• 29 فروری, 2024

اپنے اندر صحابہؓ کا رنگ پیدا کرو

• اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔ اس میں یہی تو سرّ ہے۔ اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔

(الحکم جلد5 نمبر5 موٴرخہ 10؍فروری 1901ء صفحہ1)

• غرض صحابہؓ کی سی حالت اور وحدت کی ضرورت اب بھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ہاتھ سے تیار ہورہی ہے اُسی جماعت کے ساتھ شامل کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیارکی تھی اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعودؑ کی جماعت کہلا کر صحابہ کی جماعت سے ملنے کی آرزو رکھتے ہو اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرو۔ اطاعت ہو تو ویسی ہو۔ باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔ غرض ہر رنگ میں، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہ کی تھی۔

(الحکم جلد5 نمبر5 موٴرخہ 10؍فروری 1901ء صفحہ2)

• میں باربار کہہ چکا ہوں کہ جس قدر کوئی شخص قرب حاصل کرتا ہے، اسی قدر مواخذہ کے قابل ہے۔ اہل بیت زیادہ مواخذہ کے لائق تھے۔ وہ لوگ جو دورہیں، وہ قابل مواخذہ نہیں، لیکن تم ضرور ہو۔اگر تم میں ان پر کوئی ا یمانی زیادتی نہیں، تو تم میں اوران میں کیا فرق ہوا۔ تم ہزاروں کے زیر نظر ہو۔و ہ لوگ گورنمنٹ کے جاسوسوں کی طرح تمہاری حرکات وسکنات کو دیکھ رہے ہیں۔وہ سچے ہیں۔۔۔جب کوئی شخص مجھ سے تعلق نہیں رکھتا،تو یہ امر دوسرا ہے،لیکن جب میرے پاس آئے، میرادعوی قبول کیا اور مجھے مسیح مانا، تو گویا من وجہٍ آپ نے صحابہ کرام کے ہمدوش ہونے کا دعوی کر دیا۔تو کیا صحابہ نے کبھی صدق ووفا پر قدم مارنے سے دریغ کیا۔ان میں کوئی کسل تھا۔ کیا وہ دل آزار تھے؟ کیا ان کو اپنے جذبات پر قابو نہ تھا؟کیاوہ منکسر المزاج نہ تھے، بلکہ ان میں پر لے درجہ کا انکسار تھا۔سو دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی ویسی ہی توفیق عطا کرے، کیونکہ تذلل اور انکساری کی زندگی کوئی شخص اختیار نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد نہ کرے اپنے آپ کو ٹٹولو اور اگر بچہ کی طرح اپنے آپ کو کمزور پاؤ،تو گھبراؤ نہیں۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ: 6) کی دعا صحابہ کی طرح جاری رکھو۔راتوں کو اٹھواور دعا کرو کہ اللہ تعالی تم کو اپنی راہ دکھلائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجاًتربیت پائی۔وہ پہلے کیا تھے۔ایک کسان کی تخم ریزی کی طرح تھے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آبپاشی کی۔آپ نے ان کے لیے دعائیں کیں۔بیج صحیح تھا اور زمین عمدہ تو اس آبپاشی سے پھل عمدہ نکلا جس طرح حضور علیہ السلام چلتے اسی طرح وہ چلتے۔ وہ دن کا یارات کا انتظار نہ کرتے تھے۔ تم لوگ سچے دل سے توبہ کرو، تہجد میں اٹھو، دعا کرو، دل کو درست کرو۔ کمزوریوں کوچھوڑ دو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل کو بناؤ۔ یقین رکھو کہ جو اس نصیحت کو وردبنائے گا اور عملی طور سے دعا کرے گا اور عملی طور پر التجا خدا کے سامنے لائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرے گا اور اس کے دل میں تبدیلی ہو گی۔خدا تعالیٰ سے ناامیدمت ہو۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ28 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام پیغام

اگلا پڑھیں

فی امان اللہ