• 26 فروری, 2024

دعا کا تحفہ

بصارت کے لوٹ آنے کی دُعا

حضرت عثمان ؓ بن حُنیف کہتے ہیں کہ ایک نابینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ میرے لئے دُعا کریں کہ بصارت لوٹ آئے۔ آپؐ نے فرمایا اگر کہو تو مَیں دُعا کر دیتا ہوں اور اگر چاہو تو صبر کرو اور میرے خیال میں یہ تمہارے لئےزیادہ بہتر ہے۔جب نابینے نے دُعا پر ہی زور دیا تو آپؐ نے اسے اچھی طرح وضو کر کے یہ دُعا کرنے کی ہدایت کی:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْاَلُکَ وَ اَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ،اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ

(ترمذی کتاب الدعوات)َ

ترجمہ:- اے اللہ! مَیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی پاک رسول رحمت ﷺ کا واسطہ دے کر تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ (اور اے محمدؐ) مَیں آپ ؐ کا واسطہ دے کر اپنے ربّ سے التجا کرتا ہوں کہ میری یہ حاجت پوری کر دے۔اے اللہ میرے حق میں اپنے حبیب ؐ کا یہ واسطہ اور شفاعت قبول فرما۔

(مناجات رسولؐ از خزینۃ الدعا مرتبہ علامہ ایچ ایم طارق ایڈیشن2014ء صفحہ148)

(مرسلہ: عائشہ چوہدری۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ لٹویا کی طرف سے وقار عمل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مارچ 2023