• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

روزنامہ الفضل کی اہمیت و برکات افاضات حضرت مصلح موعودؓ

روزنامہ اخبار کی اہمیت
سب سے آسان ذریعہ کتاب ہے یا تازہ اخبار کا مطالعہ۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتےہیں:
’’ہفتہ واری یا دوسرے اخبار گو مفید ہوتے ہیں مگر اس سے معلومات روزانہ اخبار کی طرح نہیں ہو سکتے۔ میرے پاس پانچ روزانہ اخبار، پندرہ سولہ رسالے آتے ہیں مگر میں اپنے گھر میں دیکھتا ہوں کہ روزانہ اخبار کے مطالعہ کی طرف بہت کم توجہ ہے۔ رسالے تو پڑھ لیتی ہیں حالانکہ رسالوں سے زیادہ اخباروں میں معلومات ہوتی ہیں۔ علم کی ترقی خبروں سے ہوتی ہے نہ کہ مضمونوں سے۔ رائے پڑھنا بیوقوفی ہے خبریں زیادہ مفید ہوتی ہیں۔ میں نے اخبار والوں کی رائے کو کبھی نہیں پڑھا کیونکہ میں خود رائے رکھتا ہوں۔ چاہئے کہ ہم اپنی رائے رکھیں۔

خبروں کی طرف خاص توجہ ہو۔ دوسروں کے آراء پر کبھی اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ آراء تو مختلف بھی ہوا کرتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ہی الہام سے کوئی کافر ہو جاتا ہے کوئی مومن۔ یعنی کسی کی رائے ہوتی ہے کہ یہ جھوٹ ہے‘ کوئی کہتا ہے کہ یہ درست ہے۔ اس پر صداقت کھل جاتی ہے۔ غرض دونوں رائیں اپنی اپنی طرز کی ہوں گی۔ رائے پڑھنے والا رائے سے متاثر ہو گا نہ اصل حقیقت سے۔ میں اس کی مثال کے طور پر غیر مبائعین کے اخبار پیغام صلح کی ایک خبر بتاتا ہوں۔ میری خلافت کے شروع ایام میں اس میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے عنوان اس قسم کے تھے کہ ’’حقیقت کھل گئی‘‘۔ ’’راز طشت ازبام ہو گیا‘‘۔ ’’محمود کی سازش ظاہر ہو گئی‘‘۔ لیکن نیچے میری نسبت خبر درج تھی کہ میں رات کو لوگوں کو جگاتا پھرتا تھا کہ اٹھو اور نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو تا اللہ تعالیٰ جماعت کو فتنہ سے بچائے۔ اس پر کئی دوستوں کے میرے پاس خط آئے کہ کیا یہ صحیح بات ہے۔ میں نے لکھا کہ گھبراتے کیوں ہو۔ کیا دعا کرنا گناہ ہے؟ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ چوری کرو، ڈاکے ڈالو، تو اخباروں کی ہیڈنگ سے ڈرنا نہیں چاہئے۔

الفضل کا مطالعہ ضروری ہے

خصوصیات سلسلہ کے لحاظ سے یہاں کے اخباروں میں سے دو اخبار الفضل و مصباح کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس سے نظام سلسلہ کا علم ہو گا۔ بعض لوگ اس وجہ سے ان اخباروں کو نہیں پڑھتے کہ ان کے نزدیک ان میں بڑے مشکل اور اونچے مضامین ہوتے ہیں ان کے سمجھنے کی قابلیت ان کے خیال میں ان میں نہیں ہوتی۔ اور بعض کے نزدیک ان میں ایسے چھوٹے اور معمولی مضامین ہوتے ہیں وہ اسے پڑھنا فضول خیال کرتے ہیں۔ یہ دونوں خیالات غلط ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو کبھی کوئی لائق استاد بھی ملا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ایک بچے سے زیادہ کوئی نہیں ملا۔

اس نے مجھے ایسی نصیحت کی کہ جس کے خیال سے میں اب بھی کانپ جاتا ہوں۔ اس بچے کو بارش اور کیچڑ میں دوڑتے ہوئے دیکھ کر میں نے اسے کہا۔ میاں کہیں پھسل نہ جانا۔ اس نے جواب دیا ۔امام صاحب! میرے پھسلنے کی فکر نہ کریں اگر میں پھسلا تو اس سے صرف میرے کپڑے ہی آلودہ ہوں گے مگر دیکھیں کہ کہیں آپ نہ پھسل جائیں آپ کے پھسلنے سے ساری امت پھسل جائے گی۔ پس تکبر مت کرو اور اپنے علم کی بڑائی میں رسائل اور اخبار کو معمولی نہ سمجھو۔ قوم میں وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک خیال بنانے کے لئے ایک قسم کے رسائل کا پڑھا ضروری ہے۔

(مستورات سے خطاب انوارالعلوم جلد 11 صفحہ 66۔ 67)

اخبار نویسی

پانچواں علم اخبار نویسی کا علم ہے۔ انگریزی میں اس کو جرنل ازم (Journalism) اور عربی میں صحافت کہتے ہیں۔ یہ علم بھی بڑا وسیع علم ہے۔ ہمارے ملک میں تو نہیں مگر یورپ اور امریکہ میں اس کے بڑے بڑے مدرسے ہیں جن میں اخبار نویسی کا فن سکھایا جاتا ہے۔ اس فن کی بہت سی شاخیں ہیں۔ کس طرح اخبار کالیڈر لکھا جائے۔ خبروں کو کس طرح چنا جائے اور کس طرح پر ان کی ترتیب ہو۔ عنوان کیسے قائم کئے جائیں کہ اخبار پڑھنے والے پر اس کا فوری اثر ہو اور وہ اس کے مضمون کو عنوان ہی سے سمجھ لے۔ کس طرح پر ایک مضمون یا واقعہ کو لکھا جائے کہ وہ اپنے مفید مطلب ہو سکے۔ مثلاً زید اور بکر لڑتے ہیں۔ زید کا دوست ایسے طور پر بیان کرتا ہے کہ زید مظلوم تھا اور بکر کے دوست ایسے طور پر کہ بکرمظلوم سمجھاجائےغرض یہ بڑا علم ہے اور اس کی مختلف شاخیں ہوتی ہیں جن میں سے بڑی یہ ہیں کہ کس طرح پر اخبار مفید اور دلچسپ ہو سکے اور پبلک کی رائے کاوہ آئینہ ہو جائے اور وہ اپنا اثر ڈال سکے۔ پھر اخبارات کی حد بندی ہوتی ہے مثلا بعض مذہبی اخبار ہوتے ہیں بعض تجارتی بعض کسی خاص جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی اغراض میں بھی ان کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔

(تقاریر ثلاثہ انوار العلوم جلد 7 ص137)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ