• 27 فروری, 2021

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پُر معارف الفاظ میں تقویٰ وپارسائی کا عرفان

ہمارے آقا ومولیٰ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے ہاں مبشر اولاد کی بشارت دی تھی جس کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود ؑنے 20فروری 1886ء کو نو سال کے اندر ایک عظیم الشان پسرِ موعود کے پیدا ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔ چنانچہ یہ دن جماعت میں یومِ پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے جانا جاتا ہے۔پیشگوئی کے عین مطابق وہ موعود فرزند 12جنوری 1889 کو قادیان میں پیدا ہوا، جسے مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام دیا گیا۔آپ بہت جلد جلد بڑھے اور علومِ ظاہری وباطنی سے ایسے پُر کئے گئے کہ مشکل سے مشکل مضامین کو نہایت آسان فرما دیا۔ آپ نے تعلیم و تجدیدِ دین کے لئے ہر جہت سے کوششیں کیں اور اپنے اقوال و افعال سے نیکی کی راہیں متعیّن فرمائیں۔چنانچہ ذیل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے تقوٰی سے متعلق چندبیش قیمت ارشادات پیش کئے جا رہے ہیں۔

تقویٰ کے معنی

’’اصل معنی تقویٰ کے، حفاظت کے وہ سامان جمع کرنا ہیں جو ترقی کا موجب ہوں۔ اور ہلاکت سے بچانے والے ہوں۔ اس بات کو مدِّ نظر رکھ کر تقویٰ اللہ کی حقیقت بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔ مگر جب انسان ہمیشہ اور ہر وقت کسی نہ کسی چیز کے حاصل کرنے اور کسی نہ کسی چیز کو مضر سمجھ کر اس سے بچنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے: يَآ أَيُّهَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ۔ (النساء:2) اے لوگو! اللہ کا تقوٰی لو۔ اس گُر کو حاصل کرو جس سے تمام مصیبتوں کے دروازے بند ہو جائیں اور تمام کامیابیوں کے دروازے کُھل جائیں۔ جب تم اس کے لئے اور کوششیں کرتے رہتے ہو تو کیوں خدا کو نہ کہو کہ ہماری سب مشکلات کو حل کر دے اور ہمیں ہر کام میں کامیاب کر دے۔ یہ کامیابی حاصل کرنے اور ہلاکتوں سے بچنے کا سب سے اعلیٰ گُر ہے کہ جس کے قبضہء قدرت میں سب کچھ ہے اس کے آگے انسان اپنے آپ کو ڈال دے۔‘‘

(خطباتِ محمودؒ جلد سوم ص68۔ازفضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ)

’’اس لفظ (تقویٰ) کا استعمال دینی کتب کے محاورہ میں معصیت اور بری اشیاء سے بچنے کے ہیں۔ اور خالی ڈر کے معنوں میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ وقایہ کے معنٰی ڈھال یا اس ذریعہ کے ہیں جس سے انسان اپنے بچاؤ کا سامان کرتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اتّقاء جب اللہ تعالیٰ کے لئے آئے تو انہیں معنوں میں آتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنی نجات کے لئے بطور ڈھال بنا لیا۔‘‘

(تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعود ؒ جلد اوّل ص73)

’’اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ سے ا س طرح ڈرو جس طرح نقصان رساں چیزوں سے ڈرتے ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ تو خود اپنے بندوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعود ؒ جلدچہارم ص127)

تقویٰ کی تعریف

’’تقویٰ اللہ کہنے کو تو چند لفظ ہیں جو آسانی سے کہے جا سکتے ہیں لیکن عمل میں تقوٰی ایک نہایت ہی مشکل بات ہے۔ ایک بزرگ نے تقوٰی کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ ایک شخص نے کھلے کھلے کپڑے پہنے ہوئے ہوں جو اِدھر اُدھر لٹکتے جا رہے ہوں اور اس نے ایک ایسے تنگ راستے سے گزرنا ہو جس سے صرف ایک ہی شخص گزر سکتا ہے۔اور اس راستہ کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں جن کے کانٹے قد م قدم پر اس کے کپڑوں کو کھینچتے ہوں ایسی جگہ سے جس طرح یہ شخص اپنے تمام کپڑے سمیٹ کر صحیح و سلامت گزر جاتا ہے اور اپنے کپڑوں کو پھٹنے نہیں دیتا۔ اسی طرح وہ شخص جو اپنی زندگی میں دنیا کی تمام آلائشوں اور تمام گندوں اور تمام ناپاکیوں سے گزر جائے اور اپنے کپڑوں کو ناپاک نہ ہونے دے، اس کا نام تقویٰ اللہ ہے ۔۔۔۔ صرف یہی ایک طریق ہے جس سے انسان دنیا میں اپنے کاموں اور ارادوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے: کہ اے مومنو! متقی بن جاؤ۔ اس بزرگ نے تقویٰ کے معنی بہت درست کئے ہیں۔ تقویٰ کے معنی بچاؤ کرنے کے ہیں۔ انسان کا نفس جسم ہے۔ پاکیزگی اور طہارت اس کا لباس ہے اور دنیاوی پالیدیاں اور گندگیاں کانٹے ہیں جو ہر وقت پاکیزگی اور طہارت کے لباس کو پھاڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔انسان کا یہ کام ہے کہ اپنی ساری زندگی میں اس راستہ میں صحیح و سلامت گزرنے کی کوشش کرے اور اس کو ایک تنگ راستہ سمجھے۔‘‘

(خطباتِ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؒ جلد اول ص283)

صحبتِ صادقین

’’خدا تعالیٰ نے اسی لئے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ۔ (التوبہ:119) یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا گُر یہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تاکہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہو جائے جو اس میں پایا جاتا ہے۔ پس جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اس روح کو زندہ رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے۔ کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں ہی اُس کی اپنی اصلاح ہے۔ہر شخص جو اپنے آپ کو اس سے مستغنی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔

(تمام جماعتوں میں انصاراللہ کی تنظیم ضروری ہے، انوارالعلوم جلد 17 ص 424)

نکاح کی غرض تقویٰ ہو

’’نکاح کی سب سے بڑی غرض تقویٰ ہونی چاہئے۔ اسلام کا فخر اور حقیقت یہی ہے کہ تمام امور کو خدا تعالیٰ کی طرف پھیر کر لاتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات ہو یا بڑی سے بڑی، ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اسے بھی آخر کار خدا کی طرف لے آتا ہے ۔۔۔ اسی طرح نکاح میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری توجہ کو خدا تعالیٰ کی طرف پھیرا ہے کہ نکاح میں تقویٰ اللہ مدِّ نظر رکھو۔ نکاح میں کئی غرضیں ہوتی ہیں مگر مسلم کی صرف ایک ہی غرض ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا تقویٰ حاصل ہو۔۔۔غرض اسلام کی غرضِ وحید تقویٰ اللہ ہے اور مومن کو نکاح میں بھی یہی غرض مدِّ نظر ہونی چاہئے۔‘‘

(خطباتِ محمود جلد سوم ص187۔ازفضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ)

تقویٰ ہی میں ساری عزّت

’’پس جو تقویٰ کے علاوہ کسی اور عزت کا خواہاں ہے وہ جاہل ہے یا مفسدانہ خیالات رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔ غرض تقویٰ ہی میں ساری عزت ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو کسی چیز کے قابل نہ سمجھے۔ خود کو خدا تعالیٰ کی پناہ میں لے آئے اور اسی سے طاقت حاصل کر کے دنیا کا کام کرے اور اسی سے علم پا کر بولے اور اسی کو سب کچھ سمجھے اور ساری دنیا کو ایک مردہ کیڑا سمجھے اور فخر اور عُجب اور تکبر اور ریاء اپنے دل کے اندر پیدا نہ ہونے دے۔ تب جا کر انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کی نگاہ کا مورد بنتا ہے۔‘‘

(مشعلِ راہ جلددوم ص217۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان)

تقویٰ کا اعزاز

’’قرآن کریم میں دو پار سا عورتوں کا ذکر آتا ہے، جن میں سے ایک فرعون کی بیوی ہے۔ فرعون کو توفیق نہیں ملی لیکن اس کی عورت نے تقویٰ اختیار کیا اور اس نے مذہب کی ضرورت کو سمجھا اور موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائی اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن کریم میں بطور مثال کے کیا ہے۔ اور اس سے بڑھ کر اور فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ اس کتاب میں جو ہمیشہ کے لئے ہے اُس کا ذکر آیا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ جو فرائض مذہب کے متعلق مردوں کے ہیں وہی عورتوں کے بھی ہیں۔ دوسری مثال مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کی ہے۔ وہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ تھیں۔ اس زمانے میں گمراہی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، انہوں نے ایسی پرہیزگاری دکھائی کہ ان کے بیٹے نے نبوّت حاصل کر لی۔ دنیا پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بڑا احسان ہے لیکن حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کا بھی بڑا احسان ہے۔ کیونکہ ان کی تربیت سے ایک ایساانسان بنا جس نے دنیا پر بڑا احسان کیا۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ بڑی متقی اور پرہیزگار عورت تھی۔ اُن کے بچے نے ان سے تقویٰ سیکھا۔ سو دیکھو قرآن کریم میں جہاں حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر ہے ساتھ ہی حضرت مریم علیہا الصلوٰۃ والسلام کا ذکر بھی موجود ہے۔‘‘

(الازھار لِذواتِ الخِمار مرتبہ مریم صدیقہ ص 15)

تقویٰ مغفرت کا موجب ہے

’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا (الاحزاب:71) کہ اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور قولِ سدید اختیار کرو۔ اس آیت میں دونوں پہلو بیان کئے گئے ہیں،ماضی کا بھی اور مستقبل کا بھی۔ماضی کا پہلو چونکہ انسان کے قبضہ سے نکل جاتا ہے اس لئے اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اللہ کو رکھا کہ ماضی کی مشکلات سے نکلنے اور گزشتہ گناہوں کو معاف کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا تقوٰی اختیار کرو۔ اور اسے اپنی ڈھال بنا کر ماضی کے حالات سے لڑو۔ جب اللہ تعالیٰ ڈھال بن جائے گا تو پھر ماضی کے بد اثرات کا اثر بھی جاتا رہے گا ۔۔۔۔ پس خدا تعالیٰ نے غفران کے لئے اِتَّقُوْا اللّٰہ رکھا ہے کہ گناہوں کے بخشوانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو یعنی اللہ تعالیٰ کو بطور ڈھال گناہوں کے مقابلہ میں رکھو تو خدا تعالیٰ خود ان کو دور کر دے گا ۔۔۔۔ پس ماضی کے نقصانات سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ علاج بتایا کہ تقویٰ اختیار کرو اور مستقبل کو درست کرنے کے لئے قولِ سدید اختیار کرنے کا حکم دیا۔‘‘

(خطباتِ محمود جلد سوم ص439-438ازفضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ)

عملی نمونہ

حضرت ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحب رحمہ اللہ آپ کے تقوٰی کا ایک عملی نمونہ بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں:۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ ایک دفعہ کشمیر تشریف لے گئے اور ریچھ مارنے کا لائسنس لیا ہوا تھا۔ دورانِ سفر احمدیوں کی آبادی میں فروکش ہوئے اور شکار کے لئے ایک پہاڑی جنگل میں داخل ہو گئے۔ لوگوں نے آوازوں سے ہانکنا شروع کیا تو ایک مشک والا ہرن نمودار ہوا اور بالکل سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ رائفل حضور رضی اللہ عنہ کے کندھے کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور نالی شکار کی طرف تھی۔ ساتھی بے قرار ہو رہے تھے کہ ایسا نایاب شکار سامنے کھڑا ہے،کیوں فائر نہیں کیا جا رہا۔ حضور رضی اللہ عنہ نے یکدم رائفل نیچے کر دی تو وہ ہرن بھاگ گیا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہرن کے شکار کا لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے میرے لئے اس پر فائر کرنا جائز نہیں تھا۔ گھر پہنچ کر بعض لوگ جو ساتھ تھے کہنے لگے کہ ایسے عمدہ شکار کو چھوڑ دیا گیا جبکہ ہم توشکار میں اتنی احتیاطیں نہیں کیا کرتے۔ ان بے چاروں کو معلوم نہیں تھا کہ اگر ایسی احتیاطیں نہ کی جائیں تو تقویٰ جاتا رہتا ہے۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 19جون 1962ص 3۔4)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ وپارسائی کا عرفان اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

(از م۔ا۔د)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار