• 30 ستمبر, 2020

حقیقی معرفت ہی گناہوں سے بچاتی ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں۔
’’یقیناً یاد رکھو کہ گناہوں سے بچنے کی توفیق اس وقت مل سکتی ہے جب انسان پورے طور پر اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاوے۔ یہی بڑا مقصد انسانی زندگی کا ہے کہ گناہ کے پنجہ سے نجات پالے۔ دیکھو ایک سانپ جو خوشنما معلوم ہوتاہے بچہ تو اس کو ہاتھ میں پکڑنے کی خواہش کر سکتاہے اور ہاتھ بھی ڈال سکتاہے لیکن ایک عقلمند جو جانتاہے کہ سانپ کاٹ کھائے گا اور ہلاک کردے گا وہ کبھی جرأت نہیں کرے گا کہ اس کی طرف لپکے۔بلکہ اگر معلوم ہو جاوے کہ کسی مکان میں سانپ ہے تو اس میں بھی داخل نہیں ہوگا۔ ایسا ہی زہر کو جو ہلاک کرنے والی چیز سمجھتا ہے تو اُسے کھانے پر وہ دلیر نہیں ہوگا۔ پس اسی طرح پر جب تک گناہ کو خطرناک زہر یقین نہ کرلے اس سے بچ نہیں سکتا۔ یہ یقین معرفت کے بدوں پیدا نہیں ہوسکتا۔ پھر وہ کیا بات ہے کہ انسان گناہوں پر اس قدر دلیر ہو جاتا ہے باوجودیکہ وہ خداتعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور گناہ کو گناہ بھی سمجھتا ہے۔ اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ معرفت اور بصیرت نہیں رکھتا جو گناہ سوز فطرت پیدا کرتی ہے۔ اگر یہ بات پیدا نہیں ہوتی تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ معاذ اﷲ اسلام اپنے اصلی مقصد سے خالی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا نہیں۔یہ مقصد اسلام ہی کامل طور پر پوراکرتا ہے اور اس کا ایک ہی ذریعہ ہے۔ مکالمات اور مخاطباتِ الٰہیہ۔ کیونکہ اسی سے اﷲ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا ہوتاہے اور اسی سے معلوم ہوتاکہ فی الحقیقت اﷲ تعالیٰ گناہ سے بیزار ہے اور وہ سزا دیتا ہے۔گناہ ایک زہر ہے جو اول صغیرہ سے شروع ہوتاہے اور پھر کبیرہ ہو جاتا ہے اور انجامکار کفر تک پہنچا دیتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ254)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 جون 2020

اگلا پڑھیں

عالمی اپڈیٹ Covid-19