• 26 فروری, 2021

مَیں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں

مَیں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں
چینِ دل آرامِ جاں پاؤں کہاں

یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا
یاں نہ چِلّاؤں تو چِلّاؤں کہاں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر
کس کے آگے اور پھیلاؤں کہاں

جاں تو تیرے در پہ قرباں ہو گئی
سر کو پھر مَیں اور ٹکراؤں کہاں

کون غم خواری کرے تیرے سوا
بارِ فکر و حزن لے جاؤں کہاں

دل ہی تھا سو وہ بھی تجھ کو دے دیا
اب میں اُمیدوں کو دفناؤں کہاں

بڑھ رہی ہے خارشِ زخمِ نہاں
کس طرح کھجلاؤں ۔کھجلاؤں کہاں

کثرتِ عصیاں سے دامن تر ہوا
ابر اشکِ توبہ برساؤں کہاں

(کلام محمود صفحہ104)

پچھلا پڑھیں

امریکن عیسائی مشنری زویمر کی قادیان آمد اور حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 فروری 2021