• 27 فروری, 2021

آ رہی اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ ابراہیم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہدایت فرمائی۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللّٰهِِْ سپانَ (ابراہیم: 6) کہ اے موسیٰ! تو اپنی قوم کو اللہ کے انعام اور اس کے عذاب یاد دلا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آیت کے اس حصّے کا ترجمہ یوں فرمایا ہے کہ انہیں اللہ کے دن یاد کرا۔

ویسے تو اس ہدایت پر ہم میں سے ہر ایک کو عمل کر کے اپنے سابقہ دور کو یاد کر کے شکر بجا لاتے ہوئے اپنے قدموں کو آگے بڑھانا چاہیئے لیکن آج جماعت احمدیہ میں آنے والے اہم تاریخوں کے حوالے سے کچھ ضبط تحریر میں لانا ہے اور وہ ہے 20 فروری کے حوالے سے ’’پیشگوئی مصلح موعود‘‘۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آخری زمانہ کے مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اِذن سے آئے آپؑ کو اللہ تعالیٰ نےمختلف مبارک ناموں سے پکارا۔ جس کا اظہار آپ خود اپنے ایک منظوم کلام میں یوں فرماتے ہیں۔

؎میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے دیگر بچوں بالخصوص حضرت یوسف علیہ السلام کا قصّہ سورۃ یوسف میں بہت کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ جس میں حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے گمشدہ بیٹے (حضرت یوسفؑ) جو ہونہار، فرمانبردار تھے۔ کی تلاش میں دعائیں کرتے۔ اللہ کے حضور جھکتے اور اس کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور اللہ تعالیٰ نے باپ بیٹے (حضرت یعقوب و حضرت یوسف علیہما السلام) کا آپس میں ملاپ کروا دیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی یعقوب قرار دیا اور آپ کو بھی اپنے موعود بیٹے کا شدّت سے انتظار تھا۔ جب مخالفین احمدیت خصوصاً لیکھرام نے اس پیشگوئی کی شدّت سے مخالفت کی اور کہا کہ آپ کی ذریت بہت جلد منقطع ہوجائے گی غایت درجہ تین سال تک شہرت رہے گی

(بحوالہ کلیات آریہ مسافر حصہ سوئم ص 496 ۔498)

اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کےوعد وعید پر اس حد تک یقین تھا کہ آپ نے فرمایا:؎

اب تو آ رہی ہے خوشبو میرے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار

آنحضور ﷺ نے مسیح موعود علیہ السلام کے لئے فرمایا تھا کہ

ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ

(مشکوۃ مجتبائی ص480)

کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے اور شادی کریں گے اور ان کو اولاد دی جائے گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں اس پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے خاص طور پر ایک صالح فرزند عطا فرمائے گا جو اپنے باپ کی نظیر ہوگا۔ اور ہر ایک امر میں اس کا مطیع اور فرمانبردار ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے معزز بندوں میں سے ہوگا‘‘

(روحانی خزائین جلد5 صفحہ578)

اسی طرح آنحضور ﷺ کی پیشگوئی یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ کے متعلق آپؑ فرماتے ہیں ’’یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اس کی نسل سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہوگا اور دین اسلام کی حمایت کرے گا‘‘

(حقیقۃ الوحی۔ 312)

چناں چہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اذنِ الہٰی سے پیشگوئی کے مطابق 20 فروری کو ایک اشتہار کے ذریعہ لڑکے کی پیدائش کی خبر دی۔ یہ اشتہار سبز رنگ کے کاغذات پر شائع ہوا۔

چنانچہ 12 جنوری 1889ء کو حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ کے بطن سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ؓکی پیدائش ہوئی۔ آپ کی ولادت با سعادت الہٰی بشارتوں کے مطابق ہوئی جو ہستی باری تعالیٰ۔ سرور دو عالم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے 18 فروری 2011 کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہے جو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی ہے۔‘‘

حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد مصلح موعودؓ نے لاہور میں 28جنوری 1944ء کو تقریر کرتے ہوئے پیشگوئی مصلح موعود کا خود کو مصداق قرار دیتے ہوئے فرمایا:
’’پانچ اور چھ جنوری1944ء کی درمیانی رات کو اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ بتایا کہ میں وہی مصلح موعود ہوں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا تھا۔ اور میرے ذریعہ ہی دور دراز ملکوں میں خدائے واحد کی آواز پہنچے گی۔ میرے ذریعہ ہی محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی دنیا بھر میں جو لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اعلانات اور اسلام احمدیت کے پیغامات پہنچ رہے ہیں ان کا سہرا حضرت مصلح موعود ؓ کے ہی سر ہے کیونکہ اس کا آغاز کرنے والے تو آپ حضرت مصلح موعود ؓ ہی تھے۔

میں نے خود سیرالیون مغربی افریقہ میں احمدیوں کے دلوں میں حضرت مصلح موعودؓ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری دیکھی ہے۔ آپ کا نام آتے ہی افریقن احمدیوں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اس انسان نے ہمیں انسانیت سکھلائی اور حقیقی مسلمان بنایا۔ حالانکہ ان افریقن نے آپ کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔

پس ضرورت آج اس بات کی ہے کہ آپ کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو چھوٹا مصلح موعود بن کر آپ کے لگائے ہوئے پودے کو مزید سر سبز و شاداب بنانے کے لئے محنت کرنی ہوگی۔ اور اللہ کی بڑائی ثابت کرنے اور اسلام و احمدیت کی سچائی اور قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے اپنے آپ کو ان راستوں پر استوار کرنا ہوگا جن کے نقوش حضرت مصلح موعودؓ نے ہمارے لئے وا کیےہیں۔؎

اِک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار