• 27 فروری, 2021

حضرت مصلح موعودؓ۔ خدائی تائیدات اور نصرت الٰہی کے نظارے

آج میرے لئے یہ اعزاز کا باعث ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کے مظہر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت اور تائیدات کے نظاروں کا کچھ اظہار کروں۔ 20فروری کا دن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں خاص اہمیت اور منفرد شان کا حامل ہے۔ اس دن آسمانی بشارات سے معمور خداۓ بزرگ و برتر نےحضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو ایک عظیم الشان صفات کے حامل ایک ایسےپسر موعود کی خوشخبری عطا فرمائی جس کے محیرالعقول کارناموں میں زبردست خدائی نصرت اور تائیدات شامل حال رہیں گی۔

پیشگوئی مصلح موعودؓ

‘‘میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔ سو مَیں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہ پایۂ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیارپور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لیے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام۔ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ مَیں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ مَیں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ(ﷺ) کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رِجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔آپؑ نے لکھا کہ (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزند دلبند، گرامی ارجمند، مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَالْآخِر، مَظْہَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاء کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآء۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَقْضِیًّا۔‘‘

(اشتہار 20؍فروری 1886ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ95تا96)

اللہ تعالیٰ نےحضرت مسیح موعودؑ کو 12جنوری 1889ء کو اس عظیم الشان پیشگوئی کا مصداق وہ فرزند جلیل عطا فرمایا جو آپ کی صداقت پر ایک زندہ بُرہان ثابت ہوا۔ وہ موعود جو روح القُدس کی برکت سے مثیل مسیح کا مرتبہ پاتے ہوۓ موعود خلیفہ بنا اور دین اسلام کی خدمت میں عمر بھر کمر بستہ رہا اور خُداۓ قدوس کی بے شمار تائیدات حاصل کرتے ہوۓ نُصرت آسمانی کے جلوؤں کا وارث بنا۔

یہ سوچنے کی بات ہےکہ ایک نوجوان جو 25سال کی عُمر میں منصب خلافت پر متمکن ہوا جبکہ دُنیا نے اُ سے طفل مکتب جانا مگر خُدائی اذن کے مُطابق وہ نُور جو اُس کے آنے کے ساتھ آیا وہ اندھیروں پر غالب آ گیا۔ اور اسلام کی ترقی کے زبردست نظارے خُدا ئی بشارات کے ساتھ ایک دُنیا نے پورے ہوتے دیکھ لئے۔ یہ سب کیسے مُمکن ہوا؟ اس کا جواب کُچھ یوں ہے۔ کہ جب خُدا تعالیٰ اپنے انبیاء کی صداقت کا ثبوت اپنی قُدرت، رحمت، اور نُصرت کے نشانوں سے دینا چاہتا ہے تا کہ دُنیا زندہ خدا کو کھلی آنکھوں سے دیکھ لے تو اُنہیں ایسے ہی زبردست نشانوں سے نوازتا ہے جو دُنیا کی عام نظر میں ایک امر محال کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ سُنت اللہ ہے کہ وہ ایسے وجودوں کو ایسے وقت میں بھیجتا ہے کہ راہ حق کے متلاشی اک بہار کے مُنتظر ہوتے ہیں اُن کے آنے سے سعید رُوحیں اک عطر بیز خوشبو سے غیر معمولی طور پر اُ ن کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں۔حضرت مُصلح موعودؓ مسیح پاک کی اسلام کیلئے شبانہ روز تضرعات کی قبولیت کا ایک زندہ نشان ، خُداۓ رحمان کی پیشگوئیوں کے کامل مصداق،ایک بُلند روحانی مُقام اور امتیازی شان کے حامل وجود تھے، حقیقت یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی روحانی تجلیات دُنیا کے کناروں تک ظاہر ہونی شروع ہوئیں اور بہتوں کےلئے ہدایت اور زندگی کا مو جب ہو ئیں کہ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآء (گویا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے اُتر آیا) کا سچا مظہر بن گئے۔

آپ نے 1944ء کے جلسہ سالانہ پر جماعت کو مُخاطب کرتے ہوۓ فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کے اذن اور اسی کے انکشاف کے تحت میں اس امر کا اقرار کرتا ہوں کہ وہ مصلح موعود جس نے آنحضرتﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کے ما تحت دُنیا میں آنا تھا اور جس کے متعلق یہ مُقدر تھا کہ وہ اسلام اور رسول کریمﷺ کا نام دُنیا کے کناروں تک پھیلاۓ گا اور اس کا وجود خدا کے جلالی نشانات کا حامل ہوگا وہ میں ہوں اور میرے ذریعہ ہی وہ پیشگوئیاں پوری ہونی ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے آنے والے موعود بیٹے کے لئے بیان فرمائی تھیں۔ یاد رہے کہ میں اپنے لئے کسی خوبی کا دعویدار نہیں ہوں میں فقط خُدا کا ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہﷺ کی شان کو دُنیا میں قائم کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہےمیری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمدرسول اللہﷺ کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آ جاۓ اور میرا خاتمہ رسول کریمﷺ کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔

قارئین کرام! تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اس اولوالعزم موعود پسر نے 19برس کی عُمر میں اپنے عظیم باپ کی نعش کے سرہانے کھڑے ہو کر جو مُقدس عہد کیا تھا اُسے آخری دم تک نبھایا۔ حضرت نواب سیدہ مُبارکہ بیگم صاحبہ اپنے عظیم بھائی کے اس عہد کو اس طرح بیان فرماتی ہیں۔

میں کروں گا عُمر بھر تکمیل تیرے کام کی
میں تیری تبلیغ کو پھیلا دوں گا بروۓ زمین
زندگی میری کٹے گی خدمت اسلام میں
وقف کر دوں گا خُدا کے نام پر جان حزیں
کر نہیں سکتا کوئی انکار علم ہے گواہ
جو کہا تھا اس نے آخر کر دکھایا بالیقیں

حضرت مصلح موعودؓ کی دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کی تڑپ نے بچپن سے ہی دُعاؤںمیں خشوع و خضوع عطا کر دیا اور ہر آن کُچھ کرنے کی تڑپ نے میدان عمل میں وہ جذبہ بخشا کہ صرف گیارہ برس کی عُمر میں اپنے عظیم باپ کا جُبہ پہن کر خدا کے حضور سجدہ ریزہو گئے اوراسلام کی سر بلندی کے لئے رو رو کر دُعا کی اور یہ عہدبھی اپنے رب سے کیا کہ زندگی بھر کبھی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گیارہ برس کی عُمر میں ایک بچے کا وہ کیسا عزم تھا کہ جس نے دُنیا میں انقلا ب برپا کر دیا۔ وہ خدا نُما انسان خدا کا ایک جلوہ تھا جس کی روشنی سے اک عالم کو آب وتاب ملی۔

بچپن میں خرابئ صحت کے با عث دُنیاوی تعلیم کی ڈگریاں تو نہ حاصل کر سکے قُرآن اور حدیث کا علم باقاعدگی سے حا صل کیا، ایک بلند پایہ مُصنف، شاعر، اور بلا کے خطیب تھے۔ ایسی ایسی پُرمعارف کُتب تصنیف فر مائیں جو دُنیاوی اور دینی مُعا رف کےلحاظ سے ایک گرانقدر حیثیت رکھتی ہیں، میڑک تک تعلیم ہونے کے باوجود دُنیاوی علوم پر مکمل دسترس تھی گھنٹوں علم و حکمت کے وہ خزانے لُٹاتے کہ اپنے تو اپنے غیرازجماعت اور دیگر اقوام کے باشندے بھی اس علم و معرفت کے سمُندر میں ورطۂ حیرت سے ڈوب جاتے۔ ذہانت اور فطانت میں کوئی ہم پلہ نہ تھا۔آپؓ کی تصنیف کردہ متعدد کُتب کے علاوہ آپ کی لکھی ہوئی قُرآن پاک کی زبردست تفاسیر، تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر دُنیا کی ہر تفسیر کے مقابلہ میں گنج ہاۓ گرا نمایہ کی وہ حیثیت رکھتی ہیں کہ رہتی دُنیا تک اہل علم و دانش ان علوم کے چشموں سے فیض یاب ہوتے رہیں گے۔چونکہ خُدا یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اس موعود بیٹے کو سارا علم خُداۓ علیم و برتر عطا فرماۓ گا اس لئے ابتدائی دُنیاوی تعلیم کے زمانہ سے ہی ایسے اسباب پیدا کر دئیے کہ دُنیا یہ جان لے کہ وہ خدا جب اپنی قُدرت نمائی کے معجزے دکھاتا ہے تو بظاہر ایک اُمی کو اپنی خاص تائیدات سے نوازتا ہوا اسےاپنے ایسے علوم سے نوازتا ہے جو اُس کی صداقت پر مہر ہوتے ہیں۔ ایک ایسا انسان جو دُنیا کے تعلیمی معیار کےلحاظ سے معمولی تعلیم کا حامل ہووہ صرف اور صرف خُداۓ علیم کے ودیعت کردہ علم سے ہی ایسے علم ومعرفت کے نِکات سے لبریز حقائق بے شُمار تفاسیر و کُتب اورتقاریر میں بیان کر سکتا ہے۔

وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جاۓ گا۔کا وعدہ رب رحیم نے بڑی شان و نُصرت کے ساتھ پورا کیا۔ الحمدُللہ

آپ کے دور خلافت میں اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص تائیدو نُصرت کےعظیم وعدے پورے ہوتے دُنیا نےاُس وقت بھی دیکھے جب مُبلغین کی کثیر تعداد کوایک خاص حکمت عملی کے تحت دُنیا کے کونے کونے میں تبلیغی مراکز کے قیام کے لئے بھجوایا گیا، اور خُدا ۓ لازوال نے تبلیغ کے میدان میں اپنی خاص مدد کے ساتھ کامیابیوں سے نوازتے ہوۓحضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام کو آپ کے دور میں بڑی شان کے ساتھ پورا کیا کہ

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا‘‘

حضرت مُصلح موعودؓ کی فہم اور فراست نے جماعت کے مُستقبل میں پیش آئندضروریات کے پیش نظر مرد و زن اور بچوں کو انصاراللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ، ناصرات الاحمدیہ، اور اطفال الاحمدیہ کی زبردست تنظیمات کی لڑی میں پرو دیا، جس کی وجہ سے ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل پایا کہ جس نے ہمیشہ کے لئے اخلاقی، روحانی، اور تعلیمی ترقی کے لئے ایک لائحہ عمل دے دیا، اور جماعت کو مضبوط بُنیادوں پر کھڑا کر دیا گیا۔

ربوہ کی سر زمین اس بات کی ہمیشہ گواہ رہے گی کہ کیسے اس بے آباد و بنجر جگہ کو گُلستان بنایا گیا۔ ہجرت کے بعد نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود سالار قافلہ کا اپنے قافلے کو دُعاؤں، اُمیدوں اور عزم و ہمت کے ساتھ ایک ایسی جگہ بسانا جہاں حشرات الا رض اور موذی جانوروں کا بسیرا ہو، جہاں میٹھے پانی کو زمین ترستی ہو، اگر ساتھ تھا تو صرف اور صرف خُداۓلم یزل کی لامحدود قوت، مدد اورتوکل کا کہ جس کی تا ئیدا ت سماوی نے جنگل میں منگل کا سماں محض اپنی خاص نُصرت سے پیدا کیا، فاالحمدُللہ علیٰ ذالک۔

اللہ جلشانہ کی عطا کردہ خاص الٰہی تحریکات کے مدنظر آپ کے ذہن رسا نے جماعت کی پیش آئندہ مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوتحریکات کےمنصوبے جماعت کےسامنے پیش کئے۔جنہیں تحریک جدید، اور تحریک وقف جدید کا نام دیا گیا۔ ان کے مقاصد کی تفاصیل بیان فرماتے ہوۓ آپ نے اپنی جماعت کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں سادگی کی تلقین کرتے ہوۓ مالی قُربانی کے اصل مفہوم سے آگاہ کیا،نیز اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہاتھ سے کام کرنے کو کسر شان نہ سمجھا جاۓ، کوئی احمدی فارغ نہ بیٹھے چھوٹے پیمانے پر کام کر کے، کما کر بھی دین کی راہ میں خرچ کرنا ایک افضل نیکی ہے۔ان دو بابرکت تحریکات کو دیگر الٰہی تحریکات کی طرح اللہ تعالیٰ نے زبردست کامیابیوں سے نوازا اور ان کامیابیوں کے پھل جماعت احمدیہ پر بارش کے قطروں کی صورت میں نازل ہوۓ اور ہوتے چلے جائیں گے۔ان شاءاللہ۔

آپ کی دُوربین نگاہوں نے سارے عا لم اسلام کی قوموں کو پیش آئندہخطرات سے بچنے کا ایک جامع اور مفصل حل پیش کیا اور یہ انتباہ کیا کہ اسرائیل کے قیام کے ساتھ مُسلما نوں کو کیا خطرات درپیش ہوں گے،آ پ ہی نے حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب کو یہ تحریک کی کہ برٹش پارلیمنٹ میں پاکستان کا نکتہ نگاہ پیش کیا جاۓ۔ پھر کشمیریوں کے حقوق خودارادیت کے لئے فُرقان بٹالین کشمیر فورس کی داغ بیل ڈالی اور جماعت کے نو جوانوں کو اس میں شمولیت کی تحریک فرمائی اور خُود بنفس نفیس اس حصہ لیا۔

غرض اسلام کا یہ بطل جلیل مُسلمانو ں کے لئے ہر محاذ پرکھڑا ہوا، خواہ وہ ہندوستان میں تھا یا فلسطین میں افریقہ میں یا امریکہ میں۔ ایسے عظیم الشان وجود صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور اپنے مُحیرالعقول کارناموں سے تاریخ کا رُخ موڑ دیتے ہیں۔

غرض حضرت مُصلح مو عودؓ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ کا بابرکت وجود فی نفسہ رب ذواللجلال کی خاص تائیدات و معجزات کا مظہر تھا، اللہ کی مدد ان کے دم بقدم ہر آن جلوہ گر تھی۔

پیشگوئی کے الفاظ کے مُطابق واقعی وہ صاحب شکوہ اور عظمت کا وارث تھا، فتح اور نُصرت کی کلید اُسے عطا ہوئی، اور وہ رحمت غیوری سے نوازا گیا پھر کامیابی کی راہیں استوار کرتا ہوا 52سال خلافت کے عرصہ تک باران رحمت کی طرح جماعت پر برسا اور پھر عظیم الشان پیشگوئی کے مطابق 8نومبر 1965ء کو اپنے نفسی نُقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔

بشارت دی کہ اِک بیٹا ہے تیرا
جو ہو گا ایک دن محبوب میرا
کروں گا دور اُس مہ سے اندھیرا
دکھاؤں گا کہ اِک عالَم کو پھیرا
بشارت کیا ہے اِک دل کی غذا دی
فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الْاَعَادِی

٭…٭…٭

(ناصر ہ احمد۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار