• 27 فروری, 2021

دورِ مُصلح ِموعودؓ اور فن لینڈ

’’زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔‘‘
دورِ مُصلح ِموعودؓ اور فن لینڈ

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار 20فروری 1886ء میں فرمایا: ’’زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 101۔102)

’’میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔ گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ اس کو رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔ جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے بھی روز نہیں آتے۔‘‘

(ماخوذ از خطابات شوریٰ جلد2 صفحہ18-19بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ 20 فروری 2015ء)

اوپر موجود دونوں مقامات پر جس شخصیت کا ذکر ہے، وہ ہیں سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح موعود رضی اللہ عنہ جو آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺکے غلامِ صادق ؑ کی پیشگوئیوں کے مظہر تھے۔ خاکسار جب "حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں اور وفات پر فن لینڈ کے اخبارات میں ذکر‘‘ کے موضوع پر لکھ رہا تھا (جو کہ الفضل آن لائن مورخہ 5جنوری 2021ء میں چھپ چکا ہے) تو کچھ تحریریں ایسی ملیں تو خیال گزا کہ یہ تاریخی حوالہ جات الفضل میں مضمون کی صورت میں لکھ کر تاریخ اور قارئین کے لیےمحفوظ کر دینے چاہیں ۔

اصل مضمون کی طرف آنے سے پہلے کچھ تمہیدی باتیں بیان کر دوں کہ سکینڈےنیویا بشمول فن لینڈ وہ خوش قسمت علاقہ ہے کہ جس کا ذکر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ نے آخری زمانہ یعنی دجال کے زمانہ کے تعلق میں کیا ہے کہ اس زمانہ میں چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات ہو جایا کرے گی، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمۃ اللہ نے دورہ جرمنی میں مجلس سوال جواب میں اس کی وضاحت فرما ئی کہ ’’اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ساری زمین پر ایسا ہوگا بلکہ یہ مراد تھی کہ اس زمانہ میں لوگوں کے علم میں یہ بات آ جائے گی کہ زمین کے انتہائی شمال میں ایک رات چھ مہینے کی اور ایک دن چھ مہینے کا چڑھتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا ہوگا تو صحابہ میں سے کسی نے

English Translation of the caption: As previously mentioned, the host country is currently being visited by a.

A Permanent Representative of India›s Political and Commercial Life, Country Minister of Trade Mohammed Zafrulla Khan. On Tuesday evening, Foreign Minister Holsti had invited to dinner the tall guest who is seen in our picture with his host.

(Hufvudstadsbladet 214, 2p. 12.08.1937, page 1)

سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پر ایک دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں تو کیا ایسے وقت میں ہم چھ مہینے میں صرف پانچ نمازیں پڑھیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں تمہارا جو معمول کا دن ہے چوبیس گھنٹے کا اس کے مطابق خدا تعالیٰ نے پانچ نمازیں اور تہجد تجویز فرمائی ہیں۔ اسی طرح ہر چوبیس گھنٹے میں اس لمبے دن اور رات میں بھی تمہارا معمول ہونا چاہئے۔ چنانچہ اسی حل پر ہم عملدرآمد کرتے ہیں۔‘‘ (مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل 11جون 1999ء تا 15جولائی 1999ء) یہاں بھی کئی مقامات پر گرمیوں میں سورج یا تو غروب نہیں ہوتا یا پھر سردیوں میں طلوع نہیں ہوتا یا دن و رات میں انتہائی کم وقت ہوتا ہے تو اس حوالے سے یہاں رہنے والے باسیوں کو خلافت کی برکت اور راہنمائی سے آنحضور ﷺ کی براہِ راست ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق مل رہی ہے جو سید الانبیا ﷺ نے تقریبا 1500 سال پہلے اس مخصوص علاقہ کے بارہ میں فرمائی تھی۔ الحمد اللہ

اسی آخری دور میں ہی آپﷺ نے ایک مسیح و مہدی کی آمد کی اطلاع دی تھی اور اس کی موعود اولاد کی بھی، مسیح موعودؑ کی زندگی ہی میں اللہ نے آپ کا ذکر ، دعویٰ اور تبلیغ فن لینڈ پہنچا دیا تھا پھر آپ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا فن لینڈ سے غائبانہ تعلق حضرت چوہدری ظفر اللہ خان ؓکے ساتھ خط و کتابت اور راہنمائی کی صورت میں جاری رہا۔ پھر دورِ مصلح موعود میں وہ ترقیات ہو ئیں جن سے دنیا قیامت تک مستفیض ہوتی رہے گی اس کی کچھ جھلک ہمیں اُس وقت کے فن لینڈ کے اخبارات میں بھی نظر آتی ہے ۔

حضرت مصلح موعود ؓ نے 1924ء میں ایک طویل دورہ مغرب کا کیا اور جب آپ اپنے خدام کے ساتھ ویمبلے کانفرنس میں شرکت اور مسجد فضل لنڈن کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد چند روز تک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں قیام پذیر رہے، تو جب وہاں ایک نیوز ایجنسی کے نمائندہ نے آپ سے سفر کا مقصد پوچھا تو آپ نے فرمایا:

’’میں اس غرض سے یورپ میں سفر کررہا ہوں کہ یورپ کی مذہبی حالت کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر صحیح اندازہ کروں جس سے مجھ کو ان ممالک میں اشاعت اسلام کےلیے ایک مستقل سکیم تیارکرنے میں مددملے۔ اور میرا یہ مقصد ہے کہ چونکہ میں دنیا میں صلح کا جھنڈا بلند کرنا چاہتا ہوں میں دیکھوں کہ مشرق اور مغرب کو کون سے امور ملاسکتے ہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد 11،صفحہ نمبر 9)

حضرت مصلح موعود ؓکی مذاہب عالم کانفرس میں شمولیت کی خبر فنش اخبار میں:

اِسی دورہ کے ابتداء میں ’’Suomen Kuvalehti‘‘ جو کہ فنش زبان کا اخبار ہے اور آج تک پبلش ہو رہا ہے نے اپنے ستمبر ۱۹۲۴ء کے شمارہ میں حضور رضی اللہ عنہ کی لندن میں ورود مسعود کے بعد ہاتھ اٹھا کہ اجتماعی دعا کرنے کی تصویر شائع کرتے ہوے کیپشن میں لکھا :
ترجمہ: ’’ورلڈ کانگریس آف ریلیجنز ۔ عالی اقدس خلیفۃ المسیح ثانی اپنے حوارین کے ساتھ لندن پہنچ گے ہیں، جہاں اُن کا پہلا عمل ایک خاموش دُعا تھا‘‘

(Suomen_Kuvalehti_37_13_09_1924)

مسجد فضل لندن کے افتتاح کی خبریں فن لینڈ کے اخبارات میں:
لندن مسجد جس کا قیام بلاشبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے عظیم الشان کارناموں میں سے ایک ہے اور جس نے مستقبل میں پورے یورپ کو اسلام کی روشنی سے منور کیا اور یورپ میں مسجدوں کے قیام کی ابتداء ثابت ہوئی، کے بارے میں فنش زبان کے ایک اخبار ’’Uusi Suomi‘‘ نے مسجد فضل لندن کی تصویر کے ساتھ مندرجہ ذیل خبر شائع کی۔

انگلینڈ میں اسلام: ساؤتھ فیلڈ کی نئی مسجد

انگلینڈ میں پہلی خالصتاً محمدن (مسلمانوں) کی تعمیر شدہ مسجد مکمل ہوچکی ہے اور اس نے کام شروع کر دیا ہے۔ یہ مسجد لندن کے مضافاتی علاقے ساؤتھ فیلڈ میں واقع ہے اور اس کا افتتاح کچھ ہفتوں قبل پنجاب قانون ساز کونسل کے سابق چیئرمین اور انڈین جنرل اسمبلی کے نمائندے خان بہادر شیخ عبد القادر نے کیا تھا۔ اس طرح ، انگلینڈ میں اب دو مساجد اور متعدد دیگر نجی جگہیں ہیں جہاں اسلام کے خداکی عبادت کی جاسکتی ہے۔ پہلی مسجد لندن سے چند میل دور ووکنگ میں چند سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا خیال اور اس پر عمل درآمد تب ایک انگریز اورینٹلسٹ سے ہوا تھا جو برطانوی دنیا کے شہر کے قریب ہی مسلمانوں کے لئے ایک مقدس جگہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔

ساؤتھ فیلڈ کی نئی عبادت گاہ، بطورِمرکز تعمیر ہوئی ہے اور اس کے رہنماؤں کو امید ہے کہ جلد ہی اسلام کے عقائد پورے ملک میں پھیل جائیں گے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کچھ انگریز جو برسوں سے ہندوستان ، مصر یا مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں مقیم ہیں مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج برطانوی جزیرہ نما میں اندازاً (پندرہ سو)1500 انگریز ہیں جو مسلمان مذہب پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان میں تمام طبقے کے افراد شامل ہیں ، ا یوان بالا کے ممبر اور سویلین پیشے سے وابستہ انجنیرٔ لارڈ ہیڈلے انگلینڈ میں بڑے پیمانے پر محمدن (مسلمان) مذہبی کمیونیٹز کے رہنما کے طور پر پر جانے جاتے ہیں۔

(Uusi Suomi 263, 14.11.1926, page 20)

لوتھرن عیسائیوں کی مشنری سوسائیٹی کی مسجد فضل کے افتتاح کی خبر: Suomen lähetyssanomia جو کہ لوتھرن عیسائیوں کی مشنری سوسایٹی کی طرف سے 1859ء سے باقاعدہ ہر ماہ چھپنے والا میگزین ہے، نے مسجد فضل لندن کے افتتاح کی خبر (جس کے الفاظ سے کچھ تعصب بھی چھلکتا ہے مگر حقیقت کو نہ چھپا سکا) ’’Muhamettilainen moskeia Lontooseen‘‘ کے عنوان سےکچھ اس طرح سے چھاپی:

محمد یوں (مسلمانوں) کی مسجد لندن

’’اب تک، انگلینڈ میں لندن کے قریب واقع صرف ووکنگ مسجد ہی تھی۔ وہاں سے ، محمدن (مسلم) پروپیگنڈہ اُبھارنے اور محمدیت (اسلام) کو جتنا ممکن ہو سکے اچھے رنگوں میں پیش کرنے کی مستعد کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم ، پروپیگنڈہ مطلوبہ پھل نہیں دے سکا ۔۔۔۔۔۔ مشنری رویو نے اپنے دسمبر کے شمارہ میں لکھا ہے کہ اب محمدیوں (مسلمانوں) نے جنوب مغربی لندن میں ایک مسجد تعمیر کی ہے ۔اس مسجد کا افتتاح 3 اکتوبر کو امیر فیصل نے کرنا تھا لیکن ابن سعود شاہِ نجد و حجاز و نائب شاہ مکہ نے اپنے بیٹے پر سخت پابندی عائد کردی (جسکی وجہ سے) دوسروں کو افتتاحی تقریبات انجام دینے کی اجازت دی گئی۔ دونوں مساجد کا تعلق احمدی فرقہ سے ہے۔ (اس موقع پر) اس فرقےکے سربراہ ، مرزا محمود احمد نے ایک اعلامیہ جاری کیا ، جس میں تمام انسانیت سے اتحاد اور خدا کی وحدت کا احساس کرنے کی تاکید کی گئی ، جس سےسب نےاتفاق کیا۔‘‘

(Suomen lähetyssanomia 1, 01.01.1927 page 19)

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس خبر سے پہلے اس میگزین نے ایک تفصیلی خبر ’’محمدازم نے اپنی طاقتیں یکجا کر لی ہیں‘‘ کے عنوان کے تحت اس وقت کی مسلمان حکومتوں کی دنیاوی اسلامی خلافت کے اختتام کے بعد اسلامی اقدار نافذ کرنے وغیرہ کی کوششوں سے متعلق 2 میٹنگز کا ذکرکیا ہے اور ان کا تنقیدی جائزہ لیا ہے جن میں سے ایک سعودیہ عرب میں شاہ ابن سعود کے تحت اور ایک مصر میں ہوئی ۔ اور اسی کے نیچے جماعت احمدیہ کی نئی مسجدکے افتتاح کی خبر دی جو سچی خلافت کا ایک زندہ نشان ہے اور حضرت مصلح موعودؓ کی دور اندیشی کا ثبوت بھی اور ساتھ ہی باقی مسلم دنیا کے امن اور اسلام کے پھیلاؤ کی نیت بھی واضح کر دیتا ہے کہ کہاں ایک طرف میٹنگز کر کے اسلام کا درد دکھایا جا رہا ہے اور عملاً غلط شبیہ پیش کی جارہی ہے اور کہاں جب ایک بامقصد مسجد جوکہ لندن میں پہلی ہے کے افتتاح کے لیے بلایا جاتا ہے تو آخری لمحوں میں انکار ہو جاتا ہے۔ نیز حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے اعلامیہ کے الفاط ہی شاہد ہیں کہ اسلام کو صحیح طور پر پیش کرنے کا بیڑہ کس نے اٹھا یا ہوا تھا۔

یہی خبر ایک اور فنش اخبار ’’Rauhan Tervehdys‘‘ نے بالکل انہی الفاظ میں اپنے 14 جنوری 1927ء کے شمارہ میں شائع کی ۔

(Rauhan Tervehdys 2, 14.01.1927, page 2)

ناروے، سویڈن، فِن لینڈ اور ہنگری کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ کا ایک کشف:

یکم اگست 2020ءکےالفضل انٹرنیشنل میں الفضل ڈایجسٹ نے ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ ستمبر 2012ء میں سکینڈے نیویا میں احمدیت کی ابتداء سے متعلق طبع ہوئی ایک تحریر شائع کی ہے جس میں تحریر ہے کہ ’’1932ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک کشف میں دیکھا کہ ناروے، سویڈن، فِن لینڈ اور ہنگری کے ممالک احمدیت کے پیغام کے منتظر ہیں۔‘‘ 7؍اگست 1956ء کو مکرم سیّد کمال یوسف صاحب کی تبلیغ کے نتیجے میں گوٹن برگ سویڈن کی ایک سعید روح کو قبول احمدیت کی توفیق ملی جن کا نام Mr Erickson تھا۔ اُن کا اسلامی نام سیف الاسلام محمود رکھا گیا اور بعدازاں انہیں سوئٹزرلینڈ کے اعزازی مبلغ کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔‘‘

سبحان اللہ خداکی کیا عجیب شان ہے اور حضرت مصلح موعود کا کیا تعلق بااللہ ہے کہا خود اللہ آپ کو کشفاً بتا رہا ہے کہ ان ممالک بشمول فن لینڈ کے لوگ احمدیت کے پیغام کے منتظر ہیں۔ خدا کے اس پیغام کو آپ ؓ نے کیسے عملی جامہ پہنایا اور اس کے لیے کس کا انتخاب فرمایا یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے۔

مکرم و محترم سید کمال احمد یوسف صاحب کا بطور مبلغ سکینڈےنیویا تقرر:

1956ء میں محترم سید کمال احمد یوسف صاحب کی تقرری حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سکینڈے نیویا کے لیے فرمائی ۔ محترم کمال صاحب حضرت مصلح موعود ؓ کی طرف سے ملنے والی ہدایات کے بارے میں ایم۔ٹی۔اے کے پروگرام حکایاتِ صدق و وفا قسط نمبر32 میں بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ نائب وکیل التبشیر صاحب مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو حضور نے غالباً عصر کی نماز تھی، حضور نے کہا کہ یہ کمال جا رہا ہے تو اس کہو کہ فلانی فلانی 4کتابوں کے نام لئے کہ پڑھ کے جائے اور پھر خصوصیت سے حضور نے کہا کہ فن لینڈ میں ترک ہیں اُن سے بھی رابطہ کرنا ہے یہ حضور کی پہلی ہدایت تھی‘‘۔

: mtaOnline1 (حکایاتِ صدق و وفا،مولانا کمال یوسف صاحب، قسط نمبر32)

یہی واقعہ محترم کمال صاحب نے خاکسار کو جلسہ سالانہ فن لینڈ میں ایک انٹرویو سیشن کے دوران ان الفاظ میں سنایا:

’’ایک دفعہ سکینڈےنیویا آنے سے پہلے حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک مجلس میں ،حضور کچھ وقت کیلئے تشریف رکھتے تھے کبھی ظہر کی نماز کے بعد کبھی عصرمسجد مبارک کی بات ہے تو حضور مجھے فر مانے لگے کہ وہ فن لینڈ میںترک ہیں ان سے جا کے ملنا تم اور حضور نے پھرچار کتا بیںپڑھنےکاارشادفرمایامجھے تواس وقت اتنا علم نہیں تھا مجھے اتنا یاد ہے کہ اس میں سے ایک حقیقۃالوحی تھی اور غالبًا آئینہ کمالاتِ اسلام اور دو اور کتابیں تھیں کہ یہ پڑھ کر جانا ان سے تمہاری بحث ہو گی تو ان کا پڑھنا ضروری ہے ۔ تو سب سے پہلی بات جو سکینڈے نیویا کے بارے میں حضرت مصلح موعود ؓ نے مجھ سے فرمائی وہ فن لینڈ کا ذکر تھا ۔‘‘

(۴ اکتوبر 2014ء بر موقع چو تھا جلسہ سالانہ جماعت ِاحمدیہ فن لینڈ)

ان الفاظ کو جب دل کی آنکھوں سے محسوس کرتے ہیں تو دل سے بےاختیار اُس عظیم شخص کی عظمت سے بھر جاتا ہے جو جب ایک علاقہ میں اپنے ایک داعی کو تعینات کرنے لگتا ہے تو اُس علاقہ کے ایک چھوٹے سے ملک میں بسے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت کے افراد کا خیال آپ کو آتا ہے اور آپ خاص طور پر محترم کمال صاحب کو تلقین کرتے ہیں کہ ’’فن لینڈ میں ترک ہیں اُن سے بھی رابطہ کرنا ہے‘‘۔ کیا ہی خوش بختی ہے فن لینڈ کی کہ جس کےآپؓ کے الفاظ سے بھاگ جاگ گئے اور کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ تُرک کہ جب کبھی بھی اُن کو اسلام احمدیت میں شمولیت کی توفیق ملے گی تو وہ خوشی سے جھوم اُٹھیں گے اور اُن کے دلوں سے یہ آواز نکلے گی کہ ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے۔

اور یقینا یقینا وہ وقت آے گا اور ان شاء اللہ جلد آے گا، آپ رضی اللہ عنہ کے ہی الفاظ میں ؎

اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ
ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

ایم۔ٹی۔اے کے حکایاتِ صدق و وفا کے اسی پروگرام میں جس کا اوپر ذکر آ چکا ہے مکرم و محترم کمال صاحب مزید بیان کرتے ہیں:

’’اُس وقت یورپ کو جماعتی انتظامی و تبلیغی لحاظ سے 2حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایسٹ یورپ کے انچارج محترم شیخ ناصر احمد صاحب جو سوئیٹزر لینڈ میں رہتے تھے اور ویسٹ یورپ کے انچارج محترم چوہدری عبد اللطیف صاحب تھے جو ہیمبرگ میں رہتے تھے۔ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ؓ کا مشورہ تھا کہ چونکہ گوٹن برگ سویڈن جو کہ کوپن ہیگن ڈنمارک ،اوسلو ناروے اور سٹاک ہالم سویڈن کا سینٹر بنتا ہے اس لے سکینڈینویا کا مرکز گوٹن برگ ہونا چاہے اس لیے اس مشوہ کے مطابق محترم کمال صاحب کو گوٹن برگ کے لیے بھیجا گیا اور آپ وہاں جانے کے لیے ہمبرگ میں محترم چوہدری عبداللطیف صاحب کے پاس ہیمبرگ پہنچے وہاں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ؓ نے پیغام بھجوایا ہوا تھا کہ چونکہ میں ہیگ نیدرلینڈ سے چھٹیوں پر کار پر فن لینڈ جا رہا ہوں تو میرے ساتھ چلیں۔‘‘ یوں محترم کمال صاحب و مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب ایک صحابی مسیح موعود ؑ کی معیت میں گوٹن برگ پہنچے۔

یعنی محترم کمال صاحب کو گوٹن برگ تک رستے میں جس عظیم شخص کی معیت نصیب ہوئی وہ خلافت کا ایسا مطیع و فرمابردار تھا کہ ہم سب کے لیے اسوہ ہےاور دوسری چیز جو نظر آتی ہے وہ ان کا فن لینڈ پر چھٹیاں گزارنے کے لیے جانا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحبؓ کا خاص تعلق تھا اس زمین سے کیونکہ مختلف تحریرات اور واقعات سے آپ کے فن لینڈکے دوروں کا پتہ چلتا ہے، مضمون کے اختتام پر اس شخصیت کا ذکر کرنا بھی سعادت ہو گی کہ جس کی دنیاوی ترقیات اور ذمہ داریوں کا اکثر حصہ دورِ مصلح موعود سے ہی وابستہ ہے اور جس کے بارے میں خود حضرت مصلح موعودؓ اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے جس میں آپ نے چوہدری صاحب کو اپنے بیٹے کے طور پر دیکھا یہ فرماتے ہیں ’’عزیزم چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے ساری عمر دین کی خدمت میں لگائی ہے اور اس طرح میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا (میری بیماری کے موقع پر تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کو میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا ) بلکہ میرے لیے فرشہ رحمت بنا دیا۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۲۷ مئی ۲۰۲۰)

دورِ مصلح موعود ؓ میں آپ کے یہ بیٹے حضرت چوہدری صاحب ؓ مختلف اوقات اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کی خاطر فن لینڈ میں تشریف لاتے رہے جس کا ثبوت فن لینڈ کے وہ اخبارات ہیں جن میں آپ سے متعلق خبریں و تصاویرچھپتی رہیں ۔ یقیناً ایک طرح سے فن لینڈ کی قوم خوش قسمت ہے کہ جس کے بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ نے کشف بھی دکھایا پھر پہلے تقرری جب آپ نے محترم کمال صاحب کی کی تو ان کو بطور خاص فن لینڈ جا کر ترک لوگوں سے رابطے کا کہا نیز حضرت مصلح موعودؓ کے روحانی فرزند کے قدموں سے یہ سرزمین بارہا فیض یاب ہوکے بابرکت ہوئی۔

اللہ تعالیٰ ہزاروں رحمتیں حضرت مصلح موعود ؓ پر نازل فرمائے جو آنحضرت ﷺ کے دین کی خاطر اپنا آپ بھلا بیٹھے تھے اور اس مقصد کی خاطر جوآپؐ کے غلام صادق مسیح موعودؑ کا تھا،کے لئے دن رات اسی کی تکمیل کی سعی میں رہے اور آپ نے وہ وجود اپنے پاک مسیحی نفس سے تیارکیےجو آپ ؓکےمشن کو آگے بڑھاتے رہے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ؓ کے مشن اور مقصد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

English Translation of the caption: As previously mentioned, the host country is currently being visited by a .

A Permanent Representative of India’s Political and Commercial Life, Country Minister of Trade Mohammed Zafrulla Khan. On Tuesday evening, Foreign Minister Holsti had invited to dinner the tall guest who is seen in our picture with his host.

(Hufvudstadsbladet 214, 2p. 12.08.1937, page 1)
(Maaseudun Tulevaisuus 90, 14.08.1937, page 7)

(تحقیق وترجمہ: طاہر احمد فن لینڈ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021

اگلا پڑھیں

پیشگوئی مصلح موعودؓ اور سبز اشتہار