• 8 مارچ, 2021

ہم یوم مصلح موعود کیوں مناتے ہیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 20؍ فروری 2009ء میں فرماتے ہیں:
’’…مجھے امید ہے کہ اب بعض لاعلم احمدی جو مختلف جگہوں سے خطوں میں لکھ دیتے ہیں، یہاں بھی سوال کر دیتے ہیں کہ ہم یوم مصلح موعود کیوں مناتے ہیں، باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے ان پر واضح ہو گیا ہو گا کہ مصلح موعود کی پیشگوئی کا دن ہم ایمانوں کو تازہ کرنے اور اس عہد کو یاد کرنے کے لیے مناتے ہیں کہ ہمارا اصل مقصد اسلام کی سچائی اور آنحضرتﷺ کی صداقت کو دنیا پر قائم کرنا ہے۔ یہ کوئی آپ کی پیدائش یا وفات کا دن نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذریت میں سے ایک شخص کو پیدا کرنے کا نشان دکھلایا تھا جو خاص خصوصیات کا حامل تھا اور جس نے اسلام کی حقانیت دنیا پر ثابت کرنی تھی۔ اور اس کے ذریعہ نظام جماعت کے لیے کئی اور ایسے راستے متعین کر دیے گئے کہ جن پہ چلتے ہوئے بعد میں آنے والے بھی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔

پس یہ دن ہمیں ہمیشہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرواتے ہوئے اسلام کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دلانے والا ہونا چاہیے نہ کہ صرف ایک نشان کے پورا ہونے پر علمی اور ذوقی مزہ لے لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍ فروری 2009ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 13؍مارچ 2009ء)

اپنے اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 18؍فروری 2011ء میں فرماتے ہیں:
’’پس آپ کے کام کو دیکھ کرحضرت مصلح موعودؓ کی پیشگوئی کی شوکت اور روشن تر ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہااصل میں تو یہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی ہے جس سے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اعلیٰ اور دائمی مرتبے کی شان ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا تعلق صرف ایک شخص کے پیدا ہونے اور کام کر جانے کے ساتھ نہیں ہے۔ اس پیشگوئی کی حقیقت تو تب روشن تر ہو گی جب ہم میں بھی اُس کام کو آگے بڑھانے والے پیدا ہوں گے جس کام کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے تھے اور جس کی تائید اور نصرت کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصلح موعود عطا فرمایا تھا جس نے دنیا میں تبلیغِ اسلام اور اصلاح کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں لگا دیں۔

پس آج ہمارا بھی کام ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں۔ اپنے علم سے، اپنے قول سے، اپنے عمل سے اسلام کے خوبصورت پیغام کو ہر طرف پھیلا دیں۔ اصلاحِ نفس کی طرف بھی توجہ دیں۔ اصلاحِ اولاد کی طرف بھی توجہ دیں اور اصلاحِ معاشرہ کی طر ف بھی توجہ دیں۔ اور اس اصلاح اور پیغام کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں جس کا منبع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بنایا تھا۔ پس اگر ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں گے تو یومِ مصلح موعود کا حق ادا کرنے والے ہوں گے، ورنہ تو ہماری صرف کھوکھلی تقریریں ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍ فروری 2011ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11؍مارچ2011ءصفحہ9)

مصلح موعود کا دن مناتے ہیں تو باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 17؍ فروری 2012ء میں فرماتے ہیں:
’’اس پیشگوئی کے مصداق تو جیسا کہ مَیں نے کہا یقیناً حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ تھے۔ اس کا آپ نے 1944ء میں خود بھی اعلان فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔ اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی خوشی میں یومِ مصلح موعود کے جلسے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، آئندہ چند دنوں میں یہ جلسے مختلف جماعتوں میں ہوں گے۔ اس لیے کہ جماعت کے ہر فرد کو پتہ چلے کہ یہ ایک عظیم پیشگوئی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی۔

یہاں ضمناً میں اُن لوگوں کے لئے بھی جو دنیا کے ماحول کے زیرِ اثر، جن کا دینی علم بھی ناکافی ہے، کئی دفعہ میں بیان پہلے بھی کر چکا ہوں لیکن پھر بھی سوال کرتے رہتے ہیں۔ جو سالگرہ منانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ سالگرہ پریہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری بھی سالگرہ منائی جائے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے زیرِ اثر بھی ہیں جویہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مصلح موعود کا دن مناتے ہیں تو باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے اور پھر سالگرہ کیوں نہیں مناتے؟ یعنی باقی خلفاء کی سالگرہ کی آڑ میں اپنی سالگرہ کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ تو یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا یومِ ولادت نہیں منایا جاتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی پیدائش تو 12؍جنوری 1889ء کی ہے۔ اور یہ پیشگوئی جو عظیم الشان پیشگوئی تھی آپ کی پیدائش سے تین سال پہلے کی ہے۔ اُس پیشگوئی کے پورا ہونے کا دن منایا جاتا ہے جو 20؍فروری 1886ء کو کی گئی تھی اور اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے یہ پیشگوئی تھی اور یہ پیشگوئی اس لحاظ سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے‘‘۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 17؍فروری 2012ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 9؍مارچ 2012ء صفحہ6)

یہ دن حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کی صداقت کا دن ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 15؍ فروری 2013ء میں فرماتے ہیں:
’’پانچ دن کے بعد یومِ مصلح موعود بھی منایا جائے گا۔ 20؍فروری کو جماعت میں منایا جاتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ مصلح موعود کی پیدائش تھی بلکہ اس لیے کہ 20؍فروری کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مصلح موعود کی جو پیشگوئی فرمائی تھی، یہ اُس کا دن ہے اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دلیل ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش تو 20؍فروری کی نہیں تھی۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 15؍ فروری 2013ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 8مارچ 2013ء صفحہ5)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار