• 26 جنوری, 2022

خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پُر مسرت تقریب

بسم اللہ الرحمٰن الرّ حیم

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے 06نومبر 2021ء بروز ہفتہ کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے خصوصی طور پر اور احبا ب جماعت کے لئے عمومی طور پر ایک مبارک دن کے طور پر طلوع فرمایا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی آل کے لئے اپنے رب کے حضور التجا ’’بابرگ و بار ہو ویں اک سے ہزار ہو ویں۔ یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے اس روز ایک مرتبہ پھر شرفِ قبولیت عطا فرماتے ہوئے آپ کی نسل میں سے ایک بچہ اور بچی کو رشتہ ازدواج میں منسلک فرمایا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

نمازِ ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد ہمارے پیارے امام حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد مبارک اسلام آباد، ٹلفورڈ یو کے میں اپنے نواسے اور محترم فاتح احمد ڈاہری صاحب وکیل تعمیل و تنفیذ بھارت و محترمہ صاحبزادی امۃ الوارث فرح صاحبہ کے فرزند مکرم منصور احمد ڈاہری صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ اور محترم سید خالد احمد شاہ صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی صدر انجمن احمدیہ ربوہ پاکستان و محترمہ سیدہ امتہ الباسط ماریہ صاحبہ کی صاحبزادی محترمہ سیدہ یمنیٰ خلود صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ کے نکاح کا ساڑھے تین ہزار پاؤنڈ حق مہر پر اعلان کرتے ہوئے درج ذیل خطبہ نکاح ارشاد فرمایا ۔ تشہد و تعوذ اور مسنون آیات قرآنیہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :۔
’’اس وقت میں چند نکاحوں کے اعلان کروں گا۔ پہلا نکاح عزیزہ سیدہ  یمنیٰ خلود کا ہے جو سید خالد احمد صاحب ناظر اعلیٰ ربوہ کی بیٹی ہیں۔ یہ نکاح عزیزم منصور احمد ابن فاتح احمد ڈاہری صاحب وکیل تعمیل و تنفیذ اسلام آباد یو کے ،کے ساتھ طے پایا ہے۔ دونوں گھر، لڑکا بھی اور لڑکی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد میں شامل ہیں۔ لڑکا میرا نواسہ بھی ہے۔

ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ شادی بیاہ جو خوشی کے مواقع ہیں ان میں خدا تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہیئے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جو نکاح سے پہلے تلاوت کی جاتی ہیں باربار تقویٰ کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس طرف توجہ دلا کر پھر فرمایا کہ اب آپس کے رشتوں کا بھی خیال رکھو ۔ سچائی پر قائم رہو ۔ باہم ہر معاملہ میں گہرائی میں جا کر سچائی کو اختیار کرو ۔ ایک دوسرے سے رشتہ نبھانے میں ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کا خیال رکھو ۔ کیونکہ یہی چیز ہے جو اعتماد پیدا کرتی ہے اور یہی چیز ہے جو پھر آگے میاں اور بیوی کی احسن رنگ میں زندگی گزارنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ پھر یہ بھی دیکھو کہ اولاد کی تربیت کس طرح کرنی ہے ۔ آئندہ جو اولاد ہونے والی ہے اس کے لئے دعا بھی کرو اور اس کی صحیح تربیت بھی کرو ۔ خود اپنے عمل کو بھی دیکھو کہ کہاں تک تم نیک عمل بجا لانے والے ہو جو تمہاری آئندہ زندگی میں کام آنے والے ہوں ۔

پس یہ بہت ساری ہدایات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمائی ہیں اور ہر شادی کے بندھن میں بندھنے والے کو ہمیشہ ان کو یاد رکھنا  چاہئیے ۔ شادی کرنا صرف خوشی کی بات ہی نہیں بلکہ بعض ذمہ داریاں بھی ہیں جن کو ادا کرنے کی طرف دونوں کی ، لڑکے کی بھی اور لڑکی کی بھی توجہ ہونی چاہئیے ۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ ان دونوں کا خاندان سے تعلق ہے تو ان کی اس لحاظ سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے فرائض  بھی نبھائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے والے بھی ہوں اور اس کی مخلوق کے حق ادا کرنے والے بھی ہوں ۔ اس کے ساتھ میں اب نکاح کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فریقین سے ایجاب و قبول کروایا ۔

اس با برکت تقریب نکاح میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم طاہر محمود مبشر صاحب استاد جامعہ احمدیہ یو کے کی بیٹی عزیزہ بارعہ طاہر واقفۂ نو ہمراہ عزیزم محمد عمران بشارت صاحب فارغ التحصیل جامعہ احمدیہ جرمنی ابن  مکرم انیس احمد صاحب ۔ مکرم مظہر احمد چیمہ صاحب کارکن الفضل انٹرنیشنل لندن کی بیٹی عزیزہ امتہ الوکیل ماہا چیمہ واقفۂ نو ہمراہ عزیزم راجہ ظہیر احمد وقفِ نو ابن مکرم راجہ رشید احمد صاحب ربوہ اور مکرم انیس احمد صاحب (پاکستان) کی بیٹی عزیزہ خولہ شانزے ہمراہ عزیزم جہانزیب احمد چٹھہ وقفِ نو ابن مکرم سعید احمد چٹھہ صاحب (کینیڈا) کے نکاحوں کا بھی اعلان فرمایا ۔

مذکورہ بالا تمام نکاحوں کے فریقین کے مابین ایجاب و قبول کروانے کے بعد حضور انور نے فرمایا :
’’تقویٰ پر چلنے اور نیکیوں کے قائم کرنے کی یہ جو باتیں میں نے کہی ہیں، یہ جو بھی رشتے قائم ہونے والے ہیں ان سب کے لئے ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو توفیق بھی دے۔ دعا کر لیں کہ یہ تمام رشتے ہر لحاظ سے با برکت ہوں ۔‘‘

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان رشتوں کے با برکت ہونے کے لئے دعا کروائی ۔

تقریب رخصتانہ و دعوتِ ولیمہ

13 نومبر 2021ء بروز ہفتہ محترمہ سیدہ یمنیٰ خلود صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ کی تقریب رخصتانہ اور 14نومبر 2021ء بروز اتوار کو اس شادی کی دعوت ولیمہ کی تقریبات اسلام آباد ٹلفورڈ یو کے میں عمل میں آئیں ۔ جن کے لئے اسلا م آباد کی دونوں بڑی شاہراہوں (شاہراہ صدر اور شاہراہ محمود) پر لگے درختوں کو بجلی کے چھوٹے چھوٹے قمقموں کے ساتھ نہایت سادگی کے ساتھ سجایا گیا تھا ۔ ان تقریبات کی لئے ایوان مسرور میں مرد حضرات کے لئے جبکہ قصرِ خلافت کی مغربی جانب پارکنگ میں لگائی جانے والی مارکی میں مستورات کا انتظام کیا گیا تھا ۔

سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 13نومبر 2021ء بروز ہفتہ کو مسجد مبارک میں شام پونے آٹھ بجے نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد تقریب رخصتانہ میں شمولیت کے لئے سوا آٹھ بجے ایوان مسرور تشریف لائے ۔ دلہن کے والد محترم سید خالد احمد شاہ صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی صدر انجمن احمدیہ ربوہ پاکستان ، دولہا مکرم منصور احمد ڈاہری صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ، دولہے کے والد محترم فاتح احمد ڈاہری صاحب وکیل تعمیل و تنفیذ بھارت اور دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام ،حضور انور کے ہمراہ تھے ۔

 اس تقریب میں افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، ایڈیشنل وکلاء یو کے ، افسران صیغہ جات ، مبلغین سلسلہ ، واقفین زندگی ، کارکنان جماعتی دفاتر اور یوکے کی جماعت کے بعض افراد نے شرکت کی سعادت پائی ۔

حضور انور کے ارشاد پر تقریب کا آغاز ہوا ۔ محترم فیروز عالم صاحب انچارج بنگلہ ڈیسک نے سورۃ الفرقان کی آیات نمبر 72تا 77 کی نہایت خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کی اور بعد میں ان آیات کا انگریزی ترجمہ پیش کیا ۔ تلاوت کے بعد محترم رانا محمود الحسن مربی سلسلہ ایڈیشنل وکالت تبشیر یو کے نے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام ’’محمود کی آمین‘‘ میں سے چند اشعار ترنم سے پیش کئے ۔ اس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی ۔

دعا کے بعد مہمانان کرام کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا ۔ عشائیہ کے بعد قریباً سوا نو بجے حضور انور تشریف لے گئے اور یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔

اگلے روز مورخہ 14نومبر2021ء اسی ایوان مسرور اور قصرِ خلافت کی مغربی جانب پارکنگ میں لگائی جانے والی مارکی میں دعوت ولیمہ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ اس تقریب کا آغاز بھی گزشتہ روز کی طرح نماز عشاء کے بعد ہوا ۔ پونے نو بجے کے قریب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دعوت میں رونق افروز ہوئے اور دعا کروائی ۔ دعا کے بعد مہمانان کرام کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا ۔ اور ساڑھے نو بجے کے قریب حضور انور کے واپس تشریف لے جانے پر اس پُر مسرت تقریب کا اختتام ہوا ۔

(رپورٹ: ظہیر احمد خان مربی سلسلہ ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

روزنامہ الفضل کے پہلے صفحہ سے اقتباس بچوں کو پڑھنے کے لئے دیا کریں