• 2 دسمبر, 2020

شادی بیاہ پر بجالانے والی رسومات بارے اسلامی تعلیم

وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

(الاعراف: 158)

یعنی اور اُن سے اُن کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے جو اُن پر پڑے ہوئے تھے۔ پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے عزت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس کے ساتھ اُتارا گیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا
إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالۃ

(مسلم کتاب الجمع)

کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔بہترین طریق محمدؐ کا طریق ہے۔بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے۔ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔

ترمذی کی روایت میں الفاظ کی قدرے تبدیلی کے ساتھ آنحضور ﷺنے اُمت میں آخری زمانہ کے اختلاف کا ذکر کر کے یہ نصیحت بھی فرمائی فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ کہ تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا۔اسے پکڑ لینا۔دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔

آج رمضان کے مبارک مہینہ کے ان آخری مبارک دنوں میں ان کی یاددہانی اس لئے بھی ضروری ہے کہ رمضان المبارک ہمارے لئے پیغام بھی یہی لایا ہے کہ اگر ہم خدا کی خاطر اپنے جائز اور حلال کام بھی ترک کرر ہے ہیں تو ناجائز اور حرام کاموں کو تو بھلا دینا چاہئے اور کبھی بھی ان کا تصور ہمارے قریب نہ گزرے۔اگر رمضان کا یہ پیغام ہم سمجھ لیں اور اس پر عمل کرنے کا عہد کر لیں تو آئندہ آنے والا ہر دن ہمیں دین و دُنیا کی عظیم ترقیات کی طرف لے جانے والاہوگا اور ہم خداکے قرب میں بلند تر مقام پانے والے ہوں گے۔

جماعت احمدیہ کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی گئی تھی کہ اس جماعت میں داخل ہونے والا ہر انسان اتباع رسم و متابعت ہوا ہوس سے باز آجائے گا۔

اب چند رسومات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

مہندی کی رسم

یہ رسم معاشرہ میں شادی کی تقریب سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے گویا شادی سے الگ ایک فنکشن ہے۔جس کے لئے الگ دعوتی کارڈ ‘‘رسم حنا’’ کے نام پر تقسیم کیا جاتا ہے۔تقسیم کرنے والے خود اس کا نام ’’رسم ‘‘رکھ کر گویا اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ ایک ’’رسم‘‘ہے جس کا اسلام کی تعلیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

(بعض جگہوں پر ڈھولکی ،ناچ گانے اور بھنگڑے ڈالنے کی شکایت)حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فرمایا ‘‘شادی کے موقع پر مہندی اور اس کے ساتھ متعلقہ جملہ رسوم جو رائج ہیں ہمارے نزدیک غیر اسلامی ہیں ۔ہماری جماعت کو اس سے بچنا چاہئے۔ ’’

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے فرمایا فی ذاتہٖ مہندی میں قباحت نہیں کہ بچی کی سہیلیاں اکٹھی ہوں اور خوشیاں منائیں لیکن اس کو رسم بنانا۔دولہا کی طرف سے بارات بنا کر بطور وفد کے حاضر ہونا قباحتیں پیدا کرتا ہے جو سوسائٹی پر بوجھ ہے جس سے آگے لغویات کا آغاز ہوتا ہے۔ (خلاصہ)

ڈھولک بجانا

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا۔
‘‘پڑوسی کے حقوق مجروح نہ ہوں۔’’

ویڈیوبنانا

آج کل ویڈیو کا زمانہ ہے اور اس ویڈیو کے ذریعہ بہت سی قباحتیں پھیلتی ہیں۔اور آغاز ہی اس قباحت سے ہوتا ہے کہ ایک غیر محرم فرد کو ویڈیو بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔پھر وہ ڈبنگ اور مکسنگ کے لئے اپنے سنٹر لے کر جاتا ہے تو وہاں اس کے دوست وغیرہ دیکھتے ہیں اور پھر کیسٹ جب تیار ہو کر گھروں میں آ جاتی ہے وہاں کئی ایسے عزیز و اقارب غیر محرم نوجوان جن سے پردہ کرنے کا حکم ہے وہ ویڈیو دیکھتے ہیں اور یوں حیاء دار بچیوں کی بے پردگی ہوتی ہے۔

حضرت خلیفۃا لمسیح الرابع ؒنے اس سلسلہ میں ایک دفعہ ہدایت دیتے ہوئے فرمایا۔
‘‘جو قباحتیں راہ پکڑ رہی ہیں۔اُن میں بے پردگی کا عام رحجان ہے جو یقینااحکام شریعت کی حدود کو پھلانگنے کے قریب ہو چکا ہے اور شادی والوں کی اس معاملہ میں بے حسی کو بھی ظاہر کرتا ہے’’

بے پردگی کے حوالہ سے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان بچیاں (جو بالعموم پردہ کرتی ہیں)دولہا کے استقبال کے لئے اس پر پتیاں نچھاور کرنے کے لئے باہر سڑک پر آجاتی ہیں۔یا فنکشن پر آنے جانے کے لئے اپنی گاڑی یا Conveyanceتک خواتین آجاتی ہیں تو پردہ کا بالعموم خیال نہیں رکھا جاتا۔اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تقریب رُخصتی

تقریب رخصتی میں تلاوت ،نظم اور دُعا ایک بہت اچھی اور پیاری عادت ہے۔مگر جس بچی کو دُعا کے ساتھ رخصت کرنے کے لئے یہ محفل سَجائی جاتی ہے وہ بچی بالعموم بیوٹی پارلر سے واپس نہیں آئی ہوتی کہ دُعا ہو جاتی ہے۔بچی کو دُعاؤں کے ساتھ رخصت کرنے کے لئے بچی کی اس فنکشن میں موجودگی ضروری ہے اور جب بچی تیار ہو کر آئے تو اس کے پردے کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہئے۔

وقت کا ضیاع

پھر شادی بیاہ کے موقع پروقت کا ضیاع بے دریغ کیا جاتا ہے۔آج کے دَور میں جماعت کا وقت بہت قیمتی وقت ہے بہت سے دوست احباب اپنے قیمتی وقت سے کچھ حصہ نکال کر حاضر ہوتے ہیں اور اگر آدھ گھنٹہ کی ہی تاخیر ہو تو عملاً وہ آدھ گھنٹہ کا ضیاع نہیں بلکہ اگر اس تقریب میں 50افراد شامل ہیں تو احباب جماعت کے یہ 25گھنٹے کا ضیاع ہے اور وہ اس کو مختلف جماعتی خدمات میں صرف کر سکتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو الہاماًفرمایا گیا تھا۔اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗکہ تو وہ بزرگ مسیح ہے کہ جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
‘‘اب رمضان کے معاً بعد شادی بیاہ کا سیزن شروع ہوگا۔ان میں بعض تو شادیاں کر رہے ہیں۔بعض بطور مہمان مدعوہوں گے۔ہم سب کو ان مواقع پر اسلام کی تعلیم کو مدنظر رکھنا ہوگا۔اور رسومات سے دور رہ کر آنحضورﷺکی اتباع کرکے خداتعالیٰ کا محبوب بندہ بنا جا سکتا ہے۔’’

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺکی اتباع کے ذریعہ اپنے انعامات کا ذکر اپنی معرکۃا ٓراء کتاب حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں۔
‘‘اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک قربانی مانگتا ہے۔وہ قربانی کیا ہے یہی کہ ہم اپنی خواہشات اور جذبات کی گردن پر چھری پھیرتے ہوئے اپنی زندگیاں ،رسومات اور تکلفات سے پاک ہو کر محض اپنے خالق کی خاطر گزارنے لگ جائیں۔گمراہ کن تہذیب کو الوداع کہہ کر اپنے خالق کی خاطر گزارنے لگ جائیں۔گمراہ کن تہذیب کو الوداع کہہ کر اپنے آپ کو اس تہذیب کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کر لیں۔جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی قائم کردہ تہذیب ہے۔اپنے جذبات دیرینہ خاندانی عادات اور برادری کی روایات کی قربانی کر کے ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں’’

ایک نیاآسمان اور نئی زمین کے قیام کے لئے ہمارے بزرگوں اور آباء واجداد نے اپنے جذبات، خواہشات اور برادری کی روایات کی قربانی بھی کی۔انہی قربانیوں سے متاثر ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔

مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مے ان کو ساقی نے پلا دی
فَسُبْحانَ اَلَّذِیْ اْخْزَیْ اَلاَعادی

لیکن آج کے مادی دور میں آپس کے میل جول، دنیا کے ایک ویلج بن جانے،میڈیا کی آزادی، ٹی وی کے ان گنت چینلز،انٹرنیٹ اوررسائل و جرائد کی کثرت کی وجہ سے دیکھا دیکھی بعض حرکات و سکنات ،محدثات ہماری زندگیوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ان سے پرہیز چاہئے۔

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

خطبہ جمعہ 24۔اپریل2020ء اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے