• 5 دسمبر, 2021

’’ایہو ربّ خلیفہ کیتا ایس نوں مہدی جانو‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
ملک برکت اللہ صاحبؓ پسر حضرت ملک نیاز محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1905ء میں ایک دن بوقتِ عصر ہم کو ’راہوں‘ ضلع جالندھر میں (یعنی جس جگہ یہ رہتے تھے، راہوں ضلع جالندھر میں) وہاں ایک خط، پوسٹ کارڈ ملاکہ حضور علیہ السلام دہلی تشریف لے جا رہے ہیں اور صبح آٹھ یا نو بجے گاڑی پر سے پھگواڑہ سٹیشن پر سے گزریں گے۔ حاجی رحمت اللہ صاحب، چوہدری فیروز خان صاحب مرحوم نے میری ڈیوٹی لگائی کہ تم نوجوان ہو۔ اسی وقت جاؤ اور جماعت کریام کو اطلاع کرو۔ چنانچہ مَیں مغرب کے بعد چل کر کریام پہنچا۔ جماعت کو اطلاع کی گئی۔ وہاں سے بھی کچھ دوست ساتھ ہو لئے۔ ہم سب لوگ اسی طرح چل کر پھگواڑہ جو کہ راہوں سے تیس میل کے فاصلے پر تھا وہاں پہنچے، صبح کی نماز پڑھی۔ وہاں سٹیشن پر منشی حبیب الرحمن صاحب مرحوم نے حاجی پور والوں کی طرف سے احباب جماعت کے ٹھہرنے کا انتظام کیا ہوا تھا اور دن کے وقت اُنہی کی طرف سے کھانا آیا۔ جب گاڑی کا وقت آیا اور گاڑی آ کر گزر گئی تو معلوم ہوا کہ روانگی کی تاریخ تبدیل ہو گئی ہے۔ جو اطلاع تھی اُس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف نہیں لائے بلکہ تاریخ بدل گئی ہے۔ کسی اور دن آئیں گے جس سے ہم کو بہت صدمہ ہوا۔ لکھتے ہیں، یا تو راتوں رات وفورِ محبت کی وجہ سے اتنا لمبا سفر کیا تھا یا یہ حالت ہوئی کہ ایک قدم چلنا بھی دشوار ہو گیا۔ ملنے کا، دیکھنے کا یہ شوق تھا، اُس وجہ سے ہم نے راتوں رات کئی میل کا سفر کیا۔ لیکن اب جب دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف نہیں لا رہے تو پھر پیروں پر جوچھالے پڑے ہوئے تھے وہ بھی یاد آنے لگ گئے۔ صدمہ بھی ہوا اور پھر کہتے ہیں اس صدمے کی وجہ سے واپسی پرہم پھر یکوں پر، (ٹانگوں پر) واپس چلے گئے۔

(ماخوذ ازرجسٹر روایات صحابہ(غیر مطبوعہ) رجسٹر نمبر3 صفحہ نمبر227-228 روایت حضرت ملک نیاز محمد صاحبؓ معرفت ملک برکت اللہ صاحبؓ)

حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحبؓ بیان کرتے ہیں۔ یہ ان کا احمدیت قبول کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ کہتے ہیں کہ مَیں جب آٹھویں جماعت میں طالب علم تھا تو حنفی اور وہابی لوگوں کی یہاں لاہور میں بہت بحث ہوا کرتی تھی۔ مَیں حنفی المذہب تھا۔ مجھے شوق پیدا ہوا کہ وہابیوں کی مسجد میں بھی جاؤں۔ چنانچہ مَیں نے چینیاں والی مسجد میں جانا شروع کیا۔ جب مَیں اُن کی مسجد میں بیٹھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ قال اللّٰہ اور قال الرسول کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ میری طبیعت کا رجحان پھر اہلحدیث کی طرف ہو گیا۔ بعض وقت وہابیوں کی مجلس میں حضرت صاحب کا بھی ذکر آ جایا کرتا تھا کہ وہ کافر ہیں اور ان کا دعویٰ مسیحیت اسلام کے خلاف ہے۔ طبعاً مجھے پھر اس طرف توجہ ہوئی۔ چنانچہ ایک شخص حضرت ولی اللہ صاحب ولد بابا ہدایت اللہ کوچہ چابک سواراں احمدی تھے مَیں اُن کی خدمت میں جانے لگا اور ان سے حضرت صاحب کے متعلق کچھ معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مجھے استخارہ کرنے کے واسطے توجہ دلائی۔ چنانچہ اُن سے مَیں نے طریقِ استخارہ سیکھ کر اور دعائے استخارہ یاد کر کے استخارہ کیا۔ رات کے دو بجے دوسرے روز مَیں ابھی استخارہ کی دعا پڑھ کر سویا ہی تھا کہ رؤیا میں مجھے کسی شخص نے کہا کہ آپ اُٹھ کر دو زانو بیٹھیں کیونکہ آپ کے پاس حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور مجھے بھی زینے سے کسی آدمی کے چڑھنے کی آواز آئی۔ چنانچہ مَیں رویا ہی میں دو زانوبیٹھ گیا۔ اتنے میں مَیں نے دیکھا کہ ایک نہایت سفید لباس میں انسان آیا ہے اور انہوں نے ایک بازو سے حضرت مرزا صاحب کو پکڑ کر میرے سامنے کھڑا کر دیا اور فرمایا: ’’ھٰذَا الرَّجُلُ خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا‘‘۔ پھر وہ دوبارہ تشریف لے گئے اور حضرت صاحب میرے پاس کھڑے ہو گئے اور اپنی ایک انگلی اپنی چھاتی پر مار کرپنجابی میں کہا۔ (انہوں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھاکہ انہوں نے پنجابی میں کہا) ’’ایہو ربّ خلیفہ کیتا ایس نوں مہدی جانو‘‘۔ پھر ایک نظم کی رباعی بھی پڑھی لیکن مَیں بھول گیا ہوں۔ اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ مَیں مسیح موعود ہوں۔ مَیں پھر بیدار ہو گیا۔ صبح میں بجائے سکول جانے کے قادیان روانہ ہو گیا۔ گاڑی بٹالہ تک تھی اور قریباً شام کے وقت وہاں پہنچتی تھی۔ مَیں بٹالہ کی مسجد میں جو اڈے کے سامنے چھوٹی سی ہے نماز پڑھنے کے لئے گیا۔ مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں کا ارادہ ہے؟ مَیں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور قادیان جانے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے حضرت صاحب کو بہت گالیاں دیں اور مجھے وہاں جانے سے روکا۔ جب مَیں نے اپنا مصمم ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے مجھے مسجد سے نکال دیا۔ مَیں اڈے میں آگیا مگر کچھ لوگ اڈے پر بھی میرے پیچھے آئے اور مجھے ہر چند قادیان جانے سے روکا۔ بہت کوشش کی۔ اور کہا کہ اگر تم طالب علم ہو تو ہم تمہیں بڑے میاں کے پاس بٹھا دیں گے اور تمہاری رہائش اور لباس کا بھی انتظام کر دیں گے۔ مگر مَیں نے عرض کیا کہ مَیں پہلے ہی لاہور میں پڑھتا ہوں۔ اس کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔ (اس لئے مجھے یہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔) مَیں قادیان میں حضرت صاحب کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں۔ اس پر انہوں نے زیادہ مخالفت شروع کی مگر مَیں نے پروا نہ کی اور قادیان کی طرف شام کے بعد ہی چل پڑا۔ اندھیرا بہت تھا۔ رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا اور راستہ پہلے دیکھا ہوا نہیں تھا۔ مَیں غلطی سے چراغ کو دیکھ کرجو دور جل رہا تھا مسانیاں چلا گیا۔ (قادیان کی طرف ہی ایک اور جگہ تھی) وہاں نماز عشاء ہو چکی ہوئی تھی۔ ایک آدمی مسجد میں بیٹھا ذکر الٰہی کر رہا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے اور کہاں سے آئے ہیں؟ مَیں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور حضرت مرزا صاحب کو ملنا چاہتا ہوں۔ اس نے جواباً کہا کہ یہ تو مسانیاں ہے۔ قادیان نہیں۔ قادیان یہاں سے دور ہے اور تم یہاں سو جاؤ۔ صبح کے وقت جانا کیونکہ راستہ ٹھیک نہیں ہے۔ چنانچہ مَیں وہاں مسجد میں لیٹ گیا اور چار بجے کے قریب جب چاند چڑھا (لیٹ نائٹ(Late Night) آخری وقت تھا، چاند کے دن تھے، چاند نکلا) تو مَیں نے اُس شخص کو کہا کہ مجھے راستہ دکھا دو۔ وہ مجھے وڈالہ تک چھوڑ گیا اور مجھے سڑک دکھا گیا۔ چنانچہ مَیں نے صبح کی نماز نہر پر پڑھی اور سورج نکلنے کے قریباً ایک گھنٹہ بعد قادیان پہنچ گیا۔ قادیان کے چوک میں جا کر مَیں نے ایک شخص سے پوچھا کہ بڑے مرزا صاحب کہاں ہیں؟ اس نے مجھے کہا کہ وہاں نہا کر سامنے مکان کی حویلی میں تخت پوش پر بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔ (مرزا نظام الدین کی طرف اشارہ کر دیا) کہتے ہیں: مَیں سنتے ہی آگے بڑھا تو مَیں نے دیکھا کہ ایک معمر شخص نہا کر تخت پوش پر بیٹھا ہے اور بدن بھی ابھی اس کا گیلا ہی ہے اور حقہ پی رہا ہے۔ مجھے بہت نفرت ہوئی اور قادیان آنے کا افسوس بھی ہوا۔ (اتنا تردّد کیا، اتنی محنت کی، سفر کیا، قادیان آیا ہوں تومَیں اس شخص کو دیکھ رہا ہوں۔ کہتے ہیں) مَیں مایوس ہو کر واپس ہوا۔ (اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کرنی تھی تو کہتے ہیں)۔ موڑ پر ایک شخص شیخ حامد علی صاحبؓ ملے۔ انہوں نے مجھے پوچھا کہ آپ کس جگہ سے تشریف لائے ہیں اور کس کو ملنا چاہتے ہیں؟ مَیں نے کہا مَیں نے جس کو ملنا تھا اس کو مَیں نے دیکھ لیا ہے اور اب مَیں واپس لاہور جا رہا ہوں۔ میرے اس کہنے پر انہوں نے مجھے فرمایا کہ کیا آپ مرزا صاحب کو ملنے کے لئے آئے ہیں تو یہ وہ مرزا صاحب نہیں ہے جن کو آپ مل کر آئے ہیں، وہ اور ہیں اور مَیں آپ کو ان سے ملا دیتا ہوں۔ تب میری جان میں جان آئی اور مَیں کسی قدر تسکین پذیر ہوا۔ حامد علی صاحب نے مجھے فرمایا کہ آپ ایک رقعہ لکھ دیں مَیں اندر پہنچاتا ہوں۔ جس پر مَیں نے مختصراً یہ لکھا کہ مَیں طالب علم ہوں۔ لاہور سے آیا ہوں۔ زیارت چاہتا ہوں اور آج ہی واپس جانے کا ارادہ ہے۔ حضور نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ مہمان خانے میں ٹھہریں اور کھانا کھائیں اور ظہر کی نماز کے وقت ملاقات ہو گی۔ اس وقت مَیں ایک کتاب لکھ رہا ہوں (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ اس وقت مَیں ایک کتاب لکھ رہا ہوں) اور اس کا مضمون میرے ذہن میں ہے اگر مَیں اس وقت ملاقات کے لئے آیا تو ممکن ہے کہ وہ مضمون میرے ذہن سے اتر جائے۔ اس واسطے آپ ظہر کی نماز تک انتظار کریں۔ مگر مجھے اس جواب سے کچھ تسلی نہ ہوئی۔ مَیں نے دوبارہ حضرت کو لکھا کہ مَیں تمام رات مصیبت سے یہاں پہنچا ہوں اور زیارت کا خواہش مند ہوں۔ للہ مجھے اسی وقت شرف زیارت سے سرفراز فرمائیں۔ تب حضور نے مائی دادی کو کہا کہ ان کو مسجد مبارک میں بٹھاؤ اور مَیں ان کی ملاقات کے لئے آتا ہوں۔ مجھے وہاں کوئی پندرہ منٹ بیٹھنا پڑا۔ اس کے بعد حضور نے مائی دادی کو بھیجا کہ ان کو اس طرف بلا لاؤ۔ حضرت صاحب اپنے مکان سے گلی میں آگئے اور مَیں بھی اس گلی میں آگیا۔ (دوسری طرف سے) دور سے میری نظر جو حضرت صاحب پر پڑی تو وہی رؤیا میں (خواب میں جو دیکھا تھا) جو شخص مجھے دکھایا گیا تھا بعینہٖ وہی حلیہ تھا۔ حضرت صاحب کے ہاتھ میں عصا بھی تھا اور پگڑی بھی پہنی ہوئی تھی۔ سوٹی ہاتھ میں تھی۔ گویا تمام وہی حلیہ تھا۔ اس سے قبل مجھے دادی کی معرفت معلوم ہوا تھا کہ حضرت صاحب کپڑے اتار کر تشریف فرما ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کو مجھے رؤیا والا نظارہ دکھانا منظور تھا۔ اس لئے حضور نے جو لباس زیب تن فرمایا وہ بالکل وہی تھا جو مَیں نے رؤیا میں دیکھا تھا۔ میں حضرت صاحب کی طرف چل پڑا تھا اور حضرت صاحب میری طرف آرہے تھے۔ گول کمرہ کے دروازہ سے ذرا آگے میری اور حضرت صاحب کی ملاقات ہوئی۔ مَیں نے حضرت صاحب کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ خواب والے ہی بزرگ ہیں اور سچے ہیں۔ چنانچہ مَیں حضور سے بغلگیر ہو گیا اور زار زار رونے لگا۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ وہ رونا مجھے کہاں سے آیا اور کیوں آگیا مگر مَیں کئی منٹ تک روتا ہی رہا۔ حضور مجھے فرماتے تھے صبر کریں، صبر کریں۔ جب میرا رونا ذراتھم گیا اور مجھے ہوش قائم ہوئی تو حضور نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ مَیں نے عرض کیا لاہور سے۔ حضور نے فرمایا کیوں آئے؟ مَیں نے کہا زیارت کے لئے۔ حضور نے فرمایا: کوئی خاص کام ہے؟ مَیں نے پھر عرض کیا کہ صرف زیارت ہی مقصد ہے۔ حضور نے فرمایا۔ بعض لوگ دعا کرانے کے لئے آتے ہیں اپنے مقصد کے لئے۔ کیا آپ کو بھی کوئی ایسی ضرورت درپیش ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی ضروت درپیش نہیں۔ تب حضور نے فرمایا کہ مبارک ہو۔ اہل اللہ کے پاس ایسے بے غرض آنا بہت مفید ہوتا ہے۔ (یہ غالباً حضرت صاحب نے مجھ سے اس لئے دریافت فرمایا تھا کہ ان ایام میں حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں لکھا تھا کہ بعض لوگ میرے پاس اس لئے آتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے لئے دعا کرائیں)۔

(رجسٹر روایات صحابہ(غیر مطبوعہ) رجسٹر نمبر9 صفحہ نمبر120تا126روایت حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحبؓ) لیکن میری اس بات سے بہت خوش ہوئے، مبارکباد دی کہ میرا تو مقصد صرف اور صرف آپ کو ملنا اور زیارت تھا۔)

(خطبہ جمعہ 4؍ مئی 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2021