• 4 مارچ, 2024

جامع المناھج والاسالیب (قسط 6)

جامع المناھج والاسالیب
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر کبیر کا ایک اختصاصی مطالعہ
قسط 6

فلسفیانہ منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر

اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیئے کہ فلسفیانہ منہج پر کوئی مستقل تفسیر تو میری ناقص نظر سے نہیں گزری۔ بہر حال فارابی (872ء تا 950ء) کی کتاب فصوص الحکم میں قرآن کریم کی خالص فلسفیانہ طرز پر تفسیر کی گئی ہے۔ ایسے ہی اخوان الصفا (اخوان الصفا و خلان الوفا تیسری صدی کے مسلمان فلاسفروں کی ایک تنظیم تھی، جو بصرہ میں قائم ہوئی۔ اس کا بنیادی کام اسلامی عقائد اور فلسفیانہ حقیقتوں کو ہم آہنگ کرنا تھا۔ اس تنظیم نے مشترکہ طور پر اس علمی کام پر قریباً پچاس مقالہ جات لکھے جو کہ ’’تحف اخوان الصفا‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ حکیم مجریطی قرطبی نے اسی طرز پر ایک کتاب لکھی اور اس کا نام رسائل اخوان الصفا رکھا۔) کے رسائل میں قرآنی تعبیرات فلسفہ کی مدد سے کی گئیں۔ ایسا ہی ابن سینا نے قرآنی آیات کی تفسیر اسی منہج پر اپنے رسائل میں کی ہے۔ ان کے علاوہ مندرجہ ذیل تفاسیر کو شیعہ از قبیل فلسفیانہ تفاسیر گنتے ہیں۔

  • تفسیر القرآن الکریم لصدرالمتالهین شیرازی (شیعہ) (979ء تا 1050ء)
  • مخزن العرفان از نصرت امین اصفهانی (شیعہ) (المتوفیٰ 1403ء)
  • تفسیر کبیر از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ میں فلسفہ اور دینی روحانی تعلیم کے مابین فرق کے حوالہ سے ارشاد۔

’’روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایسے کلام کی ضرورت ہے جو صرف ایک وقت کے لوگوں یا چند لوگوں کے فائدہ کے لئے نہ ہو۔ بلکہ مختلف فطرتوں اور مختلف زمانوں کی ضرورت کو پورا کرنے والا ہو اور جس کے ذریعہ سے دنیا روحانی مسافت طے کرسکے۔ یعنی ایک نبی کے زمانہ سے اس کے بعد کے نبی کے زمانہ تک پہنچانے کی اس میں قابلیت ہو۔ یعنی اس میں ایسا ارتقاء ہو کہ فطرت انسانی اس پر چل کر اگلے روحانی ملک میں یعنی بعد میں آنے والے نبی کی تعلیم تک پہنچنے کی قابلیت پیداکرلے۔ انسان کو کیا معلوم ہے کہ سو یا دوسو سال بعد انسانی دماغ نے کیا ترقی کرنی ہے کہ وہ اس کے مطابق ذہنوں کو روشنی پہنچانے کے سامان کرلے۔ یہ سفر تو الٰہی بنائے ہوئے راستہ پر ہی طے ہوسکتاہے۔ جو انسانی دماغ کو برابر ترقی دیئے چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف فلسفے ایک شاہراہ پر گامزن نہیں ہوتے۔ بلکہ کبھی آگے قدم بڑھاتے ہیں اور کبھی پھر واپس صدیو ں کے فلسفہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تعلیمات نبیوں کی معرفت انسانوں کو ایک ہی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھاتی چلی گئی ہیں اوران میں کسی جگہ بھی رجعت قہقری پیدانہیں ہوئی۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدچہارم صفحہ147-148 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

سائنسی یا کونّی منہج / رجحان

اس اسلوب پریعنی سائنسی یا علوم جدیدہ کے رجحان کے ساتھ لکھی جانے والی تفاسیرعلماء کے نزدیک مبحث رہی ہیں۔ بعض نے ان کی پذیرائی کی اور بعض نے ان پر تنقید کی۔ بعض نے ایسی تفاسیر میں قرآن کریم کو صرف سائنس کی ایک کتاب کے طور پر پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے ان پر تنقید کی گئی ہے۔ اس منہج کا ذکر امام السیوطی (المتوفی ٰ911 ھ) نے الاتقان فی علوم القرآن میں پینسٹھویں نوع میں بھی کیا۔

(الاتقان فی علوم القرآن لسیوطی جلد 3 صفحہ 164 مطبوعہ مکتبۃ السنۃ 2019ء)

اسی طرح ڈاکٹر محمد حسین الذھبی نے بھی اپنی کتاب التفسیر والمفسرون میں کونّی رجحان کو جدید رجحانات تفسیر میں قرار دیا۔

(التفسیر والمفسرون جلد ثانی صفحہ 417 مطبوعہ دار الحدیث القاہرہ سن 2012ء)

کونّی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر

  • کشف الاسرار النورانیۃ القرآنیۃ لمحمد بن احمد الاسکندرانی (المتوفیٰ 1888ء)
  • تفسیر المنار لشیخ محمد بن عبدہ بن حسن (1849ء تا1905ء)
  • الجواھر فی تفسیر القرآن الکریم للشیخ طنطاوی جوہری (1880ء تا1939ء)
  • تفسیر المراغی لمحمد مصطفیٰ المراغی (1881ء تا 1945ء)

برصغیر میں سائنسی یاکونّی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر کے بارہ میں ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن اور ڈاکٹر حافظ محمد حماد اپنے تحقیقی مقالہ میں لکھتے ہیں۔

’’جدیدی سائنسی تحقیقات کی روشنی میں قرآن مجیدکی تشریحات و تفسیرات اور اس کے حوالے سے اعجاز القرآن کا اثبات بھی ایک اور نمایاں رجحان ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی مستقل تفسیر نظر سے نہیں گزری لیکن اس مناسبت سے کتابیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔‘‘

(برصغیر میں قرآن فہمی کے رجحانات اور اثرات ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن ڈاکٹر حافظ محمد حماد القلم جون 2018ء صفحہ 71)

الجواھر فی تفسیرالقرآن کے بارہ میں معروف محمد رشید رضا (المتوفیٰ:1315ھ) ایک دلچسپ بات لکھتے ہیں۔
’’میں نے اس تفسیر (الجواھر فی تفسیر القرآن) کو دیکھا ہے اور اس کے بارہ میں وہی بات کہی جا سکتی ہے جو کہ علماء نے رازی کی تفسیر کے بارہ میں کہی۔ کہ اس میں سب کچھ ہے مگر تفسیر نہیں۔‘‘

(مجموع فتاوی القرآن الکریم من القرن الاوّل الی القرن الرابع عشر از محمد موسیٰ الشریف
جلد اوّل صفحہ 413 مطبوعہ دار ابن کثیربیروت 2014ء)

تفسیر کبیر میں کونّی منہج کی چند مثالیں
سائنس کی تمام تر بنیاد توحید پر ہے

’’اگر توحید کا عقیدہ نہ اختیار کیا جائے تو قانون قدرت اور قانون شریعت دونوں کی بنیاد ہل جاتی ہے۔ قانون شریعت کا تعلق تو واضح ہی ہے۔ مگرقانون قدرت کی تمام ترقیات اور سائنس کی تما م تربنیاد بھی توحید پر ہی ہے۔ کیونکہ اگر مختلف خدامانے جائیں توان کے مختلف قانون ہونے چاہئیں۔ یاپھر کم از کم اس میں مختلف تبدیلیاں ہوتی رہنی چاہئیں اور اگر ایسا ہو یعنی ایک اٹل قانون اور ایک قائم سلسلہ قانون قدرت کادنیا میں جاری نہ ہو تو تمام علمی ترقیات یکدم بند ہوجائیں گی۔ کیونکہ سائنس کی ترقی اور ایجادات کی وسعت کی بنیاد اسی پرہے کہ دنیا میں ایک منظم اورنہ بدلنے والاقانون جاری رہے۔ اگر انسان کو یہ خیال ہو کہ عالم میں کوئی نظام نہیں۔ یایہ کہ نظام بدلتا رہتاہے تووہ کبھی بھی قانون قدرت کی باریکیوں کے دریافت کرنے کی طرف توجہ نہیں کرسکتا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ320-321 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

آخری زمانہ میں سائنسی ترقیات کا قرآن میں ذکر

’’قرآن کریم میں بھی سورہ رحمٰن میں ان شمالی لوگوں کویعنی یورپ کے باشندوں کو جنّ کہا ہے۔ اس سورۃ میں آخری زمانہ کے تغیرات کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس وقت دو مشرق اور دو مغرب ہوجائیں گے یعنی امریکہ کی دریافت سے دو علاقے مشرق اورمغرب کہلانے لگیں گے۔ اسی طرح نہر سوئز کے ذریعہ دوسمندروں کے ملنے اور بڑے بڑے جہازوں کے چلنے کی خبردی گئی ہے اسی طرح بتایا ہے کہ اس وقت سائنس کی ترقی کے ساتھ لو گ آسمانی بادشاہت کو فتح کرنے کے خیال میں مشغول ہوں گے اور سمجھیں گے کہ وہ جلد کائنات کاراز دریافت کرنے والے ہیں۔ اس وقت آسمان سے آگ گرے گی اور بم گریں گے اور سرخ روشنیاں آسمان پر چھوڑی جائیں گی اورآخر کفر اورشرک کو تباہ کرکے اسلام کو غلبہ دیا جائے گا۔ اس مضمون کے سلسلہ میں جنّ و انس کو بھی مخاطب کیاگیا ہے اور جنّ سے مراد وہی شمالی علاقوں کے لوگ یعنی یورپین مراد ہیں اور بتایا ہے کہ اس زمانہ میں یورپ اورایشیا کے لوگ باہم مل جائیں گے اور سائنس کی بڑی ترقی ہوگی۔ مگر بے دینی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب نازل کرے گا اورپھر اسلام کو قائم کرے گا۔ ثقلان اور جنّ اور الناس سے مراد ڈیموکریسی اور ڈکٹیٹروں کی حکومت بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جنّ کے معنے عربی لغت میں اکثریت کے بھی ہیں اورالناس کے معنے خاص آدمیوں کے بھی ہوسکتے ہیں۔ پس جنّ سے مراد ڈیمو کریسی ہے اورالناس سے مراد وہ لوگ ہیں جواپنے آپ کو خاص قرار دے کر حکومت کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ ثقل کے معنی اعلیٰ اورمحفوظ شے کے ہوتے ہیں۔ جیسے رسول کریمؐ نے قرآن کریم اور اپنی اولاد کو ثقلان قرار دیا ہے۔ پس الثقلان سے مراد یہ دونوں گروہ ہیں جو اس وقت ساری دنیا پر غالب ہوں گے بعض ڈیماکریسی کے نام پر دنیاکومغلوب کریں گے اور بعض فاشزم اور ناٹزم کے نام پر دنیا کو سمیٹنا چاہیں گے اور اپنے آپ کو سب دنیا سے بہتر قرار دیں گے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدچہارم صفحہ 64 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

اجرام فلکی کی تاثیرات اور قرآنی بیان

’’ایک اورقسم کی نعمتوں کا ذکر کیا جو جمادات سے تعلق رکھتی ہیں اوران میں سے بھی انہی کا انتخاب کیاہے جو انسانی دماغ کے نشوونما پر خاص طورپر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بے شک انسان لوہے، لکڑی، سونے، چاندی، پیتل سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے لیکن ان اشیاء سے وہ بڑافائدہ بیرونی آرام کی قسم کا حاصل کرتا ہے، برتن بناتا ہے، مکان بناتا ہے، آلات بناتا ہے، براہ راست ان اشیاء کا اثر انسانی دماغ پر نہیں پڑتا۔ لیکن چونکہ اس جگہ انسانی دماغ کے نشوونما کے ذکر پر زوردینا مقصود ہے۔ اس لئے جمادات کی مذکورہ بالا اقسام کی بجائے رات اوردن سورج،چاند اورستاروں کا ذکر کیاگیا۔

کہا جاسکتا ہے کہ رات اوردن تو جمادات میں سے نہیں اوریہ درست بھی ہے۔ لیکن اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتاکہ رات اورد ن کے فوائد سورج اورچاند اورستاروں کے اثرات سے وابستہ ہیں اور وہ اجرام فلکی ان کے ذریعہ سے اپنی تاثیرات ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی اپنی شعاعوں کو نازل کرکے یاان کو روک کر۔ اس لئے رات اوردن بھی درحقیقت جمادی اثرات میں ہی شامل ہونے کے مستحق ہیں۔

اگر کہا جائے کہ رات اور دن جب سورج اور چاند اور ستاروں کے ظہور اور فوائدپر دلالت کرتے ہیں۔ تو پھر سورج چاند وغیرہ کا الگ نام لینے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ گورات اور دن ان اجرام فلکی کی تاثیرات کے ظہور کا نام ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ بھی سورج اور چاند اورستاروں کے اثرات ہیں اور ان سے ایسی تاثیرات بھی دنیا پر پڑتی ہیں جو آنکھوں سے نظر آنے والی شعاعوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے انسان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جیسے برقی یامقناطیسی اثرات اوران کے سوااورکئی قسم کی تاثیرات ہیں جو سائنس روز بروز دریافت کررہی ہے اورکئی وہ شائد کبھی بھی دریافت نہ کرسکے۔ پس باوجود اس کے کہ رات اور دن اجرام فلکی کے تاثیرات کے ظہور کاذریعہ ہیں۔ ان کے علاوہ بھی سورج اورچاند ستاروں کا نام لینے کی ضرورت تھی۔ تاان دوسری تاثیرات کا ذکر کیا جائے جن سے انسانی دماغ فائدہ اٹھارہا ہے۔

اس جگہ یہ سوال ہو سکتاہے کہ اگر یہ بات ہے۔ توپھر رات اوردن کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ سورج چاند اور ستاروں کاذکر کافی تھا۔ اس کاجواب یہ ہے کہ سورج چاند اورستاروں کی دوسری تاثیرات سے تو عرب لو گ ابھی واقف نہ تھے۔ صرف رات اوردن کی تاثیرات سے ان کو آگاہی تھی اور اب بھی علمی طبقہ کے علاوہ باقی لوگ رات اور دن کی تاثیرات اور ان کے فوائد سے توآگاہ ہیں۔ لیکن سورج چاند اور ستاروں کی دوسر ی تاثیرات سے واقف نہیں ہیں۔ پس فائدہ کو وسیع کرنے کے لئے اورقرآن کریم کے پہلے مخاطبوں کے ذہنوں سے مضمون کو قریب الفہم بنانے کے لئے ضروری تھا کہ دن اوررات کو الگ بھی بیان کر دیا جاتا۔ تاکہ ان کادماغ بسہولت آیت کے مضمون کی طرف منتقل ہوسکتا۔

یاد رہے کہ سائنس کی موجودہ تحقیق نے سپکٹرم کے ذریعہ سے جو ایک ایسا آلہ بنایا ہے جس کے ذریعہ سے روشنی کی شعاعوں کو پھاڑ کر الگ الگ کرلیا جاتا ہے۔ یہ معلومات حاصل کی ہیں کہ فلاں ستارے میں فلاں قسم کی دھاتیں ہیں اورفلاں میں فلاں قسم کی۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ صرف روشنی ہی نہیں بلکہ روشنی کے ساتھ مختلف دھاتوں کی تاثیرات بھی دنیا پر اُترتی رہتی ہیں اور ان سے اہل دنیا کے دماغ اور قویٰ پر مختلف اثرات نازل ہوتے رہتے ہیں۔ چاند کی شعاعوں کی تاثیرات توکئی رنگ میں دنیا پر ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ عام طور پر ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ چاند گرہن جب مکمل ہو۔ توحاملہ عورتوں پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ چنانچہ ایسے وقت میں حاملہ عورتیں کمروں سے باہر نہیں نکلتیں۔ گو عام طور پر اسے وہم سمجھا جاتا ہے۔ مگر میں نے اس سوال پر خاص طورپر غور کیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ جب چاند گرہن مکمل ہو۔ تواس کے بعد بہت سی عورتوں کی زچگی سخت تکلیف دہ ہوتی ہے اور ان میں سے بکثرت موتیں ہوتی ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ تکلیف اٹھانے والی عورتیں وہ ہوتی ہیں۔ جو ایسے وقت میں چاند کو دیکھتی ہیں۔ یا اس کے بغیر بھی ان پر یہ تاثیر عمل کرتی ہے۔ مگر بہرحال میں نے کئی دفعہ اس کا تجربہ کیا ہے اور دوسروں کو بھی بتایا ہے۔ جنہوں نے اپنے تجربہ سے اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تاثیر ہمیشہ ہوتی ہے یااس کاظہور بعض اور ستاروں کی نسبت سے ہوتاہے۔ یعنی چاند دوسرے ستاروں سے ایک خاص زاویہ پرہو۔ تواس وقت اس کی یہ تاثیر ظاہر ہوتی ہے۔ یاآزادانہ ہوتی ہے۔ یہ منجم ہی بتاسکتے ہیں۔ میں نے تو بعض توہمات کی تحقیق کرتے ہوئے جوچاند گرہن کی حاملہ عورتوں پر تاثیر کے متعلق ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں یہ امور مشاہدہ کئے ہیں۔ ان کو معیّن اور علمی صورت دینا ستاروں کے علماء کا کام ہے۔

خلاصہ یہ کہ جمادات کی روشنیاں اور شعاعیں اورمقناطیسی تاثیرات بھی انسانی نشوونما پر خاص اثر ڈالتی ہیں جن میں سے بعض ظاہر ہوتے ہیں بعض مخفی اور بعض بلا واسطہ ہوتے ہیں اور بعض بالواسطہ۔ بالواسطہ سے میری مراد ان تاثیرات سے ہے جو نباتا ت یا حیوانات پروارد ہوتی ہیں اورپھر ان حیوانات اور نباتات کو انسان استعمال کرتاہے۔ سورج اورچاند کی موٹی تاثیرات سے مراد و ہ تاثیرات ہیں جوصحت پر پڑتی ہیں۔ دن کی روشنی کئی قسم کی بیماریوں کو دور کرتی ہے اورانسانی جسم میں صحت کا مادہ بڑھاتی ہے۔ چنانچہ جولوگ دن رات بند کمروں میں رہتے ہیں ان کی صحت خراب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح رات کی تاریکی اعصاب پر تسکین دہ اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے رات کی نیند بہت آرام دہ ہوتی ہے بہ نسبت دن کی نیند کے۔ خصوصاً دوپہر کی نیند کے۔ کہ اس سے نہ صرف یہ کہ آرام کم ملتا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ اس سے نزلہ وغیرہ کی قسم کی بیماریاں بھی پیداہوتی ہیں۔ غرض دن کام کے لحاظ سے زیاد ہ بہتر ہے اور رات آرام کے لحاظ سے۔ پھر بعض قسم کی سبزیوں پر دن کی روشنی کی مبارک تاثیر پڑتی ہے اور بعض پر رات کی روشنی کی جو چاند اورستاروں سے آتی ہے۔ چنانچہ ککڑی رات کو اس سرعت سے بڑھتی ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ کھیت کے پاس بیٹھو تویوں آواز پیداہوتی ہے گویا کہ ککڑی پتوں میں پھیل رہی ہے اسی طرح بعض پھول چاندنی راتوں میں کھلتے ہیں۔ بعض اندھیری راتوں میں اوریہ سب امور اس امر کی شہادت ہیں کہ رات اور دن اور اجرام فلکی کی تاثیرات اہل دنیا کے نشوونما پر خاص اثر ڈال رہے ہیں اور ان کا وجود صرف آنکھوں کے لئے روشنی مہیا کرنا نہیں۔ یااعصاب کے آرام کے لئے تاریکی دینا ہی نہیں۔ بلکہ ان کے علاوہ بھی ان کی وسیع تاثیرات ہیں۔ جن لوگوں کو چاند کی روشنی میں سیر کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ اس وقت خیالات میں ایک عجیب قسم کا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے اورقوتِ فکریہ میں ایک تلاطم پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رات اور دن اور سورج اور چاند اور ستاروں کاتعلق راستہ دکھانے سے بھی ہے۔ دن کوسورج کی روشنی اگر سب فضاکو روشن کرکے راستہ دکھانے میں ممدہوتی ہے اور جہات اربعہ یعنی مشرق مغرب شمال جنوب کوبتا کر اگر راہگیروں کی راہنمائی کرتی ہے۔ تو رات کو چاند اپنی روشنی سے سورج کاساکام کرتا ہے اور ستارے اپنے مقامات سے ہدایت کاموجب ہوتے ہیں۔ چنانچہ سمندروں میں جہازوں کے چلنے میں ستاروں کے مقامات خاص طورپر مدد کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ رات اوردن اورسورج چاند اورستارے انسانی دماغ کو نشوونما دینے میں اور اس کے کاموں میں سہولت پیداکرنے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اوریہ جمادات میں سے ہیں جو انسان سے بہت دور کا تعلق رکھتے ہیں اوران کی ذاتی نشوونما کی طاقت ایسی مخفی ہے کہ اس کااندازہ ظاہری نگاہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن باوجود اس کے وہ اپنی تاثیرات سے نباتات اورحیوانات کے نشوونما پر ان کے ذریعہ سے بھی اوربراہ راست بھی انسا ن کے نشوونما پر خاص اثر ڈالتے ہیں۔ پس حیوانی غذا اور نباتاتی غذا کے بعد اس مخفی غذاکی طرف اشارہ کیا جو انسان جمادات اور خصوصاً ان بڑے جمادی اجرام سے جو آسمان پر ہیں حاصل کر رہا ہے۔

اس جگہ ایک اور لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حیوانوں اور نباتات کے بارہ میں توصرف یہ فرمایا تھا کہ ہم نے ان کو تمہارے لئے پیداکیا ہے۔ لیکن رات اور دن اور سورج چاند ستاروں کے ذکر میں سَخَّرَ کا لفظ فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہیں بغیر اجرت کے کام پر لگارکھا ہے۔ یہ فرق اس لئے کیا کہ حیوانوں اورنباتا ت سے انسان جو فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے زور سے یہ فائدہ اٹھایاہے۔ گویہ غلط ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ ان کو پیدانہ کرتا تووہ فائدہ کہاں سے اٹھاتا۔ مگر پھر بھی چونکہ بظاہر اس میں انسانی اختیار کا دخل ہے۔ وہاں صرف پیدائش کی طر ف اشارہ کیا ہے۔ مگر اس آیت میں جو فوائد بیان ہوئے ہیں۔ ان کے حصول میں انسانی تصرف کا کوئی دخل نہیں۔ اس لئے اس جگہ سَخَّرَ کالفظ استعمال کرکے بتایاکہ کم سے کم ان اشیاء کی نسبت تو تم کوماننا پڑے گاکہ وہ جو انسانی خد مت کررہی ہیں۔ ان کا موجب حکم الٰہی ہے۔ کیونکہ ان پر تم کو کوئی تصرف حاصل نہیں ہے۔

اس آیت کے آخر میں یہ فرمایا کہ یہ امور عقل مندوں کے لئے نشان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قوت فکر یہ نزدیک کی اشیاء کاحال معلوم کرتی ہے اور قوت عقل دور کی چیزوں سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ چونکہ پہلی آیات کی اشیاء خوراک سے تعلق رکھتی تھیں اور انسان ان کے اثرکو اپنے اندر محسوس کرتاہے۔ اس لئے وہاں فکر کا لفظ رکھا ہے اور ان چیزوں کی تاثیر بیرونی ہے اور ان سے فائدہ اٹھانا دانش سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ فرمایا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ138-140 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

رنگوں کی تاثیرات اور ان سے علاج

’’اس آیت (سورۃ النحل آیت 14) سے ایک نئے مضمون کو شروع کیا اوررنگوں کے اختلاف کو پیش کیا کہ وہ بھی تاثیرات رکھتے ہیں اور انسان ان سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ قرآن کریم کیسا عظیم الشان کلام ہے جوان حکیمانہ امور کو اس زمانہ میں بیان فرماتا ہے جبکہ دنیا ان سے کلی طور پر ناواقف تھی۔ رنگوں کی تاثیرات کی دریافت عملی طورپر موجودہ زمانہ میں ہوئی ہے۔ حتی کہ بنفشی شعاعوں اور ماوراء بنفشی شعاعوں اور کئی قسم کی دوسری شعاعوں کی دریافت سے بیماریوں کے علاج میں غیر معمولی مد دملی ہے اور طب میں بھی ایک نیا باب علاج باللَّون کا کھل گیا ہے۔ یعنی مختلف رنگوں کی بوتلوں میں پانی رکھ کر اور سورج کی شعاعوں کے مقابل پر رکھ کر خالی پانی کو دوا کی صورت میں بد ل دیاجاتا ہے۔ گویہ طریق علاج اب تک علمی حد تک نہیں پہنچا۔ مگر اس کے بعض فوائد ناقابل انکار ہیں۔ ان کے علاوہ یہ امر تجربہ شدہ ہے کہ ایک ہی قسم کی اشیاء رنگ کے اختلاف کی وجہ سے مختلف تاثیرات ظاہر کرتی ہیں۔ مثلاً توت ہے۔ اس میں سے سفید گلے میں خراش پیداکرتاہے اور سیاہ توت خناق جیسی مرض میں مفید ہوتا ہے۔ صندل سفید اور سرخ تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بعض امور میں قوی یاضعیف ہو تے ہیں۔ یہی حال اَور سینکڑوں اشیاء کا ہے کہ چیز ایک ہی ہوتی ہے۔ لیکن رنگ کے تغیر سے اس کے فوائد میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ بہت سی چیزوں کے فوائد معلوم ہوگئے ہیں اوربہت سی کے ابھی مخفی ہیں۔ مگر اس حد تک اس علم کا انکشاف ہوچکا ہے کہ رنگوں کی تاثیرات کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ طب میں تو مختلف رنگوں سے بعض شدید بیماریوں کاعلاج کیاجاتاہے۔ اگر زرد رنگ کی اکری فیلیوین بیرونی زخموں کے لئے مفید ہے تو مرکیوروکروم اندرونی زخموں کے لئے مفید ہے۔ اسی طرح اورکئی رنگ ہیں۔ میں نے ایک دفعہ اکری فلیوین کودیکھ کرخیا ل کیا کہ معلوم ہوتا ہے زرد رنگ کی تاثیر زخموں کے لئے اچھی ہوتی ہے اوراسی وجہ سے پرانے زمانہ میں زخموں کے علاج کے لئے ہلدی کو بکثرت استعمال کیا جاتا تھا۔ اس خیال سے میں نے ہلدی کارنگ نکال کر زخموں کے لئے ایک ڈاکٹر کو دیا۔ انہوں نے تجربہ کرکے بتایا کہ گواکری فلیوین جیسی تاثیر تو نہیں۔ مگراس کے ساتھ ملتی ہوئی تاثیر آپ کی دوامیں ضرور تھی۔ اس فرق کی وجہ میں نے یہ سمجھی کہ اس حد تک میں اس کا جوہر نہیں نکال سکاجس حد تک جرمنوں نے نکال لیاہے۔ ورنہ بات وہی ہے۔ غرض رنگوں کی تاثیرات ایک ثابت شدہ حقیقت ہیں۔ گواب تک یہ علم مکمل نہیں ہوا۔ قرآ ن کریم اس کی طرف اشارہ فرماتا ہے اورتوجہ دلاتا ہے کہ اجرام تو الگ رہے ان کے رنگ تک تمہارے فائدہ میں لگے ہوئے ہیں اور کیسی کیسی باریک راہوں سے اللہ تعالیٰ نے تمہاری جسمانی ترقی کے سامان پیداکئے ہیں۔ مگر تم اب بھی نہیں سمجھتے کہ روحانی ترقی کے لئے بھی ویسے ہی وسیع بلکہ ان سے بھی زیادہ وسیع سامان پیداکرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدچہارم صفحہ141 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

سائنس کی مادّہ پر تحقیق کی نا کاملیت

’’مجھے یاد ہے1946ء میں جب ہم نے قادیان میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کے لئے ڈاکٹر سرشانتی سرذب صاحب بھٹنا گر ڈاکٹر سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ گورنمنٹ آف انڈیا کو بلوایا تو انہوں نے تقریر کرتے ہوئے یہی کہا کہ آج سائنسدان کے غرور کا سار اس قدر نیچا ہو چکا ہے کہ وہ ہرگز یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ سائنس ان اشیاء کی بھی مناسب تشریح کر سکتی ہے جو ظاہری طور پر ہمیں نظر آتی ہیں اور جب زمین و آسمان میں اس قدر اسرار پائے جاتے ہیں کہ سائنس اپنی تمام ترقی کے باوجود ابھی مادیات میں سے بھی ایک بہت چھوٹے سے حصے کی تشریح کر سکی ہے۔ تو پھر اس وسیع کائنات کو جس وجود کے لئے ایک خادم کے طور پر پیدا کیا گیا ہے اس کی پیدائش کو عبث قرار دینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلددوم صفحہ320 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

’’سورج کی صفت وھَّاج بتا کر اُس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ سورج کی روشنی اور گرمی ذاتی ہے۔ چاند وھَّاج نہیں کہلا سکتا۔ اس لئے کہ اس میں اتّقاد نہیں ہے۔ آگ کی طرح جلنے والا سورج ہی ہے۔ سورج کے اندر خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اس میں ریڈیم موجود ہے کششِ ثقل کے ماتحت جب اس کے ذرّے اندر کی طرف کھنچتے ہیں تو تیز روشنی اور گرمی پیدا ہوتی ہے اور ان ذرّوں کے اندر کی کشش کی وجہ سے اس سے مستقل آگ پیدا ہوتی رہتی ہے۔

سورج کی صفت وھَّاج بھی کتنی ظاہر ہے۔ کروڑوں کروڑ میل پر سورج ہے یعنی نو کروڑ میل کے قریب دنیا سے اس کا فاصلہ ہے مگر جب اس کی گرمی یہاں پہنچتی ہے تو گرمیوں کے موسم میں کئی لوگ اس کو برداشت نہیں کر سکتے اور وہ مر جاتے ہیں۔ ابھی چند دن ہوئے لاہور کے متعلق یہ خبر آئی تھی کہ وہاں گرمی کی شدّت کی وجہ سے گھوڑے چلتے چلتے گر کر مر جاتے تھے۔ نیز امریکہ سے خبر آئی تھی کہ گرمی کی وجہ سے درجنوں آدمی پاگل ہو ئے اور بلند مکانوں پر سے چھلانگ مارنے پر تیار ہو گئے۔ گویا سورج کو اللہ تعالیٰ نے وھَّاج بنایا ہے یعنی دور دور تک اس کی گرمی پہنچتی ہے۔ لُغت میں اَلْوَھَجُ مِنَ النَّارِ وَالشَّمْسِ کے معنوں میں لکھا ہے کہ حَرُّھُمَامِنْ بَعِیْدٍ یعنی سورج یا آگ کی گرمی جو بہت دور سے محسوس ہوتی ہو۔ گویا سِرَاجًا وَّھَاجًا میں دو اشارے کئے گئے ہیں۔ اوّل یہ کہ سورج کی روشنی اور گرمی ذاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کی گرمی بہت دور سے محسوس ہوتی ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدہشتم صفحہ21-22 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

Big Bang Theory اور قرآن حکیم

’’فرماتا ہے کیا ان کافروں کو معلوم نہیں کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو چیر کر الگ کردیا اس میں پیدائش عالم کی ایک ایسی حقیقت بیان کی گئی ہے جو اس صدی سے پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھی اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی کرہ فلکی تیار ہوتاہے تو اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ ذرات کا ایک وسیع ڈھیر فضا میں جمع ہوجاتاہے۔ آہستہ آہستہ وہ سمٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ جب اس کے درمیان ذرات کچھ زیادہ سمٹ جاتے ہیں تو وہ چکر کھانے لگ جاتے ہیں اور ان کے ارد گردکامادہ دھکا کھاکر دور جاپڑتاہے اسی طرح پیدا ہونے والے نظام ہائے فلکی میں سے ایک نظام شمسی ہے جس میں ہماراکرہ ار ض واقع ہے۔ نظام شمسی کے عالم وجود میں آنے کے متعلق جتنے بھی نظریات سائنسدانوں نے آج تک پیش کئے ہیں ان میں کم وبیش اس حقیقت کا اقرار موجود ہے کہ کرہ ارض اپنی موجودہ شکل سے پہلے سورج یاسورج جیسے ایک ستارے کا حصہ تھا۔ تازہ ترین نظریہ جس کی تصریح فریڈ ہائل (کیمبرج یونیورسٹی) نے کی ہے یہ ہے کہ یہ ستارہ ہمارے سورج کاہمراہی ایک SUPER NOVA تھا اور اس کے پھٹنے سے سیارے عالم وجود میں آئے حتی کہ زمین ایک علیحدہ وجود کی شکل میں ظاہر ہوئی زمین میں سے بعد میں پانی کے بخارات پید اہوئے اور پانی کے وجود سے آگے زندگی کاوجود پیدا ہوا۔

(دی نیچر آف دی یونیورس مصنفہ فریڈہامل 90-92)

اللہ تعالیٰ انہی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے کہ کیا اس نظارہ کو دیکھ کر یہ ایمان نہیں لاتے آخر دنیاکیوں باربار پیدا کی جارہی ہے۔ کیوں زندگی پید اکرنے کے لئے بادلوں سے پانی اتارا جاتاہے۔ دنیا کابار بار پیدا کرنا اور بادلوں سے متواتر پانی کا اترنا اور اس سے زندگی کاپیدا ہونا بتاتاہے کہ یہ دنیا بلاوجہ نہیں پیداہوئی۔ اس کوکسی بڑی غر ض کے لئے پیداکیا گیا ہے اور اس غرض کوپوراکرنے کےلئے روحانی پانی کاآسمان سے اترتے رہنا بھی ضروری ہے تاکہ ہرطبقہ کے لوگ اپنی روحانی زندگی کے لئے اس سے سامان حاصل کرتے رہیں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدپنجم صفحہ 514 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

پہاڑوں کی پیدائش
اور ان کے کام اور آج کی سائنسی دریافتیں

’’فرماتا ہے ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے ہیں تاکہ وہ انسانوں سمیت تہ وبالا نہ ہوجائے یعنی پہاڑوں کی غرض یہ ہے کہ زمین اپنی تمکنت کی حالت پر قائم رہے کیونکہ علم طبقات الارض سے ثابت ہے کہ زمین اندر سے اب تک بھی گرم ہے لیکن شروع پیدائش میں زیادہ گرم تھی یعنی تغیرات کے نتیجہ میں جب زمین کی گرمی نے اندر کی چھپی ہوئی چٹانوں کو گلا دیا اور بہت سی گیس پیداہوگئی تو گیس نے زور مار کرباہر نکلنا چاہا اور اس نکلنے کی کوشش سے زلزلہ آیا اور آتش فشاں پہاڑ پھوٹے۔ اسی طرح پہاڑوں کے عالم وجود میں آنے میں زمین کے اندرونی حصہ کی سطح پرقشری حصوں کے توازن (ISOSTASY) کو بھی دخل ہے اس لحاظ سے پہاڑ گویا سطح زمین کے توازن کاذریعہ بھی ہیں اور زمین کے اندر پید اہونے والے معمولی تغیرات کو زمین کی سطح پر کسی بڑے انقلاب کاموجب بننے سے روکتے ہیں سوائے ایسے استثنائی واقعات کے جوزمین پر ایک قیامت کی طرح وارد ہوسکتے ہیں اور جن کا ثبوت کرہ ارض کی گذشتہ تاریخ سے ظاہر ہے جو زمین ہی کے موجودہ آثار سے معلوم ہوئی ہے۔ پس پہاڑ زمین کو تہ و بالا ہونے سے بچاتے بھی ہیں اور ان کے بعض حصے آتش فشانی کی شکل میں زمین کی اندرونی طاقتوں کا نقشہ بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔

(دیکھو مارولز اینڈ مسٹر یز آف سائنس مصنفہ ایلی سن ہاکس ایف۔ آر۔ اے۔ ایس زیرعنوان کرسٹ آف دی ارتھ نیز دیکھیں انسائکلوپیڈیابرٹینکا زیر عنوان جیالوجی)

اللہ تعالیٰ ان مادی پہاڑوں کاذکر کرتے ہوئے فرماتاہے کہ روحانی عالم کے اندر جو گرمی بھری ہوئی ہے وہ بھی جو ش میں آکر آتش فشاں پہاڑوں کی طرح دنیاپر تباہی لاتی ہے۔ لیکن پھر ہم روحانی پانی کے ذریعہ سے اس آگ کو ٹھنڈا کردیتے ہیں اور کچھ سبزہ زار میدانوں والے پہاڑ ظاہر ہو جاتے ہیں یعنی اولیاء اللہ۔

پھر فرماتاہے کہ ہم نے ان پہاڑوں کے درمیان بڑے بڑے کھلے راستے بنائے ہیں تاکہ لوگ ان پرچل کر فائدہ اٹھائیں۔ چنانچہ ابتداء تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ لشکروں کی نقل و حرکت ہمیشہ پہاڑی رستوں کے ذریعہ ہی ہوا کرتی تھی کیونکہ میدانوں میں رستوں کاپہچاننا مشکل ہوتاہے۔ لیکن پہاڑوں کے اندر قدرت نے جو خود بخود وادیاں اور رستے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کا پہچاننا آسان ہوتاہے اور دور دور کی قومیں ان رستوں کے ذریعہ آسانی کے ساتھ ادھر ادھر آجاسکتی ہیں۔ فرماتاہے جس طرح مادی دنیامیں تمہیں یہ نظارہ نظر آتاہے اسی طرح روحانی پہاڑوں کی ہدایت کے ساتھ لوگ روحانی سفر طے کرتے ہیں اور اس طرح مادی اور روحانی سلسلہ آپس میں متوازی چلتاچلا جاتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدپنجم صفحہ 515 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

نباتات میں جوڑے

’’(سورۃ طٰہٰ آیت 54) سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ نباتات کے جوڑے ہیں۔ اس مسئلہ کاسوائے چند ایک چیزوں مثلاً کھجور کے آج سے سو سال قبل کسی کو علم نہیں تھا مگر اب بے شمار نباتی چیزوں کے جوڑے ثابت ہوچکے ہیں جو قرآن کریم کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدپنجم صفحہ432 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

دنیا میں ڈیماکریٹک حکومتوں کا قیام

اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ جب نیلی آنکھوں والے یعنی یوروپین لوگ یہ پیشگوئی پڑھیں گے تو کہیں گے کہ قرآن تو یہ کہتاہے کہ عیسائی حکومتیں تباہ ہوجائیں گی۔ لیکن اگر یہ صحیح ہے تو ہمارے ڈیوک اور ایمپرر او رکنگ کہاں جائیں گے؟ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس تباہی کے آنے سے پہلے ہی ان کو ختم کر دیا جائے گا اور تمام ملکوں میں ڈیماکرسی قائم ہوجائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ آہستہ آہستہ لوگ قرآن لانے والے کی آواز سننے لگ جائیں گے جس کی تعلیم میں کوئی کمی نہیں۔ او رحمن خدا کی آواز بلند ہونے لگ جائے گی اور شرک کی آواز دھیمی پڑنے لگ جائے گی اور یا تو ترقی کے لیئے عیسائی ہونا بڑی سفارش سمجھا جاتا تھا اور یا اس زمانہ میں ترقی کے لئے مسلمان ہونا سفارش سمجھا جائے گا۔

مسلمان ہونے کانتیجہ ہم نے اس بات سے نکالا ہے کہ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ شفاعت اسی کو فائدہ دے گی جس کے لئے رحمن خدا اجازت دے گا اور جس کے متعلق بات کہنے پروہ راضی ہوگا اور قرآن کریم میں مسلمانوں کے متعلق آتاہے کہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ (مجادلہ: 23) کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ پس رَضِيَ لَه قَوْلًا میں مسلمانوں کاذکر ہے کہ اس وقت مسلمان ہونا ہی ترقی کا سب سے بڑا معیار سمجھا جائےگا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدپنجم صفحہ467 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

(خواجہ عبدالعظیم احمد۔ مبلغ سلسلہ نائیجیریا)

پچھلا پڑھیں

دنیا کا امیر ترین شخص

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 اکتوبر 2022