• 26 فروری, 2021

تربیتِ اولاد کے لئے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامبارک اُسوہ اور قیمتی نصائح

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے موعود فرزندِ ارجمند حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ؓ جو بہت سی خدا داد اور موعودہ خصائل و عادات لے کر پیدا ہوئے تھے، نے اپنی اولاد کی تربیت کے جو رنگ اختیار فرمائےاس بارہ میں آپؓ کے ارشاداتِ عالیہ کا ایک مرقع بطور نمونہ پیشِ خدمت ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اپنے والدِ ماجد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندازِ تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں:

یتیم سے حسنِ سلوک

ایک دن میرے ساتھ دو تین لڑکیاں صحن میں ایک گھریلو کھیل (آنکھ مچولی) کھیل رہی تھیں۔ مجھے کسی بات پر غصہ آیا اور میں نے ان میں سے ایک کے منہ پر طمانچہ مارا۔عین اسی وقت اباجان مغرب کی نماز پڑھا کر صحن میں داخل ہو رہے تھے۔ آپ نے مجھے طمانچہ مارتے ہوئے دیکھ لیاتھا۔ سیدھے میرے پاس آئے مجھے پاس کھڑا کر کے اس لڑکی کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ مبارک نے تمہارے منہ پر طمانچہ مارا ہے تم اس کے منہ پر اسی طرح طمانچہ مارو۔ وہ لڑکی اس کی جرأت نہ کر سکی۔ بار بار کہنے کے باوجود اس نے میرے منہ پر طمانچہ نہیں مارا ۔اس کے بعد آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ اس کا باپ نہیں اس لئے تم جو چاہو کر سکتے ہو؟ یاد رکھو کہ میں اسکا باپ ہوں۔ اگر تم نے آئندہ ایسی حرکت کی تو میں سزا دوں گا۔ (یہ ایک یتیم لڑکی تھی جس کو ابا جان نے اپنی کفالت میں لیا ہوا تھا) یتیموں سے حسن سلوک ان کی عزت اور احترام کا سبق تھا جو میں کبھی نہیں بھولا۔ میری عمر اس وقت سات آٹھ سال کی تھی۔یہ لکھتے ہوئے بھی وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 5 جنوری 1995ء)

کھانے کے آداب

ابا جان کے ساتھ کھانا کھانا بھی تربیت اور اعلیٰ اخلاق کا موجب بنا۔ دستر خوان پر بیٹھتے ہوئے سب بچوں پر نظر رکھتے کہ جب ڈش سے کھانا نکالا ہے تو کیا اپنے سامنے والے حصہ سے نکالا ہے یا نہیں۔لقمہ منہ میں ڈال کر منہ بند کر کے کھانا چبایا ہے یا نہیں۔ کھاتے وقت منہ سے آوازیں تو نہیں نکلتیں۔کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ صابن سے دھوئے تھے یا نہیں۔ غرض کوئی پہلو بھی آپ کی نظر سے اوجھل نہ تھا۔بعض دفعہ میں حیران ہوتا تھا کہ خود تو کھاتے ہوئے ڈاک بھی دیکھتے جاتے ہیں۔خطوط پر نوٹ بھی لکھتے جاتے ہیں۔کبھی کبھی لقمہ منہ میں ڈالتے ہیں۔نظر بھی نیچی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہماری ہر حرکت پر بھی نظر ہے۔بہت کم خوراک تھی۔ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ آپ اتنا کم کھاتے ہیںتو میں بھی کم کھانا کھایا کروں۔میں نے آدھا پھلکا (پھلکا ہمارے گھروں میں بہت کم آٹے کی پتلی سی روٹی کو کہتے ہیں) کھانا شروع کیا۔ایک دن مجھے فرمانے لگے کہ میں ایک ماہ سے دیکھ رہا ہوں کہ تم بہت کم کھانا کھاتے ہو۔تمہارے لئے مناسب نہیں۔ تم ابھی بچے ہو۔تمہاری نشو ونما کی عمر ہے اس عمر میں پیٹ بھر کر کھانا چاہئے۔ تھوڑا کھانا تمہارے قویٰ پر مضر اثر کرے گا۔تمہارے پر بڑی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔ ان کو کیسے اٹھا سکو گے۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 5 جنوری 1995ء)

پڑھائی کی نگرانی

ہائی سکول کی پرائمری کی چار کلاسیں مکمل کرنے کے بعد آپ نے مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل کروایا۔مدرسہ احمدیہ میں انگریزی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔ایک دن کھانے پر بیٹھے ہوئے انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ پڑھتے ہوئے مجھے کہاکہ انگریزی زبان پر عبور بھی ضروری ہے۔تم کو کھیلوں میں دلچسپی ہے۔ آج سے تم مجھ سے اخبار لے لیا کرو۔اس کے جس صفحہ پر کھیلوں کی خبریں ہوتی ہیں وہ پڑھنا شروع کرو اور پھر آہستہ آہستہ اخبار کی باقی خبریں بھی پڑھنی شروع کر دینا۔مجھ سے ہرروز سوال کرتے تھے کہ آج کے اخبار میں کون کون سی کھیلوں کا ذکر ہے؟ اس کا کیا نتیجہ نکلا؟کرکٹ کا میچ تھا تو کس نے زیادہ رنز بنائیں؟کس بولر نے زیادہ وکٹیں لیں؟ہاکی کے میچ میں کس کس نے گول کئے وغیرہ؟ چند ماہ میں ہی آپ کو تسلی ہو گئی کہ اخبار اچھی طرح پڑھ لیتا ہوں اور سمجھ لیتا ہوں۔

ایک دن فرمانے لگے کہ تمہیں کونسی ناولیں پڑھنے کا شوق ہے۔ میں نے کہا کہ جاسوسی کی۔یہ سن کر آپ نے اپنے ذاتی لائبریرین جن کا نام مکرم یحییٰ خان صاحب تھا ،کو بلایا اور انہیں کہا کہ مبارک آپ سے اپنی پسند کی کتابیں لے آیا کرے گا اور پڑھ کر واپس کر دیا کرے گا۔آپ کی لائبریری میں سب علوم کی کتب موجود تھیں۔ جوں جوں انگریزی زبان میں ترقی کرتا گیا مختلف علوم کی کتب پڑھنی شروع کر دیں۔ میری پسند کے مضمون تاریخ، پولیٹکل سائنس اور فلاسفی تھے۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 5 جنوری 1995ء)

ایفاءِ عہد

ہر سال جلسہ سالانہ کے بعد آپؓ دو اڑھائی ہفتہ کے لئے بیاس دریا پر شکار کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔جلسہ سالانہ کی مصروفیات جو روزانہ 19گھنٹے سے کم نہ ہوتی تھیں، کا تقاضہ تھا کہ جلسہ کے بعد کچھ آرام اور صحت مند تفریح بھی ہو جائے۔ ایک دن آپ کی طبیعت کچھ خراب تھی۔ آپ نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو کہا کہ میں آج دریا پر نہ جا سکوں گا آپ مبارک کو شکار کے لئے لے جائیں۔ ہم دریا پر پہنچے اور کشتی میں سوار تھے کہ ہمارے اوپر سے دو مگ (بڑی مرغابی) اڑتے ہوئے جا رہے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ اگر آپ ان دونوں کو گرا لیں تو میں آپ کو ایک روپیہ انعام دوں گا۔ ڈاکٹر صاحب نے فائر کیا اور و ہ دونوں نیچے آ گرے۔شام کو واپس گھر آئے تو میں تو ایک روپیہ کا وعدہ کر کے بھول گیا تھا مگر ڈاکٹر صاحب بھولنے والے نہ تھے۔ دو تین دن کے بعد ابا جان کو کہا کہ میاں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اگر مگ گرالوں تو مجھے ایک روپیہ انعام دیں گے۔ انہوں نے ابھی تک مجھے روپیہ نہیں دیا۔جب آپ گھر کے اندر تشریف لائے تو مجھے بلا کر فرمایا کہ تم نے ڈاکٹر صاحب سے جو وعدہ کیا تھا پورا نہیں کیا۔ یہ جائز نہیں یا وعدہ نہ کرو یا پھر اس کو پورا کرو۔اسی وقت اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر مجھے دیا کہ ابھی جا کر ڈاکٹر صاحب کو یہ دے دو۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 5 جنوری 1995ء)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمودات تربیتِ اولاد فرض ہے

’’ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں تک اسلام کی تعلیم کو محفوظ رکھتا چلا جائے اور درحقیقت اسی غرض کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ کی انجمن قائم کی ہےتا جماعت کو یہ احساس ہو کہ اولاد کی تربیت ان کا اہم ترین فرض ہے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکتہ ایسے اعلیٰ طور پر بیان فرمایا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ یہ امر ہر شخص جانتا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی اصلاح میں سے مقدم اصلاح لڑکیوں کی ہوتی ہے کیونکہ وہ آئندہ نسل کی مائیں بننے والی ہوتی ہیں اور ان کا اثر اپنی اولاد پر بہت بھاری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قوم عورتوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتی اس قوم کے مردوں کی بھی اصلاح نہیں ہوتی اور جو قوم مردوں اور عورتوں دونوں کی اصلاح کی فکر کرتی ہے وہی خطرات سے بالکل محفوظ ہوتی ہے۔‘‘

(مشعلِ راہ جلد چہارم ص65، ازخدام الاحمدیہ پاکستان)

آنے والی نسلوں کی اصلاح کی فکر

’’یاد رکھو کہ تمہارا یہی فرض نہیں کہ اپنی اصلاح کرو بلکہ یہ بھی فر ض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کی بھی اصلاح کی فکر رکھو اور ان کو نصیحت کروتاکہ وہ اگلوں کی فکر رکھیں اور اسی طرح یہ سلسلہ ادائے امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتا چلا جاوے تا کہ یہ دریائے فیض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا ہے، ہمیشہ جاری رہے اور ہم اس کام کے پورا کرنے والے ہوں جس کے لئے آد م علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اس کی اولاد پیدا کی گئی ہے۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔آمین‘‘

(مشعلِ راہ جلد چہارم ص74، ازخدام الاحمدیہ پاکستان)

نیک صحبت

’’ماں باپ کتنی بھی کوشش کریں کہ ان کا بچہ بد اخلاقیوں کے بد اثرات سے محفوظ رہے، جب تک بچہ کی صحبت اور مجلس نیک نہ ہوگی اس وقت تک ماں باپ کی کوشش بچوں کے اخلاق درست کرنے میں کارگر اور مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔۔۔بچپن کی بد صحبت ایسی بد عادات بچے کے اندر پیدا کر دیتی ہے کہ آئندہ عمر میں ان کا ازالہ ناممکن ہو جاتا ہے۔‘‘

(الازہار لذوات الخمار، ازلجنہ اماء اللہ پاکستان ص 160)

بہت احتیاط کی ضرورت ہے

’’میں احمدی ماؤں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے ننھے ننھے بچوں میں خدا پرستی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہیں۔ وہ انہیں لغو، مخرب اخلاق اور بے سرو پا کہانیاں سنانے کی بجائے نتیجہ خیز، مفید اور دیندار بنانے والے قصّے سنائیں۔ اُن کے سامنے ہرگز کوئی ایسی بات چیت نہ کریں جس سے کسی بد خُلق کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔۔۔ اپنے بچوں کو کبھی آوارہ نہ پھرنے دو۔ان کو آزاد نہ ہونے دو کہ حدود اللہ کو توڑنے لگیں۔ان کے کاموں کو انضباط کے اندر رکھو۔اپنے ننھے بچوں کو اپنی نوکرانیوں کے سپرد کر کے بالکل بےپرواہ نہ ہو جاؤ کہ بہت سی خرابیاں صرف اسی ابتدائی غفلت سے پیدا ہوتی ہیں۔

ماں اپنے بچے کو باہر بھیج کر خوش ہوتی ہے کہ مجھے کچھ فرصت مل گئی ہے لیکن اسے کیا معلوم ہے کہ میرا بچہ کن کن صحبتوں میں گیا اور مختلف نظاروں سے اس نے اپنے اندر کیا برے نقش لئے جو اس کی آئندہ زندگی کے لئے نہایت ضرر رساں ہو سکتے ہیں۔ پس احتیاط کرو کہ اِس وقت کی تھوڑی سی احتیاط بہت سے آنے والے خطروں سے بچانے والی ہے۔ خود نیک بنو اور خدا پرست بنو کہ تمہارے بچے بھی بڑے ہو کر نیک اور خدا پرست ہوں۔‘‘

(الفضل قادیان 10۔ ستمبر 1913ء)

تین بنیادی عادات

’’محنت کی عادت، سچ کی عادت اور نماز کی عادت ان (بچوں) میں پیدا ہوجائے۔ اگر یہ تین عادتیں ان میں پیدا کر دی جائیں تو یقیناً جوانی میں ایسے بچے بہت کا آمد اور مفیدثابت ہوسکتے ہیں۔ پس بچوں میں محنت کی عادت پیدا کی جائے، سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے اور نمازوں کی باقاعدگی کی عادت پیدا کی جائے۔ نماز کے بغیر اسلام کوئی چیز نہیں۔ اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں اسلامی روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے۔‘‘

(مشعلِ راہ جلد چہارم ص61،ازخدام الاحمدیہ پاکستان)

بچوں کو نماز باجماعت کا پابند کرو

’’پس نماز باجماعت کی عادت ڈالواور اپنے بچوں کو بھی اس کا پابند بناؤ۔ کیونکہ بچوں کے اخلاق اور عادات کی درستی اور اصلاح کے لئے میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری امر نماز باجماعت ہی ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں اتنے لوگوں سے ملنے اور مختلف حالات کی جانچ پڑتال کا موقع ملا ہے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میری طبیعت کو ایسا حساس بنایا ہے کہ سو سال کی عمر پانے والے بھی اپنی عمر کے تجربوں کے بعد دنیا کی اونچ نیچ اور اچھے برے کو اتنا محسوس نہیں کر سکتے جتنا میں محسوس کر تا ہوں۔ اور میں نے اپنے تجربہ میں نماز باجماعت سے بڑھ کر اور کوئی چیز نیکی کے لئے ایسی مؤثر نہیں دیکھی۔ سب سے بڑھ کر نیکی کا اثر کرنے والی نمازباجماعت ہی ہے۔ اگر میں اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ کی پوری پوری تشریح نہ کر سکوں تو میں اپنا قصور سمجھونگا ورنہ میرے نزدیک نماز باجماعت کا پابند خواہ اپنی بدیوں میں ترقی کرتے کرتے ابلیس سے بھی آگے نکل جائے پھر بھی میرے نزدیک اس کی اصلاح کا موقع ہاتھ سے نہیں گیا۔ ایک شمہّ بھر اور ایک رائی کے برابر بھی میرے خیال میں نہیں آتا کہ کوئی شخص نماز باجماعت کا پابند ہو او ر پھر اس کی اصلاح کا کوئی موقع نہ رہے خواہ وہ کتنا ہی بدیوں میں مبتلا کیوں نہ ہو گیا ہو۔ نیکی کے متعلق نماز کے مؤثر ہونے کا مجھے اتنا کامل یقین ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بھی کہہ سکتا ہوں کہ نماز باجماعت کا پابندہ خواہ کتنا ہی بد اعمال کیوں نہ ہو گیا ہو اس کی ضرور اصلاح ہو سکتی ہے اور وہ ضائع نہیں ہوتا۔ اور میں شرح صدر سے کہہ سکتا ہوں کہ آخر ی وقت تک اس کے لئے اصلاح کا موقع ہےمگر وہ نماز باجماعت کا پابند اس رنگ میں ہو کہ اس کو اس میں لذت اور سرور حاصل ہو۔

(تفسیر کبیر جلدنمبر 7صفحہ نمبر652)

بچوں کے خونی اور قاتل

’’بڑا آدمی اگرخود باجماعت نماز نہیں پڑھتا تو وہ منافق ہے۔ مگر وہ لوگ جو اپنے بچوں کو نماز باجماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے وہ ان کے خونی اور قاتل ہیں۔ اگر ماں باپ بچوں کو نمازباجماعت کی عادت ڈالیں تو کبھی ان پر ایسا وقت نہیں آسکتا کہ یہ کہا جا سکے کہ ان کی اصلاح ناممکن ہے اور وہ قابلِ علاج نہیں رہے۔‘‘

(الازہار لذوات الخمار، مرتبہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ 168)

نتیجہ ضرور نکلے گا

’’نماز روحانی جسم کی اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔ جس طرح ایک بیمار جسم محض یہ کہہ کر موت سے بچ نہیں سکتا کہ وہ بیمار ہے اور بیمار ہونے کی وجہ سے وہ روٹی نہیں کھا سکتا۔ اسی طرح ایک روحانی جسم بھی یہ کہہ کر موت سے نہیں بچ سکتا کہ وہ بیمار ہے اور نماز نہیں پڑھ سکتا۔ باوجود اس کے کہ ایک شخص بیمار ہے اور کھانا نہیں کھا سکتا، مثلاً اس کے گلے میں ورم ہو گیا ہے یا جبڑا جُڑ گیا ہےیا معدہ غذا کو اپنے اندر رکھ نہیں سکتایا غذا کو انتڑیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے یا منہ کی طرف سے باہر پھینک دیتا ہے یا کوئی رسولی پیدا ہو گئی ہے یا سرطان ہو گیا ہے اور غذا معدہ میں ٹھہرتی نہیں بلکہ قے ہو جاتی ہے یا غذا معدہ کے اندر جاتی نہیں یا انتڑیوں میں غذا ٹھہرتی نہیں یا پچتی نہیں۔ پھر بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرے گا نہیں۔ اس لئے کہ روٹی کے بغیر انسانی جسم بچ نہیں سکتا۔اسی طرح باوجود اس کے کہ ایک شخص کسی عذر کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا وہ مرے گا۔بعض لوگ عدم فرصت کی وجہ سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ چونکہ وجہ جائز ہے اس لئے نتیجہ نہیں نکل سکتا۔حالانکہ ان کا یہ خیال درست نہیں۔وجہ جائز ہو یا ناجائز نتیجہ ضرور نکلے گا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدنمبر 7صفحہ نمبر651)

بچوں کو خوش مزاج بنائیں

’’بچوں کو خوش اخلاق بنانا چاہیئے۔خوش مزاج بنانا چاہئے۔ پھر اچھے اخلاق میں تحمل مزاجی بھی ہے۔ تو بچپن سے ہی ماں باپ کو اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جن کو اگر نہ کیا جائے تو بچوں کو جو رونے کی اور ہر وقت بلاوجہ ریں ریں کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے، وہ ختم ہو جاتی ہے۔ مثلاً بچہ کے دودھ یا کھانے کا وقت ہے، ماں کام کر رہی ہے، بچہ دودھ یا کھانا مانگتا ہے، ماں کہتی ہے ٹھہرو، میں یہ کام ختم کر لوں، تمہیں دیتی ہوں۔ اب بچہ شاید دو منٹ تو صبر کر لےپھر وہ رونا شروع ہوجائے گا۔ بعض دفعہ اتنی چیخم دوڑ ہوتی ہے کہ لگتا ہے کہ آفت آ گئی ہے۔ تو پھر جب دو تین دفعہ اس طرح ہو تو بچہ سمجھ جاتا ہے کہ اب میں نے جو چیز بھی مانگنی ہے، جو کام بھی کرنا ہے اور جو کام کروانا ہے، بغیر روئے کے نہیں ہو سکتا۔ اس طرح بچہ کے اخلاق پر آہستہ آہستہ اثر ہو رہا ہوتا ہے اور وہ غیر محسوس طریقہ سے غصہ اور ضد کے اثر میں پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 20 ستمبر 2004ء ص3)

عدمِ تربیت تباہی لاتی ہے

’’جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ کی قوت قدسیہ سے اللہ تعالیٰ نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور لاکھوں نیک لوگ پیدا کئے۔ لیکن دوسرے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا کرنا عورت کا کام تھا کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر انسان تھے اور انہوں نے ایک دن فوت ہو جانا تھا۔

پس پہلا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن دوسرا ابوبکر ایک عورت ہی پیدا کر سکتی تھی۔ پہلا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن دوسرا عمر ایک عورت ہی پیدا کر سکتی تھی۔ پہلا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن دوسرا عثمان ایک عورت ہی پیدا کر سکتی ہے۔ پہلا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن دوسرا علی ایک عورت ہی پیدا کر سکتی ہے۔ اور جب انہوں نے پیدا نہ کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ تباہی آگئی۔ عدل جاتا رہا۔ انصاف قائم نہ رہا اور چاروں طرف ظلم ہی ظلم ہونے لگا۔ آخر مسلمانوں کی اگلی نسل کیوں بگڑی؟ کیا ان کے بگاڑنے کے لئے جہنم سے شیطان آئے تھے؟ وہ اس لئے بگڑے کہ عورتوں نے اپنی ذمہ داری نہ سمجھی اور انہوں نے اپنی اولاد کو ایسی تعلیم نہ دی جس کے ماتحت وہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے والے ہوتے۔‘‘

(الازہار لذوات الخمارحصہ دوم ازحضرت سیدہ مریم صدیقہ صفحہ 96۔97)

بُری عادت سے ٹوکنا چاہئے

’’مجھے ایک دوست کا احسان اپنی ساری زندگی میں نہیں بھول سکتا اور میں جب بھی اس دوست کی اولاد پر مشکل پڑی دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ٹیس اٹھتی ہے اور ان کی بہبود کے لئے دعائیں کیا کرتا ہوں۔ 1903ء کی بات ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مولوی کرم ین والے مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں مقیم تھے۔ وہ دوست جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، مراد آباد یو۔پی کے رہنے والے تھے اور فوج میں رسالدار میجر تھے۔محمد ایوب ان کا نام تھا۔وہ حضرت مسیح موعودؑ سے ملنے کے لئے گورداسپورآئے تھے۔انہوں نے دو باتیں ایسی کیں جو میرے لئے ہدایت کا موجب ہوئیں۔ دلّی میں رواج تھا کہ بچے باپ کو تم کہہ کر خطاب کرتے تھے۔اسی طرح بیوی خاوند کو تم کہتی۔ لکھنؤ وغیرہ میں ’’آپ‘‘ کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ گھر میں ہمیشہ تم تم کا لفظ سنتے رہنے سے میری عادت بھی تم کہنے کی ہوگئی تھی۔ یوں تو میری عادت تھی کہ میں حتٰی الوسع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کرنے سے کتراتا تھا لیکن اگر ضرورت پڑجاتی اور مجبوراً مخاطب کرنا پڑ تا تو تم کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے اس دوست کی موجودگی میں آپؑ سے کوئی بات کرنی پڑی اور میں نے تم کا لفظ استعمال کیا۔ یہ سن کر اس دوست نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور مجلس سے ایک طرف لے گئے اور کہا ’’میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے لیکن یہ ادب ہی چاہتا ہے کہ آپ کو آپ کی غلطی سے آگاہ کروں۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کرتے وقت کبھی بھی تم کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ آپ کے لفظ سے مخاطب کریں ورنہ آپ نے پھر یہ لفظ بولا تو جان لے لوں گا۔‘‘ مجھے تو تم کا لفظ استعمال کرتے رہنے کی وجہ سے تم اورآپ میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ میں آپ کی نسبت تم کے لفظ کو زیادہ پسند کرتا تھا اور حالت یہ تھی کہ آپ کا لفظ بولتے ہوئے مجھے بوجہ عادت نہ ہونے کے شرم سے پسینہ آجاتا تھا۔ کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ آپ کہنا جرم ہے۔ مگر اس دوست کے سمجھانے کے بعد میں آپ کا لفظ استعمال کرنے لگا اور ان کی اس نصیحت کا اثر اب تک میرے دل میں موجود ہے۔‘‘

(سوانح فضلِ عمرؓ جلد اول ص90۔91)

غلط روش کی نشان دہی

حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں کی تربیت کے لئے غلط روش کی نشان دہی کو ضروری قرار دیتے ہوئے اپنا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ:
’’میں نے لاہور آنے پر یہاں بعض لڑکوں کو نکٹائی لگاتے دیکھا اور میں نے بھی شوق سے ایک نکٹائی خرید لی اور پہننی شروع کر دی۔گورداسپور میں ایک دوست میجر محمد ایوب صاحب مرحوم مجھے پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے ’آج آپ نے نکٹائی پہنی ہے تو کل ہم کنچنیوں کا تماشا دیکھنے لگ جائیں گے کیونکہ ہم نے تو آپ سے سبق سیکھنا ہے۔ جو قدم آپ اٹھائیں گے ہم بھی آپ کے پیچھے چلیں گے‘ یہ کہہ کر انہوں نے مجھ سے نکٹائی مانگی اور میں نے اتار کر ان کو دے دی۔‘‘

(سوانح فضلِ عمر جلد اول ص19)

غلطی کی اصلاح کی کوشش

’’لوگ ابتداء میں اپنی اولادوں کی تربیت کی فکر نہیں کرتے اور اگر کوئی کہے تو اس سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ہر شخص اپنے لڑکے کو معصوم سمجھتا ہے۔ دوسرے کے لڑکے کے متعلق تو وہ کوئی بات سن بھی لیتا ہے لیکن اپنے لڑکے کے متعلق کوئی بات نہیں سن سکتا۔ بلکہ اگر کوئی کہے تو الٹا اسے ڈانٹنا شروع کر دیتا ہے کہ آپ پہلے اپنے بچے کی خبر لیں۔۔۔ بجائے اس کے کہ وہ خوش ہوں کہ کسی نے میرے لڑکے کی بیماری کا پتہ دے دیا ہے، اُلٹا لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریق نہایت نامناسب ہے۔ ہماری جماعت کے ہر شخص کا فرض ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے اخلاق کی درستی کے لئے کوشاں رہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 17۔ ستمبر 1961ء)

نونہالانِ جماعت کو نصائح

حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی جماعت کے بچوں کی تربیت کے لئے اشعار اور نظم کی صورت میں جو نصائح فرمائیں وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ان میں سے ایک ایک شعر اپنے اندر نصیحت واخلاص کے سبق لئے ہوئے ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان نمونوں اور ہدایات وارشادات کے مطابق اپنی اور اپنی نسلوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

(از ابن شریف درّانی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار