• 20 جون, 2021

برکینا فاسو میں انتیس ویں جلسہ سالانہ کا بابرکت انعقاد

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب احباب جماعت کی تعلیم وتربیت کے لئے الہٰی وعدوں کے مطابق 1891ء میں جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی توپہلے جلسہ میں 75 افراد کی شمولیت سے لے کر آج دنیا کے کناروں تک ہرملک میں جلسہ سالانہ کا انعقاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

گزشتہ سال کورونا کی وبا کی وجہ سے ساری دنیا کی طرح برکینافاسو میں بھی جماعتی تقریبات متاثر ہو ئیں۔ برکینا فاسومیں اُن دنوں جلسہ کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں کہ ملک میں وبا کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی لگ گئی۔ جلسہ ملتوی کرنا پڑا اور ایک تشنگی کا احساس باقی رہ گیا ۔گزشتہ کچھ ماہ سے حکومت نے عوامی اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت احمدیہ نے 3، 4 اور 5 اپریل 2021ء کو اپنا 29واں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کا پروگرام بنایا۔ حکومت کی طرف سے اجازت بھی مل گئی اور جب ساری صورت حال کا جائزہ سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں راہنمائی کے لئے بھجوایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:

’’ٹھیک ہے کر لیں‘‘

(خط از ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب یو۔ کے T-3027-31S/10-02-21)

چنانچہ کورونا وبا سے بچنے کے لئے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیارکرتے ہوئے جلسہ کا انعقاد کی گیا۔

جلسہ کے انتظامات

جلسہ سالانہ کے انعقاد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وسیع انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر کئی ماہ پہلے جلسہ کے انتظامات شروع ہوجاتے ہیں۔ لیکن امسال جلسہ کی تیاری کے لئے صرف پچاس دن تھے جو اتنے وسیع انتظامات کرنے کے حوالے سے بہت کم وقت تھا۔ جلسہ سالانہ کو کامیاب کرنے کے لیے سینکڑوں خدام و انصار و لجنہ و ناصرات نے دن رات محنت کی۔ اجازت ملنے کے بعد لگاتار جلسہ سالانہ کی میٹنگز منعقد ہوئیں اور کام کی رفتار کا جائزہ لیا جاتا رہا۔

وقار عمل

جلسہ سالانہ کے انعقاد میں سب سے بڑا کام جلسہ گاہ کی تیاری، عارضی رہائش گاہ کا انتظام اور مہمان نوازی کے کام ہیں۔ اس سلسلہ میں جلسہ سے تین ہفتہ قبل جامعۃ المبشرین برکینافاسو کے طلباء نے وقار عمل شروع کردیا۔ 62 کی تعداد میں طلباء اور جامعہ اسٹاف 40 ڈگری سے زائد دھوپ میں لگاتار تین ہفتوں تک وقار عمل کرتے رہے۔ اس کے لیے صبح 8بجے کام کی تقسیم کی جاتی اور طلباء کو گروپس میں تقسیم کرکے کام کا آغاز کر دیا جاتا۔

بستان مہدی جو کہ جماعت احمدیہ کی ایک وسیع و عریض زمین ہے، میں ہر سال پانی کا مسئلہ رہتا تھا۔ اس کو حل کرنے کے لیے اس سال دو نئے بور ہول کیے گئے۔ یہ بور ہول بستان مہدی سے باہر کچھ فاصلے پر ہیں جہاں سے پائپ لائن بچھانے کے لیے کھدائی کی ضرورت تھی۔ پائپ لائن پچھانے کے لئے مجموعی طو رپر ساڑھے آٹھ صد میٹرز لمبی اور ساٹھ سینٹی میٹرز گہری نالی کھودنے کی ضرورت تھی۔ سخت پتھریلی زمین میں یہ کام کرنا سخت محنت کا متقاضی تھا جسے عام طو رپر پروفیشنل مزدور کرتے ہیں۔ لیکن جو مزدور ملے وہ منہ مانگی قیمت طے کرنے کے باوجود کام کی سختی دیکھ کر کام چھوڑ گئے۔

جلسہ قریب تھا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہر صورت یہ کام کرنا ہی تھا ۔چنانچہ یہ بھاری ذمہ داری جامعہ نے اپنے ذمہ لی اور جامعۃ المبشرین برکینافاسو کے باہمت نوجوانوں نے چار دن میں ہی یہ مشکل اور بظاہر ناممکن نظر آنے والا کام مکمل کر دکھا یا۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے۔

جلسہ گاہ اور رہائش گاہ کی تیاری

جلسہ گاہ، رہائش گاہ، کچن، دفاتر، نمائش، بازار، لجنہ جلسہ گاہ، لجنہ رہائش گاہ، ٹوائلٹس اور دیگر ضروریات کے عارضی انتظامات کرنے کی خاطر پائپ اور لکڑی کے ڈنڈے لگانے کے لئے تقریباً 550 گڑھے کھودے گئے۔سخت زمین میں یہ بہت محنت طلب کام ہے لیکن اس کے کئے بغیر چارہ بھی نہیں۔ یہ سارا کام جامعہ کے طلبہ نے وقار عمل کرکے مکمل کیا۔

جلسہ گاہ کی تزئین و آرائش

بستان مہدی میں جلسہ کے لئے پختہ اسٹیج بنا ہوا ہے۔ جلسہ گاہ میں لوہے کے پائپ لگا دئے گئے ہیں تاہم کم و بیش دس ہزار افراد کے بیٹھنے کے لئے جلسہ گاہ کی تیاری ایک بڑاکام ہے۔ جلسہ گاہ کو کور کرنے کے لے موٹے کپڑے کی چھت لگائی جاتی ہے۔ تیز ہواؤں سے بچانے کے لئے کپڑے کی بھاری اور دسیوں میٹرز لمبی ایک ایک شیٹ کو مہارت اور محنت سے جوڑا جاتا ہے۔

اس دفعہ پہلی بار اسٹیج کو خاص طو رپر خوبصورت پھولوں اور دلکش پودوں سے سجایا گیا تھا۔ جلسہ گاہ کی تزئین و آرائش کے لئے 22 عدد بینرز استعمال ہوئے۔ جلسہ گاہ کے آخر پر لگایا گیا ایک بیس میٹرز لمبا بینر جس پر ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘ لکھا تھا، سب کی توجہ کا مرکز رہا ۔

جلسہ کا پروگرام اور تقاریر کے تراجم

جلسہ کے پروگرام میں شامل ہر فرد کو خط اور فون کے ذریعہ اطلاع دی گئی۔ کوشش کی گئی کہ تمام مقررین بروقت اپنی تقاریر جمع کروا دیں تاکہ تقاریر کے تراجم پہلے تیار کروا لئے جائیں ۔یہاں جلسہ پر مقامی زبانوں یعنی جولا، مورے، فُل فُل دے اور بیسا میں تراجم کرنے پڑتے ہیں ۔تمام تقاریر اور دروس کے تراجم جلسہ سے پہلے تیارکرو الئے گئے ۔متبادل مقررین کا انتظام بھی کیا گیا۔

مہمانوں کی آمد

جلسہ سے دو دن قبل ڈیوٹی کے لئے چالیس خدام کا ایک وفد جلسہ گاہ پہنچ گیا تھا ۔ جلسہ کے دیگر مہمان جمعہ 2 اپریل کی رات تک پہنچ گئے ۔ 2 اپریل کو نماز جمعہ خاکسار (نعیم حمد باجوہ) نے پڑھائی ۔ اسی روز شام 6بجے مکرم امیر صاحب برکینا فاسو نے افسر جلسہ سالانہ کے ہمراہ انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا اور بعض ہدایات دیں ۔نماز مغرب و عشاء کے بعد کھانا دیا گیا اور بعد ازاں اسی روز کا حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ سنایا گیا ۔

جلسہ کا پہلا روز ہفتہ 3 اپریل 2020ء

جلسہ سالانہ کے پروگرام کا آغاز نماز تہجد سے کیا گیا جو مکرم حافظ آدم نمی صاحب نے پڑھائی۔ نماز فجر کے بعد مکرم عبد الرزاق بغایا صاحب نے ’’نماز کی اہمیت‘‘ پر مورے اور جولا زبان میں درس دیا۔

پرچم کشائی و افتتاحی تقریب

پروگرام کےمطابق صبح دس بجے پرچم کشائی کی تقریب ہوئی ۔مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب امیر جماعت برکینا فاسو نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ حکومتی نمائندے مکرم Berthe Seydou صاحب مشیر برائے سوشل ڈائیلاگ نے برکینا فاسو کا جھنڈا بلند کیا ۔ مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔ پرچم کشائی کے بعد فلک شگاف نعروں اور لاالہ الا اللہ کے ورد کے ساتھ مکرم امیر صاحب اور مہمانوں کا جلسہ گاہ میں استقبال کیا گیا ۔

مکرم امیر صاحب برکینا فاسوکی صدارت میں افتتاحی اجلاس شروع ہوا۔ مکرم اسموما Fataou صاحب نے سورۃ النحل کی آیات 91 تا97 کی تلاوت کی اور فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ مکرم حافظ عطاءالنعیم صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام ’’حمدو ثنا اسی کو جو ذات جا ودانی‘‘ خوبصورت آواز میں پڑھا۔

مکرم جیالو عبد الرحمٰن صاحب افسر جلسہ سالانہ نے حکومتی مہمانان کا تعارف کروایا۔ علاقے کے مئیر کے نمائندے نے جماعت کا شکریہ ادا کیا اور جلسہ کی مبارکباددی۔ اسی طرح دیگر نمائندگان نے اپنا پیغام دیا۔ اور جماعتی کوششوں کو سراہا۔

جلسہ کی پہلی تقریر مکرم عطاءالحبیب صاحب مربی سلسلہ نے ’’قیام امن کے لئے انصاف اور صلح کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات کا بیان‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد مکرم امیرصاحب برکینا فاسو نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا اور دعا کروائی ۔نماز ظہر و عصر کے بعد کھانے کا وقفہ ہوا۔

دوسرا سیشن

جلسہ کے دوسرے سیشن کا آغاز شام ساڑھے چار بجے، مکرم سومانا احمدو صاحب نائب امیر اول کی صدارت میں ہوا۔ مکرم حافظ محمد بلال طارق صاحب نے سورۃالنور کی آیات نمبر36تا38 کی تلاوت کی اور فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ پھر خوبصورت آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قصیدہ ’’ان الصحابۃ کلھم کذکأ‘‘ مکرم لقمان Tiendrebeogo صاحب اور مکرم Tchitou Adewale صاحب نے پیش کیا۔

اس سیشن کی پہلی تقریر مکرم عبدالحئی OUEDRAOGO صاحب نے ’’اسلام کا تصورِ انصاف‘‘ کے موضوع پر کی۔ پھر ایک نظم ’’اسلام سے نہ بھاگو راہ ھدٰی یہی ہے‘‘ مکرم قاسم سورے صاحب نے پیش کی۔ دوسری تقریر مکرم حسن جنگانی صاحب نے ’’برکات خلافت‘‘ کے موضوع پر کی۔ دونوں تقاریر کا تین زبانوں یعنی جولا، مورے اور فلفلدے میں ترجمہ پیش کیا گیا۔ شام سوا چھ بجے اس سیشن کا اختتا م ہوا۔

مقامی زبانوں میں جلسہ کا انعقاد

جلسہ سالانہ برکینا فاسو کا ایک خوبصورت ایونٹ چار مقامی زبانوں میں بیک وقت جلسہ کا انعقاد ہونا ہے۔ جلسہ کے دوسرے روز بعد نماز عشاء چار لوکل زبانوں جولا، مورے، فُل فُل دے اور بیسا میں الگ الگ جلسہ جات منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس طرح مختلف بولیاں بولنے والے مسیح پاک علیہ السلام کے یہ خوبصورت روحانی پرندے اپنی اپنی بولی میں علم و معرفت کی باتیں سنتے اور اپنے ایمانوں کو تازہ کرتے ہیں۔ جب غیرازجماعت مہمان دیکھتے ہیں کہ جماعت کے علماء ان کی اپنی زبان میں ان تک پیغام حق پہنچا رہے ہیں توان علاقوں سے آنے والے یہ مہمان اس خوبصورت مجلس سے بہت محظوظ ہوتے ہیں

ہر مقامی زبان کے جلسہ کا ایک نگران مقرر کیا گیا تھا ۔ چنانچہ جولا کےمکرم حسن جنگانی صاحب ،مورے کےمکرم ناصر اقبال صاحب ،فل فل دے کےمکرم شاکر مسلم صاحب اور بیسا زبان کے جلسہ کی نگرانی مکرم لقمان احمد فردوس صاحب نے کی ۔ان مقامی جلسوں میں درج ذیل تین تقاریر رکھی گئی تھیں جن کے بعد ہر زبان میں الگ الگ مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی :

1۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق رسول ﷺ
2۔صداقت حضرت مسیح موعودعلیہ السلام
3۔جماعت کے مالی نظام کا تعارف،اہمیت اوربرکات

جلسہ کا دوسرا روز 4، اپریل 2021ء

دن کا آغاز نماز تہجد سے کیا گیا جو مکرم امین بلوچ صاحب مربی سلسلہ نے پڑھائی۔ نماز فجر کے بعد مکرم محمد GANSORE صاحب نے ’’اسلام میں صفائی کی اہمیت‘‘ درس دیا ۔

تیسرا سیشن

صبح ساڑھے نو بجے مکرم الحاج Ouedraogo بخاری صاحب نیشنل سیکریٹری امور عامہ و صدر جماعت اواگا شہر کی زیر صدارت جلسہ کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم ابو بکر عمر صاحب طالبعلم جامعہ المبشرین نے کی اور فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ پھر مکرم صدیق Traoré صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی قصیدہ ’’یا قلبی اذکر احمدا‘‘ فرنچ ترجمہ کے ساتھ پیش کیا۔

اس سیشن کی پہلی تقریر ’’آنحضور ﷺ کی مذہبی رواداری‘‘ کے موضو ع پر مکرم ابوبکر SANOGO صاحب نے کی ۔پھر ایک نظم ’’نو نہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے‘‘ مکرم آدم Djigui صاحب نے پیش کی۔ اس کے بعد خاکسار (نعیم احمدباجوہ) نے ’’وقف کی اہمیت اور برکات‘‘ کے موضوع پر فرنچ زبان میں تقریر کی۔ ان تقاریر کے تراجم تینوں زبانوں میں پیش کئے گئے ۔

تقاریر کے بعد بعض مہمانوں کا تعارف کروایا گیا اور ان مہمانوں نے جلسہ کی مبارکباد کا پیغام دیا اور جماعت کی تنظیم کو سراہا۔ پہلے مہمان مکرم Ole Kam صاحب ممبر نیشنل اسمبلی تھے۔ اس کے بعدمکرم Souleymane Zangre صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔سیشن کے اختتام پر نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ مکرم ابوبکر سانوگو صاحب نے رشتہ ناطہ کے متعلق بعض اعلانات کئے اور ہدایات دیں ۔نماز ظہر و عصر کے بعد کھانے کا وقفہ ہوا۔

جلسہ سالانہ کا چوتھا سیشن

جلسہ کا چوتھا سیشن مکرم کابورے سلیمان صاحب نائب امیر دوم برکینا فاسو کی زیر صدارت شام ساڑھے چار بجے شروع ہوا۔ مکرم موسیٰ Mandé Nabi صاحب نے تلاوت کی اور فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم Konaté عبد الحی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قصیدہ ’’بک الحول یا قیوم یا منبع الھدیٰ‘‘ پیش کیا ۔قصیدہ کا فرنچ ترجمہ مکرم شریف Tshitenge صاحب طالبعلم جامعۃ المبشرین نے پیش کیا۔

بعدازاں بعض مہمانوں کا تعارف کروایا گیا۔ جن میں پہلے مہمان مکرم Ouedraogo Ousseni صاحب وزیر برائے نیشنل ڈائیلاگ کے نمائندہ تھے۔ جبکہ دوسرے مہمان ’’تحفظ سرکار‘‘ کے نمائندہ مکرم Bandaogo صاحب تھے۔ ان مہمانوں نے جلسہ سالانہ کی مبارکباد دی اور جماعت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم عبد الرزاق بغایا صاحب نے ’’انی احافظ کل من فی الدار‘‘ کے موضوع پر مورے زبان میں کی۔ اس اجلاس میں ایک معزز مہمان نے حاضرین جلسہ کے سامنے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ وہ مسلمانوں کے بعض فرقوں کی آپس میں لڑائی دیکھ کر اسلام سے متنفر ہو گئے تھے ۔گزشتہ دو دن سے وہ جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔ ان کے میزبان سمیت کسی نے انہیں مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہا۔ لیکن میں آپ لوگوں کا نیک نمونہ دیکھ کر آج اپنی مرضی سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ثابت قدم رکھے۔ موصوف ایک پڑھے لکھے فرد ہیں۔ اور ایک ہائی سکول میں ٹیچر ہیں۔

اختتامی سیشن

جلسہ کے اختتامی اجلاس کا آغاز 4اپریل 2021ء کو رات 8بجے مکرم ومحترم امیر و مشنری انچارج برکینا فاسو صاحب کی زیر صدرارت ہوا۔ مکرم مرزا عطا ءالرؤف صاحب نے تلاوت کی اور فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ مکرم عبدالوھاب Tangara صاحب نے خوبصورت آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاعربی قصیدہ ’’یا عین فیض اللّٰہ والعرفان‘‘ فرنچ ترجمہ کے ساتھ پیش کیا۔ اس وقت جلسہ گاہ کی عجیب کیفیت تھی۔ ہر دل سے عشق رسول ﷺ پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا۔ حاضرین جلسہ نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ پر بے شمار درود وسلام بھیجا اور آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعائیں کیں جنہوں نے یہ خوبصورت کلام ہمیں عطا کیا ۔

وفات شدگان کے لئے دعائے مغفرت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد دوران سال وفات پا جانے والے احباب کے لئے دعائے مغفرت کرنا بھی بیان فرمایا ہے ۔چنانچہ اس سیشن میں گزشتہ سال میں وفات پا جانے والے برکینا فاسو کے مرحومین کے ناموں کی فہرست افسر جلسہ گاہ نے پیش کی۔ اور احباب سے ان کی مغفرت کے لئے دعا کی درخواست کی ۔ان مرحومین میں سے کاری جماعت کی ایک خاتون مکرمہ Ye Mariam صاحبہ بھی تھیں جنہوں نے جلسہ میں شامل ہونے کی نیت کی اور اپنا کرایہ بھی ادا کر دیا تھا لیکن اچانک وفات پاگئیں۔ اللہ تعالیٰ سب مرحومین کے درجات بلند کرے۔

یادگاری شیلڈز

برکینا فاسو میں جماعت احمدیہ کے قیام کی خاطر غیر معمولی قربانی کرنے والے دو ابتدائی احمدی بزرگ مکرم الحاج Ouedraogo جبریل صاحب اور مکرم الحاج سانفو قاسم صاحب کا تفصیلی تعارف حاضرین جلسہ کوکروایا گیا تاکہ نئی نسل ان بزرگوں کی قربانیوں کو یا درکھے۔ اس موقع پر ان دونوں بزرگوں کو مکرم امیر جماعت برکینافاسو کی طرف سے یادگاری شیلڈز دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت دے۔ اور ان کی قربانیوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

تعلیمی اسناد

سال 2020ء کے اخیر میں جامعۃ المبشرین برکینا فاسو کی پہلی کلاس فارغ التحصیل ہو کر میدان عمل میں جا چکی ہے۔ جامعہ کی طر ف سے ان طلبہ کی تقریب تقسیم اسناد اس وقت منعقد ہو گئی تھی۔ تاہم جماعت احمدیہ برکینافاسو نے اپنے مبلغین کے اعزاز اور دوسروں کو تحریص دلانے کی خاطر جلسہ کے موقع پر ان نئے مبلغین کو اسناد دیں۔

تقریب اسناد کے بعد مکرم امیر ومشنری انچارج صاحب برکینا فاسو نےاختتامی تقریر کی۔ رات سوا دس بجے دعا کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا۔ دعا کے بعد طلبہ جامعہ ،خدام اور لجنہ کی طرف سے ترانے پیش کیے گئے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے گئے۔ یہ ایک روح پرور نظارہ تھا۔ سب کے چہرے خوشی سے بھرپور تھے۔ ان روح پرور یادو ں کے ساتھ اس بھر پور جلسہ سالانہ کا اختتام ہوا۔ جلسہ کی حاضری نو ہزار سے زائد رہی۔

سوموار 5 ، اپریل 2020ء

دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا ۔ نماز فجر کے بعد مکرم Tidiane MAIGA نے ’’رمضان کیسے گزارا جائے‘‘ کے موضوع پر درس دیا۔ بعد ازاں تمام حاضرین کی خدمت میں ناشتہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد قافلہ در قافلہ مہمانوں کی واپسی شروع ہوئی۔ دوپہر تک تمام قافلے جلسہ کی خوبصورت یادیں دلوں میں سموئے اپنی منازل کی طرف روانہ ہو گئے۔

سوشل میڈیا سیل

جلسہ کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ کی گئی اور سوشل میڈیا پر بھی ساتھ ساتھ تصاویر شیئر ہوتی رہیں۔ فیس بک پر لائیو جلسہ نشر ہو تا رہا۔ اس طرح ہزاروں لوگوں نے دور رہتے ہوئے بھی اس جلسہ میں شرکت کی۔

لجنہ کے لئے بڑی اسکرین کا اہتمام

جلسہ سالانہ میں ہر سال ایک مسئلہ رہتا تھا کہ لجنہ کی طرف ویڈیو لنک کیسے دیا جائے۔ اس سال سوچ و بچار کے بعد کرائے پر بڑی اسکرین حاصل کرنے کا پروگرام بنا یا گیا۔ چنانچہ یہ تجربہ کامیاب رہا اور لجنہ کی طرف بھی مردانہ جلسہ گاہ کی مکمل کاروائی برابر نشر ہوتی رہی۔ اس ویڈیو لنک کی وجہ سے خواتین او ربچوں نے زیادہ یکسوئی سے جلسہ کی کارروائی دیکھی اور سنی۔

دوران جلسہ کچن

برکینا فاسو کے جلسہ کے موقع پر چھ سات لنگر خانے بیک وقت کام کرتے ہیں۔ کھانا پکانے کے لئے خشک راشن، گیس، چولہے اور دیگیں وغیرہ جلسہ گاہ کی انتظامیہ کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں جبکہ ایک ہی وسیع احاطے میں الگ الگ لنگر خانے جاری کرکے ریجن اپنا اپنا کھانا خود بنا تے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ کھانا جلد بن جاتا اور جلد تقسیم ہو جاتا ہے۔ دوسرے ہر ریجن کی ضیافت کی ٹیمیں تیار ہو گئی ہیں جو اپنے اپنے ریجن کو کھانا بہم پہنچاتی ہیں۔

آب رسانی

ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر پانی کی قلت کا سامنا رہتا تھا۔ الحمد اللہ اس بار خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے بستان مہدی کے قریب سے ہی پانی نکل آیا اور جلسہ سے قبل مکمل سیٹ اپ بھی تیا رہو گیا جس سے پہلی بار جلسہ پر پانی کی کوئی قلت اور مشکل پیش نہیں آئی۔ پینے کے پانی کے لئے پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک مخلص احمدی ساوادوگو سلیمان صاحب صدر جماعت ’’کایا‘‘ نے پانی کے بیس ہزار ساشے، جن کی قیمت دو لاکھ فرانک بنتی ہے ،مہیا کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔

ریڈیو جلسہ

جلسہ گاہ بستان مہدی میں ریڈیو جلسہ کا انتظام کیاگیا تھا۔ ایف ایم ریڈیو کے ذریعہ جلسہ کی تینوں دن کی تما م تر کارروائی براہ راست نشر ہو تی رہی۔ اس ریڈیو کی رینج بیس کلومیٹرز تھی۔ ا س طرح جلسہ گاہ اور ارد گرد کے لوگ ریڈیو پر جلسہ سنتے رہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے باہمی فاصلہ رکھنے میں بھی ریڈیو جلسہ بہت ممد رہا۔ لوگ جلسہ گاہ کے پنڈال سے باہر اور اپنی رہائش گاہ پر بھی جلسہ کی کارروائی سنتے رہے۔

جلسہ سالانہ کی ٹرانسپورٹ اور احباب کی قربانی

جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے تما م احبا ب اپنی طرف سے کرایہ خرچ کر کے آتے ہیں۔ جماعتی انتظام کے تحت کسی کو کرایہ نہیں دیاجاتا۔ لوگ سارا سال جلسہ میں شرکت کرنے کے لئے رقم جمع کرتے ہیں۔ بعض علاقوں سے انیس ہزار فرانک (چونتیس ڈالرز) فی کس کرایہ اد اکرنا پڑتا ہے۔ غریب ملک کے باسیوں کے لئے یہ بہت بڑی قربانی ہے ۔

میڈیکل کیمپ اور کورونا کٹ کی فراہمی

جلسہ کے موقع پر عارضی ڈسپنسری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ امسال اس ڈسپنسری کے ساتھ ساتھ کورونا کی وبا کے پیش نظر تمام شاملین جلسہ کو فیس ماسک مہیا کئے گئے ۔ اسی طرح جلسہ گاہ میں ہر پوائنٹ پر ہینڈ سینیٹائزر کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ۔ ریجن سے قافلوں کی روانگی سے قبل بھی ہر فرد واحد کو فیس ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر میسر کیا گیا ۔ جلسہ گاہ میں با ربار اعلانات کے ذریعہ لوگوں کو حفاظتی اقدامات کی طرف توجہ دلائی گئی ۔ Covid-19 کے حوالے سے ایک الگ ٹیم بنائی گئی جو حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے میں ممد رہی ۔

بازار

جلسہ کے موقع پر بازار بھی لگایا گیا۔ جس میں پچاس سے زائد دکانیں لگیں۔ جلسہ کی کارروائی کے دوران میں بازار بند رہتا۔ دوسرے اوقات میں شاملین جلسہ اپنی ضروریات کی چیزیں خریدتے رہے۔

نظم و ضبط

اس سال نظم و ضبط کے شعبہ نے بھی مثالی کام کیا اور نظم و ضبط غیر معمولی طورپر بہتر رہا۔ احباب نے مکمل یکسوئی اور خاموشی سے جلسہ کی کارروائی سنی۔ تمام پروگرام بروقت شروع ہوئے اور بروقت اختتام پذیر ہوئے۔ کچن، سیکورٹی، اور دیگر شعبوں نے اپنے اپنے فرائض خوبصورتی سے ادا کئے۔

مذہبی ڈائیلاگ فورم

جلسہ سالانہ برکینا فاسو کا ایک اہم پروگرام ’’فورم‘‘ کا انعقاد ہے۔ جلسہ سالانہ کے دوسرے روز رات کو برکینا فاسو کے احمدی طلبہ کی تنظیم ’’FEEMAB‘‘ اس کا اہتمام کرتی ہے۔ اس سال اس فورم میں ڈائیلاگ کے لئے یہ عنوان رکھا گیا تھا۔ ’’برکینا فاسو میں پائیدار امن اور انصاف کے قیام کےلئے کن شرائط کا ہونا ضروری ہے‘‘

اس مکالمے میں گفتگو کرنے کے لئے تین جماعتوں کے نمائندگان ’’ایسوسی ایشن برائے قیام امن و باہمی مکالمہ‘‘ ۲۔ راحیلیا موومنٹ اور ۳۔ جماعت احمدیہ نے حصہ لیا۔ بعد میں حاضرین نے مقررین سے سوالات کئے۔ فورم میں ۸۶ مرد اور ۳۰ خواتین کل ۱۱۶ افراد نے شمولیت اختیار کی ۔

نمائش

جلسہ کے موقع پر ایک خوبصورت نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نمائش میں قرآن مجید کے تراجم، خلفائے کرام کی تصاویر، ارشادات، آنخضور ﷺ کے تبرکات کا عکس، حضرت مسیح موعود ؑ کے تبرکات کا عکس، متفرق زبانوں میں جماعتی لٹریچر کی نمائش کی گئی تھی۔ جلسہ کے مہمانوں نےاس نمائش کو بہت سراہا۔

وائنڈنگ اپ

جلسہ سالانہ کے بعد ایک بہت بڑا کام ’’وائنڈنگ اپ‘‘ کا تھا۔ اس کے لئے پہلے دن خدام کی ایک ٹیم اور بعد ازاں ایک ہفتے تک طلبہ جامعہ نے مسلسل وقار عمل کرکے تمام سامان حفاظت سے اسٹورز میں رکھا۔

جلسہ سالانہ برکینافاسو کے انتظامات کرنے میں جامعہ المبشرین برکینا فاسو کے طلبہ کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اس سال بھی جامعہ کے طلبہ نے عظیم الشان نمونہ قائم کیا اور بے لوث ہوکر تمام کام کرتے رہے۔ کبھی کسی کے چہرہ پر شکن نہیں آئی بلکہ پوری لگن کے ساتھ تمام ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

اللہ تعالیٰ اس جلسہ کے نیک نتائج ظاہر فرمائے ۔ اور جماعت احمدیہ برکینا فاسو کو ترقیات سے نوازتا چلا جائے ۔

جلسہ کے متعلق بعض تاثرات

مکرم حافظ عطاء النعیم صاحب مبلغ سلسلہ نے جلسہ کے خوبصورت اختتامی لمحات پر اپنے تاثرات کا بلا ساختہ اظہار یوں کیا :
’’جلسہ کے ان خوبصورت اختتامی لمحات نے مجھے سارے سال کے لئے توانائی فراہم کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔‘‘

مکرم Dabone خالد صاحب لکھتے ہیں: ’’الحمد للہ اس سال کا جلسہ غیر معمولی طو رپر کامیاب جلسہ رہا‘‘

مکرم Bapina Moumouni صاحب لکھتے: ’’اس جلسہ کی کامیابی کی مبارک باد جامعۃ المبشرین کے طلبہ اور ان کے پرنسپل صاحب کے لئے ہے جنہوں نے جلسہ سے پہلے اور جلسہ کے بعد غیرمعمولی کام کر کے جلسہ کو کامیاب بنایا۔ اللہ انہیں بہترین جزا دے۔‘‘

مکرم جیالو محمود صاحب لکھتے ہیں: ’’میری رائے میں جلسہ سالانہ برکینا فاسو کے اختتامی لمحات اس سے پہلے کبھی اتنے کامیاب اور اتنے جذباتی نہیں رہے جتنے اس سال تھے۔ الحمد للہ ہماری جماعت میچور اور اس میں انتظامات کی صلاحیت مضبوط تر ہو رہی ہے۔ جامعۃ البشرین برکینا فاسو خد اتعالیٰ کے غیرمعمولی افضال میں سے ایک ہے۔‘‘

(رپورٹ: چوہدری نعیم احمد باجوہ افسر جلسہ گاہ ۔ نمائندہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مئی 2021