی اس وقت ہم بھی جو صحن میں سو رہے تھے اٹھ کر اندر چلے گئے ۔مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اندر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دئے ۔کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے ۔بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ بجلی سے محفوظ رہتے۔‘‘

(سوانح فضل عمر جلد اوّل صفحہ150)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا اظہار خوشنودی

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔
’’جب حضرت مسیح موعود علیہ الالسلام کی وفات کے بعد میں نے ’’صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، تو حضرت خلیفہ اوّلؓ نے مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ مولوی صاحب مسیح موعود کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی۔ مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے۔ پھر یہی کتاب حضرت مولوی صاحب نے بذریعہ رجسٹری مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھیجی ۔وہ کیوں؟محمد حسین صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب کی اولاد اچھی نہیں ہے ۔اس لئے کتاب بھیج کر حضرت مولوی صاحب نے ان کو لکھوایا کہ حضرت مرزا صاحب کی اولاد میں سے ایک نے تو یہ کتاب لکھی ہے جو میں تمہاری طرف بھیجتا ہوں ۔تمہاری اولاد میں سے کسی نے کوئی کتاب لکھی ہو تو مجھے بھیج دو۔‘‘

(انوار العلوم جلد 4 صفحہ 350)

مکرم مولانا ظہور حسین کا بیان ہے ۔
’’ ایک دن جب حضورخلیفۃ المسیح الاوّلؓ درس دے چکے تو مجھے فرمایا کہ تم بیٹھے رہو ۔آپ نے ایک خط لکھا اور سادہ لفافے میں ڈال کر فرمایا میاں محمود احمد صاحب کو دے آؤ ۔میں نے وہ خط لے لیا ۔جب میں مسجد مبارک کے نیچے مسقف حصیّ پر پہنچا تو میرے دل میں خیال آیا کہ پڑھ لوں کیا لکھا ہے ۔جب میں نے پڑھا تو میری حیرانی کی حد نہ رہی۔حضرت خلیفۃ المسیح نے حضرت میاں صاحب کو اس طرح ادب اور محبت سے مخاطب کیا ہوا تھا۔ جس طرح کسی بڑے بزرگ کو مخاطب کیا جاتا ہے ۔مجھے اس وقت خیال آیا کہ اوہو حضرت میاں صاحب کا اتنا بڑا مقام ہے ۔اس خط میں یہ مضمون تھا کہ بازار میں بعض احمدیوں کے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں دعا فرماویں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کر دے۔‘‘

(حیات نور صفحہ 601)

بے حد محنت کی عادت

حضرت مولوی شیر علی ؓبیان کرتے ہیں :
’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ میں ایک بات یہ بھی پائی جاتی ہے کہ بے حد محنت اور مشقت سے کام کرنے والے انسان ہیں اور باوجود کمزوری صحت کے دن رات سخت محنت سے کام کرتے ہیں۔ سفر یورپ میں حضور کے ہمراہ جن احباب کو جانے کا موقع ملا ان کا بیان ہے کہ اس سفر میں ان کو سخت محنت سے کام کرنا پڑتا تھا ۔مگر دن رات ایک کر دینے پر بھی یہ ڈر رہتا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تسلی نہیں ہوئی ۔

حضور رات کو دو دو بجے تک کام کرتے ہیں بہت بڑی ڈاک زیادہ تر رات کو ہی پڑھتے ہیں کیونکہ دن کو دوسرے کاموں کی وجہ سے موقع نہیں ملتا ۔حضور ناظروں کے کام کی نگرانی کے علاوہ ان کے دفاتر کی بھی نگرانی رکھتے ہیں اور یہ نہایت ضروری سمجھتے ہیں کہ کہ وقت کی پوری پابندی کی جائے بعض اوقات حاضری کے رجسٹروں کا بھی حضور نے معائنہ فرمایا ۔ کوئی کام بقایا رہ جائے اور اس کی تکمیل میں دیر ہو جائے تو بعض اوقات حضور ناظر اور اس کے عملہ کو حکم دیتے کہ اس وقت تک دفتر کھلا رکھیں ۔جب تک کام پورا کرکے اس کی رپورٹ نہ بھیجیں ۔خواہ ساری رات دفتر کھلا رکھنا پڑے ۔رپورٹ کے انتظار میں خود بھی جاگتے رہتے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 28دسمبر 1939ء صفحہ 7)

اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہر حالت میں راضی رہتے تھے

حضرت سیدہ بشریٰ بیگم (مہر آپا) حرم حضرت مصلح موعود ؓبیان فرماتی ہیں۔
’’حضرت نواب محمد علی خان صاحب بیمار ہوئے اور ان کی علالت طول پکڑ گئی ۔آپ کو ان کے متعلق سخت فکر اور گھبراہٹ تھی۔ دعاؤں اور ادویہ کا خاص اہتمام فرماتے ۔باربار طبیعت پوچھواتے۔ خود دیکھنے جاتے۔ میں دیکھتی تھی کہ آپ کو غیر معمولی بے چینی اور کرب تھا ۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہو گئی۔ اور حضرت نواب صاحب فوت ہو گئے ۔تو آپ اس طرح سکون و اطمنان سے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو گئے کہ مجھے حیرت ہوئی اس قدر صبر و تحمل کی مثال ملنی مشکل ہے ۔آپ کو اپنی ہمشیرہ (حضرت نواب صاحب کی زوجہ محترمہ) جن کے ساتھ یہ حادثہ گزرا تھا ۔انتہائی طور پر محبت تھی ۔ان کی ذرہ بھر تکلیف حضور کو برداشت نہ تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنا منشاء پورا کر دیا ۔تو آپ نے اپنے محبوب حقیقی کی رضا کے سامنے ہر چیز کو ہیچ سمجھا۔‘‘

(الفضل 26 دسمبر 1969ء)

(شیخ مجاہد احمد شاستری۔ قادیان)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ