• 19 جولائی, 2024

مبشر اولاد بمقابل گستاخ اولاد

مبشر اولاد بمقابل گستاخ اولاد
یتزوج ویولد لہ کے پس منظر میں قادیان اور بٹالہ کے
دو خاندانوں کے ’’پنج تن پاک‘‘ اور ’’دس ناہنجار‘‘ کی تاریخ

اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء، مامورین اور مقربین کو ہمیشہ خاص انعامات سے سرفراز فرماتا رہا ہے اور اپنی برکتوں سے ان کو مالا مال کرتا رہا ہے۔ ان انعامات میں سے ایک انعام پاک اور خادم دین اولاد بھی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بہت سے انبیاء کو سرفراز فرمایا اور موجودہ زمانہ کے مامور اور مرسل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی پاک نسل اور پاک اولاد کی بشارتیں دیں اور اپنے وعدوں کے موافق مطہر اولاد عطا فرمائی۔دوسری طرف ہمیں آپ کے بچپن کے دوست اور ہمجولی اور بعد میں آپ کے اوّل المخالف بن جانے والے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نظر آتےہیں جنہوں نے تین شادیاں کیں اور ان تینوں بیگمات میں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ اس مختصر تحریر میں ان دونوں شخصیات کی اولاد اور ان کی خدمت اسلام کے حوالہ سےتاریخ کے جھروکوں سے جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قبل از ولادت مبشر بیٹوں کی خدائی اطلاع

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’شیخ محمد حسین بٹالوی کو حلفاًپوچھنا چاہئے کہ کیا یہ قصہ صحیح نہیں کہ یہ عاجز اس شادی سے پہلے جو دہلی میں ہوئی اتفاقاً اس کے مکان پر موجود تھا اس نے سوال کیا کہ کوئی الہام مجھ کو سناؤ۔ میں نے ایک تازہ الہام جو انہیں دنوں میں ہوا تھا اور اس شادی اور اس کی دوسری جز پر دلالت کرتا تھا اس کو سنایا اور وہ یہ تھا کہ بکرٌ وثیّب یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعدہٗ ایک بیوہ سے۔۔۔ پھر ایک اور الہام ہے جو فروری 1886ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت ان تین لڑکوں کا جواب موجود ہیں نام و نشان نہ تھا اور اس الہام کے معنی یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے اور پھر ایک اور ہوگا جو تین کو چار کردے گا۔ سو ایک بڑا حصہ اس کا پورا ہوگیا یعنی خدا نے تین لڑکے مجھ کو اس نکاح سے عطا کئے جو تینوں موجود ہیں صرف ایک کی انتظار ہے جو تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ اب دیکھو! یہ کیسا بزرگ نشان ہے۔ کیا انسان کے اختیار میں ہے کہ اوّل افترا کے طور پر تین یا چار لڑکوں کی خبر دے اور پھر وہ پیدا بھی ہو جائیں۔

پھر ایک اور نشان یہ ہے جو یہ تین لڑکے جو موجود ہیں۔ ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے آنے کی خبر دی گئی ہے چنانچہ محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی معہ محمود کے نام کے موجود ہے جو پہلے لڑکے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا جو رسالہ کی طرح کئی ورق کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے اور بشیر جو درمیانی لڑکا ہے اس کی خبر ایک سفید اشتہار میں موجود ہے جو سبز اشتہار کے تین سال بعد شائع کیا گیا تھا اور شریف جو سب سے چھوٹا لڑکا ہے اس کے تولد کی نسبت پیشگوئی ضیاء الحق اور انوار الاسلام میں موجود ہے اب دیکھو! کہ کیا یہ خدائے عالم الغیب کا نشان نہیں ہے کہ ہر ایک بشارت کے وقت میں قبل از وقت وہ بشارت دیتا رہا۔

(روحانی خزائن جلد11 صفحہ298-299)

’’حمایت اسلام‘‘ کرنے والی ’’نورانی اولاد‘‘ جو
’’ینقطع من ھولاء و یبدء منک‘‘ کی مظہر ہوگی

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا سے خبر پاکر اعلان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔ اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے … اُس نے تیری خاندانی بزرگی کو تیرے وجود کے ساتھ زیادہ کیا۔ اب ایسا ہوگا کہ آئندہ تیرے باپ دادے کا ذِکر منقطع کیا جائے گا اور ابتدا خاندان کا تجھ سے ہوگا۔ تجھے رُعب کے ساتھ نصرت دی گئی ہے اور صدق کے ساتھ تو اَے صدیق! زندہ کیا گیا۔ نصرت تیرے شامل حال ہوئی اور دشمنوں نے کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں…… کیا تیرا آبائی خاندان اور کیا دامادی کے رشتہ کا خاندان دونوں برگزیدہ ہیں یعنی جس جگہ تعلق دامادی کا ہوا ہے وہ بھی شریف خاندان سادات ہے اور تمہارا آبائی خاندان بھی جو بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے مرکب ہے خدا کے نزدیک شرف اور مرتبت رکھتا ہے۔ اس جگہ یاد رہے کہ اِس الہام کے اندر جو میرے خاندان کی عظمت بیان کرتا ہے ایک عظیم الشان نکتہ مخفی ہے اور وہ یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور رسول اور نبی جن پر خدا کا رحم اور فضل ہوتا ہے اور خدا ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ275-276)

’’تیری عطا‘‘ یہ ’’مہرو ماہتاب‘‘ ’’نسل سیدہ‘‘ سے ’’پنج تن‘‘ ’’ہر گز نہیں ہوں گے برباد‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی مبشر اولاد کے حوالہ سےاللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

خدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد
بشارت تو نے دی اور پھر یہ اولاد
کہا ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد
بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد
خبر مجھ کو یہ تو نے بارہا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
مری اولاد سب تیری عطا ہے
ہر اِک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہے
یہی ہیں پنج تن جن پر بِنا ہے
یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ
دِئیے تو نے مجھے یہ مہر و مہتاب
یہ سب ہیں میرے پیارے تیرے اسباب
دِکھایا تو نے وہ اے رب ارباب
کہ کم ایسا دِکھا سکتا کوئی خواب
یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ

(درثمین۔ بشیر احمد اور مبارکہ کی آمین)

اس میں کیا شک ہےکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پنج تن یعنی پانچ مطہر اولادیں اور آگے ان کی اولادیں، مہر و ماہتاب ہیں تو باغ اسلام کے شمشاد ہیں۔ اسلام کے سپاہی ہیں تو دشمنان اسلام کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ شش جہت میں اسلام کی سربلندی اور اعلائے اسلام کے لئے جو خدمات دینیہ بجا لارہی ہیں ان کے معترف تو جماعت کے مخالفین بھی نظر آتے ہیں۔ خلفائے احمدیت کے زیر سایہ اکناف عالم میں پھیلی جماعت احمدیہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس سچائی کی دلیل کے طورپر کافی ہے۔ اس لئے ہم مولوی صاحب کی طرف بڑھتے ہیں۔

جناب مولوی محمد حسین بٹالوی کی اولاد

انہیں دنوں ہندوستانی اُفق پر ایک اور عالم دین نظر آرہے تھے یعنی جناب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب، جن کا اس وقت پورے ہندوستان میں طوطی بول رہا تھا۔

  • آپ ایڈیٹر اور مالک اخبار اشاعۃ السنۃ تھے۔
  • آپ اپنے آپ کو وکیل اہل حدیث اور شیخ عجم کہلواتے تھے۔
  • آپ کی تین بیویاں اور 10 بچے تھے۔
  • آپ اہل حدیث جلسوں کی صدارت کرتے تھے اور خطبہ استقبالیہ پڑھتے تھے۔
  • آپ فرقہ اہل حدیث کی طرف سے سرکار برطانیہ اور وائسرائے سے ملنے والے وفود کی سرکردگی کرتے تھے۔
  • انگریزی سرکار سے رسالہ اقتصاد فی مسائل الجہاد لکھ کر خوشنودی کے طور پر 4 مربع زمین حاصل کر چکے تھے۔
  • اس کے علاوہ 4 مربع زمین کے بہاول پور میں مالک تھے۔
  • 2 مربع زمین خانپور میں، جبکہ 2 مربع زمین نوشہرہ میں ان کی جائیداد میں شامل تھا۔
  • زرعی زمینوں کے علاوہ بہت سے مکان، بہت سی حویلیاں اور دیوان خانوں سمیت ڈھیروں ڈھیر دولت کے مالک تھے۔

(اشاعۃ السنۃ جلد22 شمارہ7 صفحہ208 1909ء)

یہ دونوں مندرجہ بالا ہستیاں ہم جولی بھی تھیں اور ایک گونہ دوستی کا تعلق بھی تھا۔ اسی دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ لکھی تو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں پہلے 1879ء میں ایک اشتہار کی شکل میں براہین احمدیہ کے بارے میں لوگوں کو توجہ دلائی کہ اس کتاب کی اشاعت کے لئے لوگ مصنف کتاب کی اعانت فرمائیں اور اس کتاب کو جلد چھپوائیں۔

(اشاعۃ السنۃ صفحہ8 ضمیمہ6 جلد2 شمارہ6 1879ء)

پھر 1880ءمیں ایک دفعہ پھر بڑے دکھ سے لکھا اور لوگوں کو توجہ دلائی۔

(اشاعة السنۃ 1880ء جلد3 شمارہ9 صفحہ3)

پھر 1884ء میں جب براہین کے پانچوں حصہ مکمل ہو گئے تو آپ نے وہ مشہور تبصرہ لکھا جو شمارہ نمبر6 سے شروع ہوا اور شمارہ نمبر 11 پر جاکر ختم ہوا یعنی صفحہ 158 سے لے کر 348 صفحے تک یہ تبصرہ پھیلا ہوا ہے۔ جس میں صفحہ نمبر 169 پر آپ نے براہین احمدیہ کا خلاصہ درج کرنے کے بعد یہ الفاظ لکھے کہ:
’’ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔‘‘

میں نے ہی آپ کو آسمان پر چڑھایا تھا اور میں ہی گراؤں گا۔ بٹالوی صاحب کا اعلان

پھر حالات یکسر تبدیل ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا سے خبر پاکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اعلان کر دیتے ہیں اور دعویٰ مہدویت اور مسیحیت کا اعلان فرمادیتے ہیں تب یہی مولوی صاحب جو وکیل اہل حدیث ہیں خم ٹھونک کر آپ کی مخالفت میں نکل آتے ہیں اور یہ بلند بانگ اعلان فرمادیتےہیں:
’’اسی اشاعۃ السنۃ نے ….دھوکہ میں آکر ریویو براہین احمدیہ …میں اس کو امکانی ولی اور ملہم بنایا اور لوگوں میں اس کا اعتبار جمایا تھا جس کو یہ حضرات اپنے دعاوی …کی تائید میں اب پیش کر رہے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اشاعۃ السنۃ کا ریویو براہین احمدیہ اس کو امکانی ولی وملہم نہ بناتا تو ….تمام مسلمانوں کی نظر میں بے اعتبار ہو جاتا۔‘‘

پھر مزید بلند دعویٰ کرتے ہوئے فرمایا:
’’لہٰذا اسی اشاعۃ السنۃ کا فرض ہے اور اس کے ذمہ یہ ایک قرض تھا کہ اس نے جیسا اس کو آسمان پر چڑھایا تھا۔ ویساہی ..اس کو زمین پر گرادے۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ 1890ء جلد13 شمارہ1 صفحہ4-3)

1890ء سے لے کر 1908ء تک کا دور مخالفت

جناب بٹالوی صاحب 1890ءمیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو زمین پر گرانے کے اعلان کے ساتھ گھر سے نکلے تو مخالفت کی ہر صنف میں انتہاء سے گزر گئے۔ طعن و تشنیع، مخالفت، الزام، استہزاء، حتیٰ کہ جماعت احمدیہ دشمنی میں مخالفین اسلام تک سے جا ملے اور پادریوں سے اتحاد تک گوارا کر لیا ۔ مگر جماعت کا قافلہ ترقیات کی منازل طے کرتا رہا اور 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک کامیاب جرنیل کی طرح فتح نصیب ہو کر اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئے۔

میری اولاد، میرے قتل کے درپے ہے (بٹالوی)

افسوس تاریخ کا یہ عبرتناک واقعہ 1909ء میں پیش آ رہاتھا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک فتح نصیب جرنیل کی طرح اپنا مشن مکمل کرکے انقلاب کی باگیں خلیفۃ المسیح الاولؓ کے سپرد کرکے اپنے مولا کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔ جبکہ آپؑ کا اوّل المخالف جو آپؑ کو زمین پر گرانے کا اعلان لے کے اٹھا تھا آج زمین پر بیٹھا اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں پر گند اچھالنے میں مصروف تھا اور پھر چند سال بعد گمنامی میں ڈوب کر کسی گمنام جگہ پر آسودہ خاک ہو گیا۔

اس عبرت ناک قصے کی تفصیل یوں ہے کہ مولوی صاحب نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ 1909ء کی اشاعت میں جلد22 شمارہ7 صفحہ203 سے لے کر 216 تک زیر عنوان وقف علی الاولاد و الاقارب اور جلد22 شمارہ8 صفحہ217 سے 232 تک زیر عنوان ’’عقوق‘‘ اپنی اولاد کی بے دینی اور ان کو جائیداد سے عاق کرنے کی وجوہات کا تفصیلی اعلان خوددرج کیا اور درج ذیل الفاظ اپنی اولاد کے بارے میں رقم فرمائے:
’’چونکہ میرے لڑکوں کی سفاہت درجہ فسق کو کامل کرکے درجہ کفر تک پہنچ گئی ہے جس کا بیان میرے مضمون عقوق میں ہوچکا ہے۔ان کے فسق و فجور پر سال ہا سال سے ان کے اصرار کرنے سے کوئی صورت ان کی رشد وہدایت کی نظر نہیں آتی لہٰذا میرا اپنی جائیداد کو اپنی مِلک سے نکال کر وقف کردینا اور ان کی فسق و فجور کے لئے کچھ نہ چھوڑنا آیت قرآنی کے الفاظ اور فحوائے خطاب کی پوری تعمیل ہے۔ان کے جہل اور اس جہل پر ان کے اصرار کو خیال میں لا کر مجھے ظن غالب قریب یہ یقین پیدا ہو گیا ہے کہ اگر میں اپنی جائیداد کو مِلک میں چھوڑ کر مروں گا تو اِن نالائقوں میں جو زنا کاری، شراب خوری میں مبتلا ہیں وہ اس مال کو تھوڑے دنوں میں رنڈی بازی و شراب خوری میں تلف کر دیں گے۔ان کی بدکاری و ظلم کا مظلمہ میری گردن پر رہے گا۔ ان ظالموں اور بدکاروں کے دست برد اور تظلم کے خوف سے میں نے کوئی حصہ جائیداد منقولہ کا بھی پسماندگان کی توریت تملیک کے لئے نہیں چھوڑا۔ میرے لڑکوں میں سے ایک نے میرے قتل و ہلاکت کا ارادہ کرکے اس کا کچھ سامان بہم پہنچانے میں کوشش کی بھی تھی جس میں وہ کامیاب نہ ہوا۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ جلد22 شمارہ7 صفحہ203-204)

صفحہ 208 ’’میری مِلک اور قبضہ و تصرف میں جائیداد غیر منقولہ سے 2 مکان سکونتی قیمت تقریباً چارہزار روپیہ ہے 1 حویلی قدیم 2 دیوان خانے ہیں اور تیسرے مکان منہدم کی زمین و ملبہ قیمت تقریباً دوسو روپیہ ہے۔ 4 مربع زمین جو اپر گوگیرہ برانچ لوئر چناب پر چک نمبر 123 میں سرکار انگریزی سے عنایت ہوئی ہے۔ 4 مربع زمین میرے تعہد میں ریاست بہاول پور میں ہے 2 مربع کے قریب علاقہ خان پور میں اور 2 مربع زمین علاقہ نوشہرہ میں ہے ….میرے پانچوں جوان لڑکوں (عبد السلام، محمد اطہر، احمد حسین، عبدالنور) جو ایک والدہ سے ہیں۔

(صفحہ 209) اور عبدالشکور جو دوسری والدہ سے ہے میری اطاعت سے بغاوت اختیار کی اور تعلیم دینی حاصل کرنے سے صاف انکار کرکے اور نماز وغیرہ احکام اسلام سے بعض نے عدم التزام و ترک سے اور بعض نے صاف صاف انکار کرکے اور حقہ نوشی سے بڑھ کر منہیات شرعیہ اور بعض نے جرائم قانونی (جن کی مثلیں عدالت میں موجود ہیں) کا ارتکاب کرکے۔ بعض نے داڑھیاں صفا چٹ کرکے …. میرے پاس سے چلے گئے اور پہلے تین اپنی والدہ کو بھی میری اجازت کے بغیر بلکہ صریح مخالفت کے ساتھ اپنے پاس لے گئے۔ پانچ لڑکوں کے علاوہ میری 3 جوان لڑکیاں صاحب اولاد ہیں (امۃ السلام، امۃ الرشید، اور مریم) جب تک صغیر سن رہیں میری تربیت و تعلیم سے میری اطاعت میں رہیں اور جب جوان ہوئیں۔ دنیاوی اغراض فاسدہ کی وجہ سے میری مخالف ہیں اور بعض ان میں سے نماز روزہ کی بھی پابند نہیں رہیں۔‘‘

صفحہ 210 پراپنی تیسری بیوی اور ان کے بچوں کا انتہائی دکھ اور غم گیر دل سے ذکر کرنے کے بعد ایک ہارے ہوئے باپ کی طرح لکھا:
’’میرے بعد اس شہر ومحلہ پوریاں بٹالہ میں ان کی خبر گیری اور خیر خواہی کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ میرے اقارب میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان کو با امن ان مکانوں میں رہنے دے گا بلکہ وہ ان مکانات سے ان کو باہر نکال ان میں اپنا بے جا تصرف کر لیں گے اور قرآن و حدیث پڑھنے کی جگہ وہ ان مکانات میں بد کاریاں کریں گے۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ جلد22 شمارہ7 صفحہ208-210)

’’عبدالسلام لڑکوں میں اول درجہ کا میرا نافرمان بردار و متکبر و سرکش ہے۔ ویسے ہی لڑکیوں میں امۃ السلام اول درجہ کی نافرمان بردار سرکش و متکبر لڑکی ہے۔ اس کے گھر میں نماز برائے نام رہ گئی ہے۔ نہ اس کا شوہر التزام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے نہ جوان بیٹیاں اور بیٹا اور نہ داماد۔ نمازوں کے وقت بے نماز بیٹھا رہتا ہے اور نماز نہیں پڑھتا جس سے مجھے اس قدر رنج آتا ہے جس کو میں ظاہر نہیں کر سکتا اور حقہ نوشی کے علاوہ اس گھر میں افیون خوری بھی کھلم کھلا جاری ہے۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ جلد22 شمارہ7 صفحہ212)

’’تو ہمارا باپ ہی نہیں‘‘، ’’عیسائی یا آریہ بننے جا رہے ہیں‘‘، ’’نماز کو گالیاں دیتے ہیں‘‘

اس کے بعد آپ نے صفحہ 217 سے عقوق کے نام سے اپنے بچوں کا عاق نامہ لکھا اور ایک بار پھر سے اس میں ان کے جرائم درج کئے (صفحہ 225) ’’میں نے وصیت شائع کی۔ میری اس وصیت کو میری اولاد نے منظور نہ کیا اور اس کے برخلاف بعض نے میرے منہ پر صاف کہہ دیا کہ تو ہمارا باپ ہی نہیں اور بعض غائبانہ کہنے لگ گئے کہ یہ ہمارا باپ کیسا ہے کہ ہمارے لئے کچھ وراثت نہیں چھوڑنا چاہتا؟…… میرے پانچوں بیٹوں میں عبد الشکور جو دوسری والدہ سے ہے ان سب سے اول درجہ کا متکبر اور میری اطاعت سے سرکشی میں نمبر اول ہے۔ اس نے سرکشی اختیار کی تو پھر جو سرکش ہوکر بھا گا اُس کو اُس نے اپنے پاس جگہ دی۔ سب سے بڑھ کر بد چلنی اختیار کرنے والا اور مجھے جانی و مالی ایذاء پہنچانے والا نمبر چہارم و پنجم ہیں۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو اسلام چھوڑکر عیسائی یا آریہ ہو جانے کا ارادہ کر چکے تھے۔ بعض جو میرے جبر سے نماز میں کھڑے ہوگئے تو بے وضو۔ بلا استنجاء بول وبراز اور بعض نماز کو صریح گالیاں بھی دے چکے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جو قانونی جرائم کے بھی مرتکب ہو گئے ہیں اور اُن کے مقدمات کی مثلیں عدالت میں موجود ہیں اور بعض میری جان کو نقصان پہنچانے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکے ہیں اور اس کے وسائل بہم پہنچانے میں بھی سعی کر چکے ہیں۔ میری وصیت سے ناراض ہو کر میری تینوں جوان لڑکیوں نے بھی میری اطاعت سے سرکشی اختیار کی۔ سب اولاد سے بڑی لڑکی امۃ السلام ہے وہ لڑکیوں میں اول درجہ کی سرکش و متکبر ہے جیسے لڑکوں میں اول درجہ عبد السلام ہے۔ دوسری امۃ الشکور ہے خود تو سرکش نہ تھی مگر اُس کے شوہر نے اس کو سرکش بنا دیاہے۔تیسری لڑکی مریم ہے جو شادی ہونے سے پیشتر تو بالکل سادہ طبع اور بے کینہ تھی مگر اُس کی شادی ایک مولوی فاضل سے ہوگئی جو دینی علم خشیۃ اللہ و تقویٰ مروت وفا شکر و احسان سے بہت کم حصہ رکھتا ہے۔ یہ جتھہ مجھ سے نہیں ملتے میرے پاس سے گزر جانے پر بھی سلام نہیں کرتے۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ جلد22 شمارہ8 صفحہ225)

سمع خراش الفاظ مگر دلخراش حقیقت

اس کے بعد صفحہ228 پر آپ نے اپنی اولاد کے حوالے سے وہ دلخراش فقرے بھی قلم بند کر دئیے جو شاید ہی کوئی باپ اور خاص کر ایک عالم دین اپنے بچوں کے لئے تو کیا دوسروں کے بچے کے لئے بھی لکھنے سے پہلے سو بار ہچکچائے گا مگر افسوس کہ مولوی صاحب کو یہ دن بھی دیکھنا پڑا۔

’’اس مضمون میں مَیں یہ اعلان کرتا ہوں کہ وہ پانچوں لڑکے اور تینوں لڑکیاں اور ان کے متعلقین میرے عاق و نافرماں بردار ہیں۔ خصوصاً مولوی فاضل صاحب جو فاضل ہو کر جاہلوں کے تابع ہو گئے۔ میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ۔۔۔باپ صرف وہی نہیں ہوتا جو اولاد کے لئے وراثت چھوڑ کر جائے ….بعض کہتے ہیں کہ والد نے اپنی ضرورت وخواہش نفسانی کو پورا کیا جس سے ہم قدرتی طور پر پیدا ہوگئے ہم پر اُس نے کیا احسان کیا۔‘‘ استغفر اللّٰہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ

پھر صفحہ 230 پر مزید الزام لگاتے ہوئے فرمایا:
’’جب تک وہ صغر سنی کی حالت میں رہے عام دستور کے موافق گھر کے کام کرتے رہے اور جب سن بلوغ کو پہنچ گئے تو گھر کے کام پھر چھوڑ بیٹھے اور کار فرما بن گئے اور اپنی جینٹلمینی وضع قائم رکھنے کے لئے بجائے اس کے کہ میری خدمت کریں ناجائز طور پر اور زبردستی میں گھر کا مال مارنا اور لوٹنا شرع کر دیا۔ کبھی والدہ کا زیور گھر سے نکال کر لے گئے۔ کبھی چھوٹی ہمشیرہ کا اتار کر لے گئے علیٰ ہذا القیاس۔‘‘

’’یہاں یہ سوال ہوگا کہ سب کے سب لڑکے اور لڑکیاں کیوں اپنی بد چلنی و سر کشی و آوارگی کے طریق پر نکلے یہ تمہاری تربیت کا قصور ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میری تعلیم و تربیت تو ان کے حق میں اسی طرح ہوتی رہی۔ ہاں جب میں کبھی سفر میں جاتا تھا تو میرے قائم مقام نگرانی کرنے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔ (صفحہ 231)

اسی وجہ سے میری تعلیم و تربیت کا اثر ان پر کم ہوا اور سکول کی صحبت و تعلیم کا اثر زیادہ ہوا‘‘ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

باقی 2 تن کو بچانے کے لیے
جماعت احمدیہ کا دست شفقت

جب مولوی صاحب اپنے 10 بچوں میں سے 8 بچوں کو عاق کر چکے تو خلیفۃ المسیح الاولؓ محض ہمدردی خلق میں حضرت منشی یعقوب علیؓ ایڈیٹر اخبار الحکم کو مولوی صاحب کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنے چھوٹے دو بچے قادیان بھجوا دیں تاکہ ان کی مناسب تربیت کی جاسکے۔

موٴرخہ 11؍فروری 1910ء کے اخبار اہل حدیث میں جناب مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے اسی حوالہ سے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب سے ایک سوال ’’جناب مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی صاحب جواب دیں‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ تو اس کا جواب آپ نے 25؍فروری 1910ء کو اسی اخبار میں اس عنوان سے شائع کروایا۔

جواب استفسار متعلق قادیان مندرجہ اخبار اہل حدیث مطبوعہ 11؍فروری 30؍محرم1368ھ

’’میرے پانچ لڑکے یکے بعد دیگرے علم عربی پڑھنے میں کوتاہی اور آخر صاف انکار اور مخالفت احکام شریعت پر اصرار کرنے کے سبب میری اطاعت سے خارج اور عاق ہو گئے (پانچ بیٹے اور 3 بیٹیاں)۔ انہی کی دیکھا دیکھی باقی ماندہ دو نابالغ لڑکے گھر سے بھا گنے اور آوارہ پھرنے لگ گئے تھے اور ان میں سے ایک لڑکا ابو اسحٰق اب تک آوارہ پھرتا ہے اور اس کا پتہ نہیں لگتا۔ دوسرا چھوٹا عبدالباسط لڑکا قابو آیا تو منشی یعقوب علی ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ نے اس کا حال سن کر ہمدردی کا اظہار اور اپنے سکول کے انتظام کی تعریف کرکے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ ان کو چند روز کے لئے ہمارے سپرد کر دیں۔سٹاف سکول اور بورڈنگ کے حسن تدبر و نگرانی و لطف سے لڑکے کا دل وہاں تعلیم پر اچھی طرح لگ گیا اور اس کی آوارگی جاتی رہی۔ عید کے موقعہ پر وہ میرے بلانے سے اپنے گھر آیا تو ایک دن سے زیادہ نہ ٹھہرا اور بولا کہ میری تعلیم کا حرج ہو گا۔ ان کے اس احسان و ہمدردی کے ساتھ اب بھی میں اس فرقہ کا ایسا مخالف ہوں جیسا کہ پہلے تھا۔۔ہاں یہ سوال ضرور ہو گا کہ پنجاب و ہندوستان میں بہت سے مدارس اہل سنت و اہل حدیث ہیں ان کو چھو ڑکر وہاں کیوں بھیجا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں بہت سے مدارس اہل سنت و اہل حدیث کا امتحان کر چکا ہوں ان میں سے کوئی بھی آوارہ لڑکوں کی اصلاح نہ کر سکا۔ میں نے پہلے ایک لڑکے عبدالرشید کو مدرسہ نعمانیہ لاہور کے سپرد کیا پھر اس کو مدرسہ آرہ بازار میں بھیجا۔ پھر دو لڑکوں احمد حسین و محمد اطہر کو مدرسہ اہل حدیث لکھو کے علاقہ فیروز پور میں ایک مدت تک رکھا۔ پھر ایک لڑکے عبدالشکور کو امرتسر کے مدرسہ ثنائی کے سپرد کیا۔ پھر ایک لڑکے عبدالنور کو مدرسہ نعمانیہ لاہور کے سپرد کیا پھر اس کو تعلیم کے واسطے مدرسہ حمایت اسلام کے سپرد کیا اور بودو باش اور نگرانی کے لئے مولوی عبد العزیز سیکرٹری مجلس اہل حدیث کے مکان پر رکھا۔ ان مدارس سے کسی مدرسہ میں ان لڑکوں کی تربیت و تعلیم نہ ہوئی جو قادیان میں اس چھوٹے کی ہو رہی ہے تو مجبور و ناچار ہو کر منشی یعقوب علی ایڈیٹر اخبار الحکم کی دوستانہ درخواست و اصرار پر لڑکے کو قادیان میں بھیج دیا۔ جس کا نتیجہ اس وقت تک خاطر خواہ نکل رہا ہے۔ اب بھی کسی مدرسہ میں بھیجنے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ اس کا انتظام و تعلیم قادیان سکول سے بڑھ کر نہ ہو تو کم بھی نہ ہو برابر ہو۔‘‘

(اخبار اہل حدیث 14 صفر 1368ھ 25؍فروی 1910ء صفحہ10)

(بحوالہ تحریک ختم نبوت مصنفہ ابن انیس حبیب الرحمٰن لدھیانوی صفحہ 194 تا 202
نا شر رئیس الاحرار اکادمی فیصل آباد مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور)

افسوس صد افسوس

چھوٹی بیگم کے دو بیٹے باقی بچے تھے ان کو بچانے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اپنا دست شفقت دیا اور ان کوقادیان منگوایا جن کا حال ہم نے اوپر درج کیا ہے۔ وہ بہت حد تک سدھر بھی گئے تھے۔ مگر افسوس دیگر علمائے کرام کے روز روز کے طعن اور دباوٴ سے تنگ آکر بٹالوی صاحب نے ان دونوں بچوں کو واپس بلا لیا۔ بچے پھر سے واپس بٹالہ آگئے مگر قادیان سے جانے کے بعد عبد الباسط اپنے باقی بھائیوں کی طرح پہلےآوارہ ہوا اور پھر عیسائی ہو گیا اور پھرجوانی میں ہی راہی عدم ہو گیا۔

(تحریک ختم نبوت مصنفہ ابن انیس حبیب الرحمٰن لدھیانوی صفحہ205
نا شر رئیس الاحرار اکادمی فیصل آباد مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور
بحوالہ اخبار اہل حدیث یکم فروری 1918ء صفحہ3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر صالح اولاد کو آثار اولیاء الرحمٰن بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
’’خدائے تعالیٰ اُن کو ضائع نہیں کرتا اور ذلّت اور خواری کی مار اُن پر نہیں مارتا کیونکہ وہ اس کے عزیز اور اس کے ہاتھ کے پودے ہیں ….. اُن کے آثار خیر باقی رکھے جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کئی پشتوں تک اُن کی اولاد اوران کے جانی دوستوں کی اولاد پر خاص طور پر نظرِ رحمت رکھتا ہے اور ان کا نام دنیا سے نہیں مٹاتا۔ یہ آثار اولیاء الرحمٰن ہیں اور ہریک قسم ان میں سے اپنے وقت پر جب ظاہر ہوتی ہے تو بھاری کرامت کی طرح جلوہ دکھاتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ338)

(علی بھٹی)

پچھلا پڑھیں

سانحہ ارتحال و اعلانِ دعا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 فروری 2023