• 15 اپریل, 2024

حضرت مسیح موعودؑ کا خدائی وعدوں کے مطابق اپنی آمد کا ذکر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
آج 23؍مارچ ہے اور یہ دن جماعت میں یوم مسیح موعود کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یوم مسیح موعود کے جلسے بھی جماعتیں اس دن کی مناسبت سے منعقد کرتی ہیں۔ آئندہ دو دنوں میں ہفتہ اتوار، weekend آ رہا ہے۔ بہت سی جماعتیں یہ جلسے منعقد کریں گی اور اس میں اس کی تاریخ، پس منظر، سارا کچھ بیان کیا جائے گا۔

اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض ارشادات پیش کروں گا جن میں آپ نے مسیح موعود کی بعثت کے مقصد اور ضرورت اور مقام کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔ آپ کے دعوے کے بعدنام نہاد مسلمان علماء نے عامۃ المسلمین کو آپ کے خلاف بھڑکانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ انتہائی کوشش کی۔ جس حد تک وہ جا سکتے تھے گئے اور اب تک یہی کر رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید سے آپ کی جماعت ترقی کر رہی ہے اور نیک فطرت لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خدائی وعدوں کے مطابق اپنی آمد کا ذکر کرتے ہوئے اور یہ اعلان فرماتے ہوئے کہ میں ہی آنے والا مسیح موعود ہوں فرماتے ہیں کہ:
توحید حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عفّت، عزّت او ر حقّانیت اور کتاب اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر ظلم اور زُورکی راہ سے حملے کئے گئے ہیں توکیا خدا تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا سرالصلیب کو نازل کرے؟ (کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس زمانے میں حملے عیسائیوں کی طرف سے ہو رہے تھے۔) فرماتے ہیں کیا خداتعالیٰ اپنے وعدہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (الحجر: 10) کو بھول گیا؟ یقیناً یادرکھو کہ خدا کے وعدے سچے ہیں۔ اس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔ دنیا نے اس کوقبول نہ کیا مگرخدا تعالیٰ اس کو ضرورقبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہوکر آیا ہوں۔ چاہوتو قبول کرو۔ چاہو تو ردّ کرو۔ مگر تمہارے ردّ کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔ خداتعالیٰ نے جوارادہ فرمایا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے پہلے سے براہین میں فرمادیا ہے صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَکَانَ وَعْدًامَّفْعُوْلًا (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 206۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی بات سچی نکلی اور خدا کا وعدہ پورا ہوا۔

پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ: منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو آزمائیں اور پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے۔ خیالی اصولوں اور تجویزوں سے کچھ نہیں بنتا۔ اور نہ مَیں اپنی تصدیق خیالی باتوں سے کرتا ہوں۔ مَیں اپنے دعویٰ کو منہاجِ نبوت کے معیار پر پیش کرتا ہوں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسی اصول پر اس کی سچائی کی آزمائش نہ کی جاوے۔ فرماتے ہیں کہ جو دل کھول کر میری باتیں سنیں گے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ فائدہ اٹھاویں گے اور مان لیں گے۔ لیکن جو دل میں بخل اور کینہ رکھتے ہیں ان کو میری باتیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی۔ ان کی تو اَحْوَل جیسی مثال ہے۔ (یعنی وہ شخص جو بھینگا ہوتا ہے جس کو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔) جو ایک کے دو دیکھتا ہے۔ اس کو خواہ کسی قدر دلائل دئیے جائیں کہ دو نہیں ایک ہی ہے وہ تسلیم ہی نہیں کرے گا۔ کہتے ہیں (آپ مثال دیتے ہیں ) کہ ایک اَحْوَل خدمتگار تھا۔(بھینگا آدمی کسی شخص کا خدمت کرنے والا تھا ملازم تھا۔)آقا نے (اس کو) کہا کہ اندر سے آئینہ لے آؤ۔ وہ گیا اور واپس آکر کہا کہ اندر تو دو آئینے پڑے ہیں۔ کونسا لے آؤں؟ آقا نے کہا کہ ایک ہی ہے۔ دو نہیں۔ اَحْوَل نے کہا تو کیا مَیں جھوٹا ہوں؟ (اس کے) آقا نے کہا اچھا ایک کو توڑدے۔ جب توڑا گیا تو اسے معلوم ہوا کہ درحقیقت میری غلطی تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ مگر اِن اَحْوَلوں کا جو میرے مقابل ہیں کیا جواب دوں؟ فرماتے ہیں کہ غرض ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ بار باراگر کچھ پیش کرتے ہیں تو حدیث کا ذخیرہ جس کو خود یہ ظن کے درجہ سے آگے نہیں بڑھاتے۔ ان کو معلوم نہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ ان کے رطب و یابس امور پر لوگ ہنسی کریں گے۔(جو اوٹ پٹانگ باتیں یہ کرتے ہیں اس پر لوگ ہنسی کیا کریں گے۔) فرماتے ہیں یہ ہر ایک طالبِ حق کا حق ہے کہ وہ ہم سے ہمارے دعویٰ کا ثبوت مانگے۔(بڑی صحیح بات ہے ثبوت مانگنا چاہئے۔ اس پر ہر ایک کا حق ہے۔)اس کے لئے ہم و ہی پیش کرتے ہیں جو نبیوں نے پیش کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ، عقلی دلائل یعنی موجودہ ضرورتیں جو مصلح کے لئے مستدعی ہیں۔ پھر وہ نشانات جو خد انے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے مَیں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں میں نے ایک نقشہ مرتب کر دیا ہے اس میں ڈیڑھ سو کے قریب نشانات دئیے ہیں جن کے گواہ ایک نوع سے کروڑوں انسان ہیں۔ بیہودہ باتیں پیش کرنا سعاد تمند کا کام نہیں۔ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لئے فرمایا تھا کہ وہ حَکَم ہو کر آئے گا۔ (یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو وہ حَکَم ہو گا) اس کا فیصلہ منظور کرو۔ (وہ فیصلہ کرنے والا ہو گا اس کا فیصلہ منظور کرو۔)جن لوگوں کے دل میں شرارت ہوتی ہے وہ چونکہ ماننا نہیں چاہتے ہیں اس لئے بیہودہ حجتیں اور اعتراض پیش کرتے رہتے ہیں۔ مگر وہ یادرکھیں کہ آخر خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا۔ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میں افترا کرتا تو وہ مجھے فی الفور ہلاک کر دیتا۔ مگر میرا سارا کاروبار اس کا اپنا کاروبار ہے۔ اور میں اسی کی طرف سے آیا ہوں۔ میری تکذیب اس کی تکذیب ہے۔ اس لئے وہ خود میری سچائی ظاہر کردے گا۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ34-35۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

(خطبہ جمعہ 23؍مارچ 2018ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ لٹویا کی طرف سے وقار عمل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مارچ 2023