• 27 فروری, 2021

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار
(ایک ضروری وضاحت)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شہرہ افاق تصنیف براہین احمدیہ کی اشاعت کے ذریعہ ہندوستان کے مذہبی حلقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ تمام دیگر مذاہب پر اسلام کی عظمت اور حقانیت ثابت کرنے کے لئے نشان نمائی کا دعویٰ فرمایا اور ہر طالب حق کو دعوت دی کہ جو نشان دیکھنے کی طلب رکھتا ہو وہ نیک نیتی سے حضرت اقدس ؑسے اس کا متمنی ہو سکتا ہے۔ اس پر قادیان کے ہندوؤں نے 1885ء میں ایک خط حضرت اقدس علیہ السلام کو تحریر کیا کہ ہم جو آپ کے قریب رہنے والے ہیں ہمارا زیادہ حق ہے کہ ہمیں اسلام کی سچائی کا کوئی نشان ایک سال کے اندر اندر دکھایا جائے۔ اس خط پر دس ہندوؤں نے دستخط کئے۔ جب یہ خط حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور ان ہندوؤں سے وعدہ فرمایا کہ ایک سال کے اندر اندر انہیں اسلام کی عظمت اور منجانب اللہ ہونے کا نشان دکھایا جائے گا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت توجہ سے دعا کرنے کی خاطر مکمل تخلیہ اور انقطاع الیٰ اللہ کا فیصلہ فرمایا اور قادیان سے ہوشیار پور کا سفر بہ نیت چلہ کشی اختیار فرمایا۔ 40دن کی دعاؤں اور تضرعات کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی خوشخبری سے نوازا۔ اس پیشگوئی کے اظہار کے لئے حضرت اقدس نے 20فروری 1886ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جو پیشگوئی کی تفصیل پر مشتمل ہے اور پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے جماعت میں مشہور ہے۔ اس اشتہار میں بیٹے کی پیدائش کا اعلان تو تھا مگر وقت کی تعین نہیں تھی کہ کب پیدا ہوگا۔ چنانچہ 22مارچ 1886ء کو حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک اور اشتہار شائع فرمایا جس میں اس موعود بیٹے کی پیدائش کی میعاد 9 سال ظاہر فرمائی۔

میرے اس نوٹ کا مقصد اُس غلط فہمی کو دور کرنا ہے جو بڑی کثرت سے جماعت میں راہ پا گئی ہے اور اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ 20 فروری کو جو پیشگوئی مصلح موعود شائع ہوئی وہ سبز رنگ کے کاغذ پر شائع کی گئی تھی اور پیشگوئی مصلح موعود اور سبز اشتہار ایک ہی چیز ہیں جبکہ یہ بات درست نہیں اور یہ دو علیحدہ علیحدہ اشتہار ہیں جو مختلف وقتوں میں شائع کئے گئے۔

پیشگوئی مصلح موعود کی اشاعت کے جلد بعد جس بچے کی پیدائش ہوئی وہ آپ کی بیٹی صاحبزادی عصمت بی بی تھیں۔ جن کی بعد ازاں وفات ہوگئی۔ اس پر ہندوؤں اور دوسرے مخالفین کی جانب سے حضرت اقدس علیہ السلام پر پیشگوئی پوری نہ ہونے کا الزام لگا کر تمسخر کیا گیا۔ پھر اگلے سال 7؍اگست 1887ء کو ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بشیر رکھا گیا جسے جماعت میں بشیر اوّل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ فرزند 4 نومبر 1888ء کو وفات پا گیا۔ بشیر اوّل کی وفات سے مخالفین کو بے حد شوروغوغا اور استہزاء کرنے کا ایک اور موقع ہاتھ آگیا۔ یہ وقت حضرت اقدسؑ کے معتقدین کے لئے بھی بڑے ابتلاء کا باعث تھا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے اس پر ایک رسالہ شائع فرمایا جس کا نام ’’حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر‘‘ رکھا گیا۔ یہ رسالہ کئی صفحات پر مشتمل تھا اور اسے سبز رنگ کے کاغذ پر شائع کیا گیا۔ اس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر 1888ء تھی۔ یہی وہ رسالہ ہے جو سبز اشتہار کے نام سے مشہور ہوا۔ اس اشتہار میں حضور علیہ السلام نے وضاحت فرمائی کہ پسر موعود کے لئے 9 سال کی میعاد مقرر تھی اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اور بچہ پیدا نہیں ہو گا لیکن وہ موعود اس عرصہ میں ضرور پیدا ہوگا جس کی پیشگوئی 20؍فروری 1886ء کے اشتہار میں کی گئی تھی۔ اسی سبز اشتہار میں حضور نے اپنا ایک کشف بھی بیان فرمایا کہ آپ نے مسجد کی دیوار پر محمود لکھا ہوا دیکھا اور فرمایا کہ اب جو لڑکا پیدا ہو گا اس کا نام بشیر اور محمود ہوگا۔ چنانچہ 12؍جنوری 1889ء کو حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ کی پیدائش ہوئی جو 20 فروری 1886ء کی پیشگوئی پسرموعود اور مصلح موعود کے حقیقی مصداق ہیں۔ مختصرا ًیہ یاد رکھنا چاہئے کہ
1۔ پیشگوئی مصلح موعود 20 فروری 1886ء کو عام سفید کاغذ پر شائع ہوئی
2۔ حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر یکم دسمبر1888ء کو سبز رنگ کے کاغذ پر شائع کی گئی (سبز اشتہار)

(ڈاکٹر فضل الرحمٰن۔ تنزانیہ)

پچھلا پڑھیں

امریکن عیسائی مشنری زویمر کی قادیان آمد اور حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 فروری 2021