• 27 فروری, 2021

’’دل کا حلیم‘‘… حضرت مصلح موعودؓ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پیشگوئی مصلح موعود کے بارہ میں 18 فروری 2011ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’یہ ایک عظیم پیشگوئی ہے جو کسی شخص کی ذات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی اسلام کی نشأۃ ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس پیشگوئی کی اصل تو آنحضرت ﷺکی پیشگوئی ہے۔‘‘

’’گو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ ایک بیٹا عطا فرمائے گا جو مصلح موعود ہوگا اور اس کی تفصیل میں آپؑ نے اس کی بہت ساری خصوصیات بیان فرمائی تھیں۔ لیکن یہ پیشگوئی تو آنحضرت ﷺ نے یہ الفاظ بیان فرما کر چودہ سو سال پہلے بیان فرما دی تھی کہ یَنْزِلُ عِيْسٰى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهٗ کہ عیسیٰ ابن مریم جب زمین پر نزول فرما ہوں گے تو شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی ۔‘‘

’’مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ خدا کی رحمت وغیّوری نے اسے کلمۂ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین وفہیم ہوگا۔ اور دل کا حلیم ۔‘‘

ان الفاظ کی مناسبت سےحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کا اپنے اہل خانہ، خادموں اور احباب جماعت یعنی ہر خاص و عام کے ساتھ شفقت ومحبت کے سلوک نیز دوسروں کی صرف تکالیف ہی نہیں بلکہ جذبات کا بھی خیال رکھتے ہوئے احساس کرنا اور اسے دور کرنے کے متعلق چند واقعات یہاں پیش کیےجاتےہیں۔ یہ واقعات جہاں ایک طرف اس عظیم الشان پیشگوئی کے ایک ایک فقرہ کی صداقت کے گواہ ہیں وہاں رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ یہ واقعات سیدنامحمودؓ کے مبارک ،مسیحی نفس اور سخت ذہین وفہیم ہونے کے بیّن ثبوت اور دل کے حلیم ہونے پر مہرتصدیق ثبت کرتے ہیں۔

یہ خدا کا کلام ہے

صاحبزادی امۃ الرشید بیگم صاحبہ آپؓ کی سیرت کے متعلق تحریرفرماتی ہیں:
’’حضورؓ باوجود بے حد عدیم الفرصت ہونے کے اور با وجود اس کے کہ آپ کی اولادخدا کے فضل سے بہت زیادہ ہے سب کی تربیت اور تعلیم کا خیال رکھتے۔ آپ ؓ نہایت ہی شفیق اور رحیم واقع ہوئے … حضورؓ کی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ بچوں کو ہمیشہ سبق آموز کہانیوں اور لطائف سے محظوظ کرتے ہوئے ان کی تربیت فرماتے ہیں ۔ خود خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو خوش رکھتے ہیں لیکن خوشی کی گھڑ یوں میں بھی حقیقی مقصد کبھی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوتا…. شادی کے موقعہ پر میری بڑی بہن امۃ القیوم صاحبہ کو قرآن کریم پریہ تحریر کر دیا۔

’’امۃ القیوم! یہ خدا کا کلام ہے۔ میں نے سب کچھ اس سے پایا۔تم بھی سب کچھ اس سے ہی پاؤ۔ میرے اللہ! تیرا یہ کلام میری اس بچی اور اس کی اولاد کے دل میں دائمی طور پر جاگزیں ہو….۔‘‘

(سوانح فضل عمر جلد نمبر 5 صفحہ 386)

’’صاحب‘‘ کا اعزازی لفظ

حضرت مصلح موعودؓ کا دستور یہی رہا ہے کہ اپنے خدام کو مخاطب کرتے وقت ’’صاحب‘‘ کا لفظ ضرور استعمال فرماتے۔ چنانچہ بیشتر دفعہ مکرم چوہدری برکت علی خان صاحب وکیل المال کے لئے جب لفافہ پر نوٹ لکھا تو ’’چوہدری برکت علی خان صاحب‘‘ پورا نام لکھ کر کوئی ہدایت دی اور ایک ادارہ کے افسر کو اس طور پر ہدایت دی کہ اپنے ماتحت کارکنوں کے نام کے ساتھ ’’صاحب‘‘ کا اعزازی لفظ ضرور استعمال کیا کریں ۔ فرمایا دیکھیں میں نے آپ کا نام تین چار دفعہ لکھا ہے یا پکارا ہے۔ میرا بھلا کتنا وقت زیادہ لگ گیا ہوگا اور مجھے بھلا کتنی دقت ہوئی ہوگی ۔ کچھ بھی نہیں۔

(الفضل ۔ 16 فروری 1960ء صفحہ13)

اتنی دیر کیوں ہوگئی؟

مکرم لطیف احمد خان صاحب کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری بیان کرتے ہیں:
’’1942ء میں حضورؓ پالم پور تشریف لے گئے۔ وہاں سے ایک دن حضورؓ کا پروگرام بیج ناتھ ٹرپ کا بنا۔ چونکہ کاروں میں جگہ کم تھی اس لئے حضورؓ نے خاکسار اور مرزا فتح الدین صاحب کو فرمایا کہ آپ بس پر آجائیں ہم وہاں انتظار کریں گے۔ پہلے تو ہمارا ارادہ نہ جانے کا ہوا کیونکہ بس کی آمد کی امید نہ تھی۔ سڑک ٹوٹی ہوئی تھی مگر پھر ہم دونوں اس وجہ سے کہ حضورؓ نے ارشادفرمایا ہے کہ کھانے پر انتظار کریں گے پیدل چل پڑے۔ ڈیڑ ھ بجے ڈاک بنگلہ میں پہنچے تو حضورؓ کھانا تناول فرمارہے تھے ہمیں دیکھ کر مسکرا کر فرمایا کہ انتظار کر کے کھانا شروع کیا ہے۔ اتنی دیر کیوں ہوگئی؟ ہم نے عرض کیا کہ بس نہیں آئی ہم پیدل آئے ہیں۔ چنانچہ اسی وقت حضورؓ نے پیالوں میں کھانا ڈال کر اپنے ہاتھ سے ہمیں دیا۔

(ماہنامہ خالد فروری 1991ء صفحہ51)

چھتری کا سایا

مکرم لطیف احمد خان صاحب مرحوم (سابق کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری) ایک واقعہ بیان کرتے ہیں: ۔
’’1941ء کا واقعہ ہے کہ حضورؓ ڈلہوزی میں تھے وہاں سے ایک دن سیر کےلئے دیان کنڈ جو ایک اونچی پہاڑی تھی تشریف لے گئے۔ وہاں چائے کا بھی پروگرام تھا۔ مگر اتنے میں بارش ہونی شروع ہوگئی۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ میں اور خان میر خان صاحب اور نذیر احمد صاحب ڈرائیور آگ جلانے میں مصروف تھے مگر لکڑیوں کے گیلا ہونے کی وجہ سے بڑی دقت تھی اور پتھروں کے چولہے پر جھکے پھونکیں مار رہے تھے کہ اتنے میں حضورؓ خود دو چارسوکھی لکڑیاں لئے ہوئے تشریف لے آئے اور ہمارے سروں پر چھتری کر دی۔ ہم نے وہ لکڑیاں رکھ کر آگ جلائی اور جب تک پانی اُبل نہیں گیا حضورؓ چھتری کا سایہ کئے دُھویں میں ہمارے پاس ہی کھڑے رہے۔‘‘

(ماہنامہ خالد فروری 1991ءصفحہ 52)

اپنی جماعت سے محبت کا ایک اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ
’’حضور ؓ کے کمرہ میں خاندان کے کسی فرد کی خواہش پر قالین بچھوایا گیا۔ اتفاق سے ایک دن کوئی دیہاتی خاتون حضورؓ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئیں ان کے گردآلود پاؤں سے قالین پر نشان پڑ گئے۔ حضورؓ نے محسوس فرمایا کہ آپ کے اس عزیز (جن کی خواہش پر یہ قالین بچھایا گیا تھا) کے چہرہ پر کچھ ناپسندیدگی کے آثار ہیں ۔ اس خاتون کے جانے کے بعد حضور ؓنے وہ قا لین اسی وقت وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلوادیا کہ میں اسے اپنے اور اپنی جماعت کے درمیان حائل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘

(سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 412۔413)

یاد آئے گا تیرا حسن ہمیں تیرا احسان یاد آئے گا
ہر قدم پر تری محبت کا عہد و پیمان یاد آئے گا

مجھے خدمت کا موقع ملتا ہے

حضرت مصلح موعودؓنے ساری زندگی دوسروں کے درد کو اپنا دردسمجھا اور جب بھی جماعت کے کسی فرد کو تکلیف میں دیکھا اپنے آرام کو ترک کر دیا اور اس کی تکلیف کو دور کرنے کےلیےدعا اور دواہردوذرائع سےکوشش کی۔

حضرت مہر آ پا صاحبہ نے بیان کیا:
’’ایک گرم اور حبس والی رات،گیارہ بجے دروازہ کھٹکا، ان دنوں بجلی ابھی ربوہ میں نہیں آئی تھی ۔ حضورؓ لالٹین کی روشنی میں صحن میں لیٹے ہوئے کتاب پڑھ رہے تھے۔ حضور ؓنے مجھے کہا کہ دیکھو کون ہے؟ میں نے دریافت کیا اور آ کر حضورؓ سے کہا: ’’ایک عورت ہے وہ کہتی ہے کہ میرے خاوند کو حضورؓ نے دوائی دی تھی اس سے بہت افاقہ ہو گیا تھا، مگر اب طبیعت پھر خراب ہوگئی ہے، دوائی لینے آئی ہوں‘‘ آپؓ نے فرمایا: ’’کمرہ میں جاؤ فلاں الماری کے فلاں خانے سے فلاں دوائی نکال لا ؤ‘‘ گرمی مجھے بہت محسوس ہوتی ہے اور یہ موسم میرے لئے ہمیشہ نا قابلِ برداشت رہا ہے۔ اپنی اس کمزوری کی بنا پر میں کہہ بیٹھی: ’’یہ کوئی وقت ہے، میں اسے کہتی ہوں کہ صبح آجائے اندر جا کر تو حبس سے میرا سانس نکل جائے گا۔‘‘ اس پر حضور ؓنے بڑے جلال سے فرمایا: ’’تم اس اعزاز کو جو خدا نے مجھے دیا ہے چھیننا چاہتی ہو؟ ایک غرض مند میرے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے آتا ہے، یہ خدا کی دی ہوئی عزت ہے کہ مجھے خدمت کا موقع ملتا ہے، اسے میں ضائع کردوں تو قیامت کے دن خدا کو کیا شکل دکھاؤں گا، میں خود جاتا ہوں‘‘ میں نے کہا آپ نہ جائیں، گرمی بہت ہے، میں چلی جاتی ہوں ’’حضور ؓنہ مانے اور خود اندر گئے اور دوائی لا کر اسے دی اور ساتھ اسے ہدایت کی کہ صبح آ کر اپنے خاوند کی خیریت کی خبر دے۔‘‘

(ماہنامہ خالد فروری 1991ء ص52)

مسلسل دعا کرتے رہتے

’’آپؓ کی جماعت سے گہری محبت کے بارہ میں مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں: ’’آپ ؓکو جماعت سے بے پایاں محبت تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی قادیان سے کوئی قا فلہ پا کستان کے لئے روانہ ہوتا تو آپؓ قرآن شریف لئے برآمدہ میں اس وقت تک ٹہلتے ہوئے تلاوت فرماتے رہتے جب تک اس قافلہ کی حفاظت سے سرحد پار کرنے کی اطلاع نہ آ جاتی ۔ ان مواقع پر آپ مسلسل دعا کرتے رہتے۔‘‘

فرنیچر جوغریبوں سے ملاقات میں روک بنے

مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں: ۔
’’یہ بات بھی میرے علم میں ہے کہ جب بھی جماعت کسی ابتلا کے دور سے گزر رہی ہوتی تو آپ بستر پر سونا ترک کر کے فرش پر سوتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس آزمائش کے بادل چھٹنے کا اشارہ ملتا کہ چلو جا کر بستر پر آرام کرو۔ ایک اور بات جس نے مجھ پرنقوش چھوڑے یہ کہ میری شادی کے تھوڑے عرصہ بعدہی جب میں ملتان میں بطور اسسٹنٹ کمشنر متعین تھا اور اپنی بیوی کے ماموں کرنل سید حبیب اللہ شاہ صاحب کے ہاں عارضی طور پر مقیم تھا جو وہاں سپریٹنڈنٹ سنٹرل جیل تھے تو حضورؓ نے سند ھ جاتے ہوئے وہاں ایک روز قیام فرمایا۔ آپؓ مجھے ڈرائینگ روم میں لے گئے اور ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا کہ دیکھوتم ICS ہواورتمہیں اعلیٰ طبقہ سے ملاقات کے بہت مواقع ملیں گے لیکن یہ بات تمہیں ہرگز غرباء اور کمزور لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرنے سے کبھی باز نہ رکھے ۔ آپؓ نے فرنیچر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا فرنیچر جو غریبوں سے ملاقات میں روک بنے ، رکھنے کے قابل نہیں۔ جس طرح ہر غریب پر رسولﷺ کے دروازے بلا امتیاز کھلے رہتے تھے۔ یہی وہ سنت ہے جسے اپنانا چاہئے ۔آپؓ کی آواز بھرائی ہوئی تھی اور آپؓ کی آنکھیں پرنم تھیں۔ میری حالت کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے آپؓ کو کبھی اتنی جذباتی حالت میں نہیں دیکھا۔‘‘

(ماہنامہ انصاراللہ ۔مئی، جون، جولائی صفحہ 754)

عیادت

حضرت منشی اروڑا خان صاحب کی عیادت کے لئے حضورؓ ہسپتال تشریف لے گئے ۔ اخبار الفضل اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے: ۔
’’جمعہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ مع ڈاکٹر حشمت الله صاحب آپ کی کوٹھڑی میں گئے نبض دیکھی گئی چمچےکے ذر یعہ دودھ دیا گیا، آنکھیں کھلی تھیں بخار زور کا تھا ہوش بجانہ تھے ، سانس اُکھڑی ہوئی تھی ، حضرت خلیفۃالمسیح ؓ جمعہ کے بعدسے عصر کے وقت تک کوئی ڈیڑھ گھنٹہ منشی صاحب کے پاس اسی کوٹھڑی میں بیٹھے رہے۔‘‘

(الفضل یکم نومبر 1919ء صفحہ7)

جب سزا دیتے ہیں تو بڑا مزہ آتا ہے

مکرم مولوی عبد الرحمٰن صاحب انور جو حضرت مصلح موعودؓ کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے ان کی اہلیہ صاحبہ نے ایک دفعہ بیان کیار بوہ میں بجلی کی صورتحال ہمیشہ کمزور ہی رہی ۔ ایک بار بہت بجلی بند ہوئی تو حضورؓ نے انور صاحب کو سزادی کہ ان کے گھر کی بجلی کاٹ دی جائے کیونکہ ان کی بجلی سستی ہےاور یہ بجلی کےصحیح ہونے کے لئے واپڈا سے مل کر کوشش نہیں کرتے۔ کہتی ہیں خیر ہمارے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی۔ مغرب کا وقت ہو گیا۔ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ دروازہ کھٹکا۔ جاکر دیکھا تو ایک کارکن ہاتھ میں مٹی کے تیل کا کنستر اور لالٹین لئے کھڑا تھا کہ حضورؓ نے فرمایا ہے کہ وہ اندھیرے میں بیٹھے ہوں گے۔ یہ چیزیں ان کے گھر پہنچاؤ۔ اسی طرح کوئٹہ میں کسی کارکن سے ناراض ہو کر سزا دی کہ تین دن مسجد میں بیٹھ کر استغفار کرے۔ بعد میں خیال آیا بیچارہ اکیلا بیٹھا کیا کرے گا ساتھ ہی کچھ کتابیں بھی پڑھنے کو بھیج دیں اور کھانا وغیرہ بھی گھر سے جاتا رہا۔ تو کسی نے یونہی نہیں کہا تھا کہ حضور ؓجب سزا دیتے ہیں تو بڑا مزہ آتا ہے۔

دل کے حلیم آپ سچے معنوں میں ہیں

حضرت سید ہ نواب مبارکہ بیگم صاحبؓہ حضورؓ کی سیرت بیان کرتےہوئےفرماتی ہیں:
’’میرے پیارے بڑے بھائی حضرت خلیفۃ المسیح ؓکا مقام اور آپؓ کے کام روز روشن کی طرح سب پر ظاہر ہیں …… آپؓ کی صفات میں ایک نہایت پیاری صفت نمایاں دیکھی کہ آپؓ کا دل بہت ہی صاف ہے اتنا صاف دل کہ غصہ، کینہ جس میں ٹھہرہی نہیں سکتا۔ کسی کی برائی آپ سوچ ہی نہیں سکتے۔ ہمیشہ دوسروں کے لئے خیر کے الفاظ ہی آپؓ کی زبان مبارک سے نکلے اور خیر ہی ہر ایک کی آپؓ نےچاہی۔ دل کے حلیم آپؓ سچے معنوں میں ہیں۔ بہت تنگ آ کر یا کاموں کے سلسلہ میں آپؓ کو غصہ کے بعد، جس پر غصہ کیا گیااس سے زیادہ آپؓ کو تکلیف ہوتی رہی ہے اور کسی نہ کسی طرح اس کے تدارک میں کوشاں رہے۔ کسی صورت میں جب تک نرمی کا اظہار نہ ہوجائے آپ کو خود چین نہ آتا تھا ……جیسے ماں تنگ آکر اپنے پیارے بچے کو مار کر خودآنسو بہاتی ہے…… نرمی اور رحم و شفقت آپؓ میں اعلیٰ درجہ کا ہمیشہ پایا۔ ایک بار بہت عرصہ کی بات ہے ایک اخبار میں خبر آئی کہ ایک بچی(کوئی تین سال عمر کی) نے اپنے غریب باپ کی جمع پونجی سے نوٹ دو تین سو کے چولھے میں پھینک دیئے اور باپ نے فوری غیظ و غضب کے تحت اس معصوم کی ٹانگیں چیرکر مار ڈالا۔ مجھے یاد ہے اس خبر کو پڑھ کر جو آپ ؓکی حالت ہوئی تھی سخت صدمہ تھا ٹہلتے تھے اور کہتے تھے کہ ’’غربت کی وجہ سے جو باپ جوش میں ایسا فعل کر بیٹھا اب خود اس کے دل کی کیا حالت ہوگی۔ جب تک زندہ رہا اس بچی کی موت اور اپنے ظالمانہ سلوک کو یاد کر کے تڑپتا ہی رہے گا۔‘‘ جو تکلیف اس وقت آپؓ کوتھی اور آپؓ کا کرب وہ مجھے ہمیشہ یاد آتا ہے۔

(خالد دسمبر 1990ءصفحہ 127-128)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:۔
جب میں اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا، جب لوگ میرے کاموں کی نسبت ٹھنڈے دل سے غور کر سکیں گے، جب سخت دل سے سخت دل انسان بھی جو اپنے دل میں شرافت کی گرمی محسوس کرتا ہو گا ماضی پر نگاہ ڈالے گا، جب وہ زندگی کی ناپائیداری کو دیکھے گا اور اس کا دل ایک نیک اور پاک افسردگی کی کیفیت سے لبریز ہوجائے گا اس وقت وہ یقیناً محسوس کرے گا کہ مجھ پرظلم پر ظلم کیا گیا اور میں نے صبر سے کام لیا۔ حملہ پر حملہ کیا گیا لیکن میں نے شرافت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا …یہ بہترین بدلہ ہوگا جو آنے والا زمانہ اور جو آنے والی نسلیں میری طرف سے ان لوگوں کو دیں گی اور ایک قابلِ قدر انعام ہوگا جو اس صورت میں مجھے ملے گا۔‘‘

(انوار العلوم جلد 10 صفحہ 323)

خود حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔

اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے
اور آج ہر پروانۂ احمدیت اس طرح گویا ہے کہ
اب وقت آ گیا ہے کہ کہتے ہیں حق شناس
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

مصلح بنے کی کوشش کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فر مایا:
’’پس آج ہمارا بھی کام ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں۔ اپنے علم سے، اپنے قول سے، اپنےعمل سے اسلام کے خوبصورت پیغام کو ہر طرف پھیلا دیں۔ اصلاحِ نفس کی طرف بھی توجہ دیں۔ اصلاحِ اولاد کی طرف بھی توجہ دیں۔ اور اس اصلاح اور پیغام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بھر پور کوشش کریں جس کا منبع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بنایا تھا۔ پس اگر ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں گے تو یوم مصلح موعود کاحق ادا کرنے والے ہوں گے، ورنہ تو ہماری صرف کھوکھلی تقریر یں ہوں گی۔ الله تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (آمین)

(خطبہ جمعہ 18 فروری 2011ء)

٭…٭…٭

(راجہ برہان احمد طالع)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار