• 27 فروری, 2021

پیشگوئی مصلح موعود کا حقیقی مصداق

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار لکھا جس میں مصلح موعود کی عظیم الشان پیشگوئی بیان کی گئی جو ضمیمہ اخبار ریاض ہند مورخہ یکم مارچ 1886ء میں شائع ہوا۔آئیے اس بات پر غور کریں کہ اس پیشگوئی کے اصل الفاظ سے کیا ظاہر ہو تا ہے۔ آیا یہ کہ مصلح موعود و پسر موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صلبی بیٹا ہو گا یا یہ کہ وہ مدتہا مدت کے بعد آئندہ کسی زمانے میں آپ کی نسل میں سے ہو گا۔اور وہ جسمانی و روحانی دونوں لحاظ سے آپ کا بیٹا ہو گایا جسمانی بیٹا نہیں صرف روحانی بیٹا ہو گا۔
(1) آنحضور ﷺ نے مسیح موعود کے لئے فرمایا: يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اِلَي الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ

(مشکوٰۃ مجتبائی صفحہ480 باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے اور شادی کریں گے اور ان کو اولاد د ی جائے گی۔مسیح موعود کے شادی کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی بیٹا ہونے کا ذکر کرنا واضح طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بیٹا بھی شادی کا نتیجہ اور مسیح موعود کا صلبی فرزند ہو گا۔ نہ کہ ایک زمانہ دراز کے بعد آپ کی نسل میں پیدا ہونے والا۔

کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ شادی تو کرے مسیح موعود اور اس شادی کے ذکر کے ساتھ ہی حدیث میں جس بیٹے کے پیدا ہونے کا ذکر ہے وہ پیدا ہو ،اس شادی پر سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد۔

کیا حدیث میں جس شادی کے ذکر کے ساتھ ہی بیٹا پیدا ہونے کی بشارت دی گئی ہے اس شادی سے سینکڑوں سال بعد پیدا ہونے والا کسی طرح بھی اس شادی کا نتیجہ سمجھا جا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔

قَدْ اَ خْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ الْمَسِیْحَ الْمَوْعُوْدَ یَتَزَوَّجُ وَ یُوْلَدُ لَہٗ فَفِی ھٰذَااِشَارَۃٌ اِلٰی اَنَّ اللّٰہَ یُعْطِیْہِ وَ لَدًا صَالِحًا یُشَابِہُ اَبَاہُ وَ لَایَاْ بَا ہُ وَ یَکُوْنُ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ الْمُکْرَمِیْنَ

(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد5 ص578 حاشیہ)

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی ہے کہ مسیح موعود شادی کرےگا اوراس کی اولاد ہوگی تو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے خاص طور پر ایک صالح فرزند عطا کرے گا جو اپنے باپ کی نظیر ہو گا اور ہر ایک امر میں اس کا مطیع و فرمانبردار ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے معزز بندوں میں سے ہو گا۔اسی طرح حضور ؑ اپنی کتاب حقیقۃ الوحی صفحہ325 میں فرماتے ہیں:۔
’’اور یہ پیشگوئی کہ مسیح موعود کی اولاد ہو گی۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اس کی نسل سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہو گا اور دین اسلام کی حمایت کرے گا۔جیسا کہ میری بعض پیشگوئیوں میں یہ خبر آچکی ہے۔‘‘

اس حدیث کی تشریح سے بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو جو صالح فرزند عطا فرمائے گا اور جو اپنے باپ کا نظیر ہو گا وہ مسیح موعود کا صلبی فرزند ہو گا۔کیونکہ مسیح موعود کے شادی کرنے کا ذکر جو حدیث میں آیا ہے اسی سے اس فرزند کا پیدا ہو نا ظاہر فرمایا ہے۔ اور اس شادی سے پیدا ہونے والا اسی زمانے میں پیدا ہو سکتا ہے نہ کہ شادی سے سینکڑوں سال بعد۔اور وہ مسیح موعود کا صلبی فرزند ہو گا نہ کہ آپ کی دور کی نسل میں سے کسی اور کا فرزند۔

(2) اسی طرح حضرت نعمت اللہ ولی نے بھی مہدی و مسیح موعود کے لئے ایک یاد گار پسر کی پیشگوئی ان الفاظ میں کی ہے۔

دور او چوں شود تمام بکام
پسرش یادگار مے بینم

جب مسیح موعود کا دور اپنے کام کو انجام دیتے ہوئے ختم ہو جائے گاتو اس کا بیٹا اس کام کو سر انجام دینے میں اس کی یاد گار ہوگا۔

حضرت مسیح موعود علیہ ا لصلوٰۃ والسلام اس شعر سے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔
’’جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمونہ پر اس کا لڑکا یادگار رہ جائے گا۔یعنی مقدر یوں ہے کہ خدائے تعالیٰ اس کو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اسی کے نمونہ پر ہو گا اور اسی کے رنگ سے رنگین ہو جائے گا اور وہ اس کے بعد اس کا یاد گار ہو گا۔یہ درحقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے‘‘

(نشانِ آسمانی، روحانی خزائن جلد4 ص373)

اس پیشگوئی سے بھی صاف ظاہر ہےکہ وہ بیٹا مسیح موعود کا صلبی بیٹا ہو گا۔اور آپ کے سامنے اس قابلیت و اہلیت تک پہنچ چکا ہو گا کہ اپنے باپ مسیح موعود کی وفات کے بعد آپ کے کام کو جاری رکھ کر آپ کی یاد گار بن سکے۔

(3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے ان الفاظ سے بھی کہ
’’تجھے بشارت ہو کہ ایک وجہیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک زکی غلام تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہو گا۔‘‘

یہی ظاہر ہے کہ وہ لڑکا آپؑ کا صلبی بیٹا ہو گا۔

(4) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ تیری برکات کا دوبارہ نور ظاہر کرنے کے لئے تجھ سے ہی اور تیری ہی نسل میں سے ایک شخص کھڑا کیا جائے گا … وہ پاک باطن اور خدا سے نہایت پاک تعلق رکھنے والا ہو گا۔ اور مظھر الحقّ و العلاء ہو گا گویا خدا آسمان سے نازل ہوا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد17 ص181)

یہی الفاظ مصلح موعود والی پیشگوئی میں بھی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ مصلح موعود آپ کا صلبی بیٹا ہو گا۔

(5) نشان طلب کرنے والے ہندوؤں کے لئے وہ لڑکا اسی حالت میں نشان ہو سکتا تھا جب کہ وہ ان کی زندگی میں پیدا ہوتا ورنہ وہ ان کے لئے نشان نہیں بن سکتا تھا۔

(6) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ’’خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ 20فروری 1886ء کی پیشگوئی حقیقت میں دوسعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی۔ اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے پہلے بشیر کی نسبت پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزول رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔‘‘

(سبز اشتہار روحانی خزائن جلدنمبر2 صفحہ463 حاشیہ)

اور بشیر ثانی مصلح موعود کا دوسرا نام ہے۔

(بحوالہ سبز اشتہار، روحانی خزائن جلد2 ص467 حاشیہ)

اس سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہی انکشاف فرمایا کہ مصلح موعود آپ کا بیٹا ہو گا۔

(7) 20فروری 1886ء کے اشتہار میں مندرج پیشگوئی میں ’’پاک لڑکا‘‘ ’’زکی غلام‘‘ ’’فرزند دلبند و گرامی ارجمند مظہر الحق و العلاء‘‘ کے الہامی الفاظ بیان کیے گئے ہیں جو اس بات کابیّن ثبوت ہیں کہ مصلح موعود کو آپ کا فرزند یعنی بیٹا قرار دیا گیاہے۔

(8) حضور علیہ السلام اشتہار 22 مارچ 1886ء میں فرماتے ہیں:۔
’’اس عاجز کے اشتہار مورخہ 20 فروری 1886ء پرجس میں ایک پیشگوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح ہے۔جوبہ صفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا۔…ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ ٔالہٰی9 برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔ خواہ جلد ہو خواہ دیر سے بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ113مطبوعہ1971)

یہ دعویٰ آپؑ نے اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ فرمایا میرا یہ کہنا بموجب وعدہ الہٰی ہے ۔بعض غیر مبائعین اس پیشگوئی کی غلط تاویلیں کرتے ہیں۔انہیں خاموش کروانے کے لیے یہ ایک فقرہ ہی کافی ہے۔

’’بموجب وعدہ الہٰی نو برس کے عرصہ میں ضرور پیدا ہوگا۔‘‘

(خطابات ناصر جلد اول ص45)

اشتہار 20 فروری 1886ء میں 2لڑکوں بشیر اول اور بشیر ثانی کے پیدا ہونے کی پیشگوئی ہے۔ جس میں سے آپ نے بشیر ثانی کو مصلح موعود قرار دیا اور اس طرح بھی ثابت ہے کہ مصلح موعود آپ کا صلبی بیٹا ہے۔ حضور علیہ السلام کے ارشادات سے بخوبی ظاہر ہے کہ پسر موعود جو مصلح موعود ہو گا بموجب وعدہ الہٰی 9برس کے اندر اندر یعنی فروری 1886ء سے لیکر فروری1895ء تک ضرور پیدا ہو جائے گا۔

(9) 8 اپریل 1886ء کے اشتہار میں مصلح موعود کا لقب پسر موعود ہے۔

(ملخص مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ116-117)

پسر کے معنے بیٹے کے ہیں۔

(10) حضور ؑ فرماتے ہیں:۔
’’تمام پیشگوئیوں کے مجموعی الفاظ یہ ہیں کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے اور ایک لڑکا خدا تعالیٰ سے ہدایت میں کمال پائے گا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ،روحانی خزائن جلد5ص305)

ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ20 فروری 1886ء میں جس خاص لڑکے کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے وہ آپ کا صلبی بیٹا ہو گا۔

(11) حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں:۔
’’مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا ۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص183حاشیہ)

اس امر کو ملحوظ رکھ کر کہ مصلح موعود کا نام فضل بھی ہے اس الہام کی تشریح یہ ہو گی کہ بشیر اول کے ساتھ فضل یعنی مصلح موعود ہے جو اس کے یعنی بشیر اول کے آنے کے ساتھ آئے گا۔اور ساتھ آنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ مصلح موعود یا بشیر ثانی بشیر اول کے بعد بلا توقف پیدا ہو گا۔یعنی بشیراول اور مصلح موعود کے درمیان یا یوں کہئیے کہ بشیر اول اور بشیر ثانی کے درمیان کوئی بیٹا پیدا نہ ہو گا۔

چنانچہ حضرت اقدس ؑ اس کے آگے فرماتے ہیں:۔
’’نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے۔ اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے۔ اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرضِ التوا میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے پیدا ہو کر پھر واپس اٹھایا جاتا ۔ کیونکہ یہ سب امور حکمت الہٰیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے۔اور بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ارہاص تھا اس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص184 حاشیہ)

ارہاص سے مراد یہ ہے کہ بشیر اول بشیر ثانی کے آنے کی ایک علامت اور بشارت تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 4دسمبر 1888ء کو یعنی سبز اشتہار تحریر فرمانے کے 3روز بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو ایک خط میں تحریر فرمایا:۔ ’’اس لڑکے (یعنی بشیر اول) کی پیدائش کے بعد اس کی طہارت باطنی اور صفائی استعداد کی تعریفیں الہام میں بیان کی گئیں اور پاک اور نور اللہ اورید اللہ اور مقدس اور بشیر اور خداباماست اس کا نام رکھا گیا۔سوان الہامات نے یہ خیال پیدا کردیا کہ غالباًیہ وہی مصلح موعود ہو گامگرپیچھے سے کھل گیاکہ مصلح موعود نہ تھا مگر مصلح موعود کا بشیر تھا۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد 2ص74)

اسی طرح سبز اشتہار صفحہ17 میں بشیر اول کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے حضورؑ فرماتے ہیں:۔
’’بذریعہ الہام بتلایا گیا اور صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں۔ یعنی اس کے قدم اٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے ان کا آنا ضرور ہے۔سواے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا۔حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔‘‘

اور حضور ؑ نے 8اپریل 1886ء کے اشتہار میں بشیر اول کی پیدائش سے متعلق بشارت کا ذکر کر کے فرمایا کہ:۔ ’’بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔‘‘

پس جب بشیر اول مصلح موعود نہ ہوا تو دوسرا لازمی طور پر مصلح موعود ہو نا تھا۔ان عبارات سے واضح ہے کہ بشیر ثانی جو ازروئے الہام مصلح موعود ہے وہ بشیر اول کے بعد بلا توقف پیدا ہونے والا تھا۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعد انکشاف تام سراج منیر میں فرماتے ہیں:۔
’’سبز اشتہار میں صریح لفظوں میں بلا توقف لڑکا پیدا ہو نے کا وعدہ تھا۔ سو محمود پیدا ہو گیا۔‘‘

(سراج منیر ،روحانی خزائن جلد 12 صفحہ36 حاشیہ)

(12) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یکم دسمبر 1888ء کے سبز اشتہار میں بصراحت فرمایا تھا کہ ’’مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے۔اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص 183-184حاشیہ مطبوعہ1971ء)

اس اشتہار کی طباعت پر ابھی ڈیڑھ مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 12جنوری 1889ء کو آپ ؑ کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گیا ۔آپ ؑ نے اس کی پیدائش کا ذکر اشتہار ’’تکمیل تبلیغ‘‘ میں جو اسی رات میں تحریر کیا گیا تھا ان الفاظ میں فرمایا:۔ ’’خدائے عزوجل نے جیسا کہ شتہار دہم جولائی 1888ء و اشتہار دسمبر 1888ء میں مندرج ہے اپنے لطف و کرم سے یہ وعدہ دیا تھا کہ بشیر اول کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہو گا۔اور اس عاجز کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وہ اولو العزم ہو گا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔وہ قادرہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے سو آج 12جنوری 1889ء مطابق 9جمادی الاول 1306 ھ روز شنبہ میںاس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہو گیا ہے جس کا نام بالفعل محض تفاول کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی۔ مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے۔لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا۔ اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہو گا۔اور اگر مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گاتو خدائے عزوجل اس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا۔

اے فخرِ رسل قرب تو معلومم شد
دیر آمدۂ زراہ دور آمدۂ

پس اگر حضرت باری جلشانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پسر کے پیدا ہو نے میں جس کا نام بطور تفاول بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو۔ ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ص191-192)

اس اشتہار سے بھی مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:۔
1۔ پسر موعود۔ مصلح موعود۔ بشیر ثانی ایک ہی مولود کے نام ہیں۔

2۔ 12 جنوری 1889ء کو جو لڑکا پیدا ہوا اس کے یہ نام بطور تفاول رکھنے سے مراد یہی ہے کہ بظاہر حالات سے تویہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی مولود پسر موعود مصلح موعود ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہی بات ہے تو بشیر ثانی اور محمود جو اس کے نام بطور تفاول رکھے گئے ہیں اس کے واقعی نام قرار پائیں گے۔

3۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں مصلح موعود اس کے سوا کوئی اور لڑکا ہے تو وہ 9سال کی مدت معینہ کے اندر جس کے ختم ہونے میں ابھی 6سال باقی ہیں ضرور پیدا ہو جائے گا اور پھر اس کا نام محمود اور بشیر ثانی رکھا جائے گا۔کیونکہ یہ درحقیقت مصلح موعود کے نام ہیں جو واقعی طور پر کسی اور کو نہیں دئیے جا سکتے۔

5۔اس امر کی کہ 12جنوری 1889ء کو پیدا ہونے والا لڑکا ہی مصلح موعود ہے ایک دلیل تو یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ ہم نے جس لڑکے کا نام تفاول کےطور پر محمود اور بشیر ثانی رکھا تھا وہ لڑکا ان ناموں کا مصداق نہیں۔ان کا مصداق کوئی اور لڑکا ہے۔

6۔20 فروری 1886ء والا اشتہار جس میں سب سے پہلے پسر موعود کی پیشگوئی تحریر فرمائی ہے اس کے عنوان میں لکھا ہے کہ ’’رسالہ سراج منیر مشتمل برنشانہائے رب قدیر‘‘ پھر اس عنوان کے نیچے اس رسالہ کے موضوع اور اس کے چھاپنے کے متعلق ذکر فرمایا ہے۔پھر مصلح موعود والی پیشگوئی اور بعض اور پیشگوئیاں تحریر فرمائی ہیں۔

اس اشتہار سے قریباً3 سال بعد حضور ؑ نے سبز اشتہار میں بشیر اول کی وفات پر مخالفین کی نکتہ چینیوں کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ
’’یقینی طور پر کسی الہام کی بنا ء پر اس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اور انتظار میں سراج منیر کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی۔ تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جاوے تب اس کا مفصل اور مبسوط حال لکھا جائے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص166مطبوعہ 1971۔و کتاب سبز اشتہار روحانی خزائن جلد 2ص450)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدسؑ نے سراج منیر کا چھپوانااس غرض سے روک رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پسر موعودکی اصل حقیقت کہ وہ کون ہے ظاہر ہو جائے تو سراج منیرچھاپی جائے۔ اور آپؑ نے اس وقت تک نہیں چھپوائی جب تک کہ 9سال کی وہ میعاد جو بالہام الہٰی مصلح موعود کی پیدائش کے لئے مقرر تھی ختم نہیں ہو گئی اور آپ ؑ پر یہ انکشاف نہیں ہو گیا کہ مصلح موعود کون ہے۔سراج منیر کی اشاعت ہی سے یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ جس امر کے ظاہر ہو نے پر اس کی اشاعت منحصر کی گئی تھی وہ ظاہر ہو گیا ہے یعنی حضرت اقدس ؑ پر اس امر کا انکشاف ہو گیا ہے کہ مصلح موعود کون ہے ۔

(13) جب حضور علیہ السلام پر کامل انکشاف ہوگیا تو اس کے متعلق حضورؑ نے دنیا کو جو اطلاع دی وہ یہ تھی۔

’’پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی۔کہ وہ اب پیدا ہو گا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا۔اور پیشگوئی کی اشاعت کے لئے سبزورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے۔ جواب تک موجود ہیں۔اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا او راب نو یں سال میں ہے‘‘۔ اور حاشیہ میں فرماتے ہیں ’’ہاں سبز اشتہار میں صریح لفظوں میں بلا توقف لڑکا پیدا ہونے کا وعدہ تھا ۔سو محمود پیدا ہو گیا۔کس قدر یہ پیشگوئی عظیم الشان ہے۔اگر خدا کا خوف ہے تو پاک دل کے ساتھ سوچو۔‘‘

(سراج منیر ،روحانی خزائن جلد12 صفحہ36)

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ فرماتےہیں۔
’’سراج منیر 1897ء میں تصنیف ہوئی۔ گویا 1897ء میں کامل انکشاف کے بعد حضور (علیہ السلام) نے دنیا کو اپنے الفاظ میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا ہے کہ جس بچے کا نام میں نے تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود رکھا تھا۔ وہی لڑکا حقیقتاً مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے ۔۔۔ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق وہ لڑکا پیدا ہوگیا ہے ۔اور اب نویں سال میں ہے ۔اس دلیل کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی وہ لڑکا معیّن ہوگیا ۔جوخدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود بن کر دنیا کی طرف آیا۔‘‘

(خطابات ناصر جلد اول ص48)

(14) سبز اشتہار میں بشیر اول کے بعد مصلح موعود کے سوا جس کے الہامی نام بشیر ثانی اور محمود وغیرہ بھی ہیں اور کسی لڑکے کی کوئی خبر نہیں۔ اور 9سال کے اندر پیدا ہونے کی میعاد بھی مصلح موعود ہی کے لئے مقرر تھی۔اب اس سے زیادہ اس امر کی صراحت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس مولود کا نام محمود اور بشیر الدین پہلے بطور تفاول رکھا گیا تھا درحقیقت وہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا حقیقی مصداق ہے۔

(15) تریاق القلوب میں آپ علیہ السلام نے تحریر فرمایا:۔
’’سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہو نے والے لڑکے کا نام محمود رکھا جا ئے گا … جب کہ اس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی اور مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں میں سے کوئی بھی فرقہ باقی نہ رہا جو اس سے بےخبر ہو۔ تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے 12جنوری 1889ء کو مطابق 9 جمادی الاول 1306ھ میں بروز شنبہ محمود پیدا ہوا اور اس کے پیدا ہونے کی میں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر ’’تکمیل تبلیغ‘‘ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں۔ اور اس کے صفحہ 4میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے۔

اے فخرِ رسل قرب تو معلومم شد
دیر آمدۂ ز راہ دور آمدۂ‘‘

(تریاق القلوب،روحانی خزائن جلد15 ص219)

اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ پسر موعود اور مصلح موعود ایک ہی ہیں کیونکہ اشتہار تکمیل تبلیغ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پسر موعود کی بجائے مصلح موعود لکھا ہے۔ مزید برآں یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ منکشف ہو چکا تھا کہ ’’محمود‘‘ ہی مصلح موعود ہے۔

(16) پھر اس کے بعد 1907ء میں آپ ؑ نے حقیقۃ الوحی میں لکھا:۔
’’میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔وہ اگرچہ اب تک جو یکم دسمبر 1888ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین آسمان ٹل سکتے ہیں۔ پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔یہ ہےعبارت اشتہار سبز کے صفحہ سات کی جس کے مطابق جنوری 1889ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کانام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے۔اور سترھویں سال میں ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد5 ص374)

اب یہاں یہ نہیں لکھا کہ اس کا نام ’’محمود‘‘ بطور تفاول رکھا گیا۔بلکہ اسے قطعی طور پر سبز اشتہار کی پیشگوئی کا مصداق قرار دیاہے جس میں لکھا ہے کہ بشیر ثانی اور محمود مصلح موعود کے نام ہیں اور یہ کہ مصلح موعود والی پیشگوئی مندرجہ اشتہار 20 فروری 1886ء میں ’’مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے‘‘ کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔

(سبز اشتہار صفحہ463 حاشیہ)

(17) بشیر ثانی اور محمود ،مصلح موعود کے الہامی نام ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بیٹوں میں سے صرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ہی کے یہ دونوں نام رکھے اور کسی بیٹے کے نہیں رکھے۔ جس سے بہ تمام تر صفائی ظاہر ہو گیاکہ آپ ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کے حقیقی مصداق ہیں اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کانام بشیر ثانی اور محمود رکھنے میں جو مصلح موعود کے الہامی نام ہیں۔ یا اس الہام کہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔ آپ کو مصداق قرار دینے میں غلطی پر ہوتے تو اللہ تعالیٰ حضور ؑکی اس غلطی کو ضرور دور فرما دیتا۔ کیونکہ حضور ؑفرماتے ہیں:۔
’’میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں۔گو میں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا۔‘‘

(ایام الصلح،روحانی خزائن جلد14ص271۔272)

لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا ناموں کو غلط قرار نہیں دیا۔ اس لئے ثابت ہو گیا کہ حضورؑ نے 12جنوری 1889ء کو پیدا ہو نے والے مولود کا نام بطور تفاول کے جو محمود اور بشیر رکھا اور اسے مصلح موعود خیال کیا اور حسن و احسان میں اپنا نظیر بتایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی وہی مولود مسعود مصلح موعود کی پیشگوئی کا حقیقی مصداق تھا۔

(18)حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
’’ہمارے نزدیک یعنی ان احمدیوں کے نزدیک جو نظام خلافت سے وابستہ ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ الودود کو مصلح موعود مانتے ہیں یہ پیشگوئی نہایت صفائی اور شان کے ساتھ پوری ہوچکی ہے ۔مگر احمدی کہلانے والوں کی ایک دوسری شاخ یعنی منکرین نظام خلافت اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ فروری 1886ء کے اشتہار میں مندرج پیشگوئی ہر گز حضرت اقدس علیہ السلام کے کسی اپنے بیٹے سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ کسی دو تین سو سال بعد پیدا ہونے والے روحانی یا جسمانی بیٹے کے بارہ میں ہے۔ ان کے نزدیک ’’پاک لڑکا‘‘ ’’زکی غلام‘‘ اور ’’فرزند دلبند گرامی ارجمن‘‘ وغیرہ الفاظ محض استعارۃ ًرکھے گئے ہیں جن سے مراد بیٹا ہر گز نہیں بلکہ یہ کسی ایسے شخص کے متعلق استعمال ہوئے ہیں جو ممکن ہے د و سو سال بعد پیدا ہو۔

کسی بھی پہلو سے آپ اس پیغامی موقف پر غور کر کے دیکھیں یہ انتہائی لغو اور نامعقول نظر آتاہے۔ اول تو کسی لفظ کو حقیقت کی بجائے استعارہ قرار دینے کے لئے کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے یونہی خواہ مخواہ تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچ جاتا کہ جس لفظ کو چاہے حقیقت کی بجائے استعارہ قرار دے لے اور اہل پیغام خواہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں انہیں پیشگوئی مصلح موعود میں کوئی دور کا قرینہ بھی ایسا نہیں مل سکتا جس کی رُو سے ’’بیٹا زکی غلام‘‘ اور ’’فرزند دلبند‘‘ کے الفاظ کو استعارہ پر محمول کرنا ضروری ہو۔ پھر اگر اس پیشگوئی کے سیاق و سباق اور پس منظر پر بھی نگاہ ڈال کر دیکھا جائے تو بھی اہل پیغام کا یہ موقف انتہائی مضحکہ خیز اور عقل و خرد سے عاری نظر آتاہے یہ امر تو بہر حال انہیں بھی تسلیم ہوگا کہ ’’فرزند دلبند‘‘ سے جو بھی مراد لی جائے خواہ اس کا ترجمہ پڑپوتا کر لیا جائے یا بیٹا یہ وہی رحمت کا نشان ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رب سے مانگا تھا جیسا کہ خود الہام الہٰی کے یہ الفاظ ثابت کر رہے ہیں کہ ’’میں تجھ کو ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا‘‘ اب یہ تسلیم کر لینے کے بعد کہ جو کچھ بھی دیا گیا ہے۔ ’’اسی کے موافق ہے‘‘ جو حضرت اقدس نے اپنے رب سے مانگاتھا ۔اگر پیغامی موقف پر نظر ڈالیں تو اس کا یہ مطلب بنے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رحمت کے نشان کے طور پر اپنے رب سے ایک پاک اور وجیہ لڑکا نہیں بلکہ پڑپوتا یا لکڑپوتا یا نکڑ پوتا یا کوئی اور رشتہ دار مانگا تھا جو اسی دعا کے سو دو سو سال کے بعد ظاہر ہو۔تمسخر کی حد ہے! ذرہ سوچئے توسہی۔ دشمنان اسلام سے شدید مقابلہ ہو رہا ہے ۔آپ علیہ السلام اپنی دعاؤں کی قبولیت اور تعلق باللہ کو اسلام کی سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش فرماتے ہیں۔دشمن یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہماری پیش کردہ شرائط کے مطابق خدا تعالیٰ سے کوئی خارق عادت رحمت کا نشان مانگیں اور اس کی قبولیت کی پہلے سے خبر دیں پھر اگر ہم نے دیکھ لیا کہ وہ واقعی رحمت کا نشان آپ کو اسی طرح ملتاہے جس طرح آپ نے مانگا تھا تو کفر و اسلام کی جنگ کا اسی پر فیصلہ ہو جائے ۔ہم مان جائیں گے کہ آپؑ سچے آپ علیہ السلام کا خدا سچا ،آپ علیہ السلام کا مذہب اسلام سچا۔

پیغامی کہتے ہیں کہ کفر و اسلام کی یہ فیصلہ کن جنگ جب اس مرحلہ پر پہنچ گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو دکھانے کے لئے ایک ایسا نشان مانگا جس کے سچا یا جھوٹا ہونے کا فیصلہ ان لوگوں کی زندگی میں ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔عجب تمسخر ہے کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو ایک حیرت انگیز نشان دکھانے والا ہوں مگر جب لوگ کہیں اچھا پھر دکھاؤ ہم تو خود مشتاق ہیں تو جو نشان پیش کیا جائے وہ یہ ہو کہ جب تم سب لوگ مر کھپ جاؤ گے تو تم پر حجت تمام کرنے کی خاطر اور میری اور دین اسلام کی سچائی کو نصف النہار کی طرح روشن کرنے کے لئے تمہیں ایک حیرت انگیز رحمت کا نشان دکھایا جائے گا۔ٖ
صرف یہی نہیں بلکہ جب ہم ایک اور پہلو سے اس پیغامی موقف کو دیکھتے ہیں تو یہ تمسخر کی حد سے نکل کر ظلم اور سفاکی کی حد میں داخل ہوتا دکھائی دیتاہے۔ ان کے نزدیک جہاں تک حضرت اقدس علیہ السلام کی پہلی نسل کا تعلق ہے اس میں سے مصلح موعود پیدا ہونے کا تو کیا سوال وہ تو ساری کی ساری راہ حق سے ہی برگشتہ ہو چکی ہے اور ہدایت سے بکلی محروم گہری ظلمتوں میں بھٹک رہی ہے۔اس موقف کو اگر تسلیم کر لیا جائے اور الہام الہٰی کے ان الفاظ کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ ’’میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتاہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا‘‘۔ تو لازماً اس سے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رب سے گویا نعوذباللہ یہ التجا کی تھی کہ اے میرے آقا! ۔۔۔قادیان کے یہ ہندو جو مجھ سے رحمت کا نشان طلب کرتے ہیں اور تیرا کوئی ایسا فضل مجھ پر نازل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں جومیری اور اسلام کی سچائی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے اور جس کا بنانا انسانی اختیار سے باہر ہو تو اس کے جواب میں میری گریہ و زاری کو سنتے ہوئے میرے حق میں یہ رحمت کا نشان ظاہر فرما کہ میری ساری اولاد تو (نعوذباللہ) ان کے دیکھتے دیکھتے تجھ سے دور ہٹ کر ابدی ہلاکت کے گڑھے میں جا پڑے اور ان میں کوئی دین اللہ کا شرف اور مرتبہ بلند کرنے والانہ ہو مگر جب تمام موجودہ انسان صفحہ ٔہستی سے گزر چکے ہوں اور ان روحانی مقابلوں کا دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہے ،نہ تو قادیان کا کوئی ہندو ہی موجود ہو ان میں،نہ میرے موجودہ متبعین ۔تو ان مرے کھپے ہندوؤں پر حجت تمام کرنے کی خاطر اور ان تمام منتظر نگاہوں کو تسکین دینے کے لئے جو آج اس رحمت کے نشان کی انتظار میں فرش راہ بنی بیٹھی ہیں تو آج سے دو سو سال کے بعد مجھے ایک روحانی فرزند عطا فرما نا تاکہ ان بھولے بسرے ہندوؤں اور خاک بسر آنکھوں پر حجت تمام ہو جو کبھی مجھ سے رحمت کے نشان کی طالب تھیں۔کاش منکرین خلافت بغض محمود میں ایسے اندھے نہ ہوتے ۔کاش وہ ذرہ اتنی سی بصارت رکھتے کہ جس عناد کے تیر کو وہ محمود ایدہ اللہ الودود کے سینے میں پیوست کرنے پر مصر ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چھاتی کو برمائے بغیر اس دل تک نہیں پہنچ سکتا۔وہ عقلاً یہ مسلک اختیار کرنے کے مجاز ہی نہیں کہ مصلح موعود کی پیشگوئی سو دو سو سال بعدپیدا ہونے والے کسی شخص کے متعلق ہے۔‘‘

(خطابات طاہر قبل از خلافت ص62-64)

(19) حضورؒ مزید فرماتے ہیں۔
’’یہ امر ان کے لئے فیصلہ کُن ہونا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کو مصلح موعود کی بشارت عطا فرمائی تو آپؑ نے اور دوسرے سننے والوں نے اس کا کیا مطلب لیا؟ کیا یہ ایک معلوم حقیقت نہیں کہ اس پیشگوئی کے شائع ہوتے ہی کیا موافق اور کیا مخالف ،کیا مسلمان اور کیا ہندو اور سکھ اور عیسائی سب نے بلا استثناء ’’فرزند دلبند‘‘ سے مراد ایک عظیم الشان بیٹا لیا جو حضرت اقدس علیہ السلام کو بلا فصل عطا ہونا تھا۔چنانچہ سب دنیا کی نگاہیں اس پیشگوئی کے پورا ہونے یا نہ ہونے کی طرف لگ گئیں۔ان سب لوگوں کو تو مان لیا کہ الہام کی تشریح میں غلطی لگ گئی۔مگر حضور علیہ السلام کے متعلق یہ کیسے مانا جائے کہ آپ علیہ السلام کو بھی غلطی لگ گئی تھی۔کیا آپؑ کو معلوم نہیں تھا کہ آپؑ نے اپنے رب سے کیا مانگاہے؟پھر کیا آپؑ معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو وہی کچھ دینے کا وعدہ فرمایا جو آپؑ نے اس سے مانگا تھا ۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ مانگا تو آپؑ نے پڑپوتا ہو مگر انتظار بیٹے کا شروع کر دیا ہو … اگر واقعہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے بیٹے کی بجائے کچھ اور مانگا ہوتا تو جب 15اپریل 1886ء کو صاحبزادی عصمت کی پیدائش پر مخالفین نے تمسخر اور تضحیک کا ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا تو کم از کم اسی وقت حضرت اقدس علیہ السلام کو یاد آجانا چاہیے تھا کہ کیا غلطی ہوگئی آپؑ کو یاد آجانا چاہیئے تھا کہ نہ میں نے بیٹا مانگا تھا نہ خدا تعالیٰ نے ہی بیٹے کا وعدہ فرمایا ۔پس اس فروگذاشت کے ازالہ کی خاطر آپ علیہ السلام بذریعہ اشتہار یہ اعلان فرما دیتے کہ مجھ سے ایک بڑی بھول ہوگئی۔دراصل میں نے نہ تو کسی عظیم الشان بیٹے کی پیدائش کی التجا کی تھی نہ خداتعالیٰ نے ہی کوئی ایسی خوشخبری دی پس تم عبث ایک مصلح موعود بیٹے کی انتظار میں خود بھی پریشان ہو رہے ہو اور مجھے بھی پریشان کر رہے ہو آئندہ سےاس بحث کو بند سمجھا جائے۔مگر افسوس کہ یہ بحث بند نہ ہو سکتی تھی! آپ علیہ السلام خود تو اپنے الفاظ واپس لے لیتے مگر وحی الہٰی کو کیسے بند کرتے جو متواتر آپ علیہ السلام کے مؤقف کی تائید اور توثیق کرتی چلی جاتی تھی اور خداتعالیٰ بھی بار بار آپ کو خبر دے رہا تھا کہ بیٹا ہی ہوگا،بیٹا ہی ہو گا،بیٹا ہی ہو گااور ہو گا بھی9سال کے اندراندر۔چنانچہ اشتہار 22 ؍ مارچ 1886ء میں آپؑ تحریر فرماتےہیں:
’’ایسا لڑکا بموجب وعدہ الہٰی 9برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔خواہ جلد ہو خواہ دیر سے ۔بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہوجائے گا۔‘‘

(خطابات طاہرقبل ازخلافت ص65۔69)(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ113 مطبوعہ1971)

پس منکرین خلافت سے میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا تعالیٰ کو بھی غلطی لگ گئی تھی؟ سننے والوں کو پتہ نہ چلا کہ اس پیشگوئی سے کیا مراد ہے؟ مانگنے والے کو یادنہ رہا کہ میں نے کیا مانگاتھا؟ دینے والے کو یعنی خود خدا تعالیٰ بھی بھول گیا کہ کیا دینے کا وعدہ کیا تھا؟ … ہر اہل عقل ودانش پر خوب روشن ہے کہ خداتعالیٰ نے حضرت اقدس علیہ السلام کو ایک عظیم الشان مصلح موعود بیٹے کی خوشخبری عطا فرمائی اور سب اہل علم جانتے ہیں کہ بڑی ہی صفائی اور شان کے ساتھ یہ پیشگوئی دنیا کے دیکھتے دیکھتے پوری ہوگئی۔گو مخالفتوں کے بہت طوفان برپا ہوگئے،گو آپؑ کواور آپؑ کی ہونے والی اولاد کو سخت ناپاک اور ذلیل تمسخر کا نشانہ بنایا گیا۔یہاں تک کہ دروغ گو افتراء پردازوں نے تمسخر اور تذلل کے رنگ میں الہام الہٰی کی نقالی اور حضرت اقدس علیہ السلام اور آپؑ کی اولاد کی کامل تباہی اور بربادی کے متعلق من گھڑت جھوٹے الہام شائع کئے مگر یہ سب جھوٹ خود انہی پر پڑے اور پسر موعود کے حق میں خداکے سب ارادے پورے ہوکر رہے۔‘‘

(خطابات طاہر قبل از خلافت ص69)

حضورؒ فرماتےہیں۔
’’جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ اے منکرین مصلح موعود! کیا اس نشان رحمت کو پہچانتے ہو؟ کیا یہ تصویر تم نے کہیں دیکھی ہے؟ دیکھو کہ یہ وہی محمود تو ہے جو مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا ثمرہ ہے وہی ’’فرزند دلبند گرامی ارجمند‘‘ تو ہے جس کے حق میں خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح کو ؎

بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا
جو ہوگا اک دن محبوب میرا
کروں کا دور اس مہ سے اندھیرا
دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا
بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی
فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الاَعَادِی

(خطابات طاہر قبل از خلافت ص71)

(20) یہ امر بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اختلاف سے پہلے منکرین خلافت بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے۔ کہ مصلح موعود آپ کے بیٹوں میں سے ہو گا۔ چنانچہ مرزا خدا بخش غیر مبائع نے 1901ء میں اپنی کتاب عسل مصفّٰی میں لکھا:۔
’’ایک دفعہ ایسے وقت میں جب کہ ابھی تک مسیح موعود کی کوئی اولاد نئی زوجہ سے جو ایک بڑے مشہور خاندان سادات سے تھیں نہیں ہوئی تھی۔ پیشگوئی کی کہ ایک لڑکا پیدا ہو گا۔ جو مشرق سے مغرب تک دین اسلام پھیلائے گا اس کا نام بشیر اور عما نویل ہو گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (ضمیمہ ریاض ہند یکم مارچ 1886ء) یہ پیشگوئی بھی بکمال صفائی پوری ہو گئی۔اس وقت تک چار ہی لڑکے موجود ہیں جن میں سے ایک وہ موعود بھی ہے جو اپنے وقت پر اپنے کمالات ظاہر کرے گا اور جو حضرت اقدسؑ کا جانشین ہو گا۔‘‘

(عسل مصفّٰی جلد 2، صفحہ582 مطبوعہ1900ء)

کتنی واضح تحریر ہے کہ وہ موعود لڑکا آپؑ کے موجودہ چاروں فرزندوں میں سے ایک ہے اور وہ آپؑ کا جانشین یعنی خلیفہ ہو گا۔

(21) سابق امیر منکرین خلافت مولوی محمد علی مرحوم 1906ء میں سلسلہ کی کامیابی کے وعدہ کا ذکر کرکے تحریر فرماتے ہیں:۔ ’’یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ آپؑ کے ایک لڑکے کے ذریعہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سلسلہ کی رہنمائی کے لئے مامور ہو گا یہ سلسلہ بڑا اقتدار اور قوت حاصل کرے گا۔‘‘

(ریویو آف ریلجیز جلد5، صفحہ192)

(22)مولوی محمد احسن مرحوم امر و ہوی نے جن کی شہادت کو سابق امیر منکرین خلافت نے ایک مامور ملہم کی شہادت سے بھی زیادہ وقیع قرار دیا ہے 1910ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کی تقریر و تفسیر آیات قرآنی سن کر فرمایا:۔
’’ایک یہ بھی الہام تھا کہ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ مَظھَرُ الحَقِّ وَالعُلَاء الخ جو اس حدیث کی پیشگوئی کے مطابق تھا جو مسیح موعود کے بارہ میں ہے کہ یتزوّج ویُولد لہٗ یعنی آپؑ کے ہاں ولد صالح عظیم الشان پیدا ہو گا۔ چنانچہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجود ہیں منجملہ ذریت طیبہ کے۔‘‘

(ضمیمہ اخبار بدر26 جنوری 1911ء)

(23) حضرت حکیم مولوی نور الدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے متعلق منکرین خلافت لکھتے ہیں کہ
آپ ایک ایسی بزرگ ہستی تھے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صدیق کے مرتبہ پر قرار دیا اور جس کے متعلق فرمایا کہ وہ مشکوٰۃ نبوت کے انوار سے منور ہے اور اپنی پاک طینتی اور شان مردی کے مناسب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نور لیتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس کے لبوں پر حکمت بہتی ہے اور آسمان کے نور اس کے پاس نازل ہوتے ہیں۔

(ایڈیٹوریل پیغام صلح 8اگست 1956ء)

اسی مقدس و بزرگ ہستی سے 1913ء میں حضرت پیر منظور محمد مرحوم و مغفور ؓ نے عرض کیا کہ مجھے حضرت اقدس ؑکے اشتہارات کو پڑھ کرپتہ چل گیا ہے کہ پسر موعود میاں صاحب ہی ہیں تو حضرت خلیفۃ المسیح اول ؓ نے فرمایا:۔
’’ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کس خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں۔‘‘

پھر حضرت پیر صاحب کی درخواست پر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اپنے قلم سے لکھ دیا:۔ ’’یہ لفظ میں نے برادرم پیر منظور محمد ؐ سے کہے ہیں۔‘‘

(نورالدین 10ستمبر 1913ء)

اور اس کا عکس سلسلہ کے لٹریچر میں چھپا ہوا موجود ہے۔

پس اگر بنی اسرائیل کے علماء کی شہادت بطور دلیل قرآن مجید میں پیش کی گئی ہے تو اس شخص کی شہادت جس کے متعلق منکرین خلافت تسلیم کرتے ہیں کہ وہ صدیق کا مرتبہ رکھتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے نور لیتا تھا۔ اس امر کی دلیل کیوں نہیں ہو سکتا کہ مصلح موعود والی پیشگوئی کے حقیقی مصداق حضرت مرزا بشیرالدین محمود المصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔

(24) جب اللہ تعالیٰ نے 5 اور 6 جنوری 1944ء کی درمیانی رات کو ایک خواب کے ذریعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ پر یہ منکشف فرمایا کہ آپ ہی پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں تو آپؓ نے 20 فروری 1944ء کو ہوشیار پور کے مقام پرایک عظیم الشان جلسہ میں اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔ آپ ؓفرماتے ہیں:۔
’’آج سے پورے اٹھاون سال پہلے … 20 فروری کے دن 1886ء میں اس شہر ہوشیار پور میں اس مکان میں جو کہ میری انگلی کے سامنے ہے … قادیان کا ایک گمنام شخص جس کو خود قادیان کے لوگ بھی پوری طرح نہیں جانتے تھے لوگوں کی اس مخالفت کو دیکھ کر جواسلام اور بانیٔ اسلام سے وہ رکھتے تھے، اپنے خدا کے حضور علیحدگی میں عبادت کرنے اور اس کی نصرت اور مدد طلب کرنے کے لئے آیا اور چالیس دن علیحدگی میں اس نے خدا تعالیٰ سے تضرع کے ساتھ دعائیں کیں۔ ان دعاؤں کے نتیجہ میں خد انے اس کو ایک نشان دیا۔ وہ نشان یہ تھا کہ میں تم کو نہ صرف یہ کہ جو تمہارے ساتھ میرے وعدے ہیں ان کوپورا کروں گابلکہ ان وعدوں کوزیادہ شان اور زیادہ عظمت کے ساتھ پورا کرنے کیلئے میں تمہیں ایک خاص بیٹا دوں گا۔ وہ اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا۔ کلام الہٰی کے معارف لوگوں کو سمجھائے گا۔ رحمت اور فضل کا نشان ہوگا اور دینی اور دنیوی علوم جو اسلام کی اشاعت کے لئے ضروری ہیں اسے عطا کئے جائیں گے ۔ اللہ اسے لمبی عمر دے گا یہاں تک کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت حاصل کریں گی … یہ خبر ایسی زبردست خبرہے کہ کوئی انسان ایسی خبر دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آخر یہ پیشگوئی پوری ہوئی …… جس لڑکے کا میں نے ذکر کیا ہے وہ میں ہی ہوں۔ میرے ذریعہ اس پیشگوئی کی بہت سی شقیں پوری ہو چکی ہیں اس لئے جماعت کا اصرار تھا کہ میں اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کروں مگر میں خاموش رہا۔ حتیٰ کہ گزشتہ جنوری کے مہینہ میں لاہور میں مجھے ایک رؤیا دکھایا گیا۔ جس میں مجھے بتایا گیا کہ اس پیشگوئی کا میں ہی مصداق ہوں … میں اس واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے … کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام پہنچانا ہے …… میں آسمان کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں، زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں، ہوشیار پور کی ایک ایک اینٹ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔ حکومتیں اگر اس کے مقابلہ میں کھڑی ہوں گی تو مٹ جائیں گی، بادشاہتیں کھڑی ہوں گی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی۔ لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے ان کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور ان کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔‘‘

(الفضل 24 فروری 1944ء)

حضرت مصلح موعودؓ کے 52سالہ دورخلافت کا لمحہ لمحہ اس پیشگوئی کی صداقت کا آئینہ دار ہے۔اِس پیشگوئی میں مذکور ہر صفت اپنی پوری شان کے ساتھ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے وجود میں جلوہ گر نظرآتی ہے۔ آپ نے اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان نہایت پُر شوکت الفاظ میں فرمایا۔آپ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے اِذن اور اسی کے انکشاف کے ماتحت میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ وہ مصلح موعود جس نے رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے ماتحت دنیا میں آنا تھااور جس کے متعلق یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام اور رسول کریم ؐکے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔ اور اس کا وجود خدا تعالیٰ کے جلالی نشانات کا حامل ہوگا۔ وہ میں ہی ہوں اور میرے ذریعہ ہی وہ پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک موعود بیٹے کے متعلق فرمائی تھیں ۔ یادرہے کہ میں کسی خوبی کا اپنے لئے دعویدار نہیں ہوں۔ میں فقط خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہے۔اس سے زیادہ نہ مجھے کوئی دعویٰ ہے نہ مجھے کسی دعویٰ میں خوشی ہے۔میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ ﷺ کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آجائے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر راضی ہو جائے اور میرا خاتمہ رسول کریم ﷺ کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔‘‘

(انوار العلوم جلد 17ص560)

پچھلا پڑھیں

امریکن عیسائی مشنری زویمر کی قادیان آمد اور حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 فروری 2021