• 27 جنوری, 2023

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 15)

سیّدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
کا دورہ امریکہ 2022ء
10؍اکتوبر 2022ء بروز سوموار
قسط 15

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر پندرہ منٹ پر ’’مسجد بیت الرحمٰن‘‘ میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دفتری ڈاک ملاحظہ فرمائی اور ہدایات سے نوازا اور مختلف نوعیت کے دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

گیسٹ ہاؤس کا معائنہ

پروگرام کے مطابق ایک بجے حضور انور اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے۔ جماعت امریکہ نے مسجد بیت الرحمٰن کے بالمقابل ایک عمارت چھ لاکھ ڈالرز میں خریدی ہے اس قطع زمین کا کل رقبہ 4 ایکڑ ہے۔ اس عمارت کو RENOVATION کر کے بطور گیسٹ ہاؤس تیار کیا گیا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اس عمارت کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے۔ یہ عمارت SITTING روم، ڈائننگ روم، کچن اور چار بیڈ رومز پر مشتمل ہے۔ اور اس میں تین باتھ رومز ہیں اور رہائش کے لحاظ سے دیگر تمام سہولیات مہیّا ہیں۔ حضور انور نے عمارت کے مختلف حصّوں کا معائنہ فرمایا اور سیکرٹری جائیداد سے اس کی RENOVATION کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ حضور انور عمارت کے بیرونی حصّہ میں DECK پر تشریف لے گئے اور اس گھر کے قطع زمین کی حد بندی کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ شعبہ جائیداد کی ٹیم گیسٹ ہاؤس کے باہر کھڑی تھی۔ حضور انور نے از راہ شفقت ان سے گفتگو فرمائی۔

اس عمارت کے ساتھ ہی ایک دوسرا گھر ہے جو جماعت نے سال 2018ء میں خریدا تھا۔ اس وقت مختار احمد ملہی صاحب نیشنل جنرل سیکرٹری جماعت یوایس اے اس گھر میں مقیم ہیں۔ موصوف نے حضور انور کی خدمت میں درخواست کی اِس گیسٹ ہاؤس کے ساتھ خاکسار کا گھر ہے۔ حضور کچھ دیر کے لئے تشریف لا کر برکت عطا فرمائیں۔

حضور انور نے دریافت فرمایا کہ یہ جماعت کی پراپرٹی ہی ہے۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ یہ جماعتی پراپرٹی ہی ہے۔ جماعت نے 2018ء میں خریدی تھی۔

حضور انور از راہ شفقت اس گھر میں تشریف لے گئے اور گھر کے مختلف حصّے دیکھے اور خوشی کا اظہار فرمایا۔ بعد ازاں فیملی نے اپنے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

جب حضور انور گھر سے باہر تشریف لائے تو نیشنل سیکرٹری جائیداد نیاز بٹ صاحب نے بتایا جماعت اس گھر کے ساتھ ایک بڑا اسٹوریج تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ اس گھر کے قطع زمین کا رقبہ 2.2 ایکڑ ہے، اس طرح ان دونوں قطعات زمین کو ملا کر جماعت کے پاس 6.2 ایکڑ رقبہ موجود ہے۔

سرائے خدمت آمد

مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ نے اپنے مرکزی دفاتر کے لئے مسجد بیت الرحمٰن سے نصف میل کے فاصلہ پر ایک پراپرٹی پانچ لاکھ ڈالر کی قیمت میں خریدی ہے۔ جس کا نام ’’سرائے خدمت‘‘ رکھا گیا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز از راہ شفقت ’’سرائے خدمت‘‘ کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے۔

ایک بج کر بیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی سرائے خدمت تشریف آوری ہوئی۔ جہاں صدر صاحب خدام الاحمدیہ اور ان کی عاملہ کے ممبران نے حضور انور کو خوش آمدید کہا۔

حضور انور نے سرائے خدمت کی بیرونی دیوار میں نصب تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔ بعد ازاں حضور انور عمارت کے اندر تشریف لے گئے اور معائنہ فرمایا۔ حضور انورLIVNING ROOM ، DINING ROOM اور کچن میں بھی تشریف لے گئے۔ حضور انور گھر کے پچھلے حصّہ میں DECK پر تشریف لائے اور صدر صاحب سے زمین کے رقبہ کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ صدر صاحب نے بتایا کہ زمین کا رقبہ نصف ایکڑ ہے۔ بعد ازاں حضور انور نے لائبریری اور کانفرنس روم کا معائنہ فرمایا۔ کانفرنس روم کے بارہ میں بتایا گیا کہ یہ پہلے ایک گیراج تھا اس کو RENOVATION کے بعد کانفرنس روم میں تبدیل کیا گیا ہے۔ کانفرنس روم میں ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔ حضور انور نے از راہ شفقت ایک پلیٹ سے کچھ حصّہ لے کر تبرک فرمایا۔

بعد ازاں حضور انور پہلی منزل پر تشریف لے گئے جہاں دو دفاتر اور دو بیڈ روم تیار کئے گئے ہیں۔ اوپر کے حصّہ میں دو باتھ رومز بھی ہیں۔ اسی طرح گراؤنڈ فلور پر بھی دو باتھ روم ہیں۔ اس گھر کے تہہ خانے (BASEMENT) میں ایک GYM اور ایک گیم روم شامل ہے۔

معائنہ کے بعد جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز عمارت سے باہر تشریف لائے تو یہاں ہمسایہ میں مقیم امریکن خاتون سامنے کھڑی تھی۔ اس نے حضور کو خوش آمدید کہا۔ حضور انور نے اس سے پوچھا کہ کیا ہم اچھے پڑوسی ہیں جس پر اُس نے جواب دیا کہ آپ لوگ بہت اچھے پڑوسی ہیں۔ حضور انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کے پاس بڑا گھر ہے۔ آپ کی زمین کتنی بڑی ہے۔ اِس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ ہماری زمین نصف ایکڑ ہے۔

اس خاتون نے یہاں خدام سے کہا تھا کہ آج آپ کے لئے بڑا خوشی کا دن ہے۔ آپ کے خلیفہ آ رہے ہیں۔ ہمارے گھر کا ڈرائیو وے آج خالی ہے آپ بیشک اسے استعمال کریں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے موصوفہ کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں یہاں سے واپس مسجد بیت الرحمٰن کے لئے روانگی ہوئی۔

ایک بج کر تیس منٹ پر حضور انور نے مسجد بیت الرحمٰن تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

فیملیز ملاقاتیں

پروگرام کے مطابق چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔ آج شام کے اس سیشن میں 27 فیملیز کے 121 افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔ ان سبھی احباب اور فیملیز نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔

آج میری لینڈ (MARYLAND) کی مقامی جماعت کے علاوہ YORK، ساؤتھ ورجینیا، نارتھ جرسی، BROOKLYN، BUFFALO ،WILLINGBORO، نارتھ ورجینیا، ALBANY، LONG ISLAND، BIGHAMTON MARRISBURG اور BALTIMORE کی جماعتوں اور علاقوں سے فیملیز ملاقات کے لئے پہنچی تھیں۔ALBANY اور BUFFALO سے آنے والی فیملیز چھ سے سات گھنٹے کا سفر کر کے پہنچی تھیں۔

آج کے ملاقات کے پروگرام میں بھی بہت سے خاندان ایسے تھے جن کی خلیفۃ المسیح سے ان کی زندگی میں پہلی ملاقات تھی۔ ہر ایک کی اپنی کیفیات تھیں، ہر ایک کے اپنے جذبات تھے، بعض بیان کرنے کی ہمّت اور سکت پاتے تھے۔ بعض نہیں پاتے تھے۔

تاثرات

• ناصر اقبال صاحب جماعت HARRISBURG سے فیملی کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے تھے۔ بات کرتے ہوئے رونے لگ گئے، کہنے لگے کہ میں ملاقات کا احوال بیان نہیں کر سکتا۔ ملاقات سے پہلے میں نے سوچا تھا کہ میں حضور سے یہ یہ بات کروں گا لیکن اندر جا کر سب کچھ بھول گیا۔ آج مجھے اس قدر خوشی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ حضور انور نے میرے بچوں کے لئے دعا کی ہے۔

• عدنان احمد صاحب جماعت ساؤتھ ورجینیا سے آئے تھے۔ ان کی بیوی رونے لگ گئیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے حضور انور کے چہرہ مبارک سے روشنی اور نور کی کرنیں نکلتی دیکھی ہیں۔ ہم نے کہا کہ حضور! ہم آپ سے اداس ہو گئے تھے۔ تو حضور انور نے فرمایا: تم پھر ملنے کیوں نہیں آئے تھے۔

• ایک خاتون راضیہ احمد صاحبہ نارتھ جرسی جماعت سے آئی تھیں۔ یہ بھی رونے لگ گئیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے 1940ء میں بیعت کی تھی لیکن آج تک میری کسی بھی خلیفہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ یہ میری زندگی کی پہلی ملاقات تھی۔ میں بہت خوش قسمت ہوں حضور انور نے انتہائی شفقت کا اظہار کیا اور مجھے تبرکًا انگوٹھی بھی دی۔

• ملک اظہر محمود صاحب جماعت میری لینڈ (MARYLAND) سے آئے تھے۔ یہ ایک بوڑھے آدمی تھے۔ چھڑی کے سہارے چلتے تھے اور چلنے میں دشواری ہوتی تھی۔ یہ رونے لگ گئے اور ان سے بات نہیں ہو رہی تھی۔ کہنے لگے کہ میری زندگی کی صرف ایک ہی خواہش تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ اے اللہ! مجھے زندگی میں میرے پیارے سے ملاقات کروا دے۔ آج اللہ نے میری دعا قبول کر لی۔ میرا دل سکون سے بھر گیا۔ اب میری زندگی کی اور کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔ اب زندگی میں اور کچھ نہیں رہ گیا۔

ایک گیمبئن دوست ALNAEH NYANGADO صاحب میری لینڈ سے آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بار بار کہتے جا رہے تھے کہ حضور انور کو علم تھا کہ میں گیمبیا سے ہوں۔ حضور کو کیسے علم ہوا، حضور نے مجھے اور میری فیملی کو دعائیں دیں۔ اب مجھے اور کیا چاہئے ۔

• ایک دوست عباد عثمان احمد صاحب نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب میں دفتر میں داخل ہوا تو میرا سارا جسم کانپنے لگ گیا تھا۔ میں بہت خوش نصیب تھا۔ میں ملاقات کے اس لمحے کو زندگی بھر یاد رکھوں گا اور دل کے قریب رکھوں گا۔

• عرفان الملک صاحب جماعت ساؤتھ ورجینیا سے آئے تھے۔ کہنے لگے حضور انور کے چہرہ مبارک پر ایک نور تھا۔ میں نے اتنا نور کبھی دیکھا ہی نہیں ہے۔ میری بیٹی نابینا ہے۔ حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان شاءاللّٰہ بہت فضل کرے گا۔ حضور انور نے از راہ شفقت اس کی آنکھوں پر اپنی انگوٹھی لگائی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ اس کے لئے بہت بہتر کرے گا۔

• ایک دوست مبشر احمد صاحب جماعت BUFFALO سے آئے تھے۔ ملاقات کے بعد کہنے لگے کہ کچھ بیان ہی نہیں کیا جا سکتا، الفاظ میں ڈھالنا نا ممکن ہے۔ آج کی ملاقات ہمارے لئے، ہماری ساری زندگی کی جمع پونجی ہے۔حضور انور نے بیٹیوں کی تعلیم کے لئے راہنمائی فرمائی اور فرمایا اِس اِس فیلڈ میں جاؤ اور خدمتِ خلق کرو۔

• ایک دوست عمیر احمد صاحب جو نارتھ ورجینیا جماعت سے آئے تھے کہنےلگے کہ آج حضور انور سے ہماری زندگی کی پہلی ملاقات تھی آج کا یہ لمحہ میرے لئے ایک ناقابل یقین لمحہ ہے۔

• محترمہ منصورہ ہمایوں صاحبہ جو کہ میری لینڈ جماعت سے آئی تھیں ملاقات کے بعد رونے لگ گئیں۔ کہنے لگیں کہ میرا دکھ دور ہو گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ بس میرے والد صاحب میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ میرے والد صاحب کی وفات پندرہ بیس دن پہلے ہوئی تھی۔ میں غمزدہ تھی۔ حضور کو ملتے ہی سارا غم دور ہو گیا۔ اب مجھے سکون محسوس ہو تا ہے۔ بارہ سال پہلے میرے بھائی کو شہید کیا گیا تھا۔ والد صاحب اسی پریشانی میں اپنی باقی زندگی گزارتے رہے۔ لیکن آج ہمیں سکون مل گیا ہے۔ میرے لئے یہ ایسا لمحہ ہے کہ مجھے ہمیشہ اس کی یاد آئے گی۔

• ایک دوست لئیق احمد رضوان صاحب نے کہا کہ ملاقات کا نظارہ بہت ہی پیارا تھا۔ ہمارے سامنے ایک چمکتا ہوا چاند تھا اور ہماری نظریں جُھکی ہوئی تھیں۔

• ایک دوست سہیل احمد علی الدین صاحب کہنے لگے کہ یہ میری زندگی کی پہلی ملاقات تھی۔ خوشی تو اتنی ہو رہی ہے کہ مجھ سے بولا نہیں جا رہا۔ ہم حیدر آباد دکن سے ہیں۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام آٹھ بج کر دس منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ساڑھے آٹھ بجے مسجد بیت الرحمٰن میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ للہ تعالیٰ اپنی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔

اَللّٰھُمَّ اَیِّدْ اِمَامَنا بِرُوْحِ الْقُدُسِ وَ بَارِکْ لَنَا فِیْ عُمُرِہٖ وَ اَمْرِہٖ

(کمپوزڈ بائی: فضل عمر شاہد۔ لٹویا)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 14)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2022