• 21 مئی, 2022

وڈ فراگ جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتا ہے

الاسکا میں برف پگھل رہی ہے اور جما دینے والے جاڑے کا اختتام ہو رہا ہے۔ گرمیوں کی آمدآمد ہے اورسبزہ نمودار ہو رہا ہے۔ زمین پر پڑے پتوں کے نیچے ہلچل پیدا ہونا شروع ہوئی ہے۔ 8 ماہ تک برف میں ڈھل جانے والا وڈ فراگ (برفانی مینڈک) اب دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ جانے کب سے یہ تسلسل جاری ہے اور قدرت یہ معجزے ہر سال دھراتی ہے۔یہ برفانی مینڈک جاڑے کے آغاز پر پوری طرح جم جاتا ہے۔ حتّٰی کہ اس کی آنکھیں بھی برف کے گولوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، نظام تنفس رک جاتا ہے، دل کام نہیں کرتا اور نبض بھی رک جاتی ہے۔ گرمی بڑھتی ہے تو مینڈک کے جمے ہوئے اعضاء میں سے برف پگھلنے لگتی ہے۔ اس کے جسم میں جمی ہوئی برف پانی بن کر بہنے لگتی ہے اور ایک ایک کرکے مینڈک کے تمام اعضاء میں زندگی لوٹنے لگتی ہے۔ برف پگھلنے کے تیس منٹ بعد مینڈک کا دل دھڑکنا شروع کرتا ہے۔ پھر گُل ہو چکی دماغ کی بتی روشن ہوتی ہے اور مینڈک حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ دو دن اس حالت میں گزارنے کے بعد مینڈک خوراک اور جیون ساتھی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

سردیوں کے آغاز پرجگر سے Syrupy خارج ہوتا ہے جو قدرتی antifreeze کا کام کرتا ہے اور مینڈک کے خلیوں کو جمنے سے بچاتا ہے۔ اس طرح مینڈک کے خلیوں میں موجود پانی ہی جمتا ہے اور خلیے جمنے سے محفوظ رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلسل 8 ماہ تک جمے رہنے کے بعد مینڈک جب دوبارہ زندہ ہوتا ہے تو اس کا جسم بالکل صحیح سلامت ہوتا ہے۔ زندہ ہونے کے دو دن بعدمینڈک قریبی تالاب میں جا کر ڈبکیاں لگاتے ہیں اور اگلی برف باری تک کھاتے پیتے موج کرتے ہیں۔زندگی سے بھرپور گرمیاں گزر چکی ہیں،پھر سے سردیوں کی آمد ہے اور ووڈ فراگ پھر جم کر برف ہو جانے کی تیاری میں ہے۔یہ بہت زیادہ مقدرا میں یورین خارج کرتے ہیں لیکن وہ عام جانداروں کی طرح باہر نہیں بہاتا بلکہ اس کے خون میں ہی اسٹور ہونے لگتا ہے۔ جیسے ہی جما دینے والی ٹھنڈ بڑھتی ہے اس کے خون میں موجود یہ یورین بھی جمنے لگتا ہے۔خون میں موجود پانی کا ایک ایک قطرہ منجمد ہو جاتا ہے۔ جگر سے گلوکوز خارج ہونے لگتا ہے جب یہ گلوکوز یورین سے تعامل کرتا ہے تو قدرتی طور پر Antifreeze تیار ہونے لگتا ہے، خون کے خلیے اس میں قید ہوکر جمنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ Antifreeze کی وجہ سے خلیوں سے مکمل طور پر پانی کو ختم ہونے سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اگر 60٪ فیصد سے زیادہ پانی ضائع ہو جائے تو خلیے جم کر مردہ ہو جائیں گے اور مینڈک کا دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ مینڈک کا یہ Antifreeze سسٹم اس کے خلیوںکو زندہ رکھتا ہے۔جمنے کے بعد کے مینڈک کا میٹایورینزم اور دیگر افعال دوبارہ زندہ ہونے تک رک جاتے ہیں۔پھپھڑے سانس نہیں لیتے اور دل کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ان کے جسم کا دو تہائی حصہ مکمل طور پر برف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

سردیوں کے سخت موسم میں جب ہر چیز پر برف جم جاتی ہے تو ان مینڈکوں کے لیے اس علاقے کو چھوڑنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ یہ زیادہ فاصلہ تک سفر کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ایسے میں قدرت نے ان کے لیے یہ حل تجویز کیا ہے کہ سردیوں میں ان پر عارضی موت طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی اوسط عمر تین سال تک ہوتی ہے۔اپنی زندگی میں یہ اسی طرح سردیوں میں مر جاتے ہیں اور گرمیوں زندہ ہوجا تےہیں۔ یہ یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتِ مِنَ الۡحَیِّ (الانعام: 96) وہ زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور مُردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے کی عملی تفسیر ہے۔

(مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

جامعہ احمدیہ جرمنی میں مقابلہ جات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 دسمبر 2021