• 5 دسمبر, 2021

مسلمانوں میں رائج بعض بابرکت کلمات کا استعمال

light flower

مسلمانوں میں رائج بعض بابرکت کلمات کا استعمال
(احادیث کی روشنی میں)

موجودہ زمانہ میں اسلامی شعار
کواستعمال کرنے کی خاص اہمیت

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بدترحالت کو بیان کرتے ہوئے اس کی ایک مثال یہ بھی دی کہ اب مسلمانوں میں اسلامی اقدار اور اسلامی شعار کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اور مسلمان کی نئی نسل ان اسلامی شعار کو بھولتی چلی جارہی ہے۔ اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ ان اسلامی اقدار کو رواج دیا جائے اور اگلی نسلوں کو یہ باتیں سکھلائی جائیں۔ تاکہ روزمرہ استعمال ہونے والے یہ بابرکت الفاظ جو ذکر الٰہی اور دراصل دعا سے بھرے ہوئے ہیں ان کی عام برکت دنیا میں پھیلے۔

اے معزز بزرگان اسلام! مجھے اس بات پر یقین کلی ہے کہ آپ سب صاحبان پہلے سے اپنے ذاتی تجربہ اور عام واقفیت سے ان خرابیوں موجودہ زمانہ پر کہ جن کا بیان کرنا ایک درد انگیز قصہ ہے بخوبی اطلاع رکھتے ہوں گے اور جو جو فساد طبائع میں واقعہ ہو رہے ہیں اور جس طرح پر لوگ بباعث اغوا اور اضلال وسوسہ اندازوں کے بگڑتے جاتے ہیں آپ پر پوشیدہ نہ ہوگا پس یہ سارے نتیجے اسی بات کے ہیں کہ اکثر لوگ دلائل حقیت اسلام سے بے خبر ہیں اور اگر کچھ پڑھے لکھے بھی ہیں تو ایسے مکاتب اور مدارس میں کہ جہاں علوم دینیہ بالکل سکھائے نہیں جاتے اور سارا عمدہ زمانہ ان کے فہم اور ادارک اور تفکر اور تدبر کا اور اور علوم اور فنون میں کھویا جاتا ہے اور کوچہ دین سے محض ناآشنا رہتے ہیں پس اگران کو دلائل حقیت اسلام سے جلد تر باخبر نہ کیا جائے تو آخر کار ایسے لوگ یا تو محض دنیا کے کیڑے ہوجاتے ہیں کہ جن کو دین کی کچھ بھی پروا نہیں رہتی اور یا الحاد اور ارتداد کا لباس پہن لیتے ہیں یہ قول میرا محض قیاسی بات نہیں بڑے بڑے شرفا کے بیٹے میں نے اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں جو بباعث بے خبری دینی کے اصطباغ پائے ہوئے گرجا گھروں میں بیٹھے ہیں اگر فضل عظیم پروردگار کا ناصر اور حامی اسلام کا نہ ہوتا اور وہ بذریعہ پرزور تقریرات اور تحریرات علماءاور فضلاءکے اپنے اس سچے دین کی نگہداشت نہ کرتا تو تھوڑا زمانہ نہ گزرنا پاتا جو دنیا پرست لوگوں کو اتنی خبر بھی نہ رہتی جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس ملک میں پیدا ہوئے تھے بالخصوص اس پرآشوب زمانہ میں کہ چاروں طرف خیالات فاسدہ کی کثرت پائی جاتی ہے اگر محققان دین اسلام جو بڑی مردی اور مضبوطی سے ہریک منکر اور ملحد کے ساتھ مناظرہ اور مباحثہ کررہے ہیں اپنی اس خدمت اور چاکری سے خاموش رہیں تو تھوڑی ہی مدت میں اس قدر شعار اسلام کا ناپدید ہوجائے کہ بجائے سلام مسنون کے گڈبائی اور گڈ مارننگ کی آواز سنی جائے پس ایسے وقت میں دلائل حقیت اسلام کی اشاعت میں بَدِل مشغول رہنا حقیقت میں اپنی ہی اولاد اور اپنی ہی نسل پر رحم کرنا ہے کیونکہ جب وبا کے ایام میں زہرناک ہوا چلتی ہے تو اس کی تاثیر سے ہریک کو خطرہ ہوتا ہے۔

(براہینِ احمدیہ، روحانی خزائن حصہ اول صفحہ8)

’’اس زمانہ میں اسلام کے اکثر امراء کا حال سب سے بدتر ہے وہ گویا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق و فجور کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ دین سے وہ بالکل بے خبر اور تقویٰ سے خالی اور تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں۔ اگر ایک غریب ان کو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہے تو اس کے جواب میں وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ کہنا اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ بلکہ غریب کے منہ سے اس کلمہ کو ایک گستاخی کا کلمہ اور بیباکی کی حرکت خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ پہلے زمانہ کے اسلام کے بڑے بڑے بادشاہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ میں کوئی اپنی کسر شان نہیں سمجھتے تھے مگر یہ لوگ تو بادشاہ بھی نہیں ہیں۔ پھر بھی بے جا تکبر نے ان کی نظر میں ایسا پیارا کلمہ جو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ہے جو سلامت رہنے کے لئے ایک دعا ہے حقیر کرکے دکھایا ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ زمانہ کس قدربدل گیا ہے کہ ہرایک شعار اسلام کا تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘

(چشمہ ٔمعرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ327)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جواللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار تھا اس کی گہرائی اور وسعت اور حقیقت کو تو کوئی نہیں پاسکتا یہ محبت ایسی تھی کہ چھپائے نہیں چھپتی تھی اور آپ کی ہرحرکت وسکون اور اُٹھنے بیٹھنے سے بے اختیار ظاہر ہوتی، علاوہ فرض نمازوں اور نوافل کے آپ کی زبان سے کسی نہ کسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کا ذکریوں جاری رہتا جیسے انسان اپنی زندگی کی بقا کے لئے ہر وقت سانس لیتا رہتا ہے ذرا سی اس میں روک پیدا ہو تو تکلیف محسوس کرتا ہے۔ ایساہی آپ کودیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ ’’كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ أَحْيَانِهٖ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔

(ترمذی، کتاب الدعوات)

ہر وقت اللہ تعالیٰ کےذکر کا آپؐ کا عجیب انداز تھا سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے، نماز پڑھتے ہوئے، کھانا کھاتے ہوئے، پانی پیتے ہوئے، لباس پہنتے، جوتا پہنتے، گھر سے باہرجاتے، گھر کے اندر آتے، کسی نہ کسی انداز میں دعا کے رنگ میں اور برکت کے لئے اللہ تعالیٰ کا نام لیتے۔ اس کی چند مثالیں اس مضمون میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بِسْمِ اللّٰہِ…۔ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ
قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے

قرآن کریم کی ہرسورۃ کا آغاز سوائے سورۃ توبہ کے انہیں بابرکت کلمات سے ہوتاہے۔ نیز سورۃ نمل میں یہ کلمات دو دفعہ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک سورۃ کے آغاز میں اورایک دفعہ اس سورۃ میں جہاں اس خط کا ذکر ہے جو حضرت سلمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو لکھا۔ اس خط کا آغاز بھی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے ہو اہے۔ احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جن خطوط کا ذکر ملتا ہے ان کا آغاز بھی انہی بابرکت کلمات سے ہوتاہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، مِنْ مُّحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ إِلٰى هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ، سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّيْٓ أَدْعُوْكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللّٰهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيْسِيِّيْنَ، وَيَآ أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوْا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ’’

(صحیح بخاری، باب بدء الوحی)

یعنی اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ خط ہے شاہ روم کے لئے۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے بعد میں آپ کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتا ہوں۔ اگر آپ اسلام لے آئیں گے تو دین و دنیا میں سلامتی نصیب ہو گی۔ اللہ آپ کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر آپ میری دعوت سے روگردانی کریں گے تو آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ ہی پر ہو گا۔ اور اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے۔ پھر اگر وہ اہل کتاب اس بات سے منہ پھیر لیں تو مسلمانو! تم ان سے کہہ دو کہ تم مانو یا نہ مانو ہم تو ایک اللہ کے اطاعت گزار ہیں۔

کھانا کھانے یا کوئی چیز پیتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہِ… پڑھنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے یاکوئی مشروب پیتے ہوئے بھی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا ارشاد فرمایا جیسے کہ احادیث میں یہ ذکرہے کہ

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِيْ سِتَّةِ نَفَرٍ مِّنْ أَصْحَابِهٖ، فَجَآءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهٗ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’أَمَا أَنَّهٗ لَوْ كَانَ قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَآ أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا , فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ، فَإِنْ نَّسِيَ أَنْ يَّقُوْلَ: بِسْمِ اللّٰهِ فِيْٓ أَوَّلِهٖ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللّٰهِ فِيْٓ أَوَّلِهٖ وَاٰخِرِهٖ‘‘

(سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمہ)

یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سنو، اگر یہ شخص بِسْمِ اللّٰہِ کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ بِسْمِ اللّٰہِ کہے، اگر وہ شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ کہنا بھول جائے تو یوں کہے: بِسْمِ اللّٰهِ فِيْٓ أَوَّلِهٖ وَاٰخِرِهٖ

اسی طرح ایک حدیث میں یہ بھی ذکر ہے۔

’’عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِيْ سَلَمَةَ، أَنَّهٗ دَخَلَ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ طَعَامٌ قَالَ: “ اُدْنُ يَا بُنَيَّ وَسَمِّ اللّٰهَ وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ‘‘

(سنن ترمذی، کتاب الاطعمہ)

عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا، آپ نے فرمایا: ’’بیٹے! قریب ہو جاؤ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے اور جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ۔

وضو کرتے ہوئے بِسْمِ اللّٰه ِپڑھنا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کے وقت بھی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

لَا وُضُوْءَ لِمَنْ لَّمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ

(جامع ترمذی، کتاب الطہارہ)

جو بِسْمِ اللّٰہِ کر کے وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا

اِنْ شَآءَ اللّٰہُ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا

یعنی اگر اللہ نے چاہا اور اِسے ہر کام کے ارادہ کرنے پر پڑھا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَآءَ اللّٰهُ فَلَهٗ ثُنْيَاہٗ۔‘‘

(سنن ابن ماجہ، باب الکفارات)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہا، تو اس کا اِنْ شَآءَ اللّٰہُ کہنا اسے فائدہ دے گا۔

اسی طرح حضرت عتبان بن مالک ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

كُنْتُ أُصَلِّيْ لِقَوْمِيْ بَنِيْ سَالِمٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ’’إِنِّيْٓ أَنْكَرْتُ بَصَرِيْ وَإِنَّ السُّيُوْلَ تَحُوْلُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِيْ، فَلَوَدِدْتُّ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِيْ بَيْتِيْ مَكَانًا حَتّٰٓى أَتَّخِذَہٗ مَسْجِدًا، فَقَالَ: أَفْعَلُ إِنْ شَآءَ اللّٰهُ، فَغَدَا عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُوْ بَكْرٍ مَّعَهٗ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهٗ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتّٰى، قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِيْ أَحَبَّ أَنْ يُّصَلِّيَ فِيْهِ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهٗ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِيْنَ سَلَّمَ‘‘۔

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیا ن کیاکہ میں اپنی قوم بنی سالم کی امامت کیا کرتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری آنکھ خراب ہو گئی ہے اور (برسات میں) پانی سے بھرے ہوئے نالے میرے اور میری قوم کی مسجد کے بیچ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے مکان پر تشریف لا کر کسی ایک جگہ نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسے اپنی نماز کے لیے مقرر کر لوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ میں تمہاری خواہش پوری کروں گا صبح کو جب دن چڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور میں نے دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں بلکہ پوچھا کہ گھر کے کس حصہ میں نماز پڑھوانا چاہتے ہو۔ ایک جگہ کی طرف جسے میں نے نماز پڑھنے کے لیے پسند کیا تھا۔ اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی پھیرا۔

سُبْحَانَ اللّٰهِ یعنی اللہ پاک ہے

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’كَلِمَتَانِ حَبِيْبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ خَفِيْفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيْلَتَانِ فِي الْمِيْزَانِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ۔‘‘

(صحیح بخاری، کتاب التوحید)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بہت بھاری اور باوزن ہوں گے، وہ کلمات مبارکہ یہ ہیں سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ۔‘‘

اس کے علاوہ بھی متعدد مواقع پر سُبْحَانَ اللّٰهِ بولا جاتا ہے۔ چند ایک کا حدیث میں اس طرح ذکر ہے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، قَالَ:’’ كُنَّآ إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا‘‘

(صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے، تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور جب کسی نشیب میں اترتے تو سُبْحَانَ اللّٰهِ کہتے تھے۔

اسی طرح باجماعت نماز کے دوران کوئی غیرمعمولی بات ہوجائے تو امام الصلوٰۃ کو توجہ دلانے کے لئے سُبْحَانَ اللّٰهِ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے۔

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ،‘‘ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهٗٓ أَنَّ بَنِيْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِيْٓ أُنَاسٍ مَّعَهٗ، فَحُبِسَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَآءَ بِلَالٌ إِلٰٓى أَبِيْ بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَآ أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ الصَّلَاةُ، فَهَلْ لَّكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ، فَأَقَامَ بِلَالٌ وَّتَقَدَّمَ أَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَكَبَّرَ لِلنَّاسِ وَجَآءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِيْ فِي الصُّفُوْفِ حَتّٰى قَامَ فِي الصَّفِّ فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيْقِ، وَكَانَ أَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِيْ صَلَاتِهٖ، فَلَمَّآ أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهٗٓ أَنْ يُّصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللّٰهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَآءَهٗ حَتّٰى قَامَ فِي الصَّفِّ، فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ , فَقَالَ: يَآ أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِيْنَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيْقِ إِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَآءِ، مَنْ نَّابَهٗ شَيْءٌ فِيْ صَلَاتِهٖ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللّٰهِ فَإِنَّهٗ لَا يَسْمَعُهٗٓ أَحَدٌ حِيْنَ يَقُوْلُ سُبْحَانَ اللّٰهِ، إِلَّا الْتَفَتَ يَآ أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِيْنَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟ , فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: مَا كَانَ يَنْبَغِيْ لِابْنِ أَبِيْ قُحَافَةَ أَنْ يُّصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

(صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ)

سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں باہم کوئی جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ صلح کروانے کے لئے وہاں تشریف لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مشغول ہی تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ اس لیے بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر تکبیر تحریمہ کہی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے تالیاں بجانی شروع کردیں۔ لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف دھیان نہیں دیا کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کے لیے کہا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف آ کر صف میں کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگو! نماز میں کوئی ایک امر پیش آنے پرتم تالیاں کیوں مارنے لگے تھے، یہ تالیاں مارنا تو عورتوں کا کام ہے۔ جس کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سُبْحَانَ اللّٰهِ کہے کیونکہ جب بھی کوئی سُبْحَانَ اللّٰهِ سنے گا وہ ادھر خیال کرے گا اور اے ابوبکر! میرے اشارے کے باوجود تم لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔

اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِيْ ذُكِرَ، وَمَا عَلِمْتُ بِهٖ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيْبًا، فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهٗ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ: أَشِيْرُوْا عَلَيَّ فِيْٓ أُنَاسٍ أَبَنُوْٓا أَهْلِيْ، وَايْمُ اللّٰهِ مَا عَلِمْتُ عَلٰٓى أَهْلِيْ مِنْ سُوٓءٍ قَطُّ، وَأَبَنُوْهُمْ بِمَنْ وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوٓءٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِيْ قَطُّ، إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَّلَا غِبْتُ فِيْ سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِيَ، وَسَاقَ الْحَدِيْثَ بِقِصَّتِهٖ وَفِيْهِ، وَلَقَدْ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِيْ، فَسَأَلَ جَارِيَتِيْ، فَقَالَتْ: وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّآ أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتّٰى تَدْخُلَ الشَّاةُ، فَتَأْكُلَ عَجِيْنَهَا، أَوْ قَالَتْ: خَمِيْرَهَا، شَكَّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهٖ، فَقَالَ اصْدُقِيْ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰٓى أَسْقَطُوْا لَهَا بِهٖ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَآ إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّآئِغُ عَلٰى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ، وَقَدْ بَلَغَ الْأَمْرُ ذَالِكَ الرَّجُلَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهٗ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَاللّٰهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثٰى قَطُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقُتِلَ شَهِيْدًا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَفِيْهِ أَيْضًا مِّنَ الزِّيَادَةِ، وَكَانَ الَّذِيْنَ تَكَلَّمُوْا بِهٖ مِسْطَحٌ وَّحَمْنَةُ وَحَسَّانُ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَهُوَ الَّذِيْ كَانَ يَسْتَوْشِيْهِ وَيَجْمَعُهٗ وَهُوَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ وَحَمْنَةُ‘‘

(صحیح مسلم، کتاب التوبہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ: جب لوگوں نے میری نسبت بیان کیا جو بیان کیا اور مجھے خبر نہ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے اور تشہد پڑھا اللہ کی تعریف کی اور اس کی صفت بیان کی جیسی اس کے لائق ہے پھر کہا: امابعد! مشورہ دو مجھ کو ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے تہمت لگائی میرے گھر والوں کو، اللہ کی قسم! میں تو اپنی گھر والی پر کوئی برائی کبھی نہیں جانی اور جس شخص سے انہوں نے تہمت لگائی اس کی بھی کوئی برائی میں نے کبھی نہیں دیکھی اور نہ وہ کبھی میرے گھر میں آیا مگر اسی وقت جب میں موجود تھا اور جب میں سفر میں گیا وہ بھی میرے ساتھ گیا اور بیان کیا سارا قصہ حدیث کا اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں آئے اور میری خادمہ سے حال پوچھا: اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے عائشہ کا کوئی عیب نہیں دیکھا البتہ یہ عیب تو ہے کہ وہ سو جاتی ہیں پھر بکری آتی ہے اور ان کا آٹا کھا لیتی ہے یا خمیر کھا لیتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے اسے جھڑکا اور کہا سچ کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں تک کہ صاف کہہ دیا اس سے یہ واقعہ تہمت کا یا سخت سست کہا اس کو وہ کہنے لگی: سُبْحَانَ اللّٰهِ، اللہ کی قسم! میں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسا جانتی ہوں جیسے سنار خالص سرخ سونے کی ڈلی کو جانتا ہے یعنی بے عیب یہ خبر اس مرد کو پہنچی جس سے تہمت کرتے تھے۔ وہ بولا: سُبْحَانَ اللّٰهِ، اللہ کی قسم! میں نے کسی عورت کا کپڑا کبھی نہیں کھولا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ مرد اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ تہمت کرنے والوں میں مسطح تھا اور حمنہ تھی اور حسان تھا اور منافق عبداللہ بن ابی وہ تو کھود کھود کر اس بات کو نکالتا پھر اس کو اکٹھا کرتا اور وہی بانی مبانی تھا اور حمنہ بنت حجش۔

اَللّٰهُ اَكْبَرُ کہنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اچھی اور پسندیدہ خبر ملنے پر اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے:

عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: ’’أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ فِي اٰخِرِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِيْٓ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِيْٓ اٰخِرِهٖ، قُلْتُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، أَمْ فِيْٓ اٰخِرِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَآ أَوْتَرَ فِيْٓ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَآ أَوْتَرَ فِيْٓ اٰخِرِهٖ، قُلْتُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْاٰنِ، أَمْ يَخْفُتُ بِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهٖ، وَرُبَّمَا خَفَتَ، قُلْتُ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً‘‘

(سنن ابی داؤد، کتاب الطہارہ)

غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں غسل جنابت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ رات کے پہلے حصہ میں غسل فرماتے، کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں پڑھتے تھے اور کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن زور سے پڑھتے دیکھا ہے یا آہستہ سے؟ کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے پڑھتے اور کبھی آہستہ سے، میں نے کہا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں وسعت رکھی ہے۔

أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ’’اِسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ مَاذَآ أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَآئِنِ، وَمَاذَآ أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُّوْقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يُرِيْدُ بِهٖٓ أَزْوَاجَهٗ حَتّٰى يُصَلِّيْنَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْاٰخِرَةِ”، وَقَالَ ابْنُ أَبِيْ ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلَّقْتَ نِسَآءَكَ۔ قَالَ:‘‘ لَا”۔ قُلْتُ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ‘‘

(بخاری، کتاب الادب)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) بیدار ہوئے اور فرمایا ’’سُبْحَانَ اللّٰهِ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا اَللّٰہُ اَکْبَرُ!۔

بلندی پر چڑھتے ہوئے اَللّٰهُ اَكْبَرُ اور اترتے ہوئے بھی سُبْحَانَ اللّٰهِ کہنا

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، قَالَ:” كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا”

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے، تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور جب کسی نشیب میں اترتے تو سُبْحَانَ اللّٰهِ کہتے تھے۔

جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہنا

بھلائی کرنے والے کے شکریہ کے طورپر جزاکم اللہ خیرا کہنا۔

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوْفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهٖ: جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَآءِ‘‘

(ترمذی، کتاب البروالصلہ)

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے (جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا) اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی‘‘


سہولت کا سبب بننے والے کو جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہنا جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے:

عَنْ عَائِشَةَ،’’ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْأَسْمَآءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَوَجَدَهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَآءٌ فَصَلَّوْا، فَشَكَوْا ذَالِكَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ اٰيَةَ التَّيَمُّمِ‘‘ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِّعَائِشَةَ: جَزَاكِ اللّٰهُ خَيْرًا، فَوَاللّٰهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِيْنَهٗٓ إِلَّا جَعَلَ اللّٰهُ ذَالِكِ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِيْنَ فِيْهِ خَيْرًا

(صحیح بخاری، کتاب التیمم)

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار مانگ کر پہن لیا تھا، وہ گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا، جسے وہ مل گیا۔ پھر نماز کا وقت آ پہنچا اور لوگوں کے پاس (جو ہار کی تلاش میں گئے تھے) پانی نہیں تھا۔ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری جسے سن کر اسید بن حضیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا آپ کو اللہ بہترین بدلہ دے۔ واللہ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسی بات پیش آئی جس سے آپ کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اس میں خیر پیدا فرما دی۔

ذکر خیر کرنے والے کو جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہنا

اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد (خنجر سے) زخمی ہوئے، میں ان کے پاس گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف بیان کرنے لگے اور کہا:
’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔

تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’رَاغِبٌ وَّ رَاھِبٌ……‘‘ مجھے اللہ تعالیٰ سے امید بھی ہے اور میں خوف زدہ بھی ہوں۔

(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ باب الاستخلاف و ترکہ)

فروخت کرنے والے کا قیمت کی پوری ادائیگی پر جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہنا

حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ایک طویل حدیث بیان کرتی ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک اعرابی سے کھجوروں کے بدلے میں اونٹ خریدے۔ گھر میں کھجوریں دستیاب نہ ہوئیں، اعرابی کو بتایا تو وہ دھوکے کا واویلا کرنے لگا۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کھجوروں کا پوچھ کر اعرابی کو ان کے پاس بھیجا۔ بعد میں جب اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو کہنے لگا:

’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا فَقَدْ أَوْفَیْتَ وَ أَطْیَبْتَ۔‘‘ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے، آپ نے پورا پورا اور خوب عمدہ ادا کر دیا۔

(مسند أحمد 6/ 268۔ 269)

احسان کرنے والے کو جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہنا

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جَزَاکُمُ اللّٰہُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ خَیْرًا وَّ لَا سِیَّمَآ اٰلَ عَمْرِوبْنِ حَرَامٍ وَّ سَعُدُ بْنُ عُبَادَۃَ۔

(السنن الکبریٰ للنسائی، 361/7 رقم الحدیث 8223)

یعنی اے انصار! اللہ تعالیٰ تمھیں جزائے خیر دے۔ خاص طور پر آل عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے کو سلام کہنے کی بہت تاکید فرمائی اور آپ کے صحابہ بھی اس کا بہت اہتمام کرتے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے:

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو، ’’أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلٰى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَّمْ تَعْرِفْ‘‘

(سنن ابوداؤد، ابواب السلام)

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔‘‘

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتّٰى تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰى تَحَآبُّوْا، أَفَلَآ أَدُلُّكُمْ عَلٰٓى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ‘‘۔

(سنن ابوداؤد، ابواب السلام)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگوگے۔ آپس میں سلام کو عام کرو‘‘۔

پھر ایک حدیث میں ہے :

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: ’’جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ ثُمَّ جَآءَ اٰخَرُ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ: عِشْرُوْنَ ثُمَّ جَآءَ اٰخَرُ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ: ثَلَاثُوْنَ‘‘

(سنن ابوداؤد، ابواب السلام)

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ‘‘ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کو دس نیکیاں ملیں‘‘ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ‘‘ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ’’اس کو بیس نیکیاں ملیں‘‘ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ‘‘ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ’’اسے تیس نیکیاں ملیں‘‘۔

تین دفعہ سلام کرنا

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ’’إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلَاثًا وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا‘‘۔

(بخاری، کتاب الاستئذان)

انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی (مجمع میں زیادہ لوگوں) کو سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے اور جب کوئی بات کرتے تو (سمجھانے کے لئے) تین دفعہ بات کرتے۔

مَرْحَبًا (خوش آمدید) کہنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والوں سے محبت کے اظہار کے لئے مَرْحَبًا فرماتے۔

قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ مَرْحَبًا بِابْنَتِيْ وَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ۔

(صحیح بخاری، کتاب الادب)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ علیہا السلام سے فرمایا تھا ’’مَرْحَبًا میری بیٹی‘‘ اور ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مَرْحَبًا، ام ہانی۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِيْنَ جَآءُوْا غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامٰى” فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، إِنَّا حَيٌّ مِّنْ رَّبِيْعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنَدْعُوْ بِهٖ مَنْ وَّرَآءَنَا فَقَالَ:” أَرْبَعٌ وَّأَرْبَعٌ: أَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَصُوْمُوْا رَمَضَانَ وَأَعْطُوْا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوْا فِي الدُّبَّآءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيْرِ وَالْمُزَفَّتِ‘‘

(صحیح بخاری، کتاب الادب)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو تشریف لائے۔ نہ ان کی تحقیرہوگی اور نہ وہ شرمندہ ہوں گے ان کو یعنی ان کو ہمارے ہاں عزت ملے گی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہم کو ایسی بات بتا دیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کرو اور دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نہ پیو۔ (یعنی شراب اورشراب بنانے کے لئے استعمال ہونے والے برتن استعمال نہ کرو)

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھنا

کسی مصیبت یا تکلیف پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے:

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا، أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُوْلُ: ’’مَا مِنْ مُّسْلِمٍ يُّصَابُ بِمُصِيْبَةٍ، فَيَفْزَعُ إِلٰى مَآ أَمَرَ اللّٰهُ بِهٖ مِنْ قَوْلِهٖ: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيْبَتِيْ فَأْجُرْنِيْ فِيْهَا وَعُضْنِيْ مِنْهَآ إِلَّا اٰجَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهٗ خَيْرًا مِّنْهَا”، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُوْ سَلَمَةَ، ذَكَرْتُ الَّذِيْ حَدَّثَنِيْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيْبَتِيْ هٰذِهٖ فَأْجُرْنِيْ عَلَيْهَا فَإِذَآ أَرَدْتُّ أَنْ أَقُوْلَ: وَعِضْنِيْ خَيْرًا مِّنْهَا، قُلْتُ فِيْ نَفْسِيْ: أُعَاضُ خَيْرًا مِّنْ أَبِيْ سَلَمَةَ، ثُمَّ قُلْتُهَا، فَعَاضَنِي اللّٰهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاٰجَرَنِيْ فِيْ مُصِيْبَتِيْ‘‘

(سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز)

حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيْبَتِيْ فَأْجُرْنِيْ فِيْهَا وَعُضْنِيْ مِنْهَآ إِلَّا اٰجَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهٗ خَيْرًا مِّنْهَا ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے‘‘ جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میرے شوہر ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانچہ میں نے کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيْبَتِيْ هٰذِهٖ فَأْجُرْنِيْ عَلَيْهَا فَإِذَآ أَرَدْتُّ أَنْ أَقُوْلَ: وَعِضْنِيْ خَيْرًا مِّنْهَا ’’مجھے اس سے بہتر بدلا دے‘‘ کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔

اسی طرح جب مکہ والوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت پر مجبور کر دیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس غمناک خبر سننے پر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّآ أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَّكَّةَ قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: أَخْرَجُوْا نَبِيَّهُمْ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ لَيَهْلِكُنَّ فَنَزَلَتْ: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرٌ۔ فَعَرَفْتُ أَنَّهٗ سَيَكُوْنُ قِتَالٌ”، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَهِيَ أَوَّلُ اٰيَةٍ نَّزَلَتْ فِي الْقِتَالِ‘‘

(سنن نسائی، کتاب الجہاد باب وجوب الجہاد)

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی ’’اُذِِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرٌ‘‘ جن مسلمانوں سے کافر جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے‘‘۔ تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ’’یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے‘‘۔

بعض مسلمانوں کی حالت بگڑنے پر اِنَّا لِلّٰہِ پڑھنا

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهٗ مَرَّ عَلٰى قَاصٍّ يَّقْرَأُ، ثُمَّ سَأَلَ فَاسْتَرْجَعَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ’’مَنْ قَرَأَ الْقُرْاٰنَ فَلْيَسْأَلِ اللّٰهَ بِهٖ فَإِنَّهٗ سَيَجِيْٓءُ أَقْوَامٌ يَّقْرَءُوْنَ الْقُرْاٰنَ يَسْأَلُوْنَ بِهِ النَّاسَ‘‘

(سنن ترمذی، کتاب فضائل القرآن)

عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا قرآن پڑھ کر وہ مانگنے لگا۔ تو انہوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔

تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهٖٓ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهٖ كَانَ مَعَهٗ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهٖ فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللّٰهِ قَالَا: هُدِيْتَ وَإِذَا قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَا: وُقِيْتَ وَإِذَا قَالَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ قَالَا: كُفِيْتَ قَالَ: فَيَلْقَاهُ قَرِيْنَاهُ فَيَقُوْلَانِ: مَاذَا تُرِيْدَانِ مِنْ رَّجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ‘‘

(سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ بِسْمِ اللّٰهِ کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تُو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔

إِنْ شَآءَ اللّٰهُ کہنا

کسی کام کا ارادہ کرتے ہوئے إِنْ شَآءَ اللّٰهُ کہنا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أَتَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ رَهْطٍ مِّنَ الْأَشْعَرِيِّيْنَ أَسْتَحْمِلُهٗ، فَقَالَ:’’ وَاللّٰهِ لَآ أَحْمِلُكُمْ مَّا عِنْدِيْ مَا أَحْمِلُكُمْ‘‘، ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَآءَ اللّٰهُ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَا يُبَارِكُ اللّٰهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهٗ، فَحَلَفَ أَنْ لَّا يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا، فَقَالَ أَبُوْ مُوسٰى: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَالِكَ لَهٗ، فَقَالَ: ” مَآ أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللّٰهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّيْ وَاللّٰهِ إِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَآ أَحْلِفُ عَلٰى يَمِيْنٍ، فَأَرٰى غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَآ إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَّمِيْنِيْ وَأَتَيْتُ الَّذِيْ هُوَ خَيْرٌ‘‘

(صحیح بخاری، کتاب الکفارات)

یعنی میں رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لیے جانور مانگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ اللہ قسم! اگر اللہ نے چاہا تو جب بھی میں کوئی قسم کھا لوں گا اور پھر اس کے سوا اور چیز میں اچھائی ہو گی تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہی کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی۔

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ کہنا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کثرت سے استغفار کرنے اور اس کی تلقین کرنے کا بے شمار دفعہ احادیث میں ذکر ہے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: ’’ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ؟ فَقَالَ:’’ خَبَّرَنِيْ رَبِّيْٓ أَنِّيْ سَأَرٰى عَلَامَةً فِيْٓ أُمَّتِيْ، فَإِذَا رَأَيْتُهَآ اَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ، فَتْحُ مَكَّةَ، وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا۔ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ اسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا‘‘

(سورة النصر)

(صحیح مسلم،کتاب الصلاۃ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ فرماتے تھے: ’’سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ‘‘ کہتی ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ ’’سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ‘‘ زیادہ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھ سے میرے رب نے بیان کیا کہ تو اپنی امت میں ایک نشانی دیکھے گا۔ پھر جب اس نشانی کو دیکھتا ہوں تو تسبیح کہتا ہوں یعنی ’’سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ (کہتا ہوں۔ وہ نشانی یہ ہے) اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ۔ وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا۔ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ اسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ یعنی اللہ کی مدد آ گئی اور مکہ فتح ہو گیا اور لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق شریک ہونے لگے، تو اللہ کی تعریف کر، پاکی بول اور بخشش مانگ اس سے، وہ بخشنے والا ہے۔

عَنْ أَبِيْٓ أُمَيَّةَ الْمَخْزُوْمِيِّ، ’’أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَّلَمْ يُوْجَدْ مَعَهٗ مَتَاعٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَآ إِخَالُكَ سَرَقْتَ، قَالَ: بَلٰى، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَأَمَرَ بِهٖ فَقُطِعَ وَجِيْٓءَ بِهٖ، فَقَالَ: اِسْتَغْفِرِ اللّٰهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ثَلَاثًا‘‘

(ابوداؤد، کتاب الحدود)

یعنی: حضرت ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے‘‘ اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو‘‘ اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: ’’اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما‘‘۔

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِّنْ كُنُوْزِ الْجَنَّةِ‘‘

(ترمذی، کتاب الدعوات)

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ‘‘ کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهٖ قَالَ: ’’ بِسْمِ اللّٰهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، اَلتُّكْلَانُ عَلَى اللّٰهِ‘‘

(سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، اَلتُّكْلَانُ عَلَى اللّٰهِ ’’اللہ کے نام سے (میں نکل رہا ہوں) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں، اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔

(مولانا فضل الرحمٰن ناصر۔ استاذ جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2021