• 18 مئی, 2024

جہانِ تیرہ میں لے کےمشعل ابھر رہے ہیں ہم عاجزی سے

جہانِ تیرہ میں لے کےمشعل ابھر رہے ہیں ہم عاجزی سے
تم اپنی پھونکوں سے نورِ حق یوں بجھا سکو گے نہ دشمنی سے

ہمارے رستے ہیں نورِ منزل، تمہاری فطرت عناد ہر پل
ہمیں محبت ہے راستی سے، تمہیں عداوت ہے اک نبی سے

لہو سے اپنے نکھار دیں گے، ہر ایک گل کو بہار دیں گے
کہ ہم محافظ ہیں اس چمن کے، ہمیں محبت ہے ہر کلی سے

خدا کی رہ میں یہ جان دینا، یہ مال و عزت، یہ آن دینا
ہماری فطرت میں ڈھل چکا ہے، یہ ہم نے سیکھا ہے کمسنی سے

اُسی کی خاطر بقا ہماری، اُسی کے دَر پر فنا ہماری
حیات کے بھی، ممات کے بھی، یہ سلسلے ہیں فقط اُسی سے

جفائیں دل سے نکال دینا، وفائیں دل میں سنبھال لینا
ہنر نہیں ہے، یہ اک کرامت ہے، جو کہ ملتی ہے اُس ولی سے

یہ کون ہیں جن کے لب پہ کلیاں چٹک رہی ہیں صلیب پر بھی
عدو پکارے کہ لگ رہے ہیں یہ لوگ چہروں سے احمدی سے

سبھی رسولوں کو جانچ لو تم، سبھی کتابیں پرکھ کے دیکھو
مسیح ومہدی کی وہ ہی باتیں، وہی نقوشِ محمدی سے

کبھی کرشنا، کبھی ہیں عیسیٰ، وہی مسیحا نوشتوں والے
کبھی مسیحِ محمدی ہیں، کبھی وہ لگتے ہیں موسوی سے

محبتوں کا عَلم اٹھاؤ، ہر ایک نفرت کو یوں مٹاؤ
کہ نور کر دو جہانِ تیرہ کے شب گزیدوں کو دوستی سے

(ضیاء اللہ مبشر)

پچھلا پڑھیں

جسے حاصل ہے اماں جانؓ کا شرفِ نگہبانی

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی