• 27 فروری, 2021

اے فضل عمرؓ تجھ کو جہاں یاد کرے گا

اے فضل عمرؓ تجھ کو جہاں یاد کرے گا
’’اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘‘

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ جیسی عظیم الشان ہستی کی اس دنیا میں تشریف آوری کی خبر امام آخرالزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم الشان پیشگوئی میں دی گئی تھی جو اپنے اندر اس آنے والے وجود کی کئی خوبیاں بیان کر رہی تھی ۔کہیں تو اس وجود کی ذات بابرکات کے متعلق یہ منادی تھی کہ ’’اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘‘ اور کہیں اس کی ذہانت اور فہم کا اعلان کرتے ہوئے یہ خبر دی جارہی تھی کہ وہ ’’علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا‘‘۔ گویا اس فرزند دلبند گرامی ارجمند کا آنا کوئی معمولی نہ تھا بلکہ اس کا نزول بہت مبارک ہونا تھا اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہونا تھاگویا وہ نور کی آمد تھی نور کی۔

حضرت مصلح موعودؓاس پیشگوئی کے ضمن میں فرماتے ہیں:
’’خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمدرسول اللہؐ اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں۔ اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں‘‘۔

پھر فرمایا:
’’خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کردے گا۔ اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریمؐ کے نام کے طفیل اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہوجائے۔‘‘

نیز فرمایا:
’’یہ وہ آواز ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے۔ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے۔ یہ سچائی نہیں ٹلے گی نہیں ٹلے گی اور نہیں ٹلے گی اور اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا‘‘۔

(الموعود صفحہ 210)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت قاضی محمد ظہورالدین صاحب اکمل ؓ نے آپ کی بچپن کی ایک تقریر سن کر جو الفاظ کہے وہ پیش خدمت ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں:
’’برج نبوت کا روشن ستارہ، اوج رسالت کا درخشندہ گوہر محمود سلمہ اللہ الودود شرک پر تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا، میں ان کی تقریر خاص توجہ سے سنتا رہا۔کیابتاؤں، فصاحت کا ایک سیلاب تھا جو پورے زور سے بہہ رہا تھا۔واقعی اتنی چھوٹی سی عمر میں خیالات کی پختگی اعجاز سے کم نہیں ۔۔۔ ‘‘

ذیل میں چند ایسے ہی واقعات پیش ہیں جن سے حضرت مصلح موعود ؓ کی شخصیت مزید نمایا ں ہوکر چمکتی ہے:

دوسرے مذاہب کے رہنماؤں کا ادب

مکرم صوفی بشارت الرحمٰن صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’(ڈلہوزی کے قیام کے دوران) ایک دن خاکسار،مولانا ابوالمنیرنورالحق صاحب اور صاحبزادہ میاں عباس احمد صاحب سیر کرتے ہوئے ڈلہوزی کے ایک راؤنڈ پر جارہے تھے کہ سامنے دیکھا کہ فرقہ رادھا سوامی کے گرو سردارساون سنگھ صاحب اپنے فرقہ کی گرنتھ کا درس دے رہے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ہم بھی یہ گرنتھ سنیں تا معلوم ہو کہ یہ فرقہ کیا ہے؟ اس کے کیا عقائد ہیں؟ ہم بھی مکان کے اندر چلے گئے اور ان کا درس سننے لگے۔ درس کے دوران گرو صاحب نے حضرت نوح ؑکے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کئے کیونکہ بائبل میں انبیاء کے متعلق کئی نامناسب باتیں پائی جاتی ہیں …… اس پر خاکسار کھڑا ہوگیا اور گروصاحب کو کہا کہ …… حضرت نوح ؑخدا کے ایک مقدس رسول تھے ان کے بارے میں اس رنگ میں ذکرمناسب نہیں تھا اس پر گروصاحب نے کہا تم کس حیثیت سے اعتراض کررہے ہو؟ پھر کہنے لگے‘‘تواندرگیا ویں؟’’یعنی کیا تم اندر گئے ہو؟بعد میں معلوم ہوا کہ ا س سے ان کا مطلب یہ تھا کہ کیا تم کشف وغیرہ کا روحانی تجربہ رکھتے ہو؟ لیکن ان کی اس خاص اصطلاح سے خاکسار ناواقف تھا۔ میں نے حیران ہو کر ان کے کمروں کی طرف نظر ڈال کر پوچھا ’’کیھڑ ے اندر‘‘ اس پر گرو صاحب برافروختہ ہوگئے کہ تم مذاق کرتے ہو…… میں مرزا صاحب کے پاس تمہاری رپورٹ کروں گا۔ اس کے بعد مولانا ابوالمنیرنورالحق صاحب نے اٹھ کر کچھ کہا تو گروصاحب نے کہا تم کون ہو؟کیا تم نے تارا دیکھا ہے؟ ابراہیم نے تو تارا دیکھا تھا۔ مولوی صاحب کہنے لگے کہ میں تو روز ہی رات کو تارے دیکھتا ہوں۔ اس پر گرو صاحب پھر ناراض ہوکر کہنے لگے۔ تم بھی مذاق کرتے ہو۔ بیٹھ جاؤ۔ اس پر صاحبزادہ میاں عباس صاحب نے کھڑے ہو کر کہا ۔گروصاحب! آپ نے فرمایا ہے کہ ہمارے مذہب کے علاوہ دنیا کا کوئی اور مذہب ہمیں روحانیت کا راستہ نہیں دکھاتا۔ حالانکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ وہ کامل روحانیت کا راستہ دکھاتاہے۔گروصاحب نے انہیں بھی کچھ کہنے کی اجازت نہ دی اور ہم اس مجلس سے اٹھ کر آگئے۔

اگلے دن جمعہ تھا۔ ہمیں یہ خیال نہیں تھا کہ گرو صاحب سچ مچ حضرت مصلح موعود ؑکی خدمت میں ہماری شکایت کریں گے۔ پتہ اس وقت لگا جب حضورؓ نے ہم تینوں پر خطبہ میں ناراضگی کا اظہار شروع کردیا۔ فرمایا کہ یہ ان کا مذہبی درس تھا۔ ان کا کیا حق تھا کہ وہ ان کی محفل میں جا کر اعتراضات کرتے وہ کوئی پبلک جلسہ تو نہیں تھا…… جمعہ ختم ہوا تو مولوی ابوالمنیرنورالحق صاحب مجھے کان میں کہنے لگے کہ بشارت صاحب! یہ تو خطبہ جمعہ تھا۔ اب دیکھنا کہ ہمارا کیا حال ہوتا ہے۔ بس تیار ہوجاؤ۔ میں نے انہیں کہا کہ حضورؓ نے سب سے پہلے آپ کی طرف رخ کرنا ہے۔ بس اس وقت حضور کا رخ میری طرف کردیں۔ اتنے میں حضور نے فوراً ہی مولوی نورالحق صاحب کومخاطب کرکے فرمایا کہ آخر آپ کو کیا ہوگیا تھا کہ آپ ان کے درس میں مخل ہوئے؟مولوی صاحب نے کہا کہ یہ بشارت صاحب آپ کو ساری بات سنادیں گے۔ فرمایاکہ اچھا اپنا ماجرا سنالو۔ کیا ماجرا ہوا تھا؟ میں نے من وعن سارا واقعہ سنانا شروع کردیا۔ جب میں نے یہ بیان کیا کہ مجھ سے پوچھا تھا۔ ’’تو اندر گیاویں‘‘ تو میں نے ان کے کمروں کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور کہا کہ کیھڑے اندر؟ اس پر حضورؓ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ پھر فرمانے لگے کہ یہ ان کا خاص محاورہ ہے۔ ان کی یہ مراد تھی کہ کشف وغیرہ کا تمہیں تجربہ ہے؟اب میرا مطلب حل ہوچکا تھا۔ میں صرف حضور کا (Mood) بدلنا چاہتا تھا …… فرمانے لگے کہ ان کا کوئی نوجوان میرے درس میں آکر اعتراضات کرنے لگے تو بتاؤ تمہارا ردعمل کیا ہوگا؟ خاکسار نے عرض کیا کہ حضور!آئندہ ایسی غلطی ان شاء اللہ نہیں ہوگی۔ اس پر حضورؓ نے ہمیں رادھا سوامی مذہب کی تفصیل بتانی شروع کی‘‘۔

(خالدفروری 91ء صفحہ 40)

پھرمجھے تمام رات جاگنا پڑے گا

قادیان دارالامان کا واقعہ ہے۔ بٹالہ میں احمدی اور غیر احمدی علماء کا مناظرہ تھا …… بٹالہ میں جماعت احمدیہ کی مخالفت بہت تھی اس لئے دیگر قریبی جماعتوں کے احمدی احباب مناظرہ میں شمولیت کی غرض سے بٹالہ پہنچے ہوئے تھے۔ گرمی کے ایام تھے۔ اہل بٹالہ نے حسب عادت بڑھ چڑھ کر مخالفت کی اور دکانداروں کو احمدی احباب کو کھانے پینے کی چیزیں دینے سے روک دیا گیا۔ رات عشاء کی نماز کے بعد حضرت مصلح موعود ؓکو قادیان میں رپورٹ پہنچی کہ بٹالہ میں جماعت کے دوست باغ میں مقیم ہیں اور انہیں کھانا نہیں ملا۔ یہ خبر سنتے ہی حضورؓ بے چین ہوگئے۔ ابھی آپ نے خود بھی کھانا نہ کھایا تھا اسی وقت محترم مولانامولوی عبدالرحمٰن صاحب فاضل جو مقامی جماعت کے پریذیڈنٹ تھے، کو بلایا۔مکرم ملک محمدعبداللہ صاحب فاضل بھی ساتھ تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب ہم بیت مبارک کی بالائی چھت پرپہنچے تو حضور بڑے اضطراب میں ٹہل رہے تھے ۔ہمیں دیکھتے ہی حضور نے محترم مولوی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ابھی رپورٹ ملی ہے کہ بٹالہ میں اپنے دوستوں کو کھانے کی تکلیف ہے۔ ہم نے حضور کے اس ارشاد کو اچھی طرح نہ سمجھتے ہوئے عرض کیا کہ حضور!صبح ہوتے ہی اس کا انتظام کردیا جائے گا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر مجھے تمام رات جاگنا پڑے گا۔ ان الفاظ کو سنتے ہی ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا او رعرض کیا کہ حضور! ابھی انتظام کرتے ہیں۔ اس وقت رات کے دس بجے تھے۔ ساری رات انتظام کیا گیا۔ احباب کو بٹالہ میں حضور کے اس اضطراب کا علم ہوا تو عجیب کیفیت تھی۔محترم مولانا عبدالرحمٰن صاحب نے اسی وقت جیپ کار کو جو سامان لے کر گئی تھی قادیان واپس کیا تا حضورؓ کو اطلاع کی جائے۔ دوسرے دن علم ہوا کہ حضورؓ رات کو ہماری رپورٹ کاا نتظار ہی فرمارہے تھے اور اس رپورٹ کے بعد ہی آپ نے کھانا کھایا‘‘۔

(الفضل 26مارچ 1966ء)

وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا

مکرم ملک حبیب الرحمٰن صاحب ریٹائرڈڈپٹی انسپکٹر آف سکولز تحریر فرماتے ہیں:۔
’’شجاع آباد میں کئی دفعہ مشہور احراری لیڈر قاضی احسان احمد صاحب جو اس وقت نوعمر تھے، میرے پاس آیا کرتے تھے۔ دو تین دفعہ انہوں نے کہا کہ آپ کے خلیفہ صاحب اس قدر ذہین ہیں اور ان کا دماغ اتنا اعلیٰ ہے کہ ہماری سکیمیں فیل کردیتے ہیں‘‘۔

(الفضل 20مارچ 1966ء)

ایک تاریخی عہد

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:-
’’حضرت مسیح موعودؑ کے آخری لمحے تھے اور آپؑ کے گرد مرد ہی مرد تھے…… میں وہاں کھڑا ہوا اور میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنی آنکھ کھولتے اِدھر اُدھر پھیرتے اور پھر بند کرلیتے…… کئی دفعہ آپؑ نے اسی طرح کیا۔ آخر آپ نے زور لگا کر…… سرہانے کی طرف دیکھا۔ نظر گھومتے گھومتے جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو مجھے اس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے آپ میری ہی تلاش میں تھے اور مجھے دیکھ کر آپ کو اطمینان ہوگیا۔ اس کے بعد آپؑ نے آنکھیں بند کرلیں آخری سانس لیا اور وفات پاگئے۔آپؑ کی وفات کے معاً بعد کچھ لوگ گھبرائے کہ اب کیا ہوگا؟ اس طرح بعض اورلوگ مجھے پریشان حال دکھائی دیئے اور میں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ اب جماعت کا کیا حال ہوگا؟ تو مجھے یا دہے گو میں اس وقت انیس(19) سال کا تھا مگر میں نے اسی جگہ حضرت مسیح موعودؑ کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا:
’’اے خدا!میں تجھ کو حاضر وناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ تونے نازل فرمایا ہے۔ میں اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلاؤں گا‘‘۔

(سوانح فضل عمر جلداوّل صفحہ178)

حضورؓ کو الٰہی علم تفسیر عطا ہونا

’’میں ابھی چھوٹا ساتھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ جیسے کوئی کٹورہ ہوتا ہے …… اس میں سے ٹن کی آواز آئی پھر وہ آواز پھیلنی شروع ہوئی پھر مجسم ہوئی پھر وہ ایک فریم بن گئی پھر اس میں ایک تصویر بنی پھر وہ تصویر متحرک ہوگئی اور اس میں سے ایک وجود نکل کر میرے سامنے آیا اور اس نے کہا میں خدا تعالیٰ کا فرشتہ ہوں اور میں آپ کو سورۂ فاتحہ کی تفسیر سکھانے آیا ہوں۔ میں نے کہا سکھاؤ۔ اس نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھانی شروع کی۔ جب وہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ پر پہنچا تو کہنے لگا کہ آج تک جتنی تفسیریں لکھی گئی ہیں وہ اس آیت سے آگے نہیں بڑھیں۔کیا میں آپ کو آگے بھی سکھاؤں؟ میں نے کہا ہاں! چنانچہ اس نے مجھے اگلی آیات کی بھی تفسیر سکھا دی۔جب میری آنکھ کھلی تو اس وقت فرشتہ کی سکھائی ہوئی باتوں میں سے کچھ باتیں مجھے یاد ہیں مگر میں نے ان کو نوٹ نہ کیا دوسرے دن حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ سے میں نے اس رویا کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے کچھ باتیں یاد ہیں مگر میں نے ان کو نوٹ نہ کیا اور اب وہ میرے ذہن سے اتر گئی ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ پیار سے فرمانے لگے کہ آپ ہی تمام علم لے لیا کچھ یاد رکھتے تو ہمیں بھی سناتے۔ یہ رویاء اصل میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بیج کے طور پر میرے دل اور دماغ میں قرآنی علوم کا ایک خزانہ رکھ دیاہے۔ چنانچہ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا کبھی کسی ایک موقعہ پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سورۂ فاتحہ پر غور کیا ہویا اس کے متعلق کوئی مضمون بیان کیا ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے سے نئے معارف اور نئے سے نئے علوم مجھے عطا نہ فرمائے گئے ہوں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 78)

تفسیر کبیر بھی بلامعاوضہ حاصل نہ کی

آپ نے تفسیرکبیر پر دن رات محنت کی اور پھر اس کی اشاعت کے لئے ہزاروں روپیہ اپنی طرف سے عطا فرمایا۔ اس کے باوجود بھی آپ نے ایک نسخہ بھی بلامعاوضہ وصول نہ فرمایا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’…… ہر احمدی باپ کا فرض تھا کہ اپنی اولاد کے لئے تفسیر کبیر خریدتا۔ میں نے خود اپنی ہر لڑکی اور ہر لڑکے سے دریافت کیا کہ انہوں نے تفسیر خریدی ہے یا نہیں؟ اور جب تک ان سب نے نہیں خریدی مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ میں نے تو خود سب سے پہلے اسے خریدا اور حق تصنیف کے طور پر اس کا ایک نسخہ لینا پسند نہیں کیا کیونکہ میں اس پر اپنا کوئی حق نہ سمجھتا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے علم خداتعالیٰ نے دیا ہے۔ وقت بھی اسی نے دیا ہے اور اسی کی توفیق سے میں یہ کام کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ پھر میرا اس پر کیا حق ہے؟ اور میرے لئے یہی مناسب ہے کہ خود بھی اسے اسی طرح خریدوں جس طرح دوسرے لوگ خریدتے ہیں …… یہ تفسیر ایک بہترین تحفہ ہے جو دوست دوست کو دے سکتا ہے۔ ایک بہترین تحفہ ہے جو خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو دے سکتی ہے۔ باپ بیٹے کو دے سکتا ہے۔ بھائی بہن کو دے سکتا ہے۔ یہ بہترین جہیز ہے جو لڑکیوں کو دیا جاسکتا ہے‘‘۔

(سوانح فضل عمرجلد سوم صفحہ 161)

جماعت سے گہری محبت

مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب (سابق امیر جماعت احمدیہ امریکہ) بیان کرتے ہیں:
’’آپ کو جماعت سے بے پایاں محبت تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی قادیان سے کوئی قافلہ پاکستان کے لئے روانہ ہوتا تو آپ حمائل شریف لے کر برآمدہ میں اس وقت تک ٹہلتے ہوئے تلاوت فرماتے رہتے جب تک اس قافلہ کی حفاظت سے سرحد پارکرنے کی اطلاع نہ آجاتی۔ ان مواقع پر آپ مسلسل دعا کرتے رہتے۔یہ بات بھی میرے علم میں ہے کہ جب بھی جماعت کسی ابتلا کے دور سے گزررہی ہوتی تو آپ بسترپر سونا ترک کرکے فرش پر سوتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس آزمائش کے بادل چھٹنے کا اشارہ ملتا کہ چلو جا کر بستر پر آرام کرو …… میں نے کئی مرتبہ جب جماعت کسی سخت دور سے گزررہی، ہوتی آپ کو ساری ساری رات بغیر ایک منٹ آرام کئے دیکھا ہے اور آپ کام کرتے کرتے اٹھ کر صبح کی نماز کے لئے تشریف لے جاتے‘‘

(الفضل 16فروری 2000ء)

سنت نبویؐ کی پیروی کا شوق اور استادوں کا ادب

حضرت مصلح موعودؓ نے 5جون 1929ء سے 30ستمبر1929ء سفر کشمیر اختیار فرمایا۔ اس دوران ایک روز آپ بذریعہ موٹر حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحبؓ اور صاحبزادہ مرزا ناصراحمد صاحب ؓکو ساتھ لے کر خواجہ کمال الدین صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو نشاط باغ کے آگے سرینگر سے 500 فٹ کی بلندی پر خیمہ میں رہائش پذیر تھے۔ حضورؓ ایک گھنٹہ تک خواجہ صاحب کے پاس تشریف فرما رہے۔ حضور اس وا قعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اسلامی سنت کو پورا کرنے کے لئے اور اس وجہ سے کہ میں چھوٹاتھا اور مدرسہ میں پڑھتا تھا خواجہ صاحب نے تین چار دن مجھے حساب پڑھایا تھا اوراس طرح وہ میرے استاد ہیں۔ میں ان کی عیادت کے لئے گیا تھا۔ موقع کے لحاظ سے ان کی بیماری کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد6 صفحہ161)

مظلومین کشمیر کی فوری اعانت

ایک مشہور لیڈر مفتی ضیاء الدین صاحب ضیاء سابق مفتی اعظم پونچھ اپنے منظوم کتابچہ ’’نوحہ کشمیر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’بآغازِ تحریک آزادی کشمیریوں کی طرف سے زعماء ہندوستان کی خدمت میں خطوط بھیجے گئے جن میں ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال صاحب (شاعر مشرق)، جناب شیخ صادق حسین صاحب امرت سری، امام جماعت احمدیہ اور خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی شامل ہیں اور کہا گیا کہ مظلوموں کی مدد کیجئے۔ (امام جماعت احمدیہ کے سوا) سب کی طرف سے یہ جواب آیا کہ آپ نے ایسے خطرناک کام میں کیوں ہاتھ ڈالا اور بس۔ صرف امام جماعت احمدیہ کی طرف سے یکمشت ایک خطیر رقم مظلومین کشمیر کی امداد کے لئے موصول ہوگئی۔‘‘

ایک مظلوم کی بروقت امداد

مکرم نورالدین صاحب ولدمفتی ضیاء الدین صاحب آف سرینگر کا بیان ہے کہ مس عشبی انچارج سوپورمشن نے مجھ پر دعویٰ کیا کہ میرے نابالغ بھائی شمس الدین اور میری ہمشیرہ عائشہ کی (جو اب بالغ ہوچکی ہے) وہ میرے والد صاحب مرحوم کی کسی وصیت کی رو سے گارڈین ہے۔ حالانکہ قبل ازوفات میرے والد صاحب اس وصیت کو منسوخ کرچکے تھے۔ میں علماء گدی نشینوں اور لیڈروں کے پاس امداد کے لئے گیا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی۔ اور عیسائیوں نے بذریعہ عدالت میرے چھوٹے بھائی پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد عیسائیوں نے میری ہمشیرہ کے حصول کے لئے کوشش کی۔ جب میں نے سب طرف سے اپنے آپ کو بے یارومدد گار پایا تو میں نے اس کسمپرسی کی حالت میں حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کے حضور امدادکے لئے درخواست کی۔ گو میں سنّی ہوں اور جماعت احمدیہ کے خیالات وعقائد سے متفق نہیں لیکن انہوں نے بروقت امداد فرمائی اور بذریعہ ایڈیٹر ’’اصلاح‘‘ مقدمہ کا خرچہ ارسال فرمایا۔…… عیسائیوں کی اپیل خارج ہوگئی۔ اس جگہ میں اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے محسن امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ انہو ں نے ایک بے بس اور مظلوم کی بروقت امداد فرمائی۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلدنمبر6 صفحہ443 و صفحہ 631)

اب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود ؓکی زندگی کا ایک اجمالی خاکہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں جو خبر دی تھی خداتعالیٰ ہمیشہ ان خبروں کوپورا کرنے کے لئے آپ کی تائید فرماتا رہا ۔وہ ہرلمحہ آپ کے ساتھ رہا۔

اجمالی خاکہ
100 کے قریب علمی،تربیتی اور روحانی تحریکات
311 خانہ ہائے خدا کی بیرونی ممالک میں تعمیر۔
46 ممالک میں احمدیہ مشن ہاؤسزکا قیام۔
164 واقفین زندگی کو بیرون ممالک دعوت الی اللہ کے لئے بھجوانا۔
16 زبانوں میں تراجم قرآن کی اشاعت۔
24ممالک میں 74تعلیمی مراکز کا قیام
28دینی مدرسوں اور 17ہسپتالوں کا قیام
225کتب و رسائل کی تصنیف
10ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی قرآنی تفسیر و تشریح

علم و دانش پر محیط آپ کی تقاریر و تصانیف کو اگر کیٹیگری کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ کچھ یوں بنتی ہیں:
٭ دینی و مذہبی تصانیف
٭ دعوت الی اللہ اور اصلاح و اخلاق سے متعلقہ کتب و تقاریر
٭ سیاسی،اقتصادی،عمرانی مسائل پر ارشادات و خطابات
٭ تاریخی اور سوانحی تصانیف
٭ دہریت اور عیسائیت کے بارے میں تصانیف
٭ ہندومت، آریہ دھرم اور سکھ پنتھ کے بارہ میں تصانیف
٭ فلسفیانہ تصانیف
٭ تصوف اور الہامات سے متعلقہ تصانیف
٭ مخالفین رسولﷺ کے اعتراضات اور جوابات
٭ تحریک کشمیر پر اور خواتین کے مسائل پر تقاریروتصانیف
٭ قیام واستحکام پاکستان کے بارہ میں ہدایا ت و رہنمائی۔

ان موضوعات پر کتابوں کی مختصر فہرست کچھ اس طرح سے ہے:
ذکرالٰہی، عرفان الٰہی، تقدیرالٰہی، نجات کی حقیقت، ملائکۃاللہ، حقیقۃ النبوۃ، آئینہ صداقت، منصب خلافت، برکات خلافت، انوار خلافت، تحفۃ الملوک، دعوۃ الامیر، تحفہ شہزادہ ویلز، احمدیت یعنی حقیقی اسلام، صداقتِ اسلام، اسلا م میں اختلافات کا آغاز، واقعات خلافت علوی، فرعون موسیٰ، گوشت خوری، نہرورپورٹ پر تبصرہ، ترک موالات اور احکام اسلام اور ایسی ہی بے شمار دوسری کتب۔

تفسیر کبیر

جہاں تک تفسیر کبیرکا تعلق ہےتو وہ تو علوم ومعارف، حقائق ودقائق، لطائف و نکات اور ادّلہ و براہین کا ایک بحرزخّار ہے۔ اس تفسیر کے مضامین ونکات سروروکیف اور علم و معرفت کے ایک اورہی عالم سے آگہی بخشتی ہے۔

مثلاً ترتیب آیات اور ترتیب سُوَر، من و سلوی کی حقیقت، حضرت موسیٰ ؑ کی ہجرت اور گزرگاہ، اصحاب کہف، اصحاب رقیم، عرش الٰہی کی تشریح، محکمات ومتشابہات، پرانی اقوام کے متعلق نئی تحقیق، ترتیب نزول اور موجودہ ترتیب میں اختلاف کی حکمت، پیدائش عالم،تخلیق آدم، آنحضرتﷺ کا رفیع الشان مقام، مسئلہ ارتقاء، مستقبل کی پیش خبریاں، فلسفہ حلت و حرمت، قرآنی تمثیلات واستعارات کی پر حکمت تشریح، مقطعات، جن و انس کی حقیقت، شیطان اور سجدہ آدم، ذوالقرنین کے متعلق تحقیق اور قرآنی قسموں کی فلاسفی وغیرہ۔

آپ فرماتے ہیں:
’’وہ کون سا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔مسئلۂ نبوت، مسئلہ کفر، مسئلہ خلافت، مسئلہ تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔ مجھے خداتعالیٰ نے اس خدمت دین کی توفیق دی۔‘‘

پھرفرمایا:
’’مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے، مجھے لاکھ برا بھلا کہے جو شخص (دین حق) کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا اُسے میرا خوشہ چین ہونا پڑے گا اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جاسکے گا۔‘‘

(خلافت راشدہ صفحہ 254، 256)

اس تفسیرکبیر کے بارہ میں مولوی ظفرعلی خان (متعصب مخالف اور سخت دشمن) تحریر کرتے ہیں:
’’احراریو! کان کھول کر سن لو۔ تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کرسکتے۔ مرزا محمود کے پاس قرآن اور قرآن کا علم ہے۔ تمہارے پاس کیا دھرا ہے……مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔ مختلف علوم کے ماہر ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑرکھا ہے۔‘‘

(ایک خوفناک سازش صفحہ 196)

تحریکات

آپ کی جاری کردہ مختلف تحریکات کی مختصر فہرست بھی پیش ہے جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اس کے ساتھ خدا تھا:

1917ء تحریک وقف زندگی
1919ء صدرانجمن کی نظارتوں کا قیام
1922ء مجلس شوریٰ کی ابتداء
1923ء شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان
1928ء خصوصی جلسہ ہائے سیرۃ النبیﷺ کی تحریک
1934ء تحریک جدید کی عظیم تحریک۔ جس کے ذریعہ جماعت احمدیہ (دین حق) کو اکناف عالم میں پھیلانے کے لئے اپنی تمام جان کے ساتھ کوشاں ہے۔
1943ء مجلس افتا ء کا قیام
1944ء وقف جائیداد کی تحریک
1944ء مشہور زبانوں میں ترجمہ قرآن اور لٹریچر کی اشاعت کی تحریک۔
1948ء فتنہ صہونیت کے مقابلہ کی تحریک۔ جب آپ نے ’’الکفرملۃ واحدۃ‘‘ لکھ کر مخالفین اسلام کے متعلق مسلمانوں کو بیدار و خبردار کرنے کی کوشش فرمائی۔
1952ء خلافت لائبریری کا قیام۔ جو تشنہ کاموں کے لئے سیرابی کاکام دے رہی ہے۔
1957ء وقف جدید کی تحریک۔ جس نے پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں تربیت کا بہترین کام کیااور اب یہ عالمی طور پر کام کررہی ہے۔
1957ء میں ادارۃ المصنّفین کا قیام۔
1958ء صدسالہ جوبلی منانے کی تحریک۔

خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، انصار اللہ، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ کا قیام ۔ استحکام خلافت اور اس کے لئے انتخاب خلافت کمیٹی کا قیام سب جماعتی نظام میں مضبوط کڑیاں اور ارکان ثابت ہوئے۔

اب اس کے بعدحضرت مصلح موعود کے بعض کارنامے تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ تحریر کئے جاتے ہیں:
بیت الفضل لندن1924ء کی تعمیرپر 19اکتوبر کےروزآپؓ نے فرمایا:
’’یہ ایک عظیم الشان کام ہے جس کے نیک اثرات نسلاً بعد نسلٍ پیدا ہوتے رہیں گے اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔ وہ بیت ایک مرکزی نقطہ ہوگی جس میں سے نورانی شعاعیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کردیں گی‘‘۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد4 صفحہ457)

جلسہ ہائے سیرۃ النبیﷺ کے انعقادکا سہرا

1928ء کے سال میں بعض بدزبان اور دریدہ دہن لوگوں نے پاکوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے متعلق اپنے خبث باطن کا اظہار کیا چنانچہ ایک آریہ سماجی راجپال نامی نے ’’رنگیلا رسول‘‘ نامی کتاب لکھی جس پر حکومت وقت کی طرف سے مقدمہ چلا اور اسی اثناء میں امرتسر کے ہندو اخبار ’’ورتمان‘‘ نے ایک بے حد دل آزار مضمون شائع کیا۔

جس پر رسول کریمﷺ کے اس سچے عاشق کا دِل ماہی بے آب کی طرح تڑپا اور دل کا دردان سسکتے ہوئے لفظوں میں ڈھلا :
’’ہماری جانیں حاضرہیں۔ ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں۔ جس قدر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں۔ لیکن خدارا نبیوں کے سردارحضرت محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دے کر آپ کی ہتک کرکے اپنی دنیا و آخرت کو تباہ نہ کریں …… ہماری جنگل کے درندوں اور زمین کے سانپوں سے صلح ہوسکتی ہے لیکن ان لوگوں سے صلح نہیں ہوسکتی جو رسول کریمﷺ کو گالیاں دینے والے ہیں‘‘۔

(الفضل 10جون 1927ء)

پے درپے ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے سے آپ کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ پورے برصغیر میں جلسہ ہائے سیرۃ النبیؐ کا انعقاد کیا جائے اور اس ذریعہ سے اس زہر کا تریاق کیا جائے جو آنحضرت ؐکے خلاف پھیلایا جارہا ہے۔

چنانچہ 1928ء میں ان مقدس جلسوں کا آغاز ہوا۔ جس کی ایک جھلک اخبار کشمیری لاہور نے 28جون 1928ء کی اشاعت میں رقم کی، لکھتا ہے:
’’17 جون کی شام صاحبان بصیرت کے لئے اتحاد کا بنیادی پتھر تھی۔ ہندو اور سکھ مسلمانوں کے پیارے نبی کے اخلاق بیان کرکے ان کو ایک عظیم الشان ہستی اور کامل انسان ثابت کررہے تھے‘‘۔

اس کے بعد جلسہ ہائے سیرۃ النبیﷺ ایک مستقل رنگ اختیار کرگیا۔

’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘

26فروری 1919ء کو اسلامیہ کالج لاہور میں پروفیسر شعبہ تاریخ سیدعبدالقادر کی زیر صدارت حضرت مصلح موعود ؓ نے ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔

جس میں آپ نے نہایت عمدگی اور ذہانت سے یہ امر ثابت کیا کہ ابتدائی دور کے فتنوں کے تار یہود و منافقین سے بندھے ہوئے ہیں۔ اور صحابہ رسول ﷺ ان تمام الزامات سے کلیۃً بری الذمہ ہیں۔

پروفیسر عبدالقادر صاحب نے اپنے اختتامی خطاب میں فرمایا:
’’یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے۔ مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ شدبد ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیرمسلمان بہت تھوڑے مؤرخ ہیں جو حضرت عثمانؓ کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس ملک اور پہلی خانہ جنگی کے فتنہ کے اسباب سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں …… انہوں (مراد حضرت المصلح الموعود) نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے۔ جس کی وجہ سے ایوان خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔ میرا خیال ہے ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے نہیں گزرا ہوگا‘‘۔

(پیش لفظ ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘)

تحریک شدھی

20 ویں صدی کے پہلے ربع میں یوپی کے علاقوں میں راجپوت مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہم بڑے زور سے یہ کہتے ہوئے شروع ہوئی مگر حضرت مصلح موعود ؓکی خاص مدبرانہ صلاحیتوں اور قیادت کے نتیجہ میں یہ تحریک کلیۃً ناکام و نامراد ہوگئی بلکہ اس معرکہ نے ہندووں کو جماعت احمدیہ کی زبردست اور بے پناہ تبلیغی اور تنظیمی طاقت و قوت کا پورا پورا احساس کرادیا۔

چنانچہ اخبار تیج دہلی نے لکھا:
’’احمدیہ تحریک ایک خوفناک آتش فشاں پہاڑ ہے جو بظاہر اتنا خوفناک معلوم نہیں ہوتا لیکن اس کے اندر ایک تباہ کن اور سیال آگ کھول رہی ہے جس سے بچنے کی کوشش نہ کی گئی تو کسی وقت موقع پا کر ہمیں بالکل جھلس دے گی‘‘۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 372)

تحریک کشمیر

اسی قادر ، علیم و خبیر خدا نےاسیروں کی رستگاری کے موجب بننے کے بھی سامان پیدا کئے۔

25جولائی 1931ء کو شملہ میں مسلمان زعماء کا ایک اجلاس ہوا جس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور عہدہ صدارت علامہ اقبال، خواجہ حسن نظامی اور سیدحبیب مدیر سیاست نے بااصرار آپ کی خدمت میں پیش کیا۔

آپ کی ولولہ انگیز قیادت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانان کشمیر جو ادنیٰ ادنیٰ حقوق سے بھی محروم تھے اور محکومی و غلامی میں گرفتار تھے۔ آزادی کی فضا میں سانس لینے لگے۔ان کے سیاسی، معاشی حقوق تسلیم کئے گئے۔ریاست میں پہلی دفعہ اسمبلی قائم ہوئی اور تحریر وتقریر کی آزادی کے ساتھ انہیں مناسب نمائندگی ملی اور کشمیری قوم ایک دہکتے ہوئے تنور سے نکل کر سکھ کا سانس لینے لگی چنانچہ اس بے مثال کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے اخبار سیاست نے 18مئی 1933ء کی اشاعت میں لکھا۔

’’جس زمانہ میں کشمیر کی حالت نازک تھی اس زمانہ میں جن لوگوں نے مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا انہوں نے کام کی کامیابی کوزیرنگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔ اس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی اور امت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا‘‘۔

شیخ عبداللہ (شیر کشمیر) نے حضورانور کی خدمت میں لکھا:
’’نہ میری زبان میں طاقت ہے اور نہ میرے قلم میں زور اور نہ میرے پاس وہ الفاظ ہیں جن سے میں جناب کا اور جناب کے بھیجے ہوئی کارکن مولانا دردؔ، سیدزین العابدین صاحب وغیرہ کا شکریہ ادا کرسکوں۔

یقینا اس عظیم الشان کام کا بدلہ جو کہ آنجناب نے ایک بے کس اور مظلوم قوم کی بہتری کے لئے کیا ہے صرف خدائے لایزال سے ہی مل سکتا ہے‘‘۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد6 صفحہ 601-602)

ایک اور خط میں لکھا:
’’مجھے امید رکھنی چاہیے کہ آپ نے جس ارادے اور عزم کے ساتھ مسلمانان کشمیر کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد فرمائی ہے۔ آئندہ بھی اس سے زیادہ کوشش اور زیادہ توجہ سے جاری رکھیں گے

میں ہوں آپ کا تابعدار
شیخ محمدعبد اللہ“۔

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد6 صفحہ 529)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے فرمایا:
’’اگر کوئی شخص واقعہ میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اسلام کے غلبہ اور اس کی اشاعت کے لئے جس قدر کام کئے وہ نعوذباللہ لغو ہیں اور اسلام کو ان کی بجائے کسی اور رنگ میں کام کرنے سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ تم میدان میں آؤ اور کام کرکے دکھاؤ اگر تمہارا کام اچھا ہوا تو دنیا خود بخود تمہارے پیچھے چلنے لگ جائے گی لیکن اگر ایک جماعت ایسی ہو جو صرف اعتراض کرنا ہی جانتی ہو تو اسے یاد رکھناچاہیے کہ یہ دنیا لاوارث نہیں ہے اس دنیا کا ایک زندہ اور طاقتور خدا ہے۔ وہ مجھ پر اعتراض کرسکتے ہیں وہ میرے خلاف ہر قسم کے منصوبے کرسکتے ہیں وہ مجھے لوگوں کی نگاہ سے گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے جھوٹے الزام لگا سکتے ہیں مگر وہ ان حملوں کے نتیجہ میں میرے خدا کے زبردست ہاتھ سے نہیں بچ سکتے لیکن میں اس خدا کے فضلوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ میرانام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا اور گومیں مر جاؤں گا مگر میرا نام کبھی نہیں مٹے گا یہ خدا کا فیصلہ ہے جو آسمان پر ہوچکا کہ وہ میرے نام اور میرے کام کو دنیا میں قائم رکھے گا اور ہر شخص جومیرے مقابلہ پر کھڑا ہوگا وہ خدا کے فضل سے ناکام رہے گا…… خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں مجھے کتنا بھی برا سمجھیں بہرحال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام (دین حق) کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے آج نہیں، آج سے چالیس، پچاس بلکہ سو سال کے بعد تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا وہ صحیح کہا تھا یا غلط۔ میں بے شک اس وقت موجود نہیں ہوں گا مگر جب (دین حق) اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مؤرخ اس بات پر مجبور ہوگا کہ وہ اس تاریخ میں میرا بھی ذکر کرے۔ اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گاتو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا۔ ایک بہت بڑا خلا واقع ہوجائے گا جسے پُر کرنے والا اسے کوئی نہیں ملے گا‘‘۔

(تقریر سالانہ جلسہ 28دسمبر 1961ء)

اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ مسیح الزمان ؑ کے ہاں پیدا ہونے والے اس موعود میں جو مصلح موعود تھا کس شان سے وہ نشانیاں پوری ہوئیں جو اس کی ولادت سے قبل پیشگوئی کے ذریعہ اس دنیا پر ظاہر کر دی گئی تھیں۔

و ھو المقصود

(لقمان احمد کشور۔لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار