• 29 مئی, 2020

الفضل آن لائن کے لیے ایک غزل

وہم میں تم ہو تم گمان میں ہو
تم ہی تم بس مرے دھیان میں ہو

میں ہی میں تھا مرا مگر اب تم
میرے اور میرے درمیان میں ہو

میرا دل دل ہو جس کی ہر دھڑکن
تیری ہر نبض کی کمان میں ہو

تم ہو اوجِ کمالِ صنعت پر
حرف و حس کی ہر اک اٹھان میں ہو

لمحہ بھر کے لیے زمیں پر تم
اور پل بھر میں آسمان میں ہو

چشمِ حیراں سے تک رہا ہوں میں
تم تو ہر گھر میں ہر مکان میں ہو

مجھ کو بھی بال و پر عطا کیجے
میرا بھی ذکر داستان میں ہو

میرا ہو یا کسی بھی شاعر کا
ہر قصیدہ تمہاری شان میں ہو

(احمدمنیب)

پچھلا پڑھیں

واقفین زندگی کے ساتھ الہٰی تائیدات و نصرت

اگلا پڑھیں

آج کی دعا