• 28 جنوری, 2023

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 14)

سیّدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
کا دورہ امریکہ 2022ء
9؍اکتوبر 2022ء بروز اتوار
قسط 14

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بج کر دس منٹ پر مسجد ’’بیت الاکرام‘‘ میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ اپنے پیارے آقا کی اقتداء میں نماز فجر ادا کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ مسجد کے دونوں ہال مردوخواتین سے بھرے ہوئے تھے۔ مارکیز بھی نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں اور ایک بڑی تعداد کے لیے مسجد کے باہر کھلے احاطہ میں صفیں بچھائی گئی تھیں۔ یہ سارا احاطہ نمازیوں سے بھرا ہوا تھا۔

امریکہ کی مختلف جماعتوں اور بڑے دور دراز کے علاقوں سے ہزار ہا میل کے سفر طے کر کے احباب ڈیلس آکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضور انور کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے ہیں اور دیدار کا کوئی لمحہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد جب حضور انور اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے ہوتے ہیں تو راستہ کے دونوں اطراف مرد وخواتین اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنی فدائیت اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ السلام علیکم حضور اور انی معک یا مسرور کی صدائیں ان کے دل کی گہرائیوں سے نکل رہی ہوتی ہیں۔ بڑا ہی روحانی برکتوں سے معمور ماحول اور خوشی و مسرت کا سماں ہوتا ہے۔ جس سے مر و خواتین، بچے بوڑھے، چھوٹے بڑے سبھی فیض پا رہے ہیں۔

نمازوں کی ادائیگی کے لیے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے مسجد کے اندر جگہ ملے۔لیکن مسجد کے اندر تو جگہ محدود ہے صرف 225 افراد سما سکتے ہیں۔ جب کہ نماز پڑھنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ڈیلس میں یہ نظارہ ہر روز دیکھنے کو ملتا تھا کہ نماز کے وقت سے دو دو تین تین گھنٹے قبل مسجد کے اندر جانے کے لیے لائن لگ جاتی تھی۔ تا کہ مسجد کے اندر جانے کے لیے جگہ پکی ہو جائے۔

یہ خلافت کے عاشق اور فدائی دو دو تین گھنٹے قطاروں میں محض اس لیے کھڑے رہتے تھے کہ مسجد کے اندر جا کر اپنے پیارے آقا کی اقتداء میں نماز ادا کر سکیں۔

ڈیلس میں جمعۃ المبارک کے روز تو یہ نظارہ بھی دیکھنے کو ملا کہ نماز فجر جو صبح سوا چھ بجے ہوتی تھی اور اس کے بعد پانچ تا سات منٹ کا درس ہوتا ہے۔ جب نماز اور درس ختم ہوئے اور ایک دفعہ مسجد جمعہ کی تیاری کے لیے خالی ہوئی تو اُسی وقت نماز جمعہ کے لیے باہر لائنیں لگنی شروع ہو گئیں۔ حالانکہ جمعہ کا وقت ایک بجے تھا۔ یہ فدائی اور عاشق پانچ چھ گھنٹے قبل ہی مسجد کےاندر نماز پڑھنے کے لیے لائنوں میں کھڑے ہو گئے ایک صاحب کہنے لگے کہ نامعلوم زندگی میں دوبارہ موقع آتا ہے یا نہیں۔ اس لیے ہم آج اس موقع کو کھونا نہیں چاہتے۔ اب ہم پانچ چھ گھنٹے اندر جانے کے لیے انتظار کریں گے۔ آج اس روئے زمین پر نظر دوڑائیں تو ایسی محبت، عشق اور فدائیت کی داستانیں جماعت احمدیہ کے علاوہ اور کہیں نہیں ملیں گی۔

میری لینڈ کو روانگی

آج پروگرام کے مطابق ڈیلس سے میری لینڈ ’’مسجد بیت الرحمن‘‘ کے لیے روانگی تھی۔ آج صبح سے ہی احباب کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے آقا کو الوادع کہنے کے لیے جمع تھی۔

دس بج کر پچاس منٹ پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے۔ باہر احباب کا ہجوم مسلسل نعرے لگا رہا تھا۔ حضور انور کی رہائش گاہ سے باہر تین فیملیز کھڑی تھیں جن کے گھروں میں قافلہ کے ممبران کو ٹھہرایا گیا تھا۔ حضور انور یہاں کچھ دیر کے لیے رُکے اور ان فیملیز سے گفتگو فرمائی۔ ان میں سے ایک فیملی نے حضور انور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور انور ان کے بیٹے کی شرٹ پر دستخط فرما دیں۔ حضور انور نے ازراہ شفقت بیٹے نے جو شرٹ پہنی ہوئی تھی اس پر اپنے دستخط فرما دئیے۔

بعد ازاں حضور انور احباب کے درمیان سے گزرتے ہوئے مسجد بیت الاکرام کے سامنے کھلے احاطہ میں تشریف لے آئے۔جہاں پروگرام کے مطابق لوکل مجلس عاملہ ڈیلس، ضیافت ٹیم، خدام کی سیکورٹی ٹیم اور دیگر کارکنان نے گروپس کی صورت میں تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔

مرو خواتین مسلسل نعرے بلند کر رہے تھے اور بچیاں الوادعی نظمیں پڑھ رہی تھیں۔ حضور انور ازراہ شفقت ایک بار پھر اپنے ان عشاق کے درمیان تشریف لے آئے اور اپنا ہاتھ بلند کر کے ان کے نعروں اور سلام کا جواب دیتے۔ کچھ دیر کے لیے حضور بچیوں کے پاس بھی رُکے جو نظمیں پڑھ رہی تھیں۔

گیارہ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی اور سب کو السلام علیکم کہا اور قافلہ ڈیلس کے انٹر نیشنل ائیر پورٹ Fort Worth کے لئے روانہ ہوا۔

جماعت احمدیہ امریکہ نے آج کے اس سفر کے لیے بھی American Airlaines کے ایک چارٹرڈ جہاز ERJ 175 کا انتظام کیا تھا۔ حضور انور کی آمد سے قبل سفر کرنے والے تمام احباب کا سامان جہاز میں لوڈ کیا جا چکا تھا۔ جہاز میں سفر کرنے والے احباب کی تعداد 69 تھی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، حضرت بیگم صاحبہ مدّظلّہا العالیٰ اور قافلہ کے ممبران کے علاوہ اس جہاز میں سفر کرنے والوں میں مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ یو ایس اے صاحبزادہ مرزا مغفور احمد، نائب امراء میں سے مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ۔ مکرم وسیم ملک اور مکرم اظہر حنیف نائب امیر و مبلغ انچارج امریکہ شامل تھے۔

علاوہ ازیں انتصار ملہی صاحب نائب صدر خدام الاحمدیہ امریکہ، ڈاکٹر فیضان عبد اللہ چئیر مین میڈیکل ایسوسی ایشن یو ایس اے، مکرم منعم نعیم چئیر مین ہیومینٹی فرسٹ امریکہ، مکرم شریف عودہ امیر جماعت احمدیہ کبابیر اور ڈاکٹر تنویر احمد صاحب بطور ڈیوٹی ڈاکٹر ساتھ شامل تھے۔

مکرمہ امتہ المصور ممبر نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماءاللہ امریکہ اورمحترمہ نقاشہ احمد صاحبہ ممبر نیشنل عاملہ لجنہ امریکہ بھی اس سفر میں شامل تھیں۔

اس کے علاوہ مختلف جماعتوں کے صداران، دیگر عہدیداران، نیشنل عاملہ کے بعض سیکرٹریان اور مربیان کرام شامل تھے۔

امریکن ائیر لائن کے Eric Adduchio بطور کو آرڈینیٹر اس سفر میں شامل تھے۔

خلافت فلائیٹ 2022ء

اس سفر کے لیے بھی جو بورڈنگ کارڈ مہیا کیا گیا تھا اُس پر بھی (Khilafat Flight 2022) لکھا ہوا تھا۔ فلائیٹ کا نمبر KF.2022تھا.بورڈنگ کارڈ کے ایک طرف یہ الفاظ درج تھے۔

Ahmadiyya Muslim Community USA100
1920 – 2020 Centennial Khilafat Flight 2022
In the company of
Hazrat Mirza Masroor Ahmad
Khalifatul Mashih V (aba)

لکھا ہوا تھا۔

گیارہ بج کر چالیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ائیر پورٹ تشریف آوری ہوئی۔ جہاز ائیر پورٹ کے ایک پرائیویٹ ایریا میں پارک کیا گیا تھا۔ ایک خصوصی انتظام کے تحت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی گاڑی کو جہاز کی سیڑھیوں کے پاس لے جایا گیا۔ جہاں سے حضورانور اور حضرت بیگم صاحبہ مدّ ظلّہا العالیٰ جہاز میں سوار ہوئے۔

بارہ بج کر دس منٹ پر جہاز ڈیلس کے انٹرنیشنل Fort worth سے بالٹی مور کے انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ قریباً دو گھنٹے 35 منٹ کے سفر کے بعد بالٹی مور (میری لینڈ) کے وقت کے مطابق تین بج کر 45 منٹ پر بالٹی مور ائیر پورٹ پر اترا۔ میری لینڈ اسٹیٹ کا وقت ڈیلس (ٹیکساس) سے ایک گھنٹہ آگے ہے۔

چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ائیر پورٹ سے باہر تشریف لائے تو مکرم فلاح الدین شمس نائب امیر امریکہ۔ مکرم مختار احمد ملہی نیشنل جنرل سیکڑیری، مکرم سید شمشاد احمد ناصر مبلغ سلسلہ امریکہ اور مکرم ڈاکٹر عدیل عبد اللہ صدر مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ نے حضور انور کو خوش آمدید کہا۔

بعد ازاں ائیر پورٹ سے جماعت احمدیہ امریکہ کے مرکز مسجد بیت الرحمن کے لیے روانگی ہوئی۔

اپنے پیارے آقا کے استقبال اور حضور انور کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے امریکہ کے اس خطہ کے دور دراز شہروں اور بستیوں میں آباد حضور انور کے عشاق ہزاروں کی تعداد میں صبح سے ہی بیت الرحمن پہنچنا شروع ہو گئے تھے اور مردو خواتین اور بچوں بوڑھوں کا ایک ہجوم تھا جو اپنے پیارے اور محبوب آقا کے دیداد کے لیے بے تاب تھا۔

میری لینڈ، بالٹی مور اور واشنگٹن کی جماعتوں کے علاوہ یہ عشاق ساؤتھ ورجینیا، ناتھ ورجینیا، York، فلاڈلفیا، نیویارک،

Queens Long Island, Brooklyn, Richmond, Willingbord, Sanjose Pittsburg, Buffalo, Oshkosh, Binghamton, Hart ford, Charlotte, Lehigh Valley, Fitchburg, Hawaii, Orlando, Fort worth, Research Triangle, Syracuse, St. Paul

سنٹرل نیو جرسیTucson،Tulsa،جارجیا، بوسٹن، لاس اینجلیز، ڈئیٹرائیٹ، سیاٹل، ملواکی، نارتھ جرسی، کولمبس، الباما، اورہیوسٹن کی جماعتوں اور علاقوں سے آئے ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں ہمسایہ ممالک میکسیکو اور Puerto Rico سے بھی احباب اپنے پیارے آقا کے استقبال کے لیے پہنچے تھے۔

امریکہ کی بعض جماعتوں اور علاقوں سے بڑے طویل اور تھکا دینے والے سفر کرنے کے بعد احباب اور فیملیز یہاں پہنچی تھیں۔

Miami سے آنے والے 1078 میل، Tulsa سے آنے والے 1220 میل، ہیوسٹن سے آنے والے 1422 میل اور Tuscan سے آنے والے احباب 2280 میل کا سفر طے کر کے پہنچے تھے۔ جب کہ Los Angeles سے آنے والے 2653 میل، سیاٹل سے آنے والے 2752 میل، اور San Jose سے آنے والے احباب 2843 میل کا طویل سفر طے کر کے وہاں پہنچے تھے۔

علاوہ ازیں کینیڈا، برطانیہ، پاکستان، بنگلہ دیش، بولیویا اور ملک بیلیز سے آنے والے احباب بھی یہاں حضور انور کی آمد کے منتظر تھے۔

ان احباب میں سے ایک تعداد ایسے خاندانوں کی تھی جنہوں نے اپنی زندگیوں میں پہلی بار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب سے دیکھنا تھا۔ ان کا ایک ایک لمحہ بے تابی سے گذر ر ہا تھا۔ ایم ٹی اے کے کیمرے استقبال کے اس سارے منظر کو فلما رہتے تھے۔

آخر وہ انتہائی بابرکت اور ہر ایک کے لیے یاد گار لمحہ آپہنچا جب ٹھیک ساڑھے چار بجے حضور انور کی گاڑی بیرونی گیٹ سے اندر داخل ہوئی اور حضور انور وہیں گاڑی سے نیچے اتر آئے اور اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا۔ دوسری طرف ہر مرد و زن، بچوں نے گذرنا تھا۔ ایک بچہ منہ کے بل گرا۔ حضور انور نے ہدایت فرمائی پتہ کریں اس بچے کو چوٹ تو نہیں لگی۔ جب حضور انور نماز کی ادائیگی کے بعد واپس جا رہے تھے تو والدہ اپنے اس بچے کو لیے راستہ میں کھڑی تھی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت بچے کا حال پوچھا اور بچہ کے چہرہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور دعا دی۔

بعد ازاں حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے آئے۔

جماعت احمدیہ امریکہ کے اس مرکزی سینٹر کا مجموعی رقبہ تقریباً 18 ایکڑ ہے۔ یہاں جماعت احمدیہ امریکہ کی سب سے بڑی مسجد ’’مسجد بیت الرحمن‘‘ کی تعمیر 1994ء میں مکمل ہوئی تھی۔ اس مسجد میں ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔

جماعت کے اس مرکزی کمپلکس میں مسجد کے علاوہ جماعتی دفاتر، مشن ہاؤس، ملٹی پرپز ہالز، لائبریری، میٹنگزروم، مرکزی کمرشل کچن، بک سٹور، گیسٹ ہاؤس اور مختلف رہائشی اپارٹمنٹس ہیں۔

علاوہ ا زیں Masroor Teleport ارتھ اسٹیشن MTA ہے نیز MTA یو ایس اے سٹوڈیو بھی بنایا گیا ہے۔ اب حضور انور کے یہاں قیام کے دوران مختلف جگہوں پر بڑی بڑی مارکیز لگائی گئی ہیں۔ جن میں سے بعض نمازوں کی ادائیگی کے لیے ہیں اور بعض میں کھانا کھلانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایک وقت میں ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلانے کا انتظام ہے۔ مردوں اور عورتوں کی علیحدہ علیحدہ رجسٹریشن اور علیحدہ علیحدہ Covid ٹیسٹ کے لیے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔

اس وقت یہاں سینکڑوں خدام اور لجنہ کارکنات مختلف ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں۔سیکورٹی کے انتظامات کے لیے بھی مختلف شعبے کام کر رہے ہیں۔

مسجد ’’بیت الرحمن‘‘ کو رنگ برنگے روشن قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ چراغاں بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ دن ڈھلتے ہی مسجد کے اردگرد کا سارا علاقہ روشن ہو جاتا ہے۔

پروگرام کے مطابق آٹھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الرحمن تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔

اَللّٰھُمَّ اَیِّدْ اِمَامَنا بِرُوْحِ الْقُدُسِ وَ بَارِکْ لَنَا فِیْ عُمُرِہٖ وَ اَمْرِہٖ

(کمپوزڈ بائی: عطیۃ العلیم۔ ہالینڈ)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

صبح سے لے کر شام تک حساب کرنا چاہئے (حضرت مسیح موعودؑ)

اگلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 15)